شہباز شریف: قسمت یا قابلیت؟

وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے اقتدار سنبھالتے ہی مشکلات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ ملک معاشی دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا تھا، تاریخ کے بدترین سیلاب نے تباہی مچا رکھی تھی، دہشت گردی نے سر اٹھایا اور بلوچستان میں صورتحال انتہائی گمبھیر تھی۔ اس سب کے ساتھ اندرونِ ملک ایک ایسی اپوزیشن کا سامنا تھا جو ہر اقدام کو ملک دشمنی قرار دے کر سیاسی جنگ کو انتہائی سطح تک لے جانے پر تلی ہوئی تھی۔
ہر موڑ پر لگتا تھا کہ اب یہ حکومت پھنس گئی، اب ہاتھ کھڑے کر دینے چاہئیں۔ مگر شہباز شریف نے کبھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے ہر بحران کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اس سے نکلنے کا راستہ بھی نکال لیا۔ جب بھی مشکل عروج پر پہنچتی، وہ اسے عبور کر کے آگے بڑھتے اور نتیجہ یہ نکلتا کہ لوگوں کو لگتا ”یہ تو بہت آسان تھا“ ۔ حقیقت یہ ہے کہ آسان کچھ بھی نہیں تھا، البتہ شہباز شریف نے اپنی قیادت، استقامت اور فیصلہ سازی کی بدولت انہیں آسان بنا دیا۔
اس کامیابی کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کی منظم پلاننگ اور طویل مدتی حکمت عملی کا بڑا کردار ہے۔ پارٹی نے برسوں سے ملک کے معاشی، سفارتی اور سیاسی چیلنجز پر گہری سوچ بچار کی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کی ٹیم نے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے واضح روڈ میپ تیار کیا تھا۔ شہباز شریف نے اسی پلاننگ کو عملی شکل دی۔ ان کی قیادت میں پارٹی کی ٹیم نے دن رات ایک کر کے معاشی بحالی، سفارتی محاذ اور داخلی استحکام کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل کیا۔ یہ محض ردعمل نہیں تھا، بلکہ سوچی سمجھی، منظم اور پیشگی منصوبہ بندی تھی۔
اس پلاننگ کی بنیاد نواز شریف کے وسیع تجربے، عالمی رہنماؤں سے گہرے تعلقات اور دور اندیش ویژن پر قائم تھی۔ نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کے دوران جو بین الاقوامی سطح پر تعلقات استوار کیے، انہوں نے مشکل ترین لمحات میں پاکستان کو سہارا دیا۔ ان کا ویژن پاکستان کو ایک مستحکم، معاشی طور پر مضبوط اور عالمی سطح پر معتبر ملک بنانے کا تھا۔ شہباز شریف نے اسی ویژن کو آگے بڑھایا۔ نواز شریف کے قائم کردہ اعتماد اور تعلقات کی بدولت جب شہباز شریف نے سفارتی محاذ پر قدم بڑھایا تو راستے خود بخود ہموار ہوتے چلے گئے۔
اس سب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بھی انتہائی اہم رہا۔ فوج کے سربراہ کے طور پر انہوں نے حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور اعتماد کی فضا قائم کی۔ جب ملک اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے گزر رہا تھا تو فوج اور حکومت ایک پیج پر کھڑی رہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی مفاد کو ہر چیز سے مقدم رکھا اور حکومت کو فیصلہ سازی میں پوری قوت سے سپورٹ کیا۔
افواجِ پاکستان کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز، سیلاب زدگان کی امداد، سرحدی تحفظ اور ہر بحران میں پاک فوج، نیوی اور ائر فورس کے جوانوں نے خون پسینہ ایک کر دیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، وطن پرستی اور لازوال قربانیوں نے پاکستان کو کئی بار تباہی کے منہ سے بچایا۔ جہاں شہباز شریف سیاسی اور سفارتی محاذ پر قیادت کر رہے تھے، وہیں افواجِ پاکستان میدانِ جنگ اور امداد میں ریڑھ کی ہڈی بن کر کھڑی رہیں۔
بیرونی محاذ پر شہباز شریف نے کئی بار ایسے جوکھم اٹھائے کہ ناقدین بھی حیران رہ گئے۔ ٹرمپ کی دوسری صدارت کے آغاز پر دشمنانِ پاکستان بڑی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، مگر شہباز شریف نے جو سفارتی حکمت عملی اپنائی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ خود پاکستان کی تعریف کرنے لگا۔ کشمیر تناؤ کے وقت جب پوری دنیا پاکستان کے خلاف تھی، شہباز شریف نے ایک ہی بیان میں ماسٹر سٹروک کھیل دیا۔ دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ تیسرے فریق کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ اس کے بعد بھارت بیک فٹ پر آ گیا۔ جب حملہ ہوا تو پاکستان نے پہلے دن ہی بھارتی جہاز گرا دیے۔ عالمی دباؤ میں بھی شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹینک پر کھڑے ہو کر پیغام دیا کہ ”بدلہ لیا جائے گا“ ۔ آپریشن ”بنیان المرصوص“ نے قومی وقار کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
غزہ، ایران اسرائیل تناؤ سمیت کئی عالمی بحرانوں میں پاکستان نے متوازن اور پرامن کردار ادا کیا۔ جو لوگ پاکستان کی تباہی کے خواب دیکھ رہے تھے، وہ آج اس کی تعریفوں پر مجبور ہیں۔
یہ سب محض اتفاق یا قسمت کا کرشمہ نہیں۔ اس کے پیچھے مسلم لیگ (ن) کی منظم پلاننگ، نواز شریف کا دور اندیش ویژن اور وسیع تعلقات، شہباز شریف کی عملی قیادت، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ حکمت عملی اور افواجِ پاکستان کی لازوال قربانیاں ہیں۔ جب قیادت، پارٹی، فوج اور قوم ایک ہو جائیں تو کوئی طوفان انہیں روک نہیں سکتا۔
اللہ تعالیٰ کا کرم بھی ان پر ہے، مگر یہ کرم ان کی محنت، خلوص اور ملک سے محبت کا بدلہ ہے۔ شہباز شریف کی یہ داستان دراصل قیادت، ویژن اور قربانیوں کی مشترکہ کامیابی کی داستان ہے۔
