مشرق وسطیٰ کی سامراجی تکوین کے استحصالی عوامل

مشرق وسطیٰ اور ایران پر مسلط موجودہ جنگ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے ایک صدی پر محیط اس تاریخی عمل کے تسلسل میں دیکھا جائے، جس نے اس خطے کی سیاسی، معاشی اور سماجی ساخت کو مسلسل تبدیل کیا۔ اگرچہ مشرق و سطیٰ بذات خود ایک استعماری اصطلاح ہے، مگر چونکہ یہ رائج ہو چکی ہے اور مفہوم بھی فوراً واضح ہو جاتا ہے، اس لیے اسی کا استعمال مناسب ہے۔ علاوہ ازیں مشرق و سطیٰ کے سنگین بحران اور انسانی المیے کی غایت فہم کے لیے ان سیاسی بیانیوں کی سوج بوجھ بھی ناگزیر ہے جنہیں سامراجی قوتوں نے اپنے عاقبت اندیش سیاسی و معاشی مقاصد کے تحت تشکیل دیے۔ اور جنہیں آج نو استعماری قوتیں اپنی سرمایہ دارانہ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
سلطنت عثمانیہ کے انہدام سے لے کر ایران میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خاتمے، فلسطین کی تقسیم، اسرائیل کے قیام، اور غزہ میں جاری نسل کشی تک، یہ سب ایک ہی تاریخی سلسلے کے استحصالی ابواب ہیں۔ عالمی جنگ کے بعد یورپی طاقتوں نے خطے کی نوآبادیاتی تشکیل کی، جس نے مصنوعی سرحدیں اور نئے سیاسی نظام قائم کیے۔ تیل کی دریافت نے خطے کو عالمی سرمایہ داری کے مرکز میں بدل دیا، اور سامراجی قوتوں نے توانائی کے ذخائر پر قبضے کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔ آج کی جنگیں محض علاقائی یا مذہبی تنازعات نہیں بلکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کی علامت ہیں، جہاں جمہوری اقدار اور معیشت کے سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان قدرتی تضاد اس قدر گہرا ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ہمارا سیاسی نظام خود عدم استحکام کا شکار ہے۔ جی ہاں وہی سیاسی نظام جو جمہوریت پر قائم ہے جس کے بارے میں امریتا سین نے کیا خوب کہا تھا جمہوریت کی خوبی اس کا مسلسل مکالمہ اور جواب دہی ہے۔ اور کارل پوپر نے کہا تھا، جمہوریت کی اصل خوبی یہ نہیں کہ وہ بہترین افراد کو منتخب کرتی ہے، بلکہ یہ کہ وہ بد ترین حکمرانوں سے نجات کا پر امن طریقہ فراہم کرتی ہے۔ جس کا اگرچہ ایک بڑا مظاہرہ 28 مارچ کو امریکہ میں عوام نے کیا اور پر امن طریقے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔ لیکن بد قسمتی سے یہ جمہوری اور آفاقی منتخب صاحب اب بھی اپنی تمام تر حماقتوں کے ساتھ موجود ہیں۔
کیا ہم انسانوں کی یہ دنیا اتنی فاسد اور باطل ہو چکی ہے کہ ہم پر ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور نریندر مودی جیسے قصاب مسلط کر دیے گئے۔ شاید جان اسٹورٹ مل نے ٹھیک ہی کہا تھا، اگرچہ جمہوریت کی خوبی آزادی ہے، لیکن اس کا سب سے برا خطرہ اکثریت کی آمریت ہے۔ میرا خیال ہے اکثریت اس سے ناواقف ہوتی ہے کیوں کہ یہ عموماً نتائج میں ظاہر ہوتی ہے۔
سامراجی سیاست کے تین بنیادی حرکی عوامل
ہم چوں کہ اس مضمون میں مشرق و سطیٰ کے بحرانوں اور انسانی المیے پر مبنی طویل تاریخی عمل کو سامراجی سیاست کے نقطہ نظر سے سمجھنے کی کوشش کریں گے، لہذا اس میں ان تین استحصالی عوامل کا جائزہ لیا جائے گا جو مسلسل کارفرما رہے ہیں۔ مثلاً، سامراجی توسیع پسندی، توانائی اور وسائل پر قبضے کی جارحانہ منطق اور مذہب کا بطور سیاسی آلہ کار کے استعمال۔ تاریخ میں قدیم سامراجی سلطنتوں سے لے کر جدید امریکی سرمایہ دارانہ سامراج تک لوٹ کھسوٹ کی منطق یکساں نظر آتی ہے۔ اس سارے عمل میں یہ تینوں عناصر ایک دوسرے میں پیوست ہیں اور انہی کے تاریخی باہمی تعامل نے خطے کی موجودہ عدم استحکام اور غیر متوازن ساخت کو جنم دیا۔ کمیونیکیشن کی وجہ سے تیزی سے بدلتی، رازوں سے پردہ اٹھاتی اور ہر فرد پر آشکار ہوتی اس دنیا میں آج کی جنگیں کمزور پڑتی سامراجی قوتوں کے احیا کی کوشش ہیں، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس قدر شدید ہیں کہ نہ صرف خطے کی سیاسی و سماجی ساخت کو بدل رہی ہیں بلکہ عالمی نظام کے بحران کو بھی گہرا کر رہی ہیں۔ تاکہ عوام سے پہلے ہی اس معروضی دور سے نکل کر مستقبل پر قابض ہو جائیں۔ یہ مارس پر پہلے بستی بسانے جیسا ہے۔
بین الاقوامی قانون کی ادارہ جاتی کمزوریاں اور سامراج کا دوہرا معیار
جدید تاریخ مشرق وسطیٰ میں بد ترین انسانی المیے پر اتنی ہی شرمندہ ہے، جتنی وہ ہولوکاسٹ میں مارے جانے والے 60 لاکھ یہودیوں اور عالم جنگ میں 8 کروڑ انسانوں کے مارے جانے پر تھی۔ ہمیں تعجب ہے کہ یہ بات اسرائیلی وزیراعظم کے صیہونی ذہن سے کیسے محو ہو گئی۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آنے والی نسلیں غزہ اور ایران کے معصوم بچوں کے نا حق خون سے لکھی جانے والی تاریخ کے اس سیاہ باب کو ہولوکاسٹ میں کیے جانے والے بد ترین ظلم کے ساتھ یاد رکھیں گی۔ اور ظلم کے نتیجے میں حاصل کی جانے والی فتح کے شادیانوں پر ناچنے کے بجائے تم پر تھوکیں گی۔
ایران کے وزیر خارجہ جناب عباس عراقچی نے درست فرمایا ہے، ہر وہ عمارت جو تم تباہ کر رہے ہو پہلے سے زیادہ مضبوط تعمیر کر دی جائے گی، لیکن تمھارا تکبر، ساکھ اور وقار جو اس ملبے تلے دفن ہو چکا، دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکے گا۔ غزہ کی تباہی محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک صدی پر محیط اس ظلم کی بازگشت ہے جو کبھی عراق، کبھی لبنان، کبھی شام اور کبھی ایران پر مسلط پابندیوں اور جنگ کی صورت میں سنائی دی۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں ہر صبح دھوئیں کی کثیف تہہ میں سانس لیتی ہے، اور ہر رات ملبے تلے دب کر دم توڑتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام آج شدید سوالات کی زد میں ہے۔ وہ نظام جسے عالمی امن، انسانی حقوق اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اب خود طاقتور ریاستوں کے ہاتھوں یرغمال دکھائی دیتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرنا، طاقت کا بے دریغ استعمال اور ان کے غیر سنجیدہ فیصلوں نے عالمی امن اور تجارت دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہر پروفیسر مائیکل بیکر کے مطابق عالمی قانون تاریخی طور پر اکثر امریکی مفادات کے تحفظ کا ذریعہ رہا ہے، مگر موجودہ دور میں یہی عالمی نظام ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے میں بے اثر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے کئی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہیں۔ طاقتور ریاستیں اقوام متحدہ کے اصولوں کو اپنے مفاد کے مطابق استعمال کرتی ہیں، جبکہ کمزور اقوام کے حقوق محدود کر دیے جاتے ہیں۔ غزہ میں کھلی نسل کشی کے باوجود جنگ بندی کی تمام قراردادوں کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کیا جانا اس نظام کی ادارہ جاتی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
مزید براں، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعوی کہ، ایران ہم پر حملہ کر سکتا تھا اس لیے میں نے ایران پر پہلے حملہ کر دیا، یہ پیشگی دفاع کے نام پر طاقت کے استعمال کو درست ٹھہرانے کی وہی منطق ہے جو صدیوں سے سامراجی ذہنیت کا حصہ رہی ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی غماز ہے کہ بین الاقوامی قانون بطور نورمیٹیو فریم ورک یعنی اصولی نظام کے اپنی حیثیت کھو رہا ہے۔ اس سے مراد وہ بنیادی اقدار اور اصول ہیں جو عالمی قانون کو اخلاقی و قانونی جواز فراہم کرتے ہیں۔ جیسے ریاستی خود مختاری، انسانی حقوق اور جنگی قوانین۔ لیکن طاقتور ریاستیں انہی اصولوں کو ہیگمونیک ڈس کورس یعنی غالب بیانیے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، تا کہ اپنے اقدامات کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کر سکیں چاہے وہ کمزور اقوام کے لیے کتنے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہوں۔ نتیجتاً کمزور ریاستیں مسلسل اسٹرکچرل وائلینس کا شکار رہتی ہیں۔ ماہر امنیات یعنی امن کے نظریات کے ماہر یوہان گالتنگ کی اس اصطلاح سے مراد وہ ادارہ جاتی نا انصافی ہے جو سماجی، معاشی اور سیاسی نظاموں کے اندر چھپی ہوتی ہے۔ اور جس کے نتیجے میں محرومی، غربت اور عدم مساوات مستقل طور پر پیدا ہوتی ہے، جس کا فائدہ خصوصیت کے ساتھ سامراج کو پہنچتا ہے۔ موجودہ حالات میں جدید سرمایہ دارانہ سامراج جس کی مرکزی قوت امریکہ ہے اس کا خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ کہنا کہ بین الاقوامی قانون مر چکا ہے دراصل اسی بحران کی طرف اشارہ ہے۔ ایران پر پابندیاں، اس کے دفاعی اقدامات پر تنقید، اور دوسری طرف طاقتور ریاستوں کی کھلی جارحیت، معصوم بچوں پر وحشیانہ بمباری اور غذائی قلت سے ان کی اموات، یہ سب اس دوہرے معیار کی مثالیں ہیں جنہوں نے عالمی ضمیر کو شدید اخلاقی انتشار اور مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
سامراجی پروپیگنڈا اور حقائق
جدید سامراجی قوتیں جو سرمایہ دارانہ نظام کی علمبردار بھی ہیں اپنے پیش روؤں سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہیں۔ ایک طرف وہ انسانی حقوق کی مالا جپتے نہیں تھکتیں، اور دوسری طرف انہی قوانین کے پس پردہ اپنی بالادستی برقرار رکھتی ہیں۔ یہی تضادات عالمی سیاست کے دیگر پہلوؤں میں بھی جھلکتے ہیں۔ افغانستان جیسے ملک میں نئے پینل کوڈ کے تحت گھریلو تشدد کو معمولی جرم سمجھا جاتا ہے جبکہ جانوروں کی لڑائی پر سخت سزائیں مقرر ہیں، اس کے باوجود موجودہ حالات کے پیش نظر اسے عالمی طاقتوں کا اسٹریٹیجک پارٹنر قرار دیا جاتا ہے۔
اور دوسری طرف ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق عورت نہ صرف گھر کی مدیر ہے بلکہ سماجی اور خاندانی انصاف عورت کا بنیادی حق ہے، اور جسے ایران میں باقاعدہ پریکٹس بھی کیا جاتا ہے، مگر عالمی میڈیا میں یہ بیانیہ پھیلایا جاتا ہے کہ ایران میں عوام خصوصاً عورتیں آزاد نہیں۔ جبکہ بھارت میں خواتین شدید خطرات سے دوچار ہیں عالمی انڈیکسز کے مطابق بھارت خواتین کے لیے غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے، صرف اتنا ہی نہیں مذہبی منافرت نے سب سے بڑی جمہوریت کو اکھنڈ بھارت کے سامراجی بیانیے میں ڈھال دیا ہے، اور کون نہیں جانتا کہ اسرائیل میں اطلاعات حکومتی سنسرشپ کے بغیر عوام تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اور اب تو امریکہ میں بھی اداروں پر دباؤ اور دھمکیوں کے حوالے سے جو تشویش پائی جاتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس سب کے باوجود عالمی بیانیہ اکثر ایک ہی سمت میں مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے حوالے سے پیش کیا جانے والا بیانیہ اسی نا انصافی کی مثال ہے۔ مزید برآں، اپسٹین فائل کے ذریعے انسانیت کو شرمندہ کرنے والے واقعات نے اس معاشرے کی قلعی کھول دی جس کے رہنماؤں اور تہذیب کو طویل عرصے سے آئیڈیل بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔
مشرق وسطیٰ کی سامراجی تکوین اور لوٹ پر مبنی سرمایہ دارنہ نظام
جدید سامراج کی بنیاد منافع کی اس بھوک پر ہے جو کسی مافیا کی طرح مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ تیل کی دریافت نے مشرق وسطیٰ کو عالمی طاقتوں کے لیے اسٹریٹیجک خطہ بنا دیا۔ 1953 میں ایران کے تیل کو قومیانے کی کوشش میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹنا اسی مداخلت کی نمایاں مثال ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد سامراجی قوتوں نے سائکس پیکو معاہدے کے ذریعے خطے کی نئی تکوین کی بنیاد رکھی۔ لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ سسٹم نے نوآبادیاتی قبضے کو قانونی لبادہ دیا، جس کے تحت عراق، فلسطین، اردن، شام اور لبنان جیسے وسائل سے مالا مال خطے مصنوعی ریاستوں میں تقسیم کیے گئے۔ یہ تقسیم آج تک تنازعات کو جنم دیتی ہے اور سامراجی عزائم کو سہارا فراہم کرتی ہے۔ مینڈیٹ سسٹم، بالفور اعلامیہ، اسرائیل کا قیام، تیل کی سیاست، اسلحہ کی تجارت اور مذہبی بیانیوں کا استعمال یہ سب سامراج کی سرمایہ دارانہ لوٹ کھسوٹ پر مبنی تاریخ کے مختلف ابواب ہیں، جو آج بھی خطے کی سیاست اور مزاحمت کو متعین کرتے ہیں۔
عالمی طاقتوں نے توانائی کے ذخائر پر قبضے، منڈیوں کی توسیع، سیاسی جبر، اسلحہ کی منہ زور تجارت اور کٹھ پتلی حکومتوں کی تشکیل کے ذریعے خطے کو اپنے معاشی مفادات کے مطابق ڈھالا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اسلحہ کی عالمی تجارت کھربوں ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، یوکرین و غزہ کی جنگوں نے اسلحہ کے اس کاروبار کے منافع میں بے پناہ اضافہ کیا۔ 2024 میں دنیا کی 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مجموعی آمدنی 679 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس میں امریکی کمپنیوں کا حصہ تقریباً نصف تھا۔ جبکہ یورپی اداروں کی آمدنی میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ کمپنیاں اپنی حکومتوں پر لابنگ کرتی ہیں تاکہ جنگی ماحول برقرار رہے اور اسلحہ کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے۔ نتیجتاً تنازعات مزید طویل اور مہلک ہو جاتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ نے اسلحہ کے اس کاروبار میں نہ جانے اور کتنا اضافہ کیا ہو گا۔ مشرق و سطیٰ کی جنگیں اور بحران عالمی طاقتوں کے معاشی مفادات اور جیو پولیٹیکل اہداف کا تسلسل ہیں، نہ کہ مذہبی یا نظریاتی، جنہیں تہذیبی رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ کلیش آف سویلائزیشن جیسی تھیوریاں پہلے سے موجود ہیں، جن کے مطابق بڑے تنازعات تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان ہوں گے، اکھنڈ بھارت اور گریٹر اسرائیل جیسے تصورات کو اسی پیرائے میں دیکھا جاتا ہے، مگر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کو عوام نے مذہبی یا تہذیبی جنگ کے طور پر قبول نہیں کیا۔ جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب عوام جدید سرمایہ دارانہ سامراج کے سیاسی و معاشی اسٹریٹیجک مفادات کو کسی جھوٹے نظریاتی بیانیے کے لبادے میں قبول کرنے کو تیار نہیں۔
مذہب بطور سامراجی آلہ
وہ ریاست یا گروہ جہاں مذہب بطور عقیدہ یا ایمان کے روزمرہ نظم حیات کا خود مفسر ہو اور بدیہی ساخت رکھتا ہو، اس معاشرے کو مذہبی تو کہا جا سکتا ہے مگر ایسی ریاست یا گروہ پر مذہب کے استعمال کا کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ کیوں کہ وہاں مذہب طاقت کا آلہ نہیں بلکہ تہذیبی وجود کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ جبکہ وہ ریاست یا گروہ جہاں مذہب پر یقین تو رکھا جائے، مگر اسے عقیدے کے بجائے غیر معمولی حالات میں سیاسی جواز یا عوامی جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، وہاں مذہب ایمان نہیں بلکہ ایک موثر سیسی آلہ بن جاتا ہے۔ لہذا مذہب بطور آلہ اور بطور ایمان کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
قدیم سامراجی سلطنتوں سے لے کر نوآبادیاتی دور تک مذہب کو توسیع پسندی، تجارتی راستوں پر قبضے اور سیاسی غلبے کے لیے بروئے کار لایا گیا۔ برصغیر میں مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی، خلافت عثمانیہ کے خلاف زمین اسلام جزیرۃ العرب میں قوم پرستی کے نام پر بغاوت۔ اور جدید دور میں افغانستان و عراق کی جنگیں اسی حکمت عملی کی مثالیں ہیں۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ سامراج نے ایک دفعہ پھر جدید دور میں افغانستان اور عراق میں مداخلت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کیا، جبکہ اس کے برعکس دہشت گردی کے کئی گروہ خود انہی کی پالیسیوں کا نتیجہ تھے۔ اس حوالے سے ہیلری کلنٹن سمیت متعدد امریکی حکام کے اعترافات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ دہشت گردی کے اس بیانیے نے اسلاموفوبیا جیسی نفرت انگیز تحریک کو عالمی سطح پر ہوا دی اور ہر مسلمان کی پیشانی پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کر دیا گیا۔ اور اس طرح تنازعات کو تہذیبی رنگ میں پیش کیا گیا، جہاں ایک طرف نام نہاد مہذب دنیا تھی اور دوسری طرف دہشت گرد مسلمان۔ جس کے ہولناک نتائج سے انتہائی پرامن ملک نیوزی لینڈ میں رہنے والے مسلمان بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ شاہ رخ خان کی فلم کا مشہور زمانہ ڈائیلاگ، مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم ناٹ اے ٹیررسٹ، کہنے کو عام فہم ہے، لیکن اس میں چھپے ایک عام مسلمان کے درد کو محسوس کیجیے۔
نیو استعماری طاقتیں، امریکہ اور اسرائیل نے خطے میں اپنی بالادستی اور قبضے کو وسعت دینے کے لیے تنازعہ کو مذہبی رنگ دے کر اسے ہم اور وہ کی تہذیبی کشمکش کے بیانیے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ اگرچہ گریٹر اسرائیل کوئی سرکاری پالیسی نہیں لیکن مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، صیہونی جماعتوں کا بڑھتا ہوا اثر اور وعدہ شدہ سرزمین کا مذہبی تصور اسرائیلی سیاست میں دیرینہ عنصر کے طور پر موجود رہا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی اسی مشترکہ سامراجی توسیع پسندی کا حصہ ہیں، جس کا برملا اظہار بھارتی قیادت کے اکھنڈ بھارت جیسے بیانات میں ہوتا ہے۔ یوں مذہب اور تہذیبی شناخت کو سامراج کے توسیع پسندانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی قدیم روایت کو برقرار رکھا گیا۔ امریکی سیاست میں بھی مذہب کو جنگی بیانیے کا حصہ بنانے کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایران کے خلاف 2026 کی جنگ کے دوران اوول آفس کی تصاویر میں پادری ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے دکھائی دیے، جبکہ متعدد فوجیوں نے شکایت کی کہ ان کے کمانڈر جنگ کو ”خدا کا منصوبہ“ اور ”بائبلی مشن“ قرار دیتے ہیں۔ و زیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کی بریفنگ میں ایران کے خلاف جنگ کو بدروحوں کی ابدی سزا کے طور پر پیش کیا گیا، اور نائب صدر جے ڈی وینس نے یو ایف اوز کو جنات یا روحانی ہستیاں قرار دیا۔ یہ سب مثالیں اس حقیقت کو تقویت دیتی ہیں کہ مذہبی قدامت پسندی اور جارحانہ رجحان کو قدیم سامراج کی موثر جنگی حکمت عملی کے طور پر آج بھی ان قوتوں کی جانب سے استعمال کیا جا رہا ہے، اور یہ سب ان کی طرف سے ہو رہا ہے جو کمزور اقوام کے مذہبی رجحانات کو برا بھلا اور تہذیب کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے نہیں تھکتے۔ اسی تناظر میں 6 جنوری 2021 کا واقعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں، جب کیپیٹل حملے میں مذہبی نعروں اور علامتوں کی موجودگی نے بھی واضح کیا تھا کہ مذہب کو سیاسی تشدد کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سفید فام ایونجیلکل ووٹرز کے اثر و رسوخ کو اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، اور یہی گروہ مشرق و سطیٰ سے متعلق سخت گیر پالیسیوں کی حمایت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تاہم اس ماحول میں ایک مخالف رجحان بھی ابھرا۔ 28 مارچ 2026 کو امریکہ میں لاکھوں افراد نے ایران اور غزہ پر جاری جنگوں کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ اسرائیل میں بھی نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے۔ یہ مظاہرے جمہوری اقدار کے اصل وارث عوام اور تنگ نظر سامراجی اشرافیہ کے درمیان فکری تفریق کو نمایاں کرتے ہیں اور طاقت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور عسکری کشیدگی کے خلاف ایک عوامی ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تاریخ کا بڑا حصہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جنگوں اور قتل و غارت گری کا بنیادی محرک مذہب نہیں بلکہ طاقت، زمین، تجارت، وسائل اور سیاسی غلبہ رہا ہے۔ مذہب اکثر ان عزائم کو اخلاقی جواز دینے اور عوام کو متحرک کرنے کے لیے استعمال ہوا۔ مزید براں، سرمایہ داری کی داخلی منطق یعنی منافع میں مسلسل اضافے کی ضرورت ہمیشہ نئی منڈیوں، سستی محنت، وافر خام مال اور محفوظ تجارتی راستوں کی تلاش پر مجبور کرتی ہے۔ جب یہ ضرورت کسی ملک کے اندر پوری نہیں ہوتی تو نظام بیرونی خطوں کی طرف توسیع کرتا ہے، اور یہی مرحلہ سرمایہ داری کو سامراج میں بدل دیتا ہے۔ مالیاتی اجارہ داریاں، صنعت و بینکاری کا انضمام، عالمی تجارت پر کنٹرول اور سیاسی اثر و رسوخ، یہ سب جدید سامراج کی خصوصیات ہیں، جو جنگوں، قبضوں اور معاشی ناہمواری کو ناگزیر بنا دیتے ہیں۔ یوں جدید سرمایہ دارانہ سامراج محض بیرونی تسلط نہیں بلکہ سرمایہ داری کے اندرونی تضادات کا عالمی اظہار ہے، جس کا مشاہدہ آج ہم کر رہے ہیں۔
ایران کے بارے میں مغربی بیانیہ
ایران کے بارے میں مغربی پروپیگنڈا طویل عرصے سے یک طرفہ تعبیرات کا شکار رہا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد ایران کو شدت پسند ریاست کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اور خلیجی طاقتیں طالبان اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور پشت پناہی میں براہِ راست ملوث رہیں۔ ایران نے طویل پابندیوں کے باوجود سفارتی اور معاشی تنہائی کے دوران دفاعی نظام کو مضبوط کیا اور ان تحریکوں کی حمایت کی جو خطے میں اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کر رہی تھیں۔ ایران کی یہ حمایت حکمت عملی کے لحاظ سے دو جہتی تھی، جس ایک پہلو نظریاتی اور دوسرا تنہا ایران کے لیے ناگزیر دفاعی پہلو تھا۔ خطے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کو عمومی طور پر ایران کی پراکسیز کہا جاتا ہے۔ اور انہیں امن کے لیے شدید خطرہ تصور کیا جاتا ہے، بالکل ایسے جیسے سر پر لٹکتی تلوار۔ جبکہ دوسری طرف دنیا بھر کے 80 ممالک میں امریکہ کے کم و بیش 800 فوجی اڈے ہیں، جو جدید اسلحے سے لیس بھی ہیں۔ جن کا اصل کام دنیا بھر میں امریکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، اور اس کام کے لیے ان ہی اڈوں سے کم و بیش تمام ہی ممالک اور ان کے رہنماؤں کی جاسوسی کی جاتی ہے، جہاں ضروری ہو وہاں سیاسی بے چینی پیدا کر کے خانہ جنگیاں اور بغاوتیں کروائی جاتی ہیں۔ کمزور اقوام کی خود انحصاری، وسائل اور آزادی پر ہر وقت لٹکتی یہ 800 تلواریں نوعیت کے اعتبار سے ایران کی پراکسیز سے کہیں زیادہ مہلک اور انسان دشمن ثابت ہو رہی ہیں۔ مگر انہیں کمزور ممالک کے تحفظ کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔
ہم سب اکثر ہی ٹی وی رپورٹس میں ایسے مناظر دیکھتے ہیں، جس میں غریب افریقی نوجوان کے بدن پر نہ قمیض ہوتی ہے اور نہ پاؤں میں چپل، لیکن اس کے ہاتھ میں امریکی ساختہ مہنگا ہتھیار موجود ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو اس غریب نوجوان کو مہنگا ہتھیار فراہم کرتے ہیں، بجائے اس کے اگر وہ اس کو قمیض، چپل اور مٹھی بھر ہی سہی چاول دے دیں تو شاید وہ ہتھیار نہ اٹھائے۔ مگر یہ طاقت ور مہذب لوگ ایسا نہیں کریں گے کیوں کہ ایسا کرنے سے ان کی پیدا کردہ جنگ کا کاروبار ٹھپ ہو جائے گا۔
اسی طرح ایران کے رہنماؤں کے بیانات کو اکثر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، آیت اللہ خمینی صاحب سے ایک جملہ منسوب ہے اور کافی مشہور ہے، کہ اسرائیل کو نقشے سے مٹا دینا چاہیے۔ دراصل فارسی زبان میں اس سے مراد تھی، یہ قابض حکومت تاریخ کے صفحے سے مٹ جائے، جس کا مطلب سیاسی زوال ہے نہ کہ فوجی تباہی۔ اسی طرح آیت اللہ خامنہ ای صاحب کا بیان کہ، اسرائیل 25 سال نہیں دیکھے گا یا صیہونی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے، یہ بیانات بھی دراصل سیاسی اور نظریاتی نوعیت کے تھے۔ ایران انہیں مزاحمتی بلاک کی حمایت کے تناظر میں پیش کرتا ہے، اور ان بیانات کا مقصد فوجی کارروائی کی دھمکی نہیں بلکہ سیاسی زوال، علاقائی دباؤ اور فلسطینی خود ارادیت کی حمایت تھا۔ جو کہ ہر لحاظ سے جائز ہے اور وجہ وہی ادارہ جاتی نا انصافی ہے۔ جس کے تحت اقوام متحدہ نے 1947 میں علاقائی اور عرب دنیا کی شدید مخالفت کے باوجود فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل کی بنیاد رکھی۔ اور مشرق وسطیٰ میں مستقل تنازعہ کا ایسا خار دار بیج بویا، جس نے وہ گل کھلائے کہ آج پوری دنیا بھوگ رہی ہے۔ اس سامراجی نا انصافی کے خلاف اگر آیت اللہ خمینی نے اسرائیل کو غاصب اور ناجائز کہا تو کیا غلط کہا۔ باوجود اس سب کے، ایران کا سرکاری موقف ہمیشہ یہی رہا کہ فلسطینی مسلمان، عیسائی اور یہودی ریفرنڈم کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں اور یہی موقف اقوام متحدہ میں بھی اختیار کیا۔
فلسطین اسرائیل تنازعہ کے حل کی کوششوں میں ہمیشہ اسرائیل، عرب دنیا اور امریکہ ہی شامل رہے۔ ایران کو اور فلسطین کی نمائندگی کو تمام مذاکرات سے دور رکھا گیا، ماسوا 1993 کے اوسلو معاہدہ سے۔ جس میں فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین یاسرعرفات نے اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابین اور امریکی صدر بل کلنٹن سے براہ راست مذاکرات کیے لیکن یہ عمل زیادہ دیرپا ثابت نہ ہوا۔ شدت پسند گروہوں کی مزاحمت، اسرائیلی آباد کاریوں میں مسلسل اضافہ، 1995 میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کا اسرائیل میں شدت پسند صیہونی کے ہاتھوں قتل اور 2004 میں یاسر عرفات کی پراسرار موت نے مشرق وسطیٰ میں امن عمل کو جمود کا شکار کر دیا۔ مشرق وسطیٰ میں امن عمل کو دھچکے بنیادی طور پر انہی پالیسیوں اور واقعات سے پہنچے جو تنازعے کے اصل فریقوں کی داخلی تقسیم، آباد کاریوں کے پھیلاؤ اور سیاسی قتل جیسے عوامل سے پیدا ہوئے۔ اور یہ قتل آج تک جاری ہیں۔ کہیں اپ رائسنگ کے نام پر تو کہیں براہ راست ٹارگٹ کر کے۔ ان تمام رہنماؤں کو کسی نہ کسی طرح راستے سے ہٹا دیا گیا، جو مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن برقرار رکھ سکتے تھے دیرپا اور اصولی امن کے قیام میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکتے تھے ذرا غور سے دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ مشرق وسطیٰ میں قد آور رہنما شخصیات کا قال نظر آئے گا۔ بجز ایران کے جہاں آیت اللہ خامنہ ای اور علی لاریجانی جیسی قد آور شخصیات کے باوجود رہنمائی موجود ہے، کیوں کہ ان کا نظام شخصیات پر نہیں نظریہ پر قائم ہے۔
مشرق وسطیٰ اور ایران کی تہذیبی مزاحمت
مشرق وسطیٰ کی مٹی میں صدیوں پر محیط جدوجہد، شکست، امید اور مزاحمت کے نقش واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں کی قومیں خطرات کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی مٹی کو مضبوطی سے تھام لیتی ہیں، ایرانی تاریخ مزاحمت کی ایک طویل اور گہری روایت رکھتی ہے۔ یونانی حملہ آوروں کے خلاف فارس کی جنگیں، عرب فتوحات کے بعد زبان و ثقافت کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد، اور یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ اپنی شناخت اور آزادی کے لیے کھڑے رہنے کو ترجیح دی۔ جدید دور میں یہی روایت آئینی انقلاب اور سامراجی اثرات کے خلاف عوامی تحریکوں، اور 1979 کے اسلامی انقلاب میں نظر آتی ہے۔ ایرانیوں کی مزاحمت محض سیاسی عمل نہیں بلکہ تہذیبی ورثہ ہے، جو صدیوں سے یہ پیغام دیتا آیا ہے کہ طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی مٹی اور اپنی اقدار کو تھامے رکھنا ہی اصل بقا ہے۔ اسی خطے نے کربلا کی لازوال حسینی روایت، ہمارے جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا، کے ذریعے حق و باطل کے درمیان اخلاقی عظمت کا معیار قائم کیا۔ ان کی مزاحمت میں آج بھی یہی معیار برقرار ہے۔ اس کے مقابل وہ آوازیں بھی ہیں جو ایران کی مزاحمت اور اس کی قیادت کے فیصلوں پر تنقید کرتی ہیں، مختلف تجزیوں اور مباحث میں بعض روشن خیال حلقے ایران کے اندر انتہائی کشیدہ حالات میں محترم آیت اللہ خامنہ ای کی دفتر میں موجودگی کو شہادت کے بجائے حماقت قرار دیتے ہیں۔ بعض تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس وصول کرنے کی بات کو بھتہ خوری کہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دو جمع دو چار کی سطحی معقولیت کبھی بھی بصد نگاہ کی بصیرت کو نہیں پہنچ سکتی۔ یہی وہ فرق ہے جو سامراجی بیانیے اور خطے کی تاریخی مزاحمت کے درمیان موجود ہے۔ ایک طرف سامراجی طاقتور قوتیں اپنے مفاد کے لیے غالب بیانیہ تخلیق کرتی ہیں، اور دوسری طرف بہادر قومیں اپنی تاریخ، مزاحمت اور اپنی اخلاقی عظمت کے ذریعے سامراج کے اس بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایران کبھی مکمل طور پر مغلوب نہیں ہوا۔ اگرچہ ساسانی سلطنت کو عربوں کے ہاتھوں شکست ہوئی اور یہ ایران کی تاریخ کی سب سے بڑی شکست تھی، مگر اس کے باوجود ایران نے عربوں کی زبان یا ثقافت کو کبھی قبول نہیں کیا۔ اسلام کو اپنایا لیکن اپنی تہذیبی روح کو زندہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانیوں کو اہل بیت کی محبت اور مظلومیت نے متاثر کیا، نہ کہ اموی و عباسی حکمرانوں کے جاہ و حشم نے۔ ایرانیوں کی تاریخ مزاحمت اور تہذیبی بقا کی حیرت انگیز صلاحیتوں سے بھری پڑی ہے۔ روس، برطانیہ، امریکہ، عثمانی سلطنت اور عراق، ہر طاقت کے خلاف ایران نے کسی نہ کسی شکل میں مزاحمت کی۔ اس خطے کے لیے جنگ محض سرحدوں کا مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی خودی اور قومی وقار کے دفاع کا نام ہے۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایرانی تہذیب کو مٹانے کا خیال اس کی کئی حماقتوں میں سے ایک اور حماقت ہو گی۔ ایران کی مزاحمت ایک تاریخی تسلسل ہے مزید برآں، دنیا بھر میں مشرق و سطیٰ اور ایران پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بعد بلا تفریق رنگ نسل اور مذہب کہ جو عوامی یکجہتی فکری بنیادوں پر پروان چڑھ رہی ہے وہ سامراجی طاقتوں کے خلاف طبل جنگ کے مترادف ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ایران، غزہ اور لبنان سے یکجہتی کے اظہار کے لیے احتجاجی مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی ضمیر بیدار ہو رہا ہے۔ ایران کی مزاحمت اسی عالمی بیداری کا حصہ ہے۔
اختتام پر یہ کہنا بجا ہو گا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران اور انسانی المیے کو سمجھنے کے لیے سامراجی سیاست اور سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی نظام کو جاننا ہو گا، وہ نظام جو طاقت کے نشے میں چور دولت کے حصول کے لیے خطے کو مسلسل سنگین بحرانوں میں دھکیل رہا ہے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل کے ذخائر رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔ اور اب دنیا کو امریکہ سے تیل خریدنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ امریکہ معصوم بچوں کو قتل کرنے کے بعد اپنی قصاب کی دکان سے ان کا ناحق خون بیچ کر کمائی کر رہا ہے۔
ہم ہرگز یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ ایران کے اندر سب کچھ ٹھیک ہے، ہم تو بس یہ پوچھنے کی جسارت کر رہے ہیں کہ کیا ایران کے باہر سب کچھ واقعی ٹھیک ہے؟ موجودہ عالمی منظرنامہ تو کچھ اور ہی کہہ رہا ہے۔

Enjoyed reading your detailed historical and political analysis
Thank you sir, means a lot