امید، زندگی اور بخشش
پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ وہ قائد اعظم کے بعد ایک لیڈر کی تلاش میں سرگرداں ہے لیکن ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے مسیحاؤں کو اپنے ہاتھوں رسوا کر کے ان کی زندگیاں ہر طرح تنگ کرتے رہے۔ ہم نے اپنی ذاتی انا کی بھینٹ چڑھ کر پاکستان دو لخت کر دیا لیکن اس عظیم سانحہ سے کوئی سبق نہ سیکھ سکے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے ایٹمی معمار ہونے، قوم کو متفقہ آئین دینے، غریبوں کو ان کے شعور سے روشناس کرانے اور مسلم امہ کے اتحاد کی کوششوں کی سزا پھانسی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔ بینظیرایک آمر کی وردی جسے وہ اپنی کھال کہا کرتا تھا، اتروانے میں تو کامیاب رہی لیکن اس کی قیمت اسے اپنے خون سے چکانا پڑی۔ سیاسی تاریخ سے ایسی اور بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن یہ اس کالم کا موضوع نہیں۔ پاکستان کے عوام پر الزام ہے کہ وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے لیکن کیا یہ اچنبھے کی بات نہیں کہ سب سے زیادہ زکوٰة صدقہ اور خیرات کرنے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔
ہماری قوم کا حافظہ بہت کمزور ہے اگر یہ بات درست ہے تو یاد دہانی کے طور پر عرض ہے ایک شخص تھا عبدالستار ایدھی۔ جی ہاں وہی ایدھی جس نے دنیا کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایمبولینس سروس بنائی، جن نعشوں کا کوئی والی وارث نہ ہوتا ان کا گورکن ایدھی ہوتا جو گلی سڑی نعشوں میں پڑے کیڑوں کو اپنے ہاتھوں سے نکال کر انہیں غسل دیتا اور پھر معاشرے کے ان لاوارثوں کو سپرد خاک کر دیتا۔ جن نومولود بچوں کو یہ معاشرہ ناجائز کہہ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیتا وہ انہیں پالتا پوستا، پڑھاتا لکھاتا اور ان کی ولدیت کے خانے میں اپنا اور اپنی بیوی کا نام لکھواتا اور لوگوں سے اپیل کرتا کہ اپنی بدکاری کو کتوں بلیوں کی خوراک نہ بنائیں بلکہ چپ چاپ رات کے اندھیرے میں انہیں ایدھی سنٹر کے باہر رکھے جھولے میں ڈال جائیں۔ اس کے کارناموں پر کتابیں لکھی جانی چاہیے تھیں، تحقیق ہونی چاہیے تھی لیکن ہم نے اس پر لادینیت، بدعنوانی اور جانے کیسے کیسے بے سروپا الزام لگا ڈالے۔ اسے اتنا ستایا کہ ایک موقع پر اس نے پاکستان چھوڑنے تک کا اعلان کر دیا۔
صرف ایک عبدالستار ایدھی ہی نہیں پاکستان بلکہ انسانیت کی خدمت کرنے والے ہر شخص کو ہم نے اپنے اپنے ذاتی کینے اور بغض کی بھینٹ چڑھا دیا۔ حکیم محمد سعید جیسا ہمہ جہت انسان کسی بھی معاشرے کی پہچان ہوا کرتا ہے جس نے نہ صرف طب بلکہ خدمت انسانی کے ہر شعبے میں عوام کی خدمت کی، وہ بیسیوں کتابوں کا مصنف بھی تھا لیکن ہم نے اس فرشتہ صفت اور بے ضرر انسان کو سرعام قتل کر دیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام طبیعات کے شعبہ میں نوبل انعام حاصل کرنے والا پہلا پاکستانی تھا لیکن ہم نے اسے بھی لادین قرار دے کر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن پاکستان تھا، آج اگر ہم دشمنوں کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اپنے آپ کو ایٹمی طاقت سمجھ کر محفوظ جانتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا کریڈٹ اسی عبدالقدیر کو جاتا ہے جسے ہم نے اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے قومی سلامتی کے خلاف ایٹمی صلاحیت دوسرے ممالک کو منتقل کرنے کا ملزم ٹھہرا کر تاحیات اسی کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کی فتح اسی کی مرہون منت ہے۔
زندہ قومیں اپنے ہیروز کو مرنے کے بعد بھی زندہ رکھتی ہیں لیکن ہم نے زندگی میں ان کی قدر کی اور نہ ہی مرنے کے بعد ۔ جو ہوا، سو ہوا لیکن اذیت ناک بات یہ ہے کہ ہم اب بھی اجتماعی منافقت کا شکار ہیں اور پھر بھی نوحہ کناں کہ ”زخموں کا مسیحا کوئی نہیں“ ۔ مجھے عمران خان کے انداز سیاست سے کلی طور پر اختلاف ہے، میں اس کا ناقد بھی ہوں لیکن اس بات کا کھلے دل سے معترف بھی کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال پاکستان کے غریب اور مفلس عوام کے لئے امید اور زندگی کا استعارہ ہے۔ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، آج کل عمران خان کے ساتھ ساتھ شوکت خانم کینسر ہسپتال کو بھی سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ اس ہسپتال نے کروڑوں روپے ملک سے باہر منتقل کیے اور صدقات، خیرات اور زکوٰة کی رقم باقاعدہ کاروبار میں لگائی لیکن کون سمجھائے کہ یہ انڈونمنٹ فنڈ ہے، دنیا کے تمام بڑے فلاحی ادارے اس طرح کا فنڈ بناتے اور سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں تاکہ ادارہ اس فنڈ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال نے بھی ایسا ہی کیا اور یہ اس کی ویب سائیٹ پر موجود بھی ہے۔
میں عمران خان کا وکیل ہوں نہ ترجمان اس کی سیاست اور شخصیت پر آپ ہزاروں انگلیاں اٹھائیں، اعتراضات کریں اور اس پر جی بھر کر تنقید بھی۔ سیاست سفید کپڑے پہن کر غلاظت کے درمیان سے دامن بچا کر گزرنے کا کھیل ہے جس میں گندگی کی ایک چھینٹ بھی آپ کو داغدار کرنے کے لئے کافی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں کینسر کا علاج ناممکن تھا اور صرف اشرافیہ ہی اس لائق تھی کہ بیرون ملک جا کر علاج معالجہ کرا سکے جبکہ غربت زدہ بلکہ خوشحال لوگ بھی چپ چاپ اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیتے۔ ایک غریب اور پسماندہ ملک میں کینسر کا خیراتی ہسپتال بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا لیکن عمران خان نے اس ناممکن کو ممکن بنا ڈالا۔ اس ملک میں لا تعداد چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں، سینکڑوں قائدین اور ہزاروں عوامی نمائندے ہیں لیکن ان میں سے کتنے لوگوں نے شوکت خانم جیسے ادارے بنائے۔ اسی رمضان المبارک کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق عوام کا اعتماد اس ادارے پر نہ صرف بحال ہے بلکہ اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ بھی ہو رہا ہے۔
شوکت خانم کینسر ہسپتال اب ایک ریسرچ سنٹر بھی بن چکا ہے تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں جدیدیت کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ آپ ایک بار اس ہسپتال کا مطالعاتی دورہ تو کیجئے، آپ کو ”مسیحائی“ کے اصل اور حقیقی معنی اس کی روح کے ساتھ سمجھ آئیں گے۔ آپ کو لگے گا کہ جیسے آپ یورپ کے کسی ترقی یافتہ ہسپتال سے روشناس ہو رہے ہیں۔ ہسپتال کا تمام عملہ انسانیت کا خدمت گزار نظر آئے گا۔ شوکت خانم ہسپتال ملک کے ہزاروں بلکہ لاکھوں کینسر کے مریضوں کی امید ہے اگر یہ امید بھی خدانخواستہ ان سے چھن گئی تو ان یتیموں، بیواؤں اور معصوم بچے بچیوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا جو کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہیں اور یہ گناہ آپ کی زندگیوں کا سکون چاٹ لے گا۔ خدارا، آپ کسی اور پر نہیں بلکہ اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں پر احسان کریں اور شوکت خانم جیسے فلاحی ادارے کی قدر کریں، اسے سیاست کی نذر نہ کریں، اسے بخش دیں تاکہ آپ کی اپنی بخشش بھی ہو سکے۔

