ردِعمل کے دور میں تعمیر کی آواز

برصغیر کی معاصر اسلامی فکر میں اگر چند ایسے نام تلاش کیے جائیں جنہوں نے ہجوم سے الگ کھڑے ہو کر اپنی راہ بنائی تو مولانا وحیدالدین خان ان میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ منبر کے خطیب کم اور قلم کے آدمی زیادہ تھے۔ ان کی آواز میں جو سکون تھا، وہ دراصل ایک طویل ذہنی ریاضت کا حاصل تھا۔ وہ اشتعال کی فضا میں بھی تحمل کی بات کرتے اور ردِعمل کے موسم میں بھی تعمیر کی دعوت دیتے تھے۔
میرا ان سے تعارف نوے کی دہائی میں ہوا، جب وہ بقیدِ حیات تھے۔ اس زمانے میں ان کا ماہنامہ الرسالہ باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ میں اس کا مستقل قاری تھا۔ سچ یہ ہے کہ ابتدا ہی سے ان کی فکر کے بعض گوشوں سے اختلاف بھی رہا۔ کبھی کبھی محسوس ہوتا کہ ایک خاص فکری منہج کی تکرار تحریر میں یک رنگی پیدا کر دیتی ہے۔ بعض مضامین میں موضوعات کا اعادہ اس حد تک بڑھ جاتا کہ قاری کو تازگی کی کمی محسوس ہوتی۔ مگر اس کے باوجود ایک بات واضح تھی کہ وہ جو کہہ رہے ہیں، شعوری طور پر اور پوری سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔
انہیں براہِ راست سننے کا موقع تو نصیب نہ ہوا، مگر ان کی بیسیوں آڈیو اور ویڈیوز دیکھنے اور سننے کا موقع ملا۔ ان کے سفرنامے، فکری مضامین اور کتابیں بڑی حد تک مطالعے میں آئیں۔ یوں کہیے کہ ان کی تحریری زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ پڑھنے کا موقع ملا۔ ان پر لکھی گئی چند تنقیدی کتابیں اور مضامین بھی نظر سے گزرے تاکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے رہے۔ اس مطالعے نے مجھے یہ احساس دلایا کہ مولانا کو سرسری نظر سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے یہاں ایک تسلسل ہے، ایک منہج ہے، اور ایک مستقل زاویہ نگاہ ہے جسے سمجھے بغیر ان پر رائے دینا آسان مگر سطحی ہو گا۔
ان کی بعض کتابیں خاص طور پر متاثر کرتی رہیں۔ فکرِ اسلامی میں انہوں نے اسلامی روایت کو جدید ذہن کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ علمِ جدید کا چیلنج اور اسلام میں وہ سائنسی فکر سے مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے سفرناموں میں مشاہدہ بھی ہے اور دعوتی زاویہ بھی۔ اور اجتہاد کے عنوان سے انہوں نے جس موضوع کو چھیڑا، وہ ان کی فکری جرات کا مظہر تھا، اگرچہ اس باب میں بھی اہلِ علم کے درمیان بحث و تمحیص جاری رہی۔
مولانا کی فکر کا مرکزی ستون "امن” اور "دعوت” تھا۔ وہ سیاسی کشمکش کے بجائے فکری تطہیر پر زور دیتے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام کی اصل قوت اخلاقی استدلال اور پرامن ابلاغ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ٹکراو کی سیاست سے فاصلہ رکھا اور مسلمانوں کو داخلی اصلاح اور مثبت رویے کی تلقین کی۔ ان کا خیال تھا کہ شکایت کی نفسیات سے نکل کر تعمیری جدوجہد کی طرف آنا وقت کی ضرورت ہے۔
تاہم یہاں لوگوں کا ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا اجتماعی ناانصافی کے مقابلے میں حد سے زیادہ احتیاط کبھی کمزوری کا تاثر نہیں دیتی؟ بعض مواقع پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا کی امن پسندی اس قدر غالب ہو جاتی ہے کہ مزاحمت کی مشروع اور متوازن صورتیں بھی پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ انہوں نے جہاد کے مفہوم کو زیادہ تر پرامن دعوتی جدوجہد تک محدود کر کے پیش کیا۔ یہ تعبیر اپنی جگہ ایک اجتہادی کاوش تھی، مگر دیگر جمہور کے مطابق تاریخِ اسلامی کے وسیع تناظر میں اس پر علمی اختلاف ہونا فطری تھا۔
اسی طرح ان کی تحریروں میں ایک فکری محور بار بار سامنے آتا ہے۔ وہ ہر مسئلے کو تقریباً ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے عادی تھے۔ اس سے ان کی فکر میں استحکام تو پیدا ہوا، مگر تنوع کی کمی بھی محسوس ہوئی۔ قاری کو کبھی یوں لگتا ہے کہ وہ ایک مضبوط قلعے کے اندر سے بول رہے ہیں، جہاں ہوا کا رخ بدلتا ہے مگر دیواروں کا زاویہ کم ہی بدلتا ہے۔
اس کے باوجود انصاف کا تقاضا ہے کہ ان کی خدمات کو ان کی کمزوریوں کے ساتھ دیکھا جائے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو مایوسی اور ردِعمل کی نفسیات سے نکالنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ انہوں نے قرآن کو عصرِ حاضر کی زبان میں پیش کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے مذہبی فکر کو جذباتی نعروں کے بجائے عقلی استدلال سے جوڑنے کی سعی کی۔ یہ کام آسان نہ تھا۔
مولانا وحیدالدین خان ایک خاص مزاج کے عالم تھے۔ ان کا دائرہ فکر محدود ضرور تھا، مگر اس کے اندر وہ پوری دیانت کے ساتھ کام کرتے رہے۔ ان سے اختلاف ممکن ہے، بلکہ بعض پہلوو¿ں پر ضروری بھی ہے، مگر ان کی نیت اور اخلاص پر شبہ کرنا انصاف نہیں ہوگا۔
تاریخ میں وہ ایک ایسے مفکر کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے ہنگامہ خیز دور میں سکون کی بات کی، اور شور کے زمانے میں دلیل کو ترجیح دی۔ اب یہ آنے والی نسلوں پر ہے کہ وہ ان کی فکر کو محض قبول یا رد نہ کریں، بلکہ اس سے مکالمہ کریں۔ یہی کسی بھی صاحبِ فکر کا اصل ورثہ ہوتا ہے۔
