دریاؤں کا قہر، تیرتی اور زندہ پھرتی لاشیں
پنجاب جسے صدیوں سے زرخیز دھرتی، اناج کی کوٹھیاں اور قدرتی حسن کا گہوارہ کہا جاتا ہے آج وہی پنجاب اپنی تاریخ کے ایک ہولناک باب سے گزر رہا ہے دریائے چناب، ستلج اور راوی جو کبھی زندگی کی علامت ہوا کرتے تھے آج زندگیوں کو نگلتے ہوئے دریائے سندھ میں داخل ہو چکے ہیں۔
ان دریاؤں نے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر جس شدت سے اپنا قہر برسایا اس کی تازہ مثال آپ ضلع ملتان کی آخری تحصیل جلالپور پیروالہ جا کر دیکھ سکتے ہیں جہاں آج بھی پانی میں تیرتی ہوئی لاشیں زندہ لاشوں سے سوال کر رہی ہیں کہ ہمیں بچانے کی بجائے آپ نے دھن بچایا ہے اس بار آپ اور سیلاب نے ہر حد کو پار کیا ہے۔
تحصیل جلالپور پیروالہ جو ایک وقت میں سرسبز کھیتوں، امن و سکون اور ثقافتی ورثے کے لیے جانی جاتی تھی آج مایوسی، تباہی اور ویرانی کی تصویر بن چکی ہے۔ سوائے مرکزی شہر اور چند شمالی مواضعات کے باقی ہر طرف پانی ہی پانی ہے زندگی کا ہر نقش دھندلا گیا ہے گھروں کی چھتیں پانی میں گم ہو چکی ہیں، مویشی بہہ چکے اور انسان بے یار و مددگار کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں۔
دردناک پہلو یہ ہے کہ اس قدرتی آفت نے صرف فصلیں اور مکانات ہی نہیں بلکہ قیمتی انسانی جانیں بھی نگل لی ہیں ہر بستی میں آہ وزاری ہے ہر چہرے پر دکھ کی جھریاں اور ہر آنکھ میں ایک سوال ہے کیا یہ قہر کبھی ختم ہو گا؟ ماں اپنی اولاد کے لیے، بزرگ اپنے گھروں کے لیے اور نوجوان اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہیں۔
حالیہ دنوں میں سیلاب کے دوران افواج پاکستان کے سپہ سالار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے بھی ملے جس سے عام آدمی کو ایک حوصلہ ملا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لاہور، قصور، اوکاڑہ، ملتان اور خاص کر جب تحصیل جلالپور پیروالہ پہنچے تو ان کی موجودگی نے اہلِ علاقہ کو احساس دلایا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں پورا ملک اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی یقین دہانیوں نے عوامی دکھوں کو امید میں بدل دیا ہے۔
اسی طرح پنجاب کی وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے بھی عملی اقدامات اور متاثرہ علاقوں کے ہنگامی دورے کر کے ثابت کیا کہ حکومت جاگ رہی ہے ان کی زیر نگرانی کیے گئے ریلیف کیمپ، میڈیکل سہولیات اور راشن کی تقسیم نے متاثرین کو وقتی طور پر سہارا ضرور دیا ہے۔
اسی طرح سابق وزیر اعظم و قائم مقام صدر پاکستان و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی بھی ہنگامی طور پر ملتان اور جلالپور پیروالہ پہنچے جہاں انہوں نے ایم فائیو موٹر وے کے نقصانات کا جائزہ لیا اور سیلاب زدگان کے کیمپوں کا معائنہ کیا۔
اسی طرح ایم پی اے ملک نازک کریم لانگ المعروف ملک کرار مشتاق لانگ نے جس تندہی، خلوص اور بہادری سے سیلاب متاثرین کی خدمت کی وہ قابل تحسین ہے ان کی والدہ سابق صوبائی وزیر محترمہ نغمہ مشتاق لانگ اور ملک کاشف ظفر لانگ بھی سیلاب متاثرین کی بہت مدد کر رہے ہیں اسی طرح ایم پی اے ملک لعل محمد جوئیہ اور ملک آصف جوئیہ بھی متحرک دکھائی دے رہے ہیں اسی طرح جلال پور پیروالا کے وضع دار سیاستدان دیوان سید عاشق حسین بخاری اور ان کے بیٹے دیوان سید محمد عباس بخاری بھی ماوا سٹی میں اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ لگا کر سیکٹروں خاندان کو تین وقت کھانا فراہم کر رہے ہیں۔
اس دفعہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے سیاست دانوں کو میدان میں دیکھا گیا اور متوسط طبقے کے افراد کو اپنی بساط سے بڑھ کر مدد کرتے پایا گیا مگر ایک پہلو نہایت افسوسناک ہے کہ ہمارے وہ صنعتکار، وہ تاجر اور وہ حضرات جنہوں نے اسی سر زمین سے دولت کے انبار لگائے جن کی صنعتوں کا پہیہ اسی دھرتی کی مٹی سے چلا وہ اس نازک گھڑی میں کہیں دکھائی نہیں دیے ایسے میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا صرف منافع کمانا ہی کافی ہے؟ کیا سماجی ذمے داری صرف متوسط طبقے کے کندھوں پر ہے؟ جب قوم پر مشکل آتی ہے تو وہی لوگ آگے بڑھتے ہیں جو اسے اپنی ماں سمجھتے ہیں اور بدقسمتی سے کچھ سرمایہ داروں نے اس ماں کو صرف کمائی کا ذریعہ بنایا ہے لازم ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے خصوصاً صاحبِ ثروت افراد کو احساس دلایا جائے کہ قومی بحرانوں میں خاموشی اختیار کرنا نہ صرف اخلاقی غفلت ہے بلکہ انسانی ہمدردی سے بھی محرومی کی علامت ہے۔
یہ تحریر صرف ایک نوحہ نہیں بلکہ ایک سوال کر رہی ہے کہ کیا ہم اپنی آبی گزرگاہوں کو سنبھالنے میں ناکام ہوچکے ہیں؟ کیا ہم ہر سال سیلاب کا شکار بن کر صرف امدادی دوروں اور فوٹو سیشنز پر اکتفا کریں گے؟ یا پھر وقت آ گیا ہے کہ ٹھوس اقدامات کیے جائیں ڈیمز کی تعمیر، نکاسی آب کا نظام اور مقامی سطح پر ریپڈ رسپانس ٹیمیں؟ کیوں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر اور ہندوتوا سوچ کی حامل مودی حکومت ہر سال اسی طرح کی شرارتیں کرے گی اب ہمیں مستقل بنیادوں پر ملک کے وسیع تر مفادات کے لیے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ہم قدرتی آفات کا مقابلہ کرسکیں۔
پنجاب کی سرزمین صدیوں سے آزمائشوں کا سامنا کرتی آئی ہے مگر اس بار زخم گہرے ہیں اور درد وسیع ہے اب صرف ہمدردی کافی نہیں بلکہ عمل درکار ہے تاکہ ہم ان بے شمار متاثرین کے آنسو پونچھ سکیں اور اس زرخیز دھرتی کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹا سکیں۔

