آہ، سید علی خامنہ ای آہ!

”وہ مردِ آہن جو طاغوت کے سامنے ڈٹ گیا، نہ جھکا، نہ ڈگمگایا۔ امام حسینؑ کی راہ کا سچا امین اور انقلاب کا زندہ ستون!“
جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی بچہ برکت حاصل کرنے کے لیے لایا جاتا، تو آپ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور دعا فرماتے : سعادت کی زندگی گزارو اور شہادت کی موت پاؤ۔
یہ دعا آج آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شخصیت پر صادق آتی ہے۔ 86 سال کی عمر میں، ایک بوڑھا شیر، مزاحمت اور استقامت کا زندہ استعارہ، امت مسلمہ کا چمکتا ستارہ، جو کبھی استعماری اور طاغوتی قوتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ وہ چھیاسی سال کا بوڑھا تھا مگر روح میں نوجوان، حوصلے میں پہاڑ، اور عزم میں فولاد۔ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ حملوں میں 28 فروری 2026 کو تہران میں ان کی شہادت نے نہ صرف ایران بلکہ پوری اسلامی دنیا کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کی آل اولاد سمیت متعدد قریبی ساتھی بھی اس سانحے میں شہید ہوئے، مگر یہ شہادت ایک نئی تاریخ رقم کر گئی ہے۔ آپ نے ناصرف ایران بلکہ فلسطین کے مسئلہ کو بھی اجاگر کیا قُدس کے لیے بھرپور آواز اٹُھائی اور قُدس کو عالمی سطح پر زندہ رکھا۔
سید علی خامنہ ای وہ واحد لیڈر تھے جنہوں نے تہران سے شام، عراق، لبنان تک مزاحمت کی ایک لازوال زنجیر قائم کی۔ وہ بارہا اپنے بیانات میں فرماتے تھے کہ ”شہادت سے مزاحمت کمزور نہیں ہوتی، بلکہ مزید مضبوط ہوتی ہے“ ۔ آج یہ بات عملی شکل میں سامنے آ رہی ہے۔ آپ کی شہادت ایک دور کا خاتمہ نہیں، ایک عہد کی تکمیل ہے۔ آپ کی شہادت نے بتایا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔
شہادت کے محض بیس گھنٹوں بعد ایران نے صیہونی رجیم اور امریکہ پر مسلسل جوابی حملے شروع کر دیے۔ خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قیادت اور عوام میں نئی روح پھونک دی، مزاحمت کی شمع کو روشن کر دیا، جو اب صرف ایران ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے لاکھوں کروڑوں دلوں میں جل رہی ہے۔ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے ثابت کر دیا ہے کہ شخصیات جاتی ہیں مگر مشن زندہ رہتا ہے۔ ان کی جدوجہد، ان کی حکمت عملی، اور ان کا عزم ضائع نہیں ہو گا۔ ایرانی عوام اور مزاحمتی محاذ آج مزید مضبوط ہو کر اٹھے ہیں۔ جو لوگ حکومت سے ناراض تھے، آج وہ بھی متحد ہو کر دشمن کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ جنگ اب محض ایران کی نہیں، بلکہ بقا، وقار اور اسلامی عزت کی جنگ بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم اپنی بقا کے لیے اٹھتی ہے تو یا تو وہ متحد ہو کر فتح حاصل کرتی ہے، یا پھر دشمن کو ساتھ لے کر مٹ جاتی ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پہلا راستہ اختیار کرے گا۔
یہ شہادت اسلامی دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک کو اب سنگین سوالات کا سامنا ہے۔ طویل عرصے سے امریکہ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے اسرائیل سے قربت، اور مغربی طاقتوں کی سیکورٹی کی ضمانت۔ یہ سب کتنی مستحکم ہے؟ آج اس کا اندازہ ایرانی حملوں کے بعد سے لگایا جاسکتا ہے۔ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی جانب سے جوابی حملوں میں خلیجی ممالک کی تنصیبات اور علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واضح پیغام ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی حمایت میں رہ کر اپنی باری کا انتظار کرنا ایک خطرناک کھیل ہے۔ اگر کوئی اسلامی ملک دشمن کے لیے مفید نہ رہا تو کل اسی انجام کا سامنا کر سکتا ہے جو آج ایران نے دیکھا۔
اب وقت ہے کہ خلیجی حکمران غور کریں کیا وہ مغربی طاقتوں کے پیرول پر ناچتے رہیں گے، اور اپنی وقتی سلامتی کی تلاش میں رہیں گے؟ یا پھر ایران کی طرح مزاحمت کا راستہ اپنائیں گے، اسلامی مفادات کو ترجیح دیں گے، اور ظلم کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں گے؟ یہ راستہ مشکل ضرور ہے۔ معاشی پابندیاں، دباؤ اور خطرات اس میں شامل ہیں۔ مگر یہی راستہ طویل مدتی خودمختاری، عزت اور تاریخی ورثہ دے سکتا ہے۔
امت مسلمہ کو بھی اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس طرف کھڑی ہوگی۔ ظالموں کی حمایت میں، یا مظلوموں کے ساتھ۔
اللہ تعالیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کو قبول فرمائے، ان کے خاندان اور ایران کو صبر عطا فرمائے، اور امت مسلمہ کو متحد کر کے ظلم کے خلاف فتح نصیب فرمائے۔ آمین۔