بلاگ

ترغیب

Ihsan ur REHMAN Danish

جب ہمارے پاس انواع و اقسام کے کھانوں کا ایک مزین دسترخوان موجود ہو اور وہ ہمیں یکسر بے وقعت لگے۔ جب ہمارا معدہ ذہنی تناؤ کے زیر اثر بھوک کی حس کھو دے تو ایسے میں ہم کیا کریں؟

ایک ہمسائے سے ایک اجنبی کے طور پر پہلی ملاقات ہوئی کوئی خاص بات چیت نہ ہو پائی صرف رسمی حال چال اور تعارف تک بات رہی۔ دوسری بار جب ان سے اتفاقاً ملنا پڑ گیا تو وہ موڈ میں تھے۔ کھانا کھا چکے تھے مجھے آفر کی۔ کھانے کا وقت اور بھوک ہونے کے باوجود مارے شرم کے ان سے کہہ نہ سکا۔ صرف چائے پر اکتفا کیا۔

موصوف یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی لیکچررشپ ٹھکرا کر جذبہ حب الوطنی کے تحت پاکستان کی ایک گورنمنٹ یونیورسٹی میں پڑھانے واپس آئے تھے جہاں سے وہ پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے لئے ریاست ہائے متحدہ امریکہ گئے تھے۔

حال احوال جاننے کے بعد اور پیشے کی مماثلت سے تھوڑی سی بے تکلفی سی پیدا ہو گئی۔ چائے کا سپ بھرتے ہوئے مجھ سے کہنے لگے۔ ”کیا آپ جانتے ہیں گورے پالتو جانور کیوں پالتے ہیں؟“ میں خاموشی سے مناسب جواب سوچنے لگا۔ مجھے خاموش سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر خود ہی گویا ہوئے۔ ”ہمارے یہاں یہی خیال کیا جاتا ہے کہ چونکہ مغربی معاشرے میں انسان انسانوں سے محبت نہیں کرتے اس لئے وہ با امر مجبوری کتے، بلیاں یا دوسرے پالتو جانور پال لیتے ہیں جن سے انہیں انسیت اور محبت ملتی ہے۔“

وہ چائے کا دوسرا سپ لینے کے لئے رکے اور پھر گویا ہوئے۔ ”میں بھی یہی سمجھا کرتا تھا اور گورے گوریوں کی اس حرکت پر دل ہی دل میں مشرقی ہونے کا لطف لیتا اور ان کی انسانی محبت کی محرومی پر ان پر ترس کھایا کرتا تھا۔“

کہنے لگے ”میرا ایک گورا دوست کلاس فیلو تھا۔ اسے کہیں سے بھی محبت کی کمی دکھائی نہ دیتی تھی مگر اس نے ایک کتا پال رکھا تھا۔ اس کی وہ بہت دیکھ بھال کرتا رہتا تھا اور وہ اپنے علاوہ صرف اس کا زیادہ خیال رکھتا تھا جیسے وہ اس کا حقیقی ہم سفر ہو۔ ایک روز اسے شہر سے باہر جانا پڑ گیا تو اس نے شہر میں ایک گھر ڈھونڈا جو کچھ روز کے لئے اس کے کتے کی دیکھ بھال کر سکے کہ وہ اسے اپنے ساتھ شہر سے باہر سفر پہ لے جا نہ سکتا تھا۔“

”یورپی ممالک میں لوگوں نے موبائل ایپس بنا رکھی ہیں جن کے ذریعے لوگ چند دنوں کی پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کے عوض معاوضہ وصول کرتے ہیں۔“

”میرا دوست بیرون شہر سے واپس آیا۔ اپنے کتے کو جس گھر چھوڑا تھا وہاں سے واپس لے آیا۔ مجھ سے رہا نہ گیا میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ آخر تمھیں اس کتے کی اتنی دیکھ بھال سے حاصل کیا ہوتا ہے؟“ ”

”احساس ذمہ داری“ اس گورے نے انہیں جواب دیا۔

کیا ہم اپنے گھر روز پکنے والے کھانے میں سے صرف ایک مسکین (ایسا شخص جو گداگر نہ ہو اور شدید ضرورت اور بھوک کے باوجود مارے خودداری کے کسی کے آگے دست سوال دراز نہ کر سکے ) کو ڈھونڈ کر اسے کھانا کھلا کر اپنی انسانی اور مذہبی ذمہ داری نہیں نبھا سکتے۔

خود بھی مسکینوں کو کھانا کھلاتے رہا کریں اور دوسروں کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب بھی دیتے رہا کریں تاکہ اللہ تعالی ہم سب کو دونوں جہانوں کی بھلائیوں سے نوازے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW