میرے مطابق

آدم کا بیٹا، ایک خاموش کہانی

Yashfeen Fatima

آدم کا بیٹا بھی انسان ہے۔ وہ اس دنیا میں آتے ہی گویا ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار کر دیا جاتا ہے۔ بچپن سے ہی اسے یہ کہہ کر پروان چڑھایا جاتا ہے کہ پڑھو، لکھو، کماؤ اور پیسے بناؤ، کیونکہ تم مرد ہو۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مرد انسان نہیں ہوتا؟ یقیناً مرد بھی انسان ہوتا ہے، جس کے پاس دل ہے، جذبات ہیں اور احساسات ہیں، لیکن ہمارے معاشرے نے اس کی انسانیت پر مردانگی کی ایک سخت چادر ڈال دی ہے۔

بچپن ہی سے اسے طاقتور بننے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اگر اسے چوٹ لگ جائے تو فوراً کہہ دیا جاتا ہے کہ ”مرد روتا نہیں“ یا ”مرد کو درد نہیں ہوتا۔“ یہ کیسی بے بنیاد روایات ہیں جنہوں نے انسان کے لیے جینا اور سانس لینا دشوار کر دیا ہے؟ ہم ایک ایسی ٹرین کی طرح زندگی گزار رہے ہیں جو پرانی روایات کی پٹری پر چلتی جا رہی ہے، بغیر اس بات کا جائزہ لیے کہ یہ روایات درست ہیں یا غلط۔ حقیقت یہ ہے کہ مرد بھی گوشت پوست کا بنا انسان ہے، کوئی روبوٹ نہیں جو صرف کام کرے اور کبھی تھکے یا ٹوٹے نہیں۔

معاشرے میں مرد کے لیے ہر حال میں ایک امتحان رکھا گیا ہے۔ اگر وہ کمائے تو بھی مسائل اور اگر نہ کمائے تو بھی تنقید کا سامنا کرے۔ اسے اپنے دکھ درد کو خاموشی سے برداشت کرنے اور اپنے جذبات کو پی جانے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ حالانکہ اصل مردانگی جذبات کو دبانے میں نہیں بلکہ ان کو سمجھنے اور ان کا درست اظہار کرنے میں ہے۔

درحقیقت مرد وہ ہے جو صرف اپنی جسمانی طاقت پر نہیں بلکہ اپنے کردار پر فخر کرے۔ مرد کی پہچان اس کی آواز کی بلندی سے نہیں بلکہ اس کے رویے کی نرمی اور اخلاق کی عظمت سے ہوتی ہے۔ ایک حقیقی مرد وہ ہے جو عورت کی عزت کرے، بچوں سے محبت کرے اور بزرگوں کا احترام کرے۔ وہ مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے دوسروں کے لیے ہمت اور حوصلے کی دیوار بن جاتا ہے، اپنے گھر کا سہارا ہوتا ہے اور اپنے جذبات کو بھی سمجھنے اور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مرد صرف کمانے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ اپنے خاندان کے لیے دعا، رحمت اور محبت کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور خود کو بہتر بنانے کی ہمت رکھتا ہے۔ اصل مردانگی غصے اور سختی میں نہیں بلکہ صبر، برداشت اور انصاف میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ مرد وہ ہے جو سچ کا ساتھ دے، انصاف قائم کرے اور کسی کمزور کا حق نہ مارے۔ ایک اچھا مرد اپنی کامیابی سے زیادہ دوسروں کی عزت، سکون اور خوشی کو اہمیت دیتا ہے۔

بظاہر مرد کی زندگی مضبوطی اور استحکام کی علامت دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اندر ہی اندر ہزاروں فکروں اور پریشانیوں کا بوجھ اٹھائے ہوتا ہے۔ بچپن سے اسے یہی سکھایا جاتا ہے کہ ”تم مرد ہو، تمہیں رونا نہیں چاہیے“ ، اور اسی سوچ کے ساتھ وہ اپنے جذبات کو دبا دیتا ہے۔ اس پر کم عمری ہی میں ذمہ داریوں کا بوجھ آ جاتا ہے، گھر چلانا، والدین کا سہارا بننا اور بہن بھائیوں کا خیال رکھنا اس کی زندگی کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔

اس کی تھکن اور پریشانی کو اکثر کوئی محسوس نہیں کرتا کیونکہ سب کو یہی گمان ہوتا ہے کہ وہ مضبوط ہے اور اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے خوابوں اور خواہشوں کو ایک طرف رکھ کر خاندان کے لیے سمجھوتے کرتا ہے۔ معاشرہ اسے ہر حال میں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے، اور اگر وہ کسی مقام پر ناکام ہو جائے تو اسے تنقید اور ملامت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ درد میں بھی مسکرا کر یہی کہتا ہے کہ ”میں ٹھیک ہوں“، تاکہ دوسروں کو فکر نہ ہو۔

بدقسمتی سے کبھی کبھی مرد کو صرف پیسہ کمانے والی مشین سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا بھی ایک دل ہوتا ہے جو محبت، توجہ اور سمجھ کا طلبگار ہوتا ہے۔ مرد کی زندگی دراصل ایک خاموش جدوجہد کا نام ہے، جہاں وہ بار بار گرتا ہے مگر خود ہی سنبھل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ہر مرد کو بھی عزت، تعریف اور جذباتی سہارا دیا جائے۔ معاشرے کو یہ سمجھنا ہو گا کہ مضبوط دکھائی دینے والے لوگ بھی اندر سے کمزور ہو سکتے ہیں اور انہیں بھی کبھی نہ کبھی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ہم مرد کو صرف ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بلکہ ایک مکمل انسان سمجھیں گے، تبھی ایک متوازن، مہذب اور حساس معاشرہ تشکیل پا سکے گا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Nosheen Kausar
Nosheen Kausar
2 months ago

لکھتی رہئیے

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW