نجکاری نامنظور اور اساتذہ کا کردار

ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کرنا درحقیقت ظالم کی بالواسطہ حمایت کے مترادف ہوتا ہے، کیونکہ خاموشی ظلم کو طاقت اور جواز فراہم کرتی ہے۔ جب معاشرے کے باشعور افراد نا انصافی دیکھ کر بھی لب سِل لیتے ہیں تو ظلم کو پھیلنے کا موقع ملتا ہے اور مظلوم تنہا رہ جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے ظلم تلوار سے نہیں بلکہ خاموش تماشائیوں کی بے حسی سے مضبوط ہوئے ہیں۔ حق و باطل کی کشمکش میں غیر جانبداری دراصل باطل کے حق میں چلی جاتی ہے۔ اگر ہر شخص یہ سوچ لے کہ آواز اٹھانا اس کی ذمہ داری نہیں تو پھر انصاف کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ ظلم کے خلاف بولنا صرف اخلاقی فرض نہیں بلکہ اجتماعی بقا کی شرط ہے۔
پنجاب کے سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کا احتجاجی دھرنا دس دن تک جاری رہا، مگر یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ قائم رہی کہ اس احتجاج میں شریک اساتذہ کی تعداد محض 2 سے 3 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک احتجاج کی کمزوری نہیں بلکہ اجتماعی بے حسی، تنظیمی انتشار اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی خوف کی واضح علامت ہیں۔ احتجاجی دھرنے کے مطالبات اور احتجاج کا مرکزی نعرہ ”سکولوں کی نجکاری نامنظور“ تھا۔ جو قوم کی تعلیم کے مستقبل سے جڑی ایک سنجیدہ چیخ تھی۔ اساتذہ، پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب اور ان کی نمائندہ تنظیموں نے بارہا یہ موقف اختیار کیا کہ سکولوں کی نجکاری ریاست کی اس بنیادی ذمہ داری سے انحراف ہے جو آئین نے عوام کو دی ہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے میں محض ایک سروس نہیں بلکہ قومی بقا، سماجی انصاف اور فکری ترقی کی ضمانت ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پنجاب حکومت ایسی معاشی پالیسیوں پر گامزن دکھائی دیتی ہے جو آئی ایم ایف کے ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں۔ ان پالیسیوں کے تحت ریاستی اداروں کو بوجھ قرار دے کر نجکاری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ماضی میں پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان جیسے قومی اداروں کی نجکاری کی جا چکی ہے۔ جب ریاست سے قومی شناخت اور عوامی سہولت سے جڑے ادارے بھی محفوظ نہیں تو سکول اور ہسپتالوں کی نجکاری بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تعلیم اور صحت وہ شعبے ہیں جنہیں منافع و نقصان کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا ہے کیونکہ صحت اور تعلیم ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے۔ جب سکول نجی تحویل میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے فیسوں میں اضافہ ہوتا ہے، اساتذہ کی ملازمتیں غیر محفوظ ہو جاتی ہیں اور غریب طبقے کے بچوں کے لیے تعلیم خواب بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2017، 2024 اور 2025 کے مختلف مراحل میں ہونے والی نجکاری کے نتیجے میں تقریباً 18 ہزار سرکاری سکول نجکاری کی نذر ہو چکے ہیں۔ جن میں سے تقریباً 5 ہزار سکول مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ یہ بندشیں محض عمارتوں کی تالہ بندی نہیں بلکہ ہزاروں بچوں کے تعلیمی مستقبل پر تالے ہیں۔ حکومت پنجاب فیز 3 کے تحت مزید 3250 سکولوں کو نجکاری کر رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو آنے والے برسوں میں سرکاری تعلیمی نظام محض ایک رسمی ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود اساتذہ کی اکثریت ابھی تک غفلت اور مصلحت پسندی کی نیند سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب اور اساتذہ تنظیموں کے رہنماؤں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر نجکاری کے خلاف آواز بلند کریں۔ یہ وقت جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر سنجیدہ، منظم اور طویل جدوجہد کا متقاضی ہے۔ اگر اساتذہ نے آج اجتماعی قوت کا مظاہرہ نہ کیا تو کل نہ صرف ان کی ملازمتیں غیر محفوظ ہوں گی بلکہ عوام کے لیے مفت اور معیاری تعلیم کا تصور بھی ماضی کا قصہ بن جائے گا۔ نجکاری کے خلاف یہ جدوجہد دراصل اساتذہ کی نہیں، پوری قوم کے مستقبل کی جنگ ہے۔ سکولوں کی نجکاری کے خلاف آواز بلند کرنا صرف اساتذہ کا پیشہ ورانہ مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر سماجی فریضہ ہے۔ تعلیم کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری اور حق ہے۔ اساتذہ چونکہ تعلیمی نظام کے براہِ راست مشاہد اور اس کے عملی نتائج کے امین ہوتے ہیں۔ اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ نجکاری کے ممکنہ منفی اثرات و نقصانات سے نہ صرف خود باخبر رہیں بلکہ سول سوسائٹی کو بھی اس حوالے سے آگاہ کریں۔
نجکاری کے نتیجے میں تعلیم کا مقصد خدمتِ خلق سے ہٹ کر محض منافع کمانا بن جاتا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ فیسوں میں اضافہ، اساتذہ کی ملازمت کا عدم تحفظ، تعلیمی معیار میں طبقاتی فرق اور نصاب کا تجارتی مقاصد کے تابع ہو جانا ایسے مسائل ہیں جو رفتہ رفتہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ ان خطرات کو سمجھانا اور اجاگر کرنا اساتذہ کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
سول سوسائٹی میں والدین، و کلاء، صحافی، سماجی کارکن، طلبہ تنظیمیں اور باشعور شہری شامل ہوتے ہیں۔ اگر انہیں نجکاری کے طویل المدتی اثرات سے بروقت آگاہ نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ محض اساتذہ تک محدود سمجھا جائے گا۔ اساتذہ دلیل، تحقیق اور عملی مثالوں کے ذریعے سول سوسائٹی کو یہ باور کرا سکتے ہیں کہ مضبوط سرکاری تعلیمی نظام ہی مساوات، سماجی انصاف اور قومی ترقی کی ضمانت ہے۔ مزید یہ کہ اساتذہ کا کردار صرف احتجاج یا نعرے بازی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ مکالمہ، آگاہی مہمات، سیمینارز، تحریری بیانات اور پرامن جدوجہد کے ذریعے رائے عامہ کو ہموار کرنا بھی ضروری ہے۔ جب سول سوسائٹی اساتذہ کے موقف کو سمجھ کر ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی تو یہ آواز زیادہ مضبوط، موثر اور دیرپا ثابت ہو گی۔ مختصراً سکولوں کی نجکاری کے خلاف جدوجہد ایک مشترکہ سماجی تحریک ہونی چاہیے اور اس تحریک کی فکری رہنمائی اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ تعلیم کے تحفظ، مساوی مواقع اور قومی مفاد کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ اور سول سوسائٹی مل کر نجکاری کے منفی اثرات کے خلاف منظم اور باشعور آواز بلند کریں۔
