گوشہ ادبمیرے مطابق

ایس ٹی کالرج کے اوراق زیست

ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا وجود ایک معمے کی طرح ہے، لیکن ان کا کام ایک روشن مینار بن کر صدیوں تک رہنمائی کرتا ہے۔ ایس ٹی کالرج ایک ایسی ہی شخصیت ہیں۔ ان کی تحریر بتاتی ہے کہ وہ ایک ایسی حساس روح کے مالک تھے جو لفظوں کے پیچھے چھپی تڑپ کو محسوس کر سکتے تھے۔ انھوں نے شاعری، تنقید اور فلسفے کو نئی جہت دی۔ ایس ٹی کالرج کی ادبی اہمیت صرف ایک شاعر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک ایسے نقاد کے طور پر ہے جس نے تنقید کو محض عیب جوئی کے روایتی تصور سے نکال کر ایک باقاعدہ نفسیاتی اور فلسفیانہ علم کا درجہ دیا۔ اردو ادب میں جس طرح حالی نے ’مقدمہ شعر و شاعری‘ سے تنقید کی بنیاد رکھی، انگریزی میں وہی مقام کالرج کی تصنیف ”بائیوگرافیا لٹریریا“ کو حاصل ہے۔

انگریزی رومانوی تحریک کے بانیوں میں شمار ہونے والے سیموئل ٹیلر کالرج 21 اکتوبر 1772 کو ڈیون شائر کے قصبے اوٹرے سینٹ میری میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ کالرج اپنے والد کی تیرہویں اولاد تھے، اور شاید یہی کثرت ان کی تنہائی کا سبب بنی۔ بچپن ہی سے وہ کتابوں کے سحر میں گرفتار رہنے والے ایک ایسے بچے تھے جن کا تعلق مادی دنیا سے کم اور خوابوں کی بستی سے زیادہ تھا۔ اس کی طبیعت میں ایک عجیب سی تنہائی اور تفکر تھا، گویا وہ دنیا کو دیکھنے سے زیادہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ بچپن ہی میں اس کے اندر تخیل کی وہ چنگاری روشن ہو چکی تھی جو بعد میں اس کی شاعری کا بنیادی جوہر بنی۔ اس کا باپ ایک پادری اور استاد تھا، جس کی علمی فضا نے کالرج کے ذہن میں ابتدائی شعور کی بنیاد رکھی۔

کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ اس کے لیے ایک نئی دنیا کا دروازہ تھا، مگر یہ دروازہ استحکام کے بجائے بے چینی لے کر آیا۔ وہ تعلیم کے رسمی سانچوں میں خود کو قید محسوس کرتا تھا۔ کالرج کی ذہنی نشوونما میں ان کے مدرسے ’کرائسٹ ہسپتال‘ کا بڑا ہاتھ تھا، جہاں ان کی ملاقات چارلس لیمب جیسے ہم عصروں سے ہوئی۔ بعد ازاں، وہ کیمبرج یونیورسٹی پہنچے، مگر ان کی بے چین روح کسی ایک مرکز پر ٹکنے کو تیار نہ تھی۔ وہ سیاست، مذہب اور فلسفے کے ان گنت سوالات میں الجھے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک بار مایوسی میں فوج میں بھی شمولیت اختیار کر لی، مگر جلد ہی علم کی دنیا میں واپس لوٹ آئے۔

کالرج کی زندگی کا سب سے اہم موڑ 1795 میں ولیم ورڈزورتھ سے ان کی ملاقات تھی۔ یہ دو عظیم ذہنوں کا ملاپ تھا جس نے انگریزی شاعری کی کایا پلٹ دی۔ ان دونوں کی مشترکہ کاوش ”لیریکل بیلڈز“ (Lyrical Ballads) نے فطرت نگاری اور تخیل کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ جہاں ورڈزورتھ نے عام زندگی کو شاعری بخشی، وہاں کالرج نے مافوق الفطرت عناصر کو انسانی رنگ دے کر حقیقت بنا دیا۔ ان کی شہرہ آفاق نظم ”دی رائم آف دی اینشنٹ میرینر“ (The Rime of the Ancient Mariner) اسی دور کی یادگار ہے۔ دونوں کی دوستی نے انگریزی ادب میں ایک نئی تحریک کو جنم دیا جسے رومانویت کہا جاتا ہے۔ اس کی دوسری مشہور نظم ”Kubla Khan“ ایک خواب کی تعبیر معلوم ہوتی ہے یہ ایک ایسی نظم ہے جو ادھوری ہو کر بھی مکمل محسوس ہوتی ہے۔ اس میں تخیل کی وہ پرواز ہے جو حقیقت اور خواب کے درمیان ایک نیا جہان تخلیق کرتی ہے۔

کالرج کی زندگی صرف فکری عظمت کا نام نہیں، بلکہ ایک گہری ذاتی اذیت کی کہانی بھی ہے۔ اس کی شادی خوشگوار نہ رہی، اور وہ مسلسل ذہنی دباؤ اور بیماری کا شکار رہا۔ اس نے درد سے نجات کے لیے افیون (Opium) کا سہارا لیا، جو بعد میں اس کی کمزوری بن گیا۔ یہ نشہ اس کے تخیل کو وقتی طور پر مہمیز دیتا تھا، مگر اس کی عملی زندگی کو بکھیرتا بھی رہا۔ سیموئل ٹیلر کالرج کی شادی کا واقعہ ان کی زندگی کے ان ابواب میں سے ہے جو کسی المیہ داستان سے کم نہیں۔ یہ شادی محبت کے بجائے نظریاتی جنون اور اخلاقی دباؤ کا نتیجہ تھی، جس نے کالرج کی تخلیقی روح کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیا۔

یہ قصہ 1794 میں شروع ہوتا ہے جب کالرج کی ملاقات اپنے دوست رابرٹ سدرے (Robert Southey) سے ہوئی۔ دونوں نوجوانوں نے مل کر ایک مثالی معاشرے کا خواب دیکھا جسے انہوں نے ”پینٹسو کریسی“ کا نام دیا۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ امریکہ جا کر دریائے سسکوہینا کے کنارے ایک ایسی بستی بسائیں گے جہاں سب برابر ہوں گے، کوئی نجی ملکیت نہیں ہو گی اور سب مل کر کھیتی باڑی اور مطالعہ کریں گے۔ اس بستی کو بسانے کے لیے شرط یہ رکھی گئی کہ ہر مرد کا شادی شدہ ہونا ضروری ہے۔ سدرے کی منگیتر ایڈتھ فرکر تھی، اور اس نے کالرج کو مشورہ دیا کہ وہ ایڈتھ کی بہن سارہ فرکر (Sara Fricker) سے شادی کر لے۔ کالرج، جو اس وقت ایک اور لڑکی (میری ایونز) کی محبت میں ناکام ہو چکے تھے، اس نظریاتی جنون میں سارہ سے منگنی کرنے پر تیار ہو گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ کالرج کو احساس ہوا کہ سارہ کے ساتھ ان کی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے۔ وہ ایک فلسفی اور خواب دیکھنے والے انسان تھے جبکہ سارہ ایک سادہ مزاج اور عملی خاتون تھیں۔ کالرج اس رشتے سے پیچھے ہٹنا چاہتے تھے، لیکن ان کے دوست سدرے نے ان پر اخلاقی دباؤ ڈالا اور اسے ایک شریف انسان کا وعدہ قرار دیا۔ کالرج اپنی وضع داری اور سدرے کی ناراضگی کے ڈر سے اس بندھن میں بندھنے پر مجبور ہو گئے۔ بالآخر 4 اکتوبر 1795 کو برسٹل کے سینٹ میری ریڈکلف چرچ میں کالرج اور سارہ فرکر کی شادی ہو گئی۔ شادی کے ابتدائی چند ماہ کلیوڈن (Clevedon) کے ایک چھوٹے سے گھر میں خوشگوار گزرے، جہاں کالرج نے اپنی مشہور نظم ”The Eolian Harp“ لکھی۔ لیکن جلد ہی مادی ضروریات اور مزاج کا فرق دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔

یہ شادی کالرج کے لیے ایک قید بن گئی۔ سارہ ان کی فلسفیانہ گفتگو اور افیون کی لت کو سمجھنے سے قاصر تھیں، جبکہ کالرج گھر کی ذمہ داریوں سے فرار چاہتے تھے۔ بعد ازاں، کالرج کو ورڈزورتھ کی سالی سارہ ہچینسن سے محبت ہو گئی (جنہیں انہوں نے اپنی شاعری میں ’اسرا‘ کا نام دیا)، جس نے ان کی ازدواجی زندگی کو مزید تلخ کر دیا۔ آخر کار 1804 کے بعد وہ اپنی بیوی سے الگ ہو گئے، حالانکہ انہوں نے باقاعدہ طلاق نہیں دی۔ کالرج کی یہ شادی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب کوئی بڑا شاعر یا فنکار صرف نظریے یا دباؤ کے تحت زندگی کا بڑا فیصلہ کرتا ہے، تو اس کا انجام اکثر ذہنی کرب اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔

سیموئل ٹیلر کالرج کی زندگی کے آخری ایام ایک ایسے تھکے ہوئے مسافر کی کہانی ہیں جس نے طوفانی سمندروں اور ذہنی خلفشار کے بعد بالآخر ایک پرسکون ساحل پا لیا تھا۔ ان کی زندگی کا یہ آخری باب، جو تقریباً 18 سالوں پر محیط ہے، جیمز گلمین کے گھر سے منسوب ہے۔ 1816 میں کالرج کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ افیون کی لت نے ان کی صحت، مالیات اور تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیا تھا۔ اسی دوران وہ لندن کے علاقے ہائی گیٹ (Highgate) میں ایک ہمدرد ڈاکٹر جیمز گلمین کے پاس علاج کی غرض سے گئے۔ ڈاکٹر گلمین اور ان کی اہلیہ نے کالرج کو نہ صرف طبی سہولت دی بلکہ انہیں اپنے گھر میں ایک مستقل فرد کی طرح رکھا۔ یہ گھر کالرج کے لیے ایک ادبی خانقاہ بن گیا۔ ڈاکٹر گلمین کی زیرِ نگرانی کالرج نے اپنی افیون کی مقدار کو کافی حد تک کنٹرول کر لیا تھا۔ اگرچہ وہ مکمل طور پر اس لت سے چھٹکارا نہ پا سکے، مگر ان کی ذہنی پراگندگی کم ہو گئی اور وہ دوبارہ لکھنے اور سوچنے کے قابل ہو گئے۔ یہ دور ان کی زندگی کا سب سے زیادہ نظم و ضبط والا دور کہلایا جاتا ہے۔

اپنی عمر کے آخری حصے میں کالرج ایک مقدس بزرگ یا دانا کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ دور دور سے نوجوان ادیب، فلسفی اور طالب علم ان کی گفتگو سننے کے لیے ہائی گیٹ آتے تھے۔ ان کی گفتگو میں وہ جادو تھا کہ سننے والے گھنٹوں مسحور رہتے۔ مشہور نقاد کارلائل نے انہیں ”ہائی گیٹ کا جادوگر“ قرار دیا تھا۔ ان کی ان نشستوں کو ”ٹیبل ٹاک“ کے نام سے بعد میں مرتب بھی کیا گیا۔ آخری برسوں میں کالرج شاعری سے دور ہو کر مذہب اور فلسفے کے زیادہ قریب ہو گئے تھے۔ انہوں نے عیسائیت کی عقلی تشریح پر کام کیا اور اپنی کتاب ”Aids to Reflection“ مکمل کی۔ وہ مادی دنیا کے بجائے روح اور کائنات کے باہمی تعلق کے سوالات میں الجھے رہتے تھے۔ ان کے آخری ایام ایک فلسفیانہ خاموشی اور مراقبے کی تصویر تھے۔ 25 جولائی 1834 کو 61 برس کی عمر میں کالرج کا انتقال ہوا۔ موت کی وجہ دل کی تکلیف اور پھیپھڑوں کا عارضہ بتائی گئی۔ انتقال کے وقت وہ پرسکون تھے اور ان کے قریبی دوستوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے موت کو ایک پرانے دوست کی طرح خوش آمدید کہا۔ انہیں ہائی گیٹ کے سینٹ مائیکل چرچ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

کالرج کے آخری ایام اس لحاظ سے اہم ہیں کہ اگر ڈاکٹر گلمین انہیں سہارا نہ دیتے، تو شاید انگریزی ادب ”بائیوگرافیا لٹریریا“ جیسی عظیم کتاب سے محروم رہ جاتا۔ ان کی زندگی کا اختتام اس دعا کی مانند تھا جو ایک طویل اضطراب کے بعد مانگی گئی ہو۔ کالرج نے مرنے سے پہلے اپنی قبر کے لیے جو کتبہ (Epitaph) لکھا تھا، اس میں انہوں نے راہگیروں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس شاعر کے لیے دعا کریں جس نے زندگی بھر سکون کی تلاش کی مگر اسے موت کے بعد ہی پایا۔

کالرج کا خود نوشتہ کتبہ :
Stop, Christian passer-by! Stop, child of God,
And read with gentle breast. Beneath this sod
A poet lies, or that which once seem ’d he.
O, lift one thought in prayer for S. T. C.;
Who many a year with toil of breath found death in life,
May here find life in death!
Mercy for praise to be forgiven for fame
He ask ’d, and hoped, through Christ. Do thou the same!
اردو ترجمہ :
اے گزرنے والے مسیحی مسافر! رک جا، اے خدا کے بندے!
اور نرم دلی کے ساتھ اسے پڑھ۔ اس مٹی کے تلے،
ایک شاعر سو رہا ہے، یا وہ وجود جو کبھی شاعر معلوم ہوتا تھا۔
اوہ! ’ایس ٹی سی‘ (کالرج) کے لیے دعا کا ایک لفظ اپنی زبان پر لا؛
وہ جس نے کئی برس سانسوں کی مشقت کے ساتھ ’زندگی میں موت‘ کو سہا،
دعا ہے کہ اب اسے ’موت میں زندگی‘ (ابدی سکون) مل جائے!
اس نے شہرت کے بدلے معافی اور تعریف کے بدلے رحمت کی التجا کی،
اور مسیح کے وسیلے سے یہی امید رکھی۔ تم بھی یہی کرو!

کالرج کی زندگی ایک تضاد ہے۔ عظمت اور کمزوری، تخیل اور حقیقت، روشنی اور سایہ کا تضاد۔ وہ اپنی کمزوریوں کے باوجود ایک ایسا ادیب ہے جس نے انسانی ذہن کے امکانات کو وسعت دی۔ اس کی شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو قاری کو اپنے باطن کی گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔ اگر ولیم ورڈزورتھ فطرت کا شاعر ہے، تو کالرج تخیل کا معمار ہے۔ ایک ایسا معمار جس نے خوابوں کو الفاظ میں ڈھال کر ادب کو ایک نئی جہت عطا کی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW