بلاگ

نرسنگ کالجز میں زیر تعلیم طالبات کی فریاد

Shah Nawaz siyal

پنجاب کے سرکاری نرسنگ کالجز میں زیرِ تعلیم بی ایس نرسنگ کی طالبات اس وقت ایک ایسے مسئلے سے گزر رہی ہیں جو ان کے تعلیمی مستقبل، پیشہ ورانہ تربیت اور ذہنی سکون سے جڑا ہوا سوال بن چکا ہے میں جب ان طالبات کے مسائل اور ان کی بے بسی کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض چند بیٹیوں کی آواز نہیں بلکہ پنجاب کی ہزاروں بیٹیوں کی اجتماعی فریاد ہے جو ریاست سے کوئی احسان نہیں بلکہ اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لیے ایک جائز سہولت مانگ رہی ہیں۔

پنجاب کے سینکڑوں نرسنگ کالجز میں اس وقت ہزاروں طالبات بی ایس نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں یہ طالبات صرف کلاس روم تک محدود نہیں بلکہ ہفتے میں تین دن چھ چھ گھنٹے ہسپتالوں میں عملی تربیت اور فیلڈ ورک میں بھی کام کرتی ہیں ہسپتالوں کی ڈیوٹی، اسائنمنٹس، امتحانات اور مہنگی کتب کے اخراجات اپنی جگہ لیکن سب سے بڑا مسئلہ روزانہ کی ٹرانسپورٹ، کھانے پینے اور دیگر بنیادی ضروریات کا ہے جو ایک متوسط یا غریب گھرانے کے لیے یہ اخراجات اٹھانا آسان نہیں ہے۔

طالبات کا کہنا ہے کہ ان کے والدین پہلے ہی گھریلو مہنگائی، بچوں کی تعلیم اور دیگر اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ایسے میں نرسنگ کی طالبات کے اضافی اخراجات کئی گھروں کے لیے مستقل پریشانی بن چکے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جب ایک طالبہ اپنی تعلیم کے ساتھ اسپتال میں خدمات سر انجام دے رہی ہو، مریضوں کی دیکھ بھال سیکھ رہی ہو اور مستقبل میں نظامِ صحت کا حصہ بننے جا رہی ہو تو اس کی مالی معاونت دراصل صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے دور میں بی ایس نرسنگ کی طالبات کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا گیا تھا اس اقدام نے ہزاروں طالبات کو نہ صرف معاشی سہارا دیا بلکہ ان میں خود اعتمادی اور خود کفالت کا جذبہ بھی پیدا کیا کئی طالبات نے اسی وظیفے کی بدولت اپنی تعلیم مکمل کی اور آج شعبۂ صحت میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

آج یہی امید پنجاب کی موجودہ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف سے وابستہ ہے طالبات کی درخواست نہایت سادہ مگر درد سے بھری ہوئی ہے کہ ”ہم متوسط اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں ہمارے والدین بڑی مشکل سے ہمارے اخراجات پورے کر رہے ہیں لہٰذا ہمارا ماہانہ وظیفہ بحال کیا جائے تاکہ ہم اپنے گھروں پر اضافی بوجھ نہ بنیں۔“

یہ مطالبہ محض مالی امداد کا نہیں بلکہ ایک سماجی حقیقت کی عکاسی بھی کرتا ہے ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کی تعلیم اب بھی کئی گھرانوں کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج ہے ایسے میں اگر حکومت ان طالبات کی معاونت کرتی ہے تو اس کا فائدہ صرف طالبات یا ان کے خاندانوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا معاشرہ اس سے مستفید ہو گا۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب کی یہ بیٹیاں دراصل اپنے خوابوں، اپنی محنت اور اپنے مستقبل کے تحفظ کی درخواست کر رہی ہیں وہ کسی آسائش کی طلبگار نہیں، صرف اتنا چاہتی ہیں کہ ان کی عملی تعلیم اور ہسپتال ڈیوٹی مالی پریشانیوں کی نذر نہ ہو۔

پنجاب کی یہ بیٹیاں حکومت سے سہارا نہیں، اپنے خوابوں کو جاری رکھنے کا حق مانگ رہی ہیں نرسنگ کی طالبات صرف طالبات نہیں، مستقبل کے اسپتالوں کی بنیاد ہیں مالی مشکلات جب تعلیم پر اثر انداز ہوں تو خواب بوجھ محسوس ہونے لگتے ہیں جو بیٹیاں کل مریضوں کی خدمت کریں گی آج خود حکومتی توجہ کی منتظر ہیں متوسط گھرانوں کی بیٹیوں کے لیے وظیفہ ایک سہولت نہیں بلکہ ضرورت ہے ریاست جب طالبات کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے نرسنگ کی تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ عملی اخراجات بھی جڑے ہوتے ہیں پنجاب کی بیٹیاں وزیر اعلیٰ سے کہہ رہی ہیں ہمیں خود کفیل بننے کا راستہ دوبارہ دیجیے۔

مجھے امید ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس مسئلے کو محض ایک درخواست کے طور پر نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے معاشی اور تعلیمی مسئلے کے طور پر دیکھیں گی اگر بی ایس نرسنگ طالبات کا ماہانہ وظیفہ بحال کر دیا جاتا ہے تو یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی اقدام نہیں ہو گا بلکہ پنجاب کی بیٹیوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری ثابت ہو گا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW