پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان؛ مسیحی علوم اور سماجی ہم آہنگی کی منفرد پہچان

ملتان کی خوبصورت اور تاریخی دھرتی کے وسط میں واقع، 1970 میں تعمیر ہونے والا کاتھولک ملتان ڈایوسیس کا پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان، جہاں اپنی تاریخ، روحانیت، تعلیمی و تربیتی خدمات کی بدولت کلیسیائی اہمیت کا حامل ہے، وہیں اپنی دلکش طرزِ تعمیر، قدرتی خوبصورتی، پُرسکون ماحول، بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی رواداری اور روحانی ترقی کے لیے سازگار فضا کی وجہ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس انسٹیٹیوٹ میں پہلی بار آنے والا ہر شخص اس کی مسحور کُن خوشبو، روحانی و علمی سکون اور محبت بھری فضا سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ میں نے 2010 میں پہلی مرتبہ اس ادارے میں قدم رکھا، اور تب سے یہ جگہ میری رُوح کا ایک حصہ بن چکی ہے۔ بعد ازاں، جب بھی مجھے وہاں ٹریننگ سیشن منعقد کرنے کا موقع ملا، میں نے ہر بار اپنی رُوح میں اس ادارے کا ایک نیا رنگ محسوس کیا۔
ملتان کی مٹی، جو اپنی خوشبو اور روحانی تازگی میں صوفی رنگ سموئے ہوئے ہے، پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہے۔ یہ ادارہ روحانیت، تعلیم و تربیت اور مسیحی صوفی رنگ کا حسین امتزاج ہے۔ یہ ڈومینکن مشنریز کی جانب سے پاکستانی کاتھولک کلیسیاء اور مسیحی قوم کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اس مضمون میں ہم پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان کی تاریخ، اہمیت اور اس کی روحانی و تعلیمی خدمات و کردار پر روشنی ڈالیں گے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کا طالب علم ہوں۔ میں نے 2010 میں یہاں سے RTC ڈپلومہ مکمل کیا تھا۔
تاریخی پس منظر:
گزشتہ دنوں مجھے ایک مرتبہ پھر یہاں آنے اور اس کے ڈائریکٹر فادر رافائیل مہنگا او پی کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ جنہوں نے اس کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان، ویٹی کن مجلسِ دوم کے نتیجے میں وجود میں آیا تاکہ مومنین کو ایمان میں شرکت دار بنایا جائے اور ان کی تعلیم و تربیت کے عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ویٹی کن مجلسِ دوم کے بعد فلپائن میں ایشیاء کی سطح پر ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ویٹیکن مجلسِ دوم کی تعلیمات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک لائحۂ عمل تیار کیا گیا۔ اس میٹنگ میں ملتان ڈایوسیس کے بشپ الوشیئس شیرر او پی نے فادر گریگوری ڈورتھی او پی کو بھیجا۔ واپسی پر انہوں نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے سب سے پہلا کام، پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان کو قائم کرنے کا سرانجام دیا۔ اس کے لیے پاکستان کے وسطی علاقے ملتان کا انتخاب کیا گیا تاکہ پورے ملک سے لوگ آسانی سے یہاں آ سکیں۔ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان دراصل اُس خواب کا نتیجہ ہے جو ڈومینیکن کاہنوں نے 1968 میں دیکھا تھا۔ اُن کا خواب تھا کہ عامتہ الموامین کو ایمان کی تربیت کے ذریعے مضبوط اور با اختیار بنایا جائے۔ یہ ادارہ ڈومینیکن کاہنوں اور راہبات کی مشترکہ کوششوں اور تعاون سے قائم ہوا۔ بشپ برٹرینڈ بولینڈ، فادر گریگوری ڈورتھی او پی، برادر تھامس ایکوائنس او پی، اور سسٹر مریم لائیولا او پی نے مل کر اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان 1970 میں قائم ہوا، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلا کاتھولک ادارہ تھا جس نے کلیسیاء کی خدمت کے لیے مشن اور گواہی کی بنیاد پر کام شروع کیا۔ 1966 میں بشپ برٹرینڈ بولینڈ او پی کو ملتان کا تیسرا بشپ مقرر کیا گیا۔ 1987 میں انہوں نے پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان کو بشپ پطرس یوسف کے حوالے کیا جو اس وقت ڈایوسیس کے بشپ تھے اور ایک معاہدہ طے پایا کہ ادارے کا انتظام ڈومینیکن جماعت، ابنِ مریم وائس پرووِنس پاکستان، کے پاس رہے گا۔ ڈایوسیس کا سربراہ (Ordinary) بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین ہو گا۔ اس وقت بشپ یوسف سوہن (ملتان ڈایوسیس کے ساتویں بشپ) بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ ان کی رہنمائی میں پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان، کلیسیاء کی خدمت کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ابتدائی مرحلے میں کلیسیاء میں ویٹیکن مجلسِ دوم کی تعلیمات کو متعارف کروانے پر زور دیا گیا۔ اس میں کاہنوں اور راہبات تربیت شامل تھی۔ دوسرے مرحلے میں کلیسیائی خدمت سے وابستہ کلیسیائی خادمین اور مبشران انجیل کو بشارت کو سرگرمیوں میں شامل کیا گیا تاکہ وہ کلیسیائی مشن کو عملی طور پر آگے بڑھا سکیں۔ اس کے بعد اسکولوں میں مسیحی تعلیم کے اساتذہ کی تربیت کا مرحلہ شروع کیا گیا، خصوصاً جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد، جب مسیحی تعلیمی ادارے قومیائے گئے تو اس ضمن مسیحی تعلیم و تربیت کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ چونکہ مسیحی مومنین اور طلبہ تک مسیحی تعلیمات کی رسائی کو ممکن بنانا وقت کی بڑی ضرورت تھی، اسکولوں میں مسیحی تعلیم پڑھانا ممکن نہیں رہا تھا اور والدین بھی اس طرف زیادہ توجہ نہیں دے پاتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے سنڈے اسکولوں اور نئے تعلیمی اداروں کے قیام کا آغاز کیا گیا۔ اور اساتذہ کی ٹریننگ کے لئے ”ریلجن ٹریننگ کورس“ کا 9 ماہ پر مشتمل کورس شروع کیا گیا جو گزشتہ 38 سالوں سے باقاعدگی سے جاری ہے۔
پاکستانی معاشرے کے تناظر میں، دوسری کلیسیاؤں کے بہن بھائیوں سمیت، ہم سب پاکستانی مسیحی ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں۔ اس ضمن میں پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ہمیشہ اس مشن کا مرکزی مرکز رہا ہے۔ اس میں بین الکلیسیائی اتحاد، معاشرتی ہم آہنگی، انسانی حقوق، اور سماجی رواداری جیسے موضوعات اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف مسیحیوں بلکہ ہندو اور مسلم علماء کے ساتھ بھی رابطہ اور مکالمہ رکھتا ہے۔
اسی مقصد کے تحت اُردو میں ”اچھا چرواہا“ اور انگریزی میں ”فوکس“ جریدے کا اجراء کیا گیا، تاکہ دیگر مذاہب اور کلیسیاؤں سے تبادلہ خیال اور تعلقات مضبوط کر سکیں۔ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ میں خوبصورت اور ہرے برے درختوں کے بارے میں فادر رفائیل مہنگانے بتایا کہ ڈومینکن روحانیت میں ماحول دوستی و خوبصورتی کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کے بانی فادر گریگوری ڈورتھی او پی جب کبھی چھٹیوں میں کسی ملک کا دورہ کرتے تھے تو وہاں کا خاص پودا ساتھ لے کر آتے تھے۔ آج بھی ان کے لگائے ہوئے کئی درخت موجود ہیں۔ یہ ادارہ مختلف ہم خیال افراد، تعلیمی اداروں اور یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے طلبہ ہر سال یہاں آتے ہیں اور بین المذاہب مکالمہ، مصالحت، اور سماجی ہم آہنگی کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔
ویٹیکن مجلس دوم سے متاثر:
پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کے کئی ابتدائی پروگرام ویٹیکن مجلس دوم سے متاثر تھے۔ مثلاً، عام لوگوں، خاص طور پر مبشران انجیل اور اساتذہ کے لیے تربیتی مرکز، مسیحی اقدار کو فروغ دینے کے لیے تربیتی پروگرام کا انعقاد، کاہنانہ خدمت کے لیے تربیت، نگرانی اور جائزہ، تعلیمی و مذہبی مواد کی فراہمی، بین الکلیسیائی ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کا نمایاں مرکز ہے۔
ویژن (Vision) :
پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ایسے تمام افراد کو سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو کھلے دِل اور ایمان کو احترام کے ساتھ، اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس ادارے میں کلیسیاء، رنگ، نسل، فرقے یا مذہب کی کوئی تفریق نہیں ہوتی ہے۔ سب کو محبت، رواداری، اور اتحاد کے جذبے میں پرویا جاتا ہے۔ ایمان کی سر بلندی، ہم آہنگی، اور امن و برداشت کو فروغ دے کر سچائی کو سمجھنے اور زندگی میں عمل کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
مشن:
پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کا مقصد مقامی کلیسیاء کی تعمیر اور ایمان کی تربیت کرنا ہے، مختلف کلیسیاؤں اور مذاہب، خصوصاً اسلام کے ساتھ ہم آہنگی اور مفاہمت کی فضا پیدا کرنا ہے۔ باصلاحیت افراد کے ذریعے ایک منصفانہ اور صحت مند معاشرہ قائم کرنا ہے۔ بائبل مقدس، کلیسیاء کی تعلیمات اور الہٰیات کی مختلف شاخوں کے ذریعے قیادت کے بیج بونا ہے۔ کلیسیائی ایمانداروں کو خُدا کے کلام کی تبلیغ اور اُس پر عمل کرنے کے لیے تیار کرنا ہے اور بائبل مقدس کی تعلیمات، کلیسیائی روایات اور دیگر مذاہب کی باہمی اقدار کو فروغ دینا ہے۔
پالیسی:
پاسٹرل انسٹی ٹیوٹ ملتان چونکہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے، اس کے قواعد و ضوابط اس کے منشور کو ظاہر کرتے ہیں، جو مذہبی اقدار کو فروغ دینے اور مقامی سطح پر قیادت تیار کرنے کا ایک مثبت پلیٹ فارم ہے۔ جہاں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کا فروغ دینا ہے، سیاسی سرگرمیوں سے ہٹ کر صرف انسانی خدمت کے کام کرنے والے افراد کو سہولیات دینا ہے۔ کلامِ مقدس، الہٰیاتی، عبادتی، مسیحی تعلیم اور ایمان پر مبنی تعلیمات کے ذریعے روحانی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ اس کے انتظامی ڈھانچہ میں، چیئرمین، ڈائریکٹر، بورڈ آف ڈائریکٹرز، ایگزیکٹو کمیٹی، منیجر، تدریسی عملہ، رہائشی عملہ، وزٹنگ لیکچرار اور معاون عملہ شامل ہے۔
پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹرز ( 1969 تا حال)
1969 تا 1979 فادر گریگوری ڈورتھی او۔ پی (آنجہانی)
1979 تا 1981 فادر ہائیسنِتھ پٹز او پی (آنجہانی)
1981 تا 1997 فادر کرس میکوے او پی (آنجہانی)
1997 تا 2002 فادر رافائیل مہنگا او پی
2002 تا 2007 فادر جیمز چنن او پی
2007 تا 2015 فادر اختر نوید او پی
2015 تا 2022 فادر ڈاکٹر جمشید البرٹ او پی
2022 تا حال فادر رافائیل مہنگا او پی
پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کے پروگرامز اور سرگرمیاں :
پاسٹرل انسٹیٹیوٹ کے نمایاں پروگرام اور سرگرمیوں میں کرسمس جشن اور ڈنر، مسیحی عیدیں و تہوار، ہیومن رائٹس ڈے پر سیمینار، یومِ آزادی پاکستان، مذہبی تعلیم کے اساتذہ کا کورس (RTC) ، چرچ مینجمنٹ سیمینار، بائبل اسٹڈی سیمینار، آمد کے ایام و کرسمس سیمینار، یوتھ سیمینار، مسیحی روزوں اور ایسٹر سیمینار، خواتین سیمینار، ایمان کے تربیتی کورس، ویٹیکن مجلس دوم کی تعلیمات پر سیمینار، انگریزی زبان کا کورس، کیٹی کیزم آف کاتھولک چرچ، بین الکلیسیائی سیمینارز اور بین المذاہب مکالمہ سیشن شامل ہیں۔ اس کا ڈائنٹگ ہال بہت وسیع، چیپل بہت پرسکون، باغ خوبصورت، عمدہ لائبریری، آڈیوٹیوریم، کمرے اور کلاس روم منفرد ہیں۔ تمام اسٹاف انتہائی محنتی اور مخلص ہے۔ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ ایک شاندار ادارہ ہے جو ہر لحاظ سے قابل ذکر ہے۔


