ہمارے شہر اور ان کے نام: علاقوں کے نام رکھنے کا اختیار آخر کس کے پاس ہے؟

کہا جاتا ہے کہ ”نام صرف شناخت نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس جگہ کی تاریخ، تہذیب اور وقار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔“ جب ہم کسی گلی، سڑک یا علاقے کو کوئی نام دیتے ہیں تو دراصل ہم اسے ایک شخصیت عطا کرتے ہیں۔ نام یہ طے کرتے ہیں کہ لوگ کسی جگہ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور وہاں کے رہنے والے خود کو کس زاویے سے محسوس کرتے ہیں۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں علاقوں کے نام رکھتے وقت نہ تہذیب کا خیال رکھا گیا ہے اور نہ ہی وقار کا۔ کراچی میں سڑکوں، راستوں اور رہائشی علاقوں کے نام اکثر منظم شہری منصوبہ بندی کے بجائے حادثاتی، من گھڑت یا غیر رسمی روایات کا نتیجہ دکھائی دیتے ہیں۔ گولیمار سے بھینس کالونی اور گیدڑ کالونی تک، خاموش کالونی سے بیوہ کالونی تک، حتیٰ کہ مکا چوک جیسے مقامات۔ یہ شہر ایسے ناموں سے بھرا پڑا ہے جو حیرت بھی پیدا کرتے ہیں، مذاق کا سبب بنتے ہیں اور بعض اوقات بے چینی یا خاموش شرمندگی کو جنم دیتے ہیں۔
یہ نام بے ضرر نہیں ہوتے۔ یہ سرکاری پتوں، شناختی دستاویزات، اسکول فارموں، ملازمت کی درخواستوں اور جائیداد کے ریکارڈ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کسی علاقے کا نام اس کے رہائشیوں کے ساتھ پوری زندگی جڑا رہتا ہے۔
کراچی کے چند عجیب و غریب علاقائی نام: ایک تنقیدی جائزہ
کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں بعض علاقوں کے نام سن کر کبھی حیرت ہوتی ہے اور کبھی افسوس کہ کیا واقعی ہم نے انسانوں کے لیے یہ بستیاں بنائی تھیں؟ مثال کے طور پر گولیمار ایک ایسا نام جو فوراً تشدد اور ہتھیاروں کی یاد دلاتا ہے۔ کیا کسی انسانی آبادی کا نام موت کے اوزار پر ہونا چاہیے؟
اسی طرح گیدڑ، مچھر اور بھینس کالونی جیسے نام جو انسانوں کو جانوروں کی سطح پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ ایسے نام علاقے کے رہنے والوں کی تذلیل محسوس ہوتے ہیں۔ کیا وہاں بسنے والے انسانوں کی کوئی اور شناخت نہیں؟ پھر خاموش اور بیوہ کالونی جیسے نام مایوسی، بے بسی اور ایک عجیب قسم کے سوگ کا تاثر دیتے ہیں۔ مکا چوک اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ کس طرح کسی سیاسی گروہ کی طاقت کا مظاہرہ عوامی جگہوں کے ناموں میں جھلکتا ہے۔ سیاسی اثر و رسوخ کے تحت رکھے گئے ایسے نام وقت کے ساتھ متنازع بن جاتے ہیں۔ کافی نام ایسے بھی ہیں جو ہمارے معاشرے میں لسانی اور طبقاتی تقسیم کو مزید نمایاں کرتے ہیں، جو ایک متحد شہر کے تصور کے خلاف ہے۔ یہ تمام مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے منصوبہ سازوں کے پاس نہ تخلیقی وژن تھا اور نہ ہی شہر کی برانڈنگ کا کوئی شعور۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ آخر یہ نام طے کون کرتا ہے؟ علاقوں کے نام رکھنے کا ذمہ دار کون ہے؟
اصولی طور پر سڑکوں اور علاقوں کے نام رکھنے کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں اور شہری حکومتوں کی ہوتی ہے۔ مثالی صورت میں یہ فیصلے ٹاؤن یا ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنز، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، منتخب نمائندوں اور منظور شدہ نام رکھنے والی کمیٹیوں کے ذریعے ہونے چاہئیں۔
ان اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی نام کی منظوری سے پہلے تاریخی اہمیت، ثقافتی اقدار، جغرافیہ اور شہری وقار کو مدنظر رکھیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خاص طور پر کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے شہروں میں کئی علاقوں کے نام ابتدا میں غیر رسمی طور پر آبادکاروں، ڈویلپرز، قبضہ گروپوں یا مقامی برادریوں کے ذریعے رکھے جاتے ہیں، اور بعد میں حکام بغیر کسی سنجیدہ جائزے کے انہیں خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں۔ ایک بار جب کوئی نام روزمرہ استعمال میں آ جائے تو اسے بدلنا مشکل ہو جاتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی نامناسب یا بے معنی کیوں نہ ہو۔
کراچی کے معاملے میں بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داری یا تو غیر سنجیدہ ہاتھوں میں رہی، یا جو نام عوام کی زبان پر چڑھے وہی سرکاری کاغذات کا حصہ بن گئے۔
مناسب نام رکھنا کیوں ضروری ہے؟
کسی علاقے کے اچھے یا عجیب نام کے گہرے نفسیاتی اور سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص کہتا ہے کہ وہ گیدڑ کالونی میں رہتا ہے تو لاشعوری اور نفسیاتی طور پر اس کی خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس شاہ لطیف، بھٹائی نگر یا گلشنِ اقبال جیسے نام وقار اور شناخت کا احساس دیتے ہیں۔ سوچے سمجھے نام صرف ظاہری آرائش نہیں ہوتے بلکہ ان کے حقیقی سماجی، نفسیاتی اور انتظامی اثرات ہوتے ہیں۔ ایک اچھا نام رہائشیوں کو فخر، شناخت اور وقار دیتا ہے، جبکہ غفلت سے رکھا گیا نام خاموشی سے یہ سب چھین لیتا ہے۔
سڑکیں اور گلیاں ہمارے ہیروز کے نام سے منسوب ہونی چاہئیں تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخ سے واقف رہیں۔ شہر کی شہرت، سیاحت اور کاروبار کے لیے بھی ضروری ہے کہ علاقوں کے نام مہذب اور پرکشش ہوں۔ دنیا کے بڑے شہر اپنی سڑکوں کے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔ سڑکیں اور محلے علما، فنکاروں، آزادی کے مجاہدین، اساتذہ یا مقامی ہیروز کے نام پر رکھے جا سکتے ہیں، جو آئندہ نسلوں کے لیے تاریخ اور اجتماعی یادداشت محفوظ رکھتے ہیں۔
شہری منصوبہ بندی میں منطقی نام ایمرجنسی سروسز، ڈاک کے نظام، سیاحوں اور حتیٰ کہ ڈیجیٹل نقشوں کو درست طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سماجی ہم آہنگی کے لیے غیر جانبدار اور جامع نام لسانی یا طبقاتی تقسیم کو کم کرتے ہیں۔ کسی شہر کا عکس اس کے مقامات کے ناموں میں جھلکتا ہے۔
بین الاقوامی مثالیں : جب نام رکھنا شہری ثقافت بن جائے
دنیا کے مہذب شہروں میں مقامات کے نام رکھنا ایک سنجیدہ شہری ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پیرس کی کئی گلیاں فلسفیوں، ادیبوں، فنکاروں اور تاریخی شخصیات کے نام پر ہیں، اور ہر نام ثقافتی و علمی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔
لندن میں باقاعدہ اسٹریٹ نیمنگ کمیٹیاں کام کرتی ہیں۔ نام جغرافیہ، قدیم پیشوں یا قومی شخصیات سے جڑے ہوتے ہیں اور مقامی برادریوں سے مشاورت کی جاتی ہے۔
سنگاپور قومی گائیڈ لائنز پر عمل کرتا ہے جن میں ثقافتی توازن، لسانی حساسیت اور تاریخی تسلسل پر زور دیا جاتا ہے۔ کسی ایسے نام کی اجازت نہیں دی جاتی جو کسی بھی گروہ کی تذلیل کرے۔
نام رکھنے کی پالیسی کا وقت آ چکا ہے
کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں کو فوری طور پر ایک معیاری اور شفاف پالیسی کی ضرورت ہے، جس میں مخصوص اتھارٹی، عوامی مشاورت کا نظام، ثقافتی و تاریخی جائزے کے پینل اور غیر مناسب یا توہین آمیز ناموں کو تبدیل کرنے کا واضح طریقہ کار شامل ہو۔ حکومت اور بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ ان عجیب و غریب ناموں پر نظرِ ثانی کریں۔ ہمارے پاس صوفیوں، ادیبوں، سائنس دانوں اور شہدا کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ شہر کی شناخت بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں رہنے والے لوگ اپنا پتہ بتاتے ہوئے شرمندگی کے بجائے فخر محسوس کریں۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے شہروں کو گولیماروں سے نکال کر گلشنوں کی طرف لے جائیں۔ نام بدلنا تاریخ مٹانا نہیں بلکہ غفلت کی اصلاح کرنا ہے۔ شہر بدلتے ہیں، اس لیے ناموں کو بھی وقار کے ساتھ بدلنا چاہیے۔
آخر میں حاصل مقصد کہ ہم فلائی اوورز، سڑکوں اور ہاؤسنگ اسکیموں پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں، مگر یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہم انہیں کیا نام دے رہے ہیں۔ نام سیمنٹ اور کنکریٹ سے زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ وہ یادیں بناتے ہیں، احترام یا بے عزتی کے حامل ہوتے ہیں۔
اگر ہمیں واقعی اپنے شہروں کی فکر ہے تو ہمیں ان کی زبان کی بھی فکر کرنی ہو گی۔ کیونکہ سڑک محض پتھر اور تارکول نہیں، گلی صرف ایک راستہ نہیں، اور محلہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا، یہ شہر کی کہانی کے زندہ جاگتے باب ہوتے ہیں اور ہر کہانی ایسے نام کی مستحق ہوتی ہے جو دانائی اور شعور کے ساتھ چنا گیا ہو۔
