بلاگ

ڈاکٹر عبد السّلام صاحب اور پاکستان کا تعلیمی نظام

dr Mirza Naseer Ahmad

پاکستان کے نوبل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبد السّلام صاحب نے 1961 میں ڈھاکہ میں پاکستان سائنس کانفرنس میں تقریر کی جس کا عنوان تھا۔ ”Technology and Pakistan ’s attack on Poverty“ اِس تقریر میں ڈاکٹر صاحب نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ پاکستان میں غربت ختم کرنے کے لئے فنی تعلی (Technical Education) کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اور اِس بات پر زور دیا کہ اگر پاکستان نے اقتصادی ترقی کرنی ہے تو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر توجہ دینی ہو گی۔ اِس تقریر میں کئی ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں جنھوں نے پیشہ ورانہ تعلیم پر توجہ دی تو ان کی اقتصادی ترقی ہوئی مثلاً جاپان، انگلستان، روس اور چِین وغیرہ۔ اِسی طرح ڈاکٹر صاحب نے اپنے کئی خطابات میں تیسری دنیا کے ممالک کی اِس طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر وہ اقتصادی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اُن کو فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف توجہ دینی پڑے گی۔ ڈاکٹر صاحب نے متعدد بار ترقی یافتہ ممالک کی مثال دی کہ بنیادی سیکنڈری تعلیم یعنی 8 سے 10 سال کی ابتدائی تعلیم کے بعد اکثر ترقی یافتہ ممالک تعلیم کے دو متوازی نظام چلا رہے ہیں، 1 ہائر ایجوکیشن کا نظام، 2 فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کا نظام۔ ڈاکٹر عبد السّلام صاحب کے مطابق کسی ملک کو ترقی کرنے کے لیے دونوں قسم کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک اُس وقت تک صحیح طور پر ترقی نہیں کر سکیں گے جب تک اِن دونوں قِسم کے تعلیمی نظام کے ماہرین کی نسبت 50 : 50 فِی صد کی نہ ہو۔

1960 کی دہائی میں پاکستان میں صرف ایک فِی صد طالبِ علم پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈاکٹر عبد السّلام صاحب نے پاکستان اور تیسری دینا کے ممالک کو پیشہ ورانہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ یہ بات نہایت قابلِ افسوس ہے کہ آج تقریباً 65 سال گزرنے کے بعد بھی ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں 1960 کی دہائی میں کھڑے تھے۔ اِس وقت بھی پاکستان میں طالبِ علموں کی اکثریت یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے نا کہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم۔ اعداد و شمار کے مطابق آج بھی صرف 7 فیصد طالبِ علم فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی طرف جاتے ہیں۔

موجودہ دور میں اقتصادی اور تکنیکی لحاظ سے چِین ایک ترقی یافتہ ملک تصور کیا جاتا ہے۔ چِین میں 1949 سے لے کر 1978 تک پیشہ ورانہ تعلیم (vocational education) کی یونیورسٹیاں قائم کی گئیں۔ اِن اداروں میں 50 فیصد طالبِ علموں کا داخلہ ہوتا ہے۔ اور اِن اداروں میں ایسے ہنر سکھائے جاتے ہیں جن کی چِین میں ضرورت ہے۔ جس طرح یہ سب کام طویل المدت منصوبہ بندی سے ہو رہا ہے۔ پاکستان کو بھی اِسی طرح منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ میں پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے بنانے کی ادھوری کوششیں کی گئیں جیسے Polytechnic institutes اور TEVTA وغیرہ۔ لیکن یہ نظام مربوط طریق سے رائج نہ ہو سکے۔

فِی الحال ہمارے ملک میں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے ادارے بہت کم ہیں۔ حکومت کو ایک جامع منصوبہ بنانا چاہیے جس کے تحت ہر ضلع میں کم از کم ایک فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی یونیورسٹی قائم کی جائے۔ اِسی طرح نجی سیکٹر کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے کہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے قائم کرے۔ اِس وقت زیادہ نجی ادارے ہائر ایجوکیشن کے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں (vocational institutes) میں ایسے شعبوں میں تعلیم کا آغاز کیا جائے جن کی پاکستان میں ضرورت ہے۔ مثلاً صحت کے شعبہ میں ایک جائزہ کے مطابق تقریباً 9 لاکھ نرسنگ سٹاف کی ضرورت ہے۔ اِسی طرح زراعت کے شعبہ میں کام کرنے والے افراد چاہئیں۔ مثلاً زرعی فارم کو چلانے والے لوگ۔ زرعی اجناس کے نئے بیج تیار کرنے والے افراد بھی پاکستان کو چاہئیں۔ اِس وقت پاکستان بڑی مقدار میں کئی فصلوں کے مخلوط بیج ( Hybrid seed) باہر کے ممالک سے منگواتا ہے۔ اِسی طرح زرعی مشینری کی بڑی تعداد باہر سے منگوائی جاتی ہے۔ مثلاً فصلوں کی کٹائی کے ہارویسٹر (Harvester) وغیرہ۔ اگر ترجیحی بنیادوں پر پاکستان ایسے تعلیمی ادارے قائم کرے جہاں اِن مشینوں کی مرمت کرنے اور بنانے کا کام کرنے والی افرادی قوّت کو تعلیم دی جا سکے تو کافی حد تک یہ تمام آلات پاکستان میں تیار ہو سکیں گے۔ اِسی طرح میڈیکل اور ٹیکسٹائل سے متعلقہ آلات بھی باہر سے منگوائے جاتے ہیں اگر یہ سب مقامی سطح پر تیار ہو سکیں تو پاکستان کو کافی حد تک زرِ مبادلہ کی بچت ہو سکے گی۔

تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون ہونا چاہیے اور صنعت کار اپنے مسائل فنی اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں (vocational institutes) کے ماہرین کو بتائیں اور وہ اُن کے حل تلاش کریں۔ اِس وقت پاکستان کی اکثر یونیورسٹیوں میں ایسی تحقیقات ہو رہی ہیں جن کا پاکستان کی موجودہ صنعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس لیے حکومت کو اِس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسی تحقیق ہو جس کا براہِ راست پاکستانی صنعت سے تعلق ہو۔ گزشتہ چند سال سے پاکستان میں ایک بار پھر اِس سلسلے میں کوشش کی جا رہی ہے اور وفاقی سطح پر ایک یونیورسٹی نیوٹک (NUTECH) کے نام سے قائم کی گئی ہے۔ یہ ایک اچھا آغاز ہے لیکن اِس قسم کے ادارے زیادہ ہونے چاہئیں تاکہ ملکی ترقی میں حصّہ ڈال سکیں۔

اگر حکومتِ پاکستان نے آج سے پینسٹھ سال قبل کی ڈاکٹر عبد السّلام صاحب کی تجویز پر عمل کیا ہوتا اور فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم پر توجہ دی ہوتی تو آج ملک کی اقتصادی صورت حال فرق ہوتی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW