تنخواہوں میں کٹوتی: لگتا ہے اب وزیرِاعظم بھی دھوتی پہنیں گے؟

پاکستان میں ایک عجیب و غریب اصول رائج ہو چکا ہے : عالمی بحران، تیل کی منڈی میں ہلچل یا سیاست میں کشیدگی۔ اس کا حل بس ایک ہی ہے : سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا کی تمام معیشتی پیچیدگیاں کسی سرکاری کلرک کی جیب میں بند ہیں۔
حالیہ دنوں خبر ہے کہ حکومت عالمی حالات کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی پانچ سے تیس فیصد تک تنخواہوں میں کٹوتی پر غور کر رہی ہے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں حالات خراب ہوئے اور آبنائے ہرمز بند ہو گیا تو تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ خبر پڑھ کر ایک عام سرکاری ملازم سوچتا ہے : ”کیا واقعی حکومت کو شبہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں تالہ ہم نے لگایا ہے؟“ اور دفتر میں گفتگو کچھ یوں شروع ہوتی ہے :
”یار، لگتا ہے ہماری موٹر سائیکل میں ڈالا ہوا دو لیٹر پیٹرول عالمی تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے کافی تھا“
ساتھی فوراً جواب دیتا ہے : ”اور اگر تنخواہوں میں کٹوتی نہ کی گئی، تو شاید وزیرِاعظم بھی دھوتی پہن کر دفتر آتے“ ۔
سرکاری ملازم واقعی ایک عجیب کردار ہے۔ اسکول میں بچے پڑھاتا ہے، ہسپتال میں مریضوں کا علاج کرتا ہے، دفتر میں فائلیں سنبھالتا ہے، ریڈیو اور ٹی وی میں پروگرام بناتا ہے۔ اور اب لگتا ہے کہ عالمی سیاست، تیل کی منڈی اور شاید آبنائے ہرمز کی چابی بھی اسی کے پاس ہے۔
مزاح کی اصل کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے جب کفایت شعاری کا ذکر آتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ اکثر نیچے سے شروع ہوتی ہے۔ قربانی پہلے سرکاری ملازم دے، باقی لوگ بعد میں سوچیں گے۔
تاریخ میں بھی سادگی کی مثالیں موجود ہیں۔ روایت ہے کہ صدر جنرل ضیاءالحق نے عوام کو سادگی کا پیغام دینے کے لیے سائیکل پر دفتر آنا شروع کیا۔ اور اب، اگر واقعی کفایت شعاری کا زمانہ آ گیا ہے تو کیوں نہ اس روایت کو زندہ کیا جائے؟
تصور کیجیے کہ ایک دن وزیرِاعظم جناب شہباز شریف قوم سے خطاب کریں اور اعلان کریں کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اس لیے وہ خود بھی سادگی اختیار کریں گے۔ آج سے وہ پورا سوٹ نہیں پہنیں گے بلکہ سادہ قمیض اور دھوتی پہن کر دفتر آئیں گے۔ ائر کنڈیشنر کم استعمال ہوں گے، پروٹوکول کے قافلے مختصر ہوں گے، اور گرمی کی راتوں میں وہ بھی عام لوگوں کی طرح چھت پر چٹائی بچھا کر سوئیں گے۔
یہ منظر یقیناً پاکستانی سیاست کی تاریخ کا یادگار لمحہ ہو گا۔ وزیرِاعظم دھوتی میں دفتر آ رہے ہیں، کابینہ کے ارکان بھی سادگی اپنائے ہوئے ہیں، کھڑکیاں کھلی ہیں اور ہلکی ہوا چل رہی ہے۔ نیچے دفتر میں بیٹھا سرکاری ملازم حیرت سے سوچ رہا ہے : شاید واقعی قربانی کا موسم آ گیا ہے۔
پھر گرمی کی ایک عام پاکستانی رات کا تصور کیجیے۔ شہر کی چھتوں پر لوگ چٹائیاں بچھائے آسمان کے نیچے سو رہے ہیں۔ کہیں بچے ستارے گن رہے ہیں، کہیں بزرگ پنکھا جھل رہے ہیں۔ اور انہی چھتوں میں سے ایک چھت ایسی بھی ہے جہاں وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ بھی اسی آسمان کے نیچے سو رہی ہے۔ کیونکہ کفایت شعاری کا اعلان ہو چکا ہے۔
یہ سب سننے میں مزاح لگتا ہے، مگر اس مزاح میں ایک سنجیدہ سوال بھی چھپا ہوا ہے : قربانی اگر واقعی ضروری ہے تو کیا اس کا آغاز صرف نیچے والوں سے ہو گا؟
سرکاری ملازم ہر بحران کے بعد سب سے پہلے یاد آ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے ہر مشکل وقت میں سب سے پہلے اس کی تنخواہ کی طرف دیکھا جاتا ہے۔
اور یوں ہنستے ہنستے ایک سوال ذہن میں رہ جاتا ہے :
کیا واقعی دنیا کے تمام بحرانوں کا حل سرکاری ملازم کی تنخواہ ہے؟
یا پھر واقعی وہ دن بھی آ سکتا ہے جب خبر آئے کہ:
”تنخواہوں میں کٹوتی کے بعد وزیرِاعظم بھی دھوتی پہن کر دفتر آنے لگے، اور صدر ضیاء کی طرح سائیکل پر سفر بھی دوبارہ مقبول ہو گیا۔
