جنگ کے بعد ایران۔ تہذیب کا آخری چراغ

تہران کی صبح عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ سڑکوں پر گاڑیاں چل رہی تھیں، چائے خانوں میں بحث جاری تھی، مگر فضا میں ایک انجانی سی خاموشی تیر رہی تھی۔ خبروں کے چینل مسلسل ایک ہی موضوع دہرا رہے تھے : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور ایران ایک نئے امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے۔
اسی شہر کے ایک پرانے محلے میں زہرا اپنی کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ بادل خاموش تھے، جیسے وہ بھی کسی فیصلے کے منتظر ہوں۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی کتاب تھی جس کے صفحات وقت کے ساتھ زرد ہو چکے تھے۔ یہ کتاب اسے اس کے دادا نے دی تھی۔ فارسی شاعری کا ایک مجموعہ۔ بچپن میں دادا اکثر کہا کرتے تھے ”قومیں تلوار سے نہیں، اپنی تہذیب سے زندہ رہتی ہیں۔“ آج برسوں بعد یہ جملہ زہرا کے ذہن میں گونج رہا تھا۔
تہران کے بازار کھلے ہوئے تھے۔ لوگ سبزی خرید رہے تھے، بچے اسکول جا رہے تھے، اور دکان دار حسبِ معمول گاہکوں سے بحث کر رہے تھے۔ مگر ان سب کے بیچ ایک غیر مرئی خوف بھی موجود تھا۔ عالمی پابندیاں، سفارتی دباؤ اور جنگ کے خدشات۔ یہ سب خبریں لوگوں کے دلوں میں ایک انجانی بے چینی پیدا کر رہی تھیں۔
لیکن زہرا جانتی تھی کہ ایران صرف ایک ملک نہیں۔
یہ فردوسی کی شاعری ہے۔
یہ حافظ کی غزل ہے۔
یہ رومی کا فلسفہ ہے۔
یہ ہزاروں سال کی تہذیب ہے جس نے سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں مگر خود باقی رہی ہے۔
زہرا یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتی تھی۔ اس دن جب وہ کلاس روم میں داخل ہوئی تو طلبہ کے چہروں پر پریشانی واضح تھی۔ ایک طالب علم نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا
”اگر جنگ ہو گئی تو ہمارا مستقبل کیا ہو گا؟“
کلاس روم میں خاموشی چھا گئی۔ زہرا نے چند لمحے سوچا، پھر کھڑکی کی طرف اشارہ کیا جہاں دور البرز پہاڑ خاموش کھڑے تھے۔ ”ان پہاڑوں نے منگولوں کے گھوڑوں کی آواز بھی سنی ہے اور انقلاب کے نعرے بھی۔ مگر تہران آج بھی یہاں ہے۔“ طلبہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ شاید انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ تاریخ صرف کتابوں میں نہیں، ان کے اردگرد بھی زندہ ہے۔
اسی رات شہر میں سائرن بج اٹھے۔ آسمان پر طیاروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ لوگ گھروں سے نکل کر پناہ گاہوں کی طرف دوڑ رہے تھے۔ زہرا نے دروازہ کھولا، مگر اس کے قدم اچانک رک گئے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے یاد آیا کہ فردوسی نے شاہنامہ میں لکھا تھا کہ قومیں صرف اس وقت مرتی ہیں جب وہ اپنی کہانیاں بھول جائیں۔
اسی لمحے زہرا کو احساس ہوا: اصل جنگ شاید بموں کی نہیں، یادداشت کی ہے۔
اگر زبان زندہ رہے، اگر شاعری زندہ رہے، اگر لوگ اپنی تاریخ یاد رکھیں۔ تو کوئی بھی جنگ کسی قوم کو مکمل شکست نہیں دے سکتی۔
اگلی صبح جب سورج نکلا تو تہران کی گلیاں پھر آباد ہونے لگیں۔ لوگ احتیاط کے ساتھ باہر نکل رہے تھے، دکانیں کھل رہی تھیں، اور بچے اسکول کی طرف جا رہے تھے۔ زندگی نے ایک بار پھر اعلان کیا تھا کہ وہ ہار ماننے والی نہیں۔
زہرا یونیورسٹی کے صحن میں کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں وہی پرانی کتاب تھی۔ اس نے اسے بند کیا اور آہستہ سے کہا ”جنگیں سلطنتیں گرا سکتی ہیں، مگر تہذیبیں نہیں۔“ اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ ایران کا مستقبل صرف سیاست یا جنگ کے فیصلوں میں نہیں چھپا۔
وہ اس زبان میں ہے جو ہزار سال سے بولی جا رہی ہے۔
وہ ان نظموں میں ہے جو نسلوں کو یاد رہتی ہیں۔
وہ ان لوگوں میں ہے جو ہر بحران کے بعد دوبارہ زندگی شروع کر دیتے ہیں۔
تہران کے آسمان پر اب سورج پوری طرح نکل آیا تھا۔ اور شاید یہی اس کہانی کا اصل کلائمکس تھا۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی قوم کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں ہوتی کہ وہ جنگ جیت جائے۔ بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہو۔
