پاکستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار کون؟

پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ طاقت اور دولت کا ارتکاز ہمیشہ چند ہاتھوں میں رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو سیاست دان کھا رہے ہیں یا کاروباری مافیا؟ دراصل یہ سوال دو الگ قوتوں کا نہیں بلکہ ایک ایسے گٹھ جوڑ کا ہے جس میں سیاست اور سرمایہ ایک دوسرے کا سہارا بن کر قومی وسائل پر قابض ہے۔ بدقسمتی سے عوام کے نام پر حاصل کی گئی طاقت اکثر عوام ہی کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔
سیاست دانوں کا بنیادی فریضہ قانون سازی، پالیسی سازی اور قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔ جب سیاست خدمت کے بجائے سرمایہ کاری بن جائے تو اقتدار منافع کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے سیاسی خاندانوں کا تسلسل، سرکاری ٹھیکوں کی بندر بانٹ، ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن کلچر اور سرکاری اداروں میں اقربا پروری جیسے عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سیاست کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ”کرپشن پرسپشن انڈیکس رپورٹیں“ بارہا ظاہر کرتی رہی ہیں کہ پاکستان میں بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ ہے اور حکومتی ڈھانچے میں شفافیت کی کمی موجود ہے۔ مختلف اخبارات مثلاً ڈان اور دی نیوز میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹس میں بھی ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال اور سرکاری منصوبوں میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے۔
لیکن کیا سارا بوجھ صرف سیاست دانوں پر ڈالا جا سکتا ہے؟ اگر سیاست اقتدار کا چہرہ ہے تو کاروباری مافیا اس کا معاشی بازو ہے۔ پاکستان کی معیشت میں شوگر مافیا، آٹا مافیا، پراپرٹی ٹائیکون اور درآمدی و برآمدی لابیوں کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جب قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کیا جاتا ہے یا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے قلت پیدا کی جاتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔ کئی بار ایسا دیکھا گیا کہ حکومتی وزرا، بڑے صنعتی یا تجارتی گروہوں سے وابستہ رہے۔ نتیجتاً پالیسی سازی میں مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوا۔ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ ہو یا مختلف آڈٹ رپورٹس ؛ان میں کاروباری مفادات اور سیاسی اثر و رسوخ کے باہمی تعلق کی جھلک ملتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کے مسائل کو صرف مالی بحران نہیں بلکہ گورننس کے بحران سے جوڑتے ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹس میں بارہا اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ ٹیکس نیٹ محدود ہے جبکہ اشرافیہ کو ٹیکس چھوٹ حاصل ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی مطالعاتی رپورٹس میں ”ایلیٹ کیپچر“ کی اصطلاح استعمال کی گئی جس سے مراد یہ ہے کہ ریاستی پالیسیوں کو ایک محدود طبقہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس تناظر میں سیاست دان اور کاروباری سیکٹر ایک دوسرے کے محتاج نظر آتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر سیاست دان بدعنوان نہیں اور ہر کاروباری شخص منافع خور نہیں۔ پاکستان میں بے شمار صنعت کار ایسے بھی ہیں جنہوں نے روزگار پیدا کیا، برآمدات بڑھائیں اور فلاحی کام کیے۔ اسی طرح کئی سیاست دان ایسے گزرے جنہوں نے ذاتی مفاد کے بغیر خدمت کی مگر نظام کی مجموعی صورتحال ایسی رہی کہ بدعنوان عناصر کو جگہ ملتی رہی۔ احتساب کا عمل یا تو سیاسی انتقام بن گیا یا پھر وقتی مہم۔ اس تسلسل کی کمی نے بدعنوانی کو جڑ پکڑنے دی۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ عدلیہ اور فوج کا کردار کیا رہا؟ پاکستان کی تاریخ میں فوج نے براہ راست اور بالواسطہ دونوں انداز میں سیاست پر اثر ڈالا۔ بعض ادوار میں مارشل لا نافذ ہوا اور بعض اوقات پس ِپردہ اثر و رسوخ کی باتیں ہوتی رہیں۔ ناقدین کا موقف ہے کہ سیاسی عدم استحکام اور کمزور جمہوری اداروں نے فوج کو مداخلت کا موقع دیا جبکہ حامی یہ کہتے ہیں کہ فوج نے قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت کردار ادا کیا۔ اسی طرح عدلیہ نے بعض مواقع پر تاریخی فیصلے دیے مگر بعض ادوار میں ”نظریہ ضرورت“ جیسے تصورات نے آمریت کو قانونی جواز فراہم کیا۔ اگر ادارے مکمل طور پر آزاد اور غیر جانبدار ہوتے تو شاید سیاسی اور کاروباری گٹھ جوڑ کو مضبوط ہونے کا موقع نہ ملتا۔
میڈیا نے اس سارے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ تحقیقاتی صحافت نے ”پاناما پیپرز“ جیسے عالمی انکشافات کے ذریعے پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کو بے نقاب کیا۔ عالمی صحافتی نیٹ ورکس اور مقامی اخبارات آف شور کمپنیوں اور اثاثوں کی تفصیلات سامنے لائیں۔ مختلف پوڈ کاسٹس اور ٹی وی پروگراموں میں معیشت اور گورننس پر سنجیدہ بحث ہوئی نیز میڈیا پر بھی دباؤ اور تقسیم کے الزامات لگتے رہے۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیا خود کارپوریٹ مفادات سے آزاد نہیں۔
کتابوں اور تحقیقی مقالوں میں بھی اس موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ عائشہ صدیقہ کی کتاب ”ملٹری انکارپوریٹڈ“ میں فوج کے معاشی کردار پر بحث کی گئی۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنی تحریروں میں گورننس اصلاحات اور بیوروکریسی کی ناکامیوں کا ذکر کیا۔ مختلف ماہرین معاشیات نے ”کرونی کیپیٹلزم“ یعنی اقربا پرور سرمایہ داری کو پاکستان کی معیشت کا بڑا مسئلہ قرار دیا۔ ان تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف افراد کا نہیں بلکہ انتظامی ڈھانچے کی ردِ تشکیل کا ہے۔
پاکستان کی موجودہ معاشی حالت کو دیکھیں تو مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کا بوجھ عام آدمی کو کچل رہا ہے۔ روپے کی قدر میں کمی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ معیشت مضبوط بنیادوں پر اُستوار نہیں کی گئی۔ جب سیاسی عدم استحکام ہو اور پالیسیوں میں تسلسل نہ ہو تو سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اس طویل تمہید سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کو سیاست دان کھا رہے ہیں یا کاروباری مافیا؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کا گٹھ جوڑ زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا۔ سیاست دان پالیسی بناتا ہے اور کاروباری طبقہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اگر سیاست دان دیانت دار ہو تو منافع خور عناصر کو لگام دی جا سکتی ہے۔ اگر کاروباری طبقہ ذمہ دار ہو تو وہ ناجائز رعایتیں قبول نہ کرے البتہ جب دونوں مفاد میں شریک ہو جائیں تو ریاست کمزور ہو جاتی ہے۔
اس نزاعی صورتحال میں ملک سے وفادار کون ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے۔ عام پاکستانی شہری جو ٹیکس دیتا ہے قانون کی پابندی کرتا ہے اور مشکل حالات میں بھی ملک نہیں چھوڑتا، وہ سب سے زیادہ وفادار ہے۔ فوج کا سپاہی جو سرحد پر جان دیتا ہے وہ بھی وفادار ہے۔ ایماندار جج اور دیانت دار افسر بھی وفادار ہیں۔ مسئلہ چند افراد کا ہے جو طاقت کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں، پوری قوم کو بدعنوان کہنا نا انصافی ہے۔
پاکستان کو موجودہ حالت تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار ناقص گورننس اور طاقت کے غیر منصفانہ استعمال کا ہے۔ سیاست دانوں کی غلط پالیسیوں نے بنیاد کمزور کی جبکہ کاروباری مفادات نے اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ اداروں کی کمزوری نے احتساب کو غیر موثر بنایا۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، قانون سب پر یکساں لاگو ہو اور شفافیت یقینی بنائی جائے تو صورتحال بدل سکتی ہے۔
اس تنزل سے نکلنے کا حل کیا ہے؟ سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو فروغ دینا ہو گا۔ انتخابی فنڈنگ شفاف بنانا ہوگی۔ ٹیکس نظام کو منصفانہ کرنا ہو گا تاکہ طاقتور طبقہ بھی حصہ ڈالے۔ عدلیہ کو آزاد اور تیز تر انصاف فراہم کرنا ہو گا۔ میڈیا کو اظہار رائے کی کامل آزادی ملنی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر عوام کو باشعور ہونا ہو گا تاکہ وہ کارکردگی کی بنیاد پر صحیح قیادت کا انتخاب کریں۔
یہ مان لینا آسان ہے کہ سب کچھ برباد ہو چکا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اصلاح کے ذریعے سنبھلتی ہیں۔ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں کمی، کمی صرف دیانت اور شفاف نظام کی ہے۔ جب تک سیاست اور سرمایہ کا ناجائز اتحاد ٹوٹے گا نہیں تب تک عام آدمی کا استحصال جاری رہے گا۔ اگر ادارے مضبوط ہوں، احتساب غیر جانبدار ہو اور قیادت مخلص ہو تو ملک برق رفتاری سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ فیصلہ اب بھی ہمارے اجتماعی شعور اور نظام کی اصلاح میں پوشیدہ ہے۔
