مجتبیٰ خامنہ ای مزاحمت جاری رکھے گا

ٹرمپ اپنی اس خواہش کا اظہار بارہا کرچکا ہے کہ ایران میں جو بھی حکومت بنے وہ اس کی مرضی اور مشاورت سے بنے اور اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ ہر حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ ایران پر مسلط کردہ جنگ کو جواز دینے کے لئے مذہب اور مذہبی طبقہ کا سہارا بھی لے رہا ہے اور ان کی مدد سے اس جنگ کو وہ Battle of Armageddon یعنی وہ آخری جنگ جو بائبل مقدس کے مطابق حق اور باطل کے بیچ لڑی جائے گی، اس کا آغاز کہہ رہا ہے (واضح رہے مسلمانوں کی مقدس روایات میں بھی آخری بڑی لڑائی کا تصور ہے جو دجال، امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور کے بعد لڑی جائے گی) ۔
اب پریشان کن بات یہ ہے کہ ان کا مذہبی طبقہ بھی دوسرے مذہبی طبقوں کی طرح صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کرنے کے لئے بیٹھا ہوا ہے اور حکمران طبقہ کی خوشامد کرتے ہوئے نہیں تھک رہا ہے کیوں کہ ٹرمپ جیفری ایپسٹین کے ساتھیوں میں سے ہے اور اس کے ایپسٹین فائلز میں بچوں کے ریپ میں ملوث ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور حامد میر جیسی توانا آواز تو یہ دعویٰ بھی کرچکی ہے کہ یہ فائلز نیتن یاہو کے ہاتھ لگیں اور اب مجبوری میں ٹرمپ استعمال ہو رہا ہے۔
ٹرمپ اپنے مقصد کے حصول کے لئے تمام حدیں پار کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف ایسے حالات میں ایران کا سپریم لیڈر بننا کوئی مذاق نہیں بلکہ یہ موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔ بات اپنی موت پہ اگر رکتی تو اچھا ہوتا لیکن صیہونی طاقتیں اجاڑنے پہ آئے تو خاندان کے خاندان اجاڑ دیتی ہے اور ان کی بربریت پھر رکنے کا نام نہیں لیتی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ایران کے عزم، ہمت اور جذبہ استقلال کا آئینہ ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو وہ صاف منع کر دیتا کہ نا بابا! ہمیں دور رکھو لیکن حالات بتا رہے ہیں کہ یہ جنگ اب مجتبیٰ خامنہ ای اور ایرانی عوام کی خودی اور خودمختاری کے مسئلہ سے زیادہ ان کی مجبوری بن چکی ہے۔ ویسے بھی کربلا والوں کے خون میں پیچھے ہٹنا شامل نہیں بلکہ خون کے آخری بوند تک مزاحمت جاری رکھنا ان کی صدیوں پرانی عادت ہے۔
ایران جھکے گا نہیں اور امریکہ و اسرائیل پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ نیتن یاہو نے تو ایٹم بم گرانے تک کی دھمکی دی ہے جبکہ ایران شمالی کوریا کے ساتھ رابطے میں ہے۔
اس جنگ کا امریکی معیشت اور خلیجی ممالک پر برا اثر پڑ رہا ہے جبکہ ایرانی معیشت جو پہلے سے پابندیوں کی شکار تھی وہ مزید زوال پذیر ہو رہی ہے یا شاید اس کی بدحالی کے لئے لغت میں فی الحال کوئی لفظ نہیں۔ جنگ کے اثرات عموماً پورے خطے اور خصوصاً ایران پر بہت دیر تک پڑنے والے ہیں کیوں کہ جنگی بربادیوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے۔ ایران کی بدقسمتی یہ ہے کہ صیہونی طاقت شہری آبادیوں کو نشانہ بناتی ہے۔ غزہ کی صورتحال پوری دنیا کے سامنے ہے اور حملے کے پہلے دن لڑکیوں کے ایک سکول کو نشانہ بنانا اس بربریت کی تازہ مثالوں میں سے ایک ہے۔ آنے والے دنوں میں ان حملوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے اور مزید سکول، کالجز، ہسپتال، ہوٹل، سیاحتی مقامات اور مزید شہری آبادیوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
اس جنگ میں اگر ایٹم بم کا استعمال نہ ہو تو حالات بتا رہے ہیں کہ امریکہ اور صیہونی ریاست کی ناک ٹوٹ جائے گی لیکن جنگ کے اختتام تک ایران کا اتنا نقصان ہوا ہو گا کہ وہ مزید کئی سالوں تک اس کا مداوا نہیں کر پائے گا اور نہ مزید مزاحمت جاری رکھ پائے گا۔ جنگ کے اختتام تک حکومت تبدیل ہو یا نہ ہو البتہ وہ اتنی کمزور ضرور ہو جائے گی کہ عالمی سطح پر آنے والے وقتوں میں کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔ جنگ کے بعد سڑکوں، سکولوں، ہسپتالوں اور شہری آبادیوں کی تعمیر پر اتنی لاگت آئے گی کہ ایران نے اس کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔
جنگ کا فائدہ فی الحال اسرائیل اور روس اٹھا رہا ہے۔ چین نپولین بوناپارٹ کے sleeping giant کی عملی تصویر بن کے خراٹے لے رہا ہے اور پاکستان آنے والے وقتوں میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اپنے دفاعی معاہدے کی وجہ سے اس جنگ میں کود سکتا ہے لیکن فی الحال وہ نیوٹرل ہونے کے باوجود بھی اس جنگ کے اثرات سے بچ نہیں پا رہا ہے۔
ٹرمپ پاگل آدمی ہے کوئی اس سے کہے کہ آپ جیت گئے ہو اور ایران خاموش رہے تو وہ پیچھے ہٹ جائے گا لیکن نیتن یاہو پاگل نہیں ہے وہ نہایت شاطر ہے اور ٹرمپ کا استعمال بطور ٹرمپ کارڈ کر رہا ہے اور بہت خوب کر رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کا بدلہ لینے تک جھکے گا نہیں۔ حالات آنے والے وقتوں میں مزید خراب ہونے والے ہیں کیوں کہ مجتبیٰ خامنہ ای مرتے دم تک مزاحمت جاری رکھے گا۔
