بلاگ

پاک افغان جھڑپیں، دوحہ مذاکرات اور امن معاہدہ

alamgir afridi

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی نازک اور کشیدگی سے بھرپور رہے ہیں۔ جغرافیہ، تاریخ، نسلی وابستگی، سیاسی مفادات اور بیرونی اثرات نے اس رشتے کو کبھی پائیدار نہیں بننے دیا۔ کبھی اعتماد کی کمی، کبھی الزام تراشی اور کبھی عسکریت پسندی، یہ سب عوامل مسلسل دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کا سبب بنتے رہے ہیں۔ ان ہی حالات کی ایک حالیہ کڑی اکتوبر 2025 کی وہ خطرناک جھڑپیں تھیں جنہوں نے خطے کو ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، مگر دوحہ میں ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر ایک نئی امید کو جنم دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سب سے پرانا اور پیچیدہ تنازع ڈیورنڈ لائن ہے، جو 1893 میں برطانوی راج اور افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان کے مابین طے پائی۔ پاکستان اس سرحد کو بین الاقوامی تسلیم کرتا ہے مگر افغانستان نے آج تک سرکاری طور پر اس کی توثیق نہیں کی۔ شاہ ظاہر شاہ سے لے کر سردار داؤد، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، برہان الدین ربانی، ملا عمر، حامد کرزئی، اشرف غنی اور موجودہ طالبان قیادت تک، کسی نے اس لائن کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرحد پر موجود قبائلی، نسلی اور علاقائی ہم آہنگی نہ صرف تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ اکثر جھڑپوں کا باعث بھی بنتی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں سب سے زیادہ نقصان عسکریت پسندی اور انتہاپسند عناصر کی مداخلت سے بھی ہوا ہے۔ افغان جہاد کے دوران پاکستان پر مجاہدین کی پشت پناہی کا الزام لگا، بعد میں طالبان کی مدد کا الزام آیا، اور جب 2001 میں امریکہ نے طالبان حکومت گرائی تو طالبان نے اس کی ذمے داری بھی پاکستان پر عائد کر دی۔ امریکی حمایت یافتہ کرزئی اور اشرف غنی حکومتیں بھی بھارت کے قریب رہیں اور پاکستان پر مسلسل افغان امور میں مداخلت اور طالبان کی سرپرستی کے الزامات داغتی رہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب جب طالبان خود افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آ چکے ہیں، تب بھی پاکستان کے خلاف رویہ نرم نہیں ہوا۔ موجودہ طالبان حکومت سے بھی پاکستان کو وہی شکایات ہیں جو پہلے حکومتوں سے تھیں، بلکہ کئی معاملات میں تو یہ شکایات مزید سنگین ہو چکی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان (TTP) افغانستان سے سرگرم ہے اور پاکستان میں فوج، پولیس اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین سے مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور طالبان کی جانب سے انہیں روکنے میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔

اس ساری صورتحال نے اعتماد کی فضا کو مزید کمزور کیا ہے۔ پاکستان کے شمال مغربی پشتون علاقے اور افغانستان کے مشرقی صوبے ایک دوسرے سے جغرافیائی و نسلی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ یہی نسلی وابستگی مسئلے کو محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک شناختی کشمکش میں تبدیل کرتی ہے، جہاں صرف ریاستیں نہیں بلکہ قومیتیں بھی فریق بن جاتی ہیں۔ اس تناظر میں اکتوبر 2025 میں سرحدی کشیدگی نے سنگین رخ اختیار کیا۔ پاکستانی افواج نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں۔ افغانستان نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان نے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔ چمن، سپین بولدک، کرم اور قندھار جیسے سرحدی علاقوں میں حالات اتنے بگڑ گئے کہ سینکڑوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے، درجنوں ہلاکتیں ہوئیں اور دونوں اطراف کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئیں۔

ایسے میں قطر اور ترکی کی ثالثی میں دوحہ میں مذاکرات ہوئے جن میں دونوں ممالک نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ معاہدے میں علاقائی سالمیت کا احترام، عسکریت پسند گروہوں کی پشت پناہی بند کرنے اور پرتشدد کارروائیوں سے اجتناب کے اصول طے پائے۔ اس معاہدے کے بعد کچھ امید بندھی کہ شاید اب اس بداعتمادی کے خاتمے کی راہ نکلے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ صرف پہلا قدم ہے، منزل ابھی بہت دور ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیچھے سب سے بڑا مسئلہ وہی پرانا ہے : تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان سے سرگرمی۔ پاکستان کو شکایت ہے کہ طالبان حکومت ان گروہوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی۔ دوسری طرف افغانستان پاکستان کی سرحد پر باڑ بندی کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتا ہے، جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ اس کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ سرحد طویل، دشوار گزار اور غیر رسمی ہے جہاں ریاستی رٹ کمزور ہے، اور یہی خلا عسکریت پسندوں کو فائدہ دیتا ہے۔ بین الاقوامی تناظر میں بھی یہ تنازع اب علاقائی اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز بن چکا ہے۔ چین، ایران اور سعودی عرب کوشش کر رہے ہیں کہ خطے میں استحکام آئے۔ البتہ بھارت کا کردار سب سے منفی رہا، جو افغانستان کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنازع دو ممالک سے بڑھ کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

طورخم اور چمن جیسے بارڈرز کی بندش نے اربوں روپے کے تجارتی نقصان کا باعث بنی۔ رپورٹوں کے مطابق صرف طورخم کی بندش سے 300 ملین ڈالر سے زائد کا تجارتی نقصان ہوا۔ مگر دوحہ معاہدے کے بعد امید ہے کہ گزرگاہیں دوبارہ کھلیں گی اور معاشی سرگرمیاں بحال ہوں گی، جو کہ عوامی فلاح اور اعتماد سازی کے لیے بہت ضروری ہے۔ معاہدے پر عملدرآمد سب سے بڑا چیلنج ہے۔ افغان وزیر دفاع ملا یعقوب کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے سے انکار جیسے بیانات معاہدے کو کمزور کرتے ہیں۔ اگر یہ رویے جاری رہے تو جھڑپیں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں، مہاجرین کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور انسانی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اگر معاہدے پر مکمل عمل ہوا، تو یہ امن، تجارت، عوامی رابطوں اور علاقائی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ مہاجرین کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، اور دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بن سکتا ہے۔ لیکن اگر عملدرآمد نہ ہوا، تو یہ صرف ایک اور کھویا ہوا موقع ثابت ہو گا۔ ایک تیسرا منظر بھی ممکن ہے کہ معاہدے پر جزوی عمل ہو، کچھ علاقوں میں امن قائم ہو جبکہ دوسرے علاقوں میں بدامنی برقرار رہے۔

لہٰذا، ضرورت اس بات کی ہے کہ معاہدے کی نگرانی اور عملدرآمد کا شفاف اور موثر نظام قائم کیا جائے۔ دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کا قلع قمع کرنا ہو گا۔ سرحدی علاقوں میں ترقیاتی منصوبے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ غربت اور پسماندگی انتہا پسندی کو جنم نہ دے۔ عوامی سطح پر بھی اعتماد سازی کی مہم شروع کی جانی چاہیے، جس میں علما، میڈیا، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی کردار ادا کریں۔ جنگ کا متبادل صرف امن ہی نہیں بلکہ بامعنی تعلقات، باہمی ترقی اور مشترکہ مستقبل کا خواب بھی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں، مذاکرات اور امن معاہدہ صرف ایک سفارتی کارروائی نہیں، بلکہ عشروں پر محیط ایک تاریخی تناؤ کا خلاصہ بھی ہے۔ اس بار اگر سنجیدگی، شفافیت اور خلوص نیت سے امن کے راستے پر قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ معاہدہ بھی ماضی کے دیگر معاہدوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گا۔ امن صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ یہ اعتماد، عزت، تعاون اور ترقی کا راستہ بھی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW