اداریہ۔کالم۔

جمہوریت، سیاست اور پاکستان

syed mujahid ali

ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی واضح کامیابی کے بعد پارٹی قیادت اسے عوامی مقبولیت کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ بلکہ یہ نکتہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ان انتخابات نے تحریک انصاف کی ’مقبولیت‘ کے دعوؤں سے ہوا نکال دی ہے۔ اگرچہ اس کے متبادل بیانیہ کے طور پر پی ٹی آئی اور اس کے حامی دھاندلی اور کم تعداد میں ووٹنگ کا حوالہ دیتے ہیں۔

ضمنی انتخابات میں دو عوامل روایتی طور سے مسلمہ سمجھے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان میں ووٹر کی دلچسپی کم ہوتی ہے اور وہ عام انتخابات کے مقابلے میں کم تعداد میں گھروں سے نکلتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس انتخاب سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے ضمنی انتخابات میں دوسرا عنصر یہ بھی موجود رہا ہے کہ ان میں عام طور سے برسر اقتدار پارٹی کے امید وار کامیاب ہوتے ہیں۔ حالیہ انتخابات میں بھی یہ دونوں باتیں درست ثابت ہوئی ہیں لیکن ملکی سیاسی حالات کے وسیع تناظر اور تحریک انصاف کی طرف سے عوام میں ایک نئی امنگ اور سیاسی شعور پیدا کرنے کے دعوؤں کی روشنی میں ان انتخابات سے مختلف نتائج کی توقع تھی۔

تحریک انصاف کی طرف سے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے اور کسی بھی حلقے میں سرگرمی سے انتخابی مہم کا حصہ نہ بننے کے سبب یہ سوال ضرور سامنے آیا ہے کہ کیا پی ٹی آئی ملکی سیاست سے مایوس ہو چکی ہے؟ کیوں کہ اگر کوئی پارٹی ملک کی سب سے طاقتور سیاسی تحریک ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کا یہ کہنا بھی ہو کہ وہ کبھی عوام کے حق انتخاب و حکمرانی سے دست بردار نہیں ہوگی، تو ایسی جماعت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تمام تر مشکلات کے باوجود مقابلے پر کمربستہ رہے گی تاکہ عوام مایوس نہ ہوں اور ملک میں سیاسی عمل کی امید باقی رہے۔ البتہ تحریک انصاف کی قیادت حالیہ اہم ضمنی انتخابات کو اس تناظر میں دیکھنے میں ناکام رہی۔ حالانکہ جن نشستوں پر انتخاب منعقد کرایا گیا تھا، ان پر تحریک انصاف ہی کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے جنہیں سانحہ 9 مئی میں سزائیں پانے کی بنا پر اسمبلیوں کی سیٹوں سے نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ اس لیے ان حلقوں میں تحریک انصاف کی کامیابی کا امکان روشن ہونا چاہیے تھا۔ خاص طور سے جب پارٹی یہ دعویٰ بھی کرتی ہو کہ اس کی مقبولیت نہ صرف یہ کہ برقرار ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ ضمنی انتخاب ہی ایک ایسا موقع تھا جب پی ٹی اپنے اس دعوے کا دستاویزی ثبوت فراہم کر کے اپنی سیاسی طاقت کی دھاک بٹھا سکتی تھی۔ لیکن پارٹی نے اس کے برعکس حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

بعد از انتخابات دھاندلی کے دعوے اگر عام انتخابات کے بعد کارگر نہیں ہو سکے تو ضمنی انتخابات میں ایسے الزامات کا کوئی خاص نتیجہ بر آمد نہیں ہو سکتا ۔ انتخابی دھاندلی کا الزام بھی ایک ایسا فرسودہ نعرہ بن چکا ہے جس سے تحریک انصاف کی سیاسی پوزیشن واضح نہیں ہو سکے گی اور نہ ہی یہ ثابت ہو گا کہ پی ٹی آئی سے انتخاب چوری کیے گئے ہیں کیوں کہ اس نے تو خود ہی ان انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا تھا۔ یہ صورت حال ایک طرف تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی اور مستقبل میں اس سے امید وابستہ کرنے کے حوالے سے اہم ہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کو جلد یا بدیر بطور سیاسی جماعت اس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ اگر تحریک انصاف انتخابی عمل میں مقابلہ کر کے سیاسی میدان مارنے سے گریز کرے گی تو اس کے پاس اقتدار تک پہنچنے کا متبادل کون سا راستہ ہے؟ اگرچہ عمران خان متعدد بار یہ کہتے ہوئے اس طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پارٹی سے براہ راست بات چیت کرے۔ البتہ یہ راستہ اسٹیبلشمنٹ کے واضح اور دو ٹوک جواب کے بعد بند ہو چکا ہے۔ موجودہ عسکری قیادت تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی معاملات طے کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

کسی جمہوری نظام میں تبدیلی لانے یا کسی سیاسی پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے کے لیے انتخابات کے علاوہ اگر کوئی دوسرا طریقہ موثر ہو سکتا ہے تو وہ مقبولیت اور عوامی تائید کا عملی ثبوت فراہم کرنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ یعنی کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی ایسا عوامی احتجاج برپا کرے کہ ملک میں انقلاب کی صورت حال پیدا ہو جائے۔ کاروبار حکومت معطل ہو جائے اور کسی بھی حکومت کے لیے کام کرنا ممکن نہ رہے۔ ایسے میں کوئی ریاستی ادارہ عام طور سے فوج یا عدلیہ، مداخلت کر کے غیر مقبول حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کرے۔ اور نئے انتخابات کے ذریعے ایک نئی حکومت لانے کا اہتمام کیا جائے۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جو پارٹی ایسا انقلابی احتجاج منظم کرنے میں کامیاب ہوگی، اس کے بعد منعقد ہونے والے کسی انتخاب میں اسی کو کامیابی نصیب ہوگی۔ اسے منی انقلاب بھی کہا جاسکتا ہے۔ یعنی ملک کا آئینی پارلیمانی ڈھانچہ بھی کام کرتا رہے لیکن مقبول احتجاج کے بعد موثر و طاقت ور ادارے نئی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں۔

تحریک انصاف ایسا انقلابی احتجاج منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک زمانے میں عمران خان عوامی احتجاج کے لیے سونامی کی اصطلاح استعمال کیا کرتے تھے لیکن 2022 میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد عمران خان خود یا ان کی حراست کے بعد ان کی پارٹی ایسا کوئی احتجاج منظم نہیں کر سکی۔ موجودہ حالات میں اول تو مستقبل قریب میں عمران خان کی رہائی کا امکان نہیں ہے۔ البتہ اگر وہ کسی صورت جیل سے رہا ہوجائیں تو کامل یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بھی عوام کا کوئی ایسا مظاہرہ منظم کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے جو اسلام آباد میں حکومت کی چولیں ہلا دے۔

نومبر 2024 میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے خیبر پختون خوا حکومت کے تعاون سے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ احتجاج کامیاب نہیں ہوا تھا اور وہ خود احتجاج کے لیے جمع ہونے والے لوگوں کو پولیس و سکیورٹی فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد سے وہ خود بھی گرفتار ہیں اور جیل میں سزا بھگت رہی ہیں۔ ان حالات میں تحریک انصاف یا ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیے کسی تبدیلی کے لیے انتخابات میں حصہ لینے اور کسی بھی طرح عوام کے حوصلے بلند رکھنا ضروری ہے تاکہ سیاسی جمود ختم کر کے تبدیلی کی امید قائم رکھی جائے۔

اس وقت ملک میں نام نہاد ہائبرڈ نظام کام کر رہا ہے جس میں مخصوص سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت اقتدار میں حصہ داری کے اصول پر خوش دلی سے عمل پیرا ہیں۔ حال ہی میں 27 ویں آئینی ترمیم کے بارے میں بھی یہی اعتراض سامنے آیا ہے کہ اس میں فوج کی سیاسی حیثیت مضبوط کی گئی ہے اور عدالتی نظام کو مزید پابند کیا گیا ہے۔ عام خیال ہے کہ اس طریقے سے ملک میں جمہوریت کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جائے گی۔ جیسا کہ ضمنی انتخابات کے عمل سے واضح ہوا ہے کہ موجودہ نظام کی مخالفت کرنے والے عناصر ضمنی انتخابات میں اسے چیلنج کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اس سے بعض تجزیہ نگار اس بحث کو ضروری سمجھنے لگے ہیں کہ ملک میں سیاسی عمل مردہ ہو چکا ہے اور اب شاید کسی ایسے نظام کی طرف پیش رفت ہی ملک کے وسیع تر مفاد میں ہو جیسا کہ ایک جماعتی یا شاہی نظام والے ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے۔ اس حوالے سے چین اور سعودی عرب کی مثال دیتے ہوئے یہ دلیل دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اگر وہاں پر عوام جمہوریت نہ ہونے کے باوجود نظام حکومت سے مطمئن ہیں اور یہ ممالک خوشحالی کا سفر طے کر رہے ہیں تو پاکستان میں کیوں ایسا ممکن نہیں ہو سکتا ؟ یہ ایک اس صورت میں ایک جائز سوال ہو سکتا تھا اگر پاکستان کی آبادی اور وسائل کا توازن بھی ان دو ممالک سعودی عرب یا چین جیسا ہوتا۔ سعودی عرب اپنے بے پناہ مالی وسائل کی بنیاد پر اپنے شہریوں کی بنیادی ضرورتیں بخوبی پوری کر رہا ہے۔ جبکہ چین نے تین دہائی تک آبادی پر کنٹرول کرنے اور تجارتی و تکنیکی طور سے آگے بڑھنے کی کامیاب پالیسی اختیار کی۔ اس کے ثمرات وہاں کے عوام تک بھی پہنچے۔

اس کے برعکس پاکستان کی آبادی روز افزوں ہے اور وزیر خزانہ کے بار بار انتباہ کے باوجود نہ تو اس حوالے سے کوئی قانون سازی ہو سکی ہے اور نہ ہی آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے دیگر اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس کے برعکس ملک میں ایسا مذہبی ماحول پیدا کیا گیا ہے جس میں لوگوں کو کم بچے پیدا کرنے کی تلقین کرنے والے کو اللہ کی حاکمیت کا باغی قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ اس نظریہ کے مطابق اللہ مخلوق کے رزق کا ذمہ دار ہے، اس لیے لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسا ملک جو ایک جمہوری عمل کے نتیجے میں قائم ہوا تھا، اس میں کسی نہ کسی طریقے سے جمہوری سیاسی عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ یہ تو قابل فہم ہے کہ پابندیوں، پکڑ دھکڑ اور ساز باز کے ایک خاص طریقہ کار کے تحت سیاسی پارٹیاں غیر موثر ہوجاتی ہیں اور مایوسی کے ماحول میں ایک بڑی جماعت بھی سیاسی عمل سے گریز میں عافیت سمجھتی ہے۔ جیسا کہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے طریقے سے نوٹ کیا جاسکتا ہے۔

البتہ ملک میں نام نہاد ہی سہی آئین کے تحت حکومت قائم ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی نہیں ہے۔ بس یہ دیکھنا ہے کہ کوئی ایسا زیرک اور حوصلہ مند لیڈر سامنے آئے جو مایوسی کے اس ماحول کو امید میں تبدیل کرنے کے لئے عوام کو تحریک دے سکے۔

Loading

Facebook Comments Box

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW