آگ بجھاتی اور بھڑکاتی سیاست
ابھی ماضی قریب ہی کی بات ہے کہ نظریاتی سیاسی جماعتیں معاشرے کی تعمیر کا بہترین ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ سیاست محض اقتدار کے حصول کا کھیل نہیں بلکہ ایک اخلاقی و فکری تحریک سمجھیں جاتی تھی۔ مضبوط کردار، سادگی اور نظریاتی وابستگی قیادت کے اوصاف اور ان کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ کارکنان تربیت یافتہ اور تنظیمی طور پر نظم و ضبط کے پابند اور نظریاتی طور پر بہت ہی غنی ہوتے تھے۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے کیڈر کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دیا کرتی تھیں۔ سٹڈی سرکلز اور دیگر پروگرام مرتب کرتے تھے۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کا مجموعی کردار معاشرے میں مثبت تبدیلی، شعور اور اصلاح کا بہترین ذریعے ہوتا تھا اور اچھی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔
ان وقتوں میں سیاست کا مطلب مفاد نہیں بلکہ ایک موقف ہوتا تھا۔ نظریہ صرف کتابوں یا مذاہب کے محراب و منبروں تک محدود نہیں بلکہ ہر درجے کی قیادت میں دکھائی دیتا تھا۔ جبکہ سیاسی کارکنان محض جلسوں کا ہجوم نہیں بلکہ اپنے اپنے علاقوں میں سماجی شعور، امن اور اصلاح کے سفیر سمجھے جاتے تھے۔ وہ انصاف، برداشت، مکالمہ، اصلاح اور اصول پسندی کی علامت ہوا کرتے تھے۔ ان کے لیے سیاست ایک ذمے داری تھی نہ کہ کاروبار۔
مگر افسوس آج کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ بیشتر سیاسی جماعتیں نظریاتی سیاست ہی سے عاری دکھائی دیتی ہیں۔ تنظیمی تربیت اور کارکنان کی فکری رہنمائی کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے۔ سیاست نظریات کی بجائے شخصیت پرستی، وقتی اور جذباتی نعروں تک محدود ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس عمل کو مزید بگاڑ دیا ہے جہاں محض تضحیک اور محاذ آرائی ہی دکھائی دیتی ہے۔
آج سیاسی کارکنان کا اپنے قائدین کے ہر قول و فعل کو سوچے سمجھے بغیر درست ماننا اور اس کی وکالت کرنا وفاداری سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ اختلافِ رائے کو غداری اور سوال کو بغاوت مانا جاتا ہے۔ چنانچہ تنظیمی ارتقاء رک کر فکری جمود طاری ہے۔ ایسی فضا میں سیاسی جماعتیں اصلاح کا ذریعہ نہیں رہتیں بلکہ خود اصلاح کی محتاج دکھائی دیتی ہیں۔
پبلک یہ سب دیکھتی رہی ہے۔ وہ سیاسی نعروں اور عملی کردار کے درمیان فرق کو جان چکے ہیں۔ جب ان کو قیادت کے قول و فعل میں موجود تضاد نظر آتا ہے۔ جبکہ کارکنان خود پارٹی کے اندر نفاق میں مبتلا اور گروپ بندیوں میں تقسیم دکھائی دے رہے ہیں۔ اس لیے تو ان کا سیاست پر سے اعتماد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اسے خدمت کے بجائے مفاد کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اور انہیں جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔
اس سب کا خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ عوام سیاست سے لاتعلق ہو رہے ہیں۔ جب کہ باشعور اور سنجیدہ لوگ میدان چھوڑ رہے ہیں جس سے ایک خلا پیدا ہو چکا ہے۔ جبکہ تاریخ کا اصول یہ ہے کہ خلا کبھی خالی نہیں رہتا۔ اس لیے یہی خلا یا تو غیر سنجیدہ عناصر سے یا پھر ایسے لوگوں سے جو اقتدار اور مفاد ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں پر ہو رہا ہے۔ اور وہیں قوتیں مضبوط ہو رہی ہیں جن کے خلاف سیاسی جدوجہد کی جاتی تھی۔ اس تمام صورتحال کی بنیادی وجہ عدم برداشت اور منفی تربیت ہی ہے۔
سیاسی جماعتوں میں نظریاتی و اخلاقی تربیت کے باقاعدہ نظام بالکل ختم ہو چکے ہیں۔ کارکنان مطالعہ، مکالمہ اور تنقیدی سوچ کی بجائے فوری رد عمل اور جذباتی نعروں پر عمل پیرا ہیں۔ نتیجتاً برداشت کم اور جذباتیت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ بگاڑ اب صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہا۔ اس نے معاشرتی رشتوں، خاندانی تعلقات اور سماجی نظام کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ سیاسی اختلافات ذاتی دشمنیوں میں بدل رہے ہیں۔ مکالمہ ختم اور برداشت کم ہو رہی ہے۔ معاشرہ بے چینی، جذباتیت، اشتعال اور عدم استحکام کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو اپنا اور پرایا نہیں دیکھتی، سب کچھ جلا دیتی ہے۔
اس تمام خرابی اور بربادی کا حل صرف حقیقت کا ادراک کرنا اور نظریے کی طرف واپس آنا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنا لائحہ عمل ازسرنو مرتب کرنا ہو گا۔ کارکنان کی باقاعدہ تربیت کا نظام بحال کرنا ہو گا اور قیادت کو ذاتی مثال قائم کرنا ہو گی۔ اختلاف رائے کو برداشت کرنا اور مکالمے کو فروغ دے کر سیاست کو خدمت کا ذریعہ بنانا یوگا۔ اور ساتھ ہی عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے سیاست پر اعتماد کرنا اور کردار ادا کرنا ہو گا۔ اور برائی اور بگاڑ کی بیخ کنی کرنا ہو گی۔
یہ سب کچھ محض نعروں سے نہیں بلکہ عمل، کردار، تربیت اور مسلسل جدوجہد ہی سے ممکن ہے۔ اگر سیاست کو دوبارہ معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بنانا ہے تو ہمیں نظریہ، اخلاق اور تنظیمی تربیت کی طرف سنجیدگی سے لوٹنا ہو گا۔ ورنہ یہ جلتی ہوئی آگ صرف سیاسی ڈھانچوں کو نہیں بلکہ پورے معاشرتی وجود کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ جو نہ اپنا دیکھتی ہے نہ پرایا۔

