کالم۔

کون تیز آپریشن کرے گا؟

dr tahira kazmi

زمانہ سکھلائی میں ہمیں ایک بات سے چڑ رہی اور انتہا کی رہی۔
جب کوئی ایک ڈاکٹر اٹھلاتی ہوئی کہتی۔ میں نے سکن ٹو سکن آپریشن تیس منٹ میں کیا۔
دوسری کہتی۔ اونہہ میں نے پچیس منٹ میں کیا۔
تیسری کہتی۔ میرا ریکارڈ بائیس منٹ کا ہے۔
پھر کوئی ایک ہماری طرف مڑتی۔ آپ کا کیا ریکارڈ ہے؟

ہمارا کوئی ریکارڈ نہیں۔ ہم کندھے اچکاتے۔
کیا مطلب؟

مطلب یہ کہ ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ایسا گھٹیا ریکارڈ بنائیں، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں کہ تم ہمیں سست سرجن سمجھو یا برق رفتار سرجن۔ ہمارا جواب۔

ایسے نہ تو کہیں۔ اس میں کیا برائی ہے آخر؟ کندھے اچکا کر سوال پوچھا جاتا۔

کیوں نہ کہیں؟ کیا یہ بوری سینے کا مقابلہ ہے کہ کتنی دیر میں کتنی بوریوں کو ٹانکے لگائے گئے۔ یا یہ انسانی جسم ہے۔ جس کی ہر پرت اور تہہ توجہ مانگتی ہے۔ کس میں خون کی شریان ابھی تک کھلی ہے؟ کس میں ٹانکہ کیسے بھرنا ہے؟ کس میں خون پونچھنے والا کپڑا نکال دیا گیا ہے؟ کس میں دھاگے کی سوئی اندر تو نہیں رہ گئی۔

یہ گھوڑوں کی ریس نہیں کہ کون جیتے گا؟ نہ ہی یہ کپڑے سینے کا مقابلہ ہے کہ فیکٹری میں کس نے کتنے سئیے۔ اور نہ ہی بکرا کاٹنے کا مقابلہ ہے کہ بیس منٹ میں کھال کھینچ لی، اب اگلا بکرا۔

اور یہ بھی سن لو۔ اس جلدی اور تیزی میں تم نے جو بھدے اور بدصورت ٹانکے لگائے ہیں، وہ انسانی جسم کو کس کس طرح اذیت میں ڈالیں گے، کیا یہ سوچا؟

کیا تم خود اس ٹیبل پہ لیٹ کے کسی ڈاکٹر کو ایسے مقابلے کی اجازت دے سکتی ہو جو اندھا دھند ٹانکے لگا رہا ہو؟ اور اس بات کی پروا نہ کرے کہ کیا کچھ چھوٹ تو نہیں گیا؟

کیا تم لوگ چاہو گی کہ تمہارے گھر کی عورت کے جسم کو اسی طرح ہینڈل کیا جائے؟ ریس لگا کر؟ بوری کی طرح سی کر؟

جو چیز اپنے لیے نہیں وہ دوسروں کے لیے جائز کیوں؟ کیا غریب مریضوں کے جسم تختہ مشق سمجھے جاتے ہیں کہ جو چاہے کرو؟

کیا ایک ڈیزائنر درزی، بلند پائے کا پینٹر اپنی کسی تخلیق کو اس طرح ہینڈل کرے گا جیسے تم لوگ کرتے ہو؟

کیا آپریشن کرنا ایک آرٹ نہیں جس میں ڈاکٹر خالق کی بنائی ہوئی کاریگری کو پھر سے ویسے ہی بنانے کی کوشش کرتے ہیں؟

لاہور میں ڈاکٹروں نے جو کچھ کیا، یہ نئی بات نہیں۔ جب ڈاکٹر کو مریض سے محبت نہ ہو، جب وہ کام بوجھ لگے، تب بہت سے آپریشن تھیٹرز میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مگر سوال ان کے سینئیر پروفیسر سے کرنا چاہیے کہ آپ نے جونئیرز کی تربیت کیسے کی؟

ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہونے کے ناتے اور ایسا ڈیپارٹمنٹ جس میں مختلف قومیتوں کے ڈاکٹر کام کر رہے ہوں، ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا کوئی بھی ڈاکٹر اس طرح سے مریض بھگتانے کی جرات نہیں کر سکتا۔

ہمارا پہلا اور آخری سبق یہ ہوتا ہے کہ ہر مریض کو یوں سمجھو کہ تم خود ہو اور جیسا سلوک تمہیں خود چاہیے وہ کرو۔

ہر نئے ڈاکٹر کے ساتھ پہلی بار ہم خود آپریشن ٹیبل پہ اسسٹنٹ کے طور پہ کھڑے ہوتے ہیں کہ دیکھ سکیں ڈاکٹر مریض کے جسم کا ستیاناس تو نہیں کر رہا۔ اور ستیاناس کرنے والے کو انسانی جسم کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی چاہے ہاتھ میں دس ڈگریاں کیوں نہ ہوں۔

( یہ ہے ہمارا گائنی فیمنزم : ہر عورت کا جسم اس کی پراپرٹی ہے اور اس کے جسم کی عزت کرنا ہر کسی پہ فرض ہے )

آخری سوال میڈیکل ایتھکس کا ہے۔ آپریشن تھیٹر میں اس طرح کی وڈیو بنانا اور پھر سوشل میڈیا پہ اسے عام کرنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہم اخلاقی طور پہ کس زبوں حالی کا شکار ہیں۔

میڈیکل ایتھکس کے مطابق کسی بھی مریض کی مرضی کے بغیر اسے فلمایا نہیں جا سکتا۔ مرضی یعنی consent۔

دوسری بات یہ کہ مریض پہ کیے جانے والے آپریشن کو پبلک نہیں کیا جاسکتا جب تک مریض کی اجازت اور ہسپتال کی ایڈمنسٹریشن کی اجازت نہ ہو۔

کاش، ڈاکٹرز سائنس کے ساتھ آرٹ بھی پڑھتے تو لیونارڈو ڈاونچی کے احسان سے واقف ہوتے کہ انسانی جسم کی ایک ایک پرت کی ڈرائنگ بنا کر میڈیکل سائنس کو کس طرح آسان بنایا گیا اور ڈاکٹروں سے یہ توقع باندھی گئی کہ چاقو کا استعمال ڈاونچی کے برش کی طرح کیا جائے۔

ہمیں امید ہے کہ نوے فیصد ڈاکٹر پوچھیں گے، کون تھا لیونارڈو ڈاونچی؟
کس کس چیز کا ماتم کریں؟

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Ilyas Khalid
Ilyas Khalid
2 months ago

Amazing as ever, Dr Kazmi. Really amazing the way you have described surgery as it should be!

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW