وزیر اعلیٰ کا دورہ باکو اور محکمہ سیاحت کی نادہندگی

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف آج کل آذربائیجان کے دورے پر ہیں، ان کی کچن کیبنٹ بھی ان کے ساتھ ہے، مریم نواز جب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئی ہیں ان کے کارناموں کی دھوم مچانے کے لئے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں سرکاری اشتہارات کی بارش کی جا رہی ہے، سوشل میڈیا پر ان گنت پیجز بنا کر عوام کو یقین دلانے کی دن رات کوشش کی جا رہی ہے کہ مریم نواز نے پنجاب کی تقدیر بدل دی ہے مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں، چند روز قبل مریم نواز کے ”ستھرا پنجاب“ کی ”غضب کرپشن کی عجب کہانی“ سامنے آ چکی ہے، دو سال بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ حکومت کے محکموں، لائق فائق وزراء اور من پسند بیوروکریسی نے کیا کیا گل کھلائے ہیں۔
راہ دور عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے
بیوروکریسی نے وزیر اعلیٰ مریم نواز کو نئے منصوبے شروع کرنے اور سرکاری ملازمین کا مجمع لگا کر تالیاں بجوا کر داد لینے کی عادت ڈال دی ہے، بیوروکریسی ہر وزیر اعلیٰ پر یہی حربہ استعمال کرتی ہے اور فائدے اٹھاتی ہے، کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا اپنا ہے سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری
بیوروکریسی اس وقت تک آگے پیچھے بھاگتی ہے جب تک آپ اقتدار میں ہوں، اقتدار سے ہٹتے ہیں وہ آنکھیں پھیر لیتی ہے، مجھے یاد ہے کہ ایک افسر نے دکھ بھرے انداز میں کہا کہ جب نگران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری کا عہدہ ختم ہوا تو وہ دو گھنٹے اپنے دفتر میں بیٹھے رہے کہ مجھے گھر تو ڈراپ کرا دیں مگر ان کا سارا عملہ غائب ہو چکا تھا پھر ان کے پی ایس او حیدر علی نے ایک گاڑی کا بندوبست کیا اور ان کو گھر ڈراپ کرایا۔
مریم نواز کو اپنے وزراء کی کارکردگی کا بھی جائزہ لینے کے لئے احتساب کا کوئی نظام بنانا چاہیے، وزیر اعلیٰ کی دست راست ان کی سینئر وزیر کے محکمے کی کارکردگی چند روز قبل روزنامہ آفاق نے شائع کی ہے، تحقیقاتی رپورٹ میں ثبوتوں کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ سپورٹس بورڈ پنجاب کا 4 کروڑ روپے کا نادہندہ ہے۔
خبر کے مطابق سپورٹس بورڈ پنجاب نے محکمہ سیاحت پنجاب کو پنجاب سٹیڈیم میں 2015 میں ٹورسٹ بس سروس کے لئے جگہ دی تھی جس کا سپورٹس بورڈ پنجاب کو گیارہ سال کرایہ کی مد میں ایک روپیہ ادا نہیں کیا گیا، سپورٹس بورڈ پنجاب کی جنرل باڈی کے اجلاس میں یہ معاملہ پیش کیا گیا جس میں حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے مطابق محکمہ سیاحت پنجاب نے 2015 میں ٹورسٹ بس سروس شروع کرنے اور دفاتر کے لئے تقریباً 12 ہزار سکوائر فٹ جگہ سپورٹس بورڈ پنجاب سے پنجاب سٹیڈیم میں لی تھی اس وقت محکمہ سیاحت اور محکمہ کھیل کا ایک وزیر تھا جس نے اپنے دوسرے محکمے کو جگہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دیدی تھی اور شرط رکھی گئی تھی کہ محکمہ سیاحت پنجاب اس ایریا میں کوئی پکی تعمیرات نہیں کرے گا اور یہ جگہ عارضی طور پر دی گئی ہے مگر محکمہ سیاحت پنجاب نے وہاں بغیر منظوری کہ مستقل بس ٹرمینل بنا لئے ہیں، اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے دھوم دھام سے ٹورسٹ بس سروس کا افتتاح کیا تھا، محکمہ سیاحت پنجاب سپورٹس بورڈ پنجاب کی جگہ 11 سال بغیر کرایہ کی ادائیگی کے استعمال کر رہا ہے، اپریل 2025 میں محکمہ سیاحت پنجاب نے سپورٹس بورڈ پنجاب سے بغیر پیشگی اجازت کے میں سڑک پر بہت بڑی ایل ای ڈی نصب کر دی۔
سپورٹس بورڈ پنجاب نے گیارہ سالوں میں محکمہ سیاحت کو 8 مرتبہ خطوط بھی لکھے اور مطالبہ کیا گیا کہ محکمہ سیاحت پنجاب سپورٹس بورڈ پنجاب کو کرایہ کی مد میں 4 کروڑ سے زائد کی رقم جو ان کے ذمہ ہے اس کی فوری ادائیگی کرے اور باقاعدہ کرایہ لکھا جائے مگر محکمہ سیاحت پنجاب کے خلاف اس حوالے سے کوئی قانونی کارروائی نہیں کی، مارچ 2024 میں محکمہ سیاحت پنجاب نے جواب دیا کہ اب تک کا کروڑوں روپے کا کرایہ معاف کر دیا جائے اور یہ جگہ محکمہ سیاحت پنجاب کو 30 سال کے لئے لیز پر دیدی جائے
سپورٹس بورڈ پنجاب نے بورڈ سے درخواست کی کہ محکمہ سیاحت پنجاب کو بقایا جات کی ادائیگی کے لئے حتمی نوٹس دینے کی منظوری دی جائے اور اگر محکمہ سیاحت پنجاب ادائیگیاں نہیں کرتا تو اس سے جگہ خالی کرانے کے لئے قانونی کارروائی کرنے کی اجازت دی جائے جس پر بورڈ نے محکمہ سیاحت سے بقایا جات کی وصولی اور کرایہ نامہ لکھنے کے لئے قانونی کارروائی کی منظوری دیدی، سپورٹس بورڈ پنجاب کے افسران کی نا اہلی کی وجہ سے گیارہ سالوں میں کوئی وصولی نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا ہے
وزیر اعلیٰ کے دورہ باکو کے دوران سینئر وزیر مریم اورنگزیب اور وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکھر ساتھ ہیں، وزیر اعلیٰ کی کچن کیبنٹ کے ارکان خاص طور پر وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکھر، بلال یاسین وہاں سیروتفریح اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں کھابے کھانے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں جس سے مہنگائی کے ستائے عوام کے دلوں پر چھریاں چل رہی ہیں کہ عوام مہنگی ترین بجلی، پٹرول اور گیس کے ہاتھوں گھٹ گھٹ کر مر رہے ہیں اور ان کے حکمران دوسرے ممالک کی سیریں کر رہے ہیں، کم از کم مریم نواز کے وزراء کو عوام کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے، وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ باکو میں ہی دونوں وزراء کو سامنے بٹھا لیں اور روزنامہ آفاق کی خبر سامنے رکھ کر ان سے پوچھیں کہ یہ سب کیا ہے؟ گو کہ نادہندگی کا معاملہ مریم نواز کے چچا شہباز شریف اور عثمان بزدار کے ادوار سے چلا آ رہا ہے لیکن اسے کسی نے تو حل کرنا ہے، وزیر کھیل فیصل کھوکھر تو جرات نہیں کر سکتے کہ وہ سینئر وزیر سے کہیں کہ میرے محکمے کے بقایا جات ادا کریں، سپورٹس بورڈ پنجاب میں بدترین مالی بحران ہے، عیدالفطر پر بھی ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی تھی اور ظلم تو یہ ہوا کہ اپریل میں بھی تنخواہ نہ دی گئی اب مئی میں دو ماہ کی اکٹھی تنخواہ دی گئی ہے ان حالات میں مریم نواز صاحبہ کو یہ معاملہ حل کرانا چاہیے تاکہ سپورٹس بورڈ پنجاب مالی بحران سے نکل سکے۔
