میرے مطابق

سنِ بلوغت اور والدین کی ذمہ داریاں

asad abbas

جدید ٹیکنالوجی کی چکاچوند نے انسانی زندگی کو سہولیات تو عطا کیں، مگر ایک خوفناک بحران کو بھی جنم دے دیا، بچوں کی قبل از وقت جنسی بیداری۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی بے لگام رسائی نے معصوم نفوس کو فحش و عریاں مواد کا اسیر بنا دیا ہے۔ نتیجتاً سنِ بلوغت، جو فطرت کا ایک مقدس اور نفیس تحفہ ہے، اب ایک تباہ کن آفت بن کر ابھرا ہے۔ ہمارے معاشرے میں، جہاں اسلام پاکدامنی اور عفت کی بلند ترین قدریں سکھاتا ہے، بچے محض بارہ سے چودہ برس کی نازک عمر میں اس ہنگامہ خیز مرحلے سے دوچار ہو رہے ہیں۔ یہ وہ حساس دور ہے جب جسم میں جنسی قوت کا سیلاب امڈ آتا ہے، مگر عقل و شعور ابھی اس کی لگام تھامنے کے قابل نہیں ہوتا۔ والدین! کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ وہ ننھے پھول، جو کل تک آپ کی آغوش میں محفوظ تھے، آج انٹرنیٹ کی تاریک کوچوں میں بھٹک کر اپنی عصمت و پاکیزگی کھو بیٹھے ہیں؟ فحش ویڈیوز، ننگے مناظر اور گمراہ کن چیٹس نے ان کی معصومیت کو روند ڈالا ہے۔ ذہنی انتشار، نفسیاتی الجھنیں اور جذباتی تباہی عام ہو گئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے یا تو مشت زنی کی لعنت میں گرفتار ہو کر اپنی حیاتی قوت کو قبل از وقت ضائع کر دیتے ہیں، یا ہم جنس پرستی جیسے گھناؤنے فتنے کا شکار بن جاتے ہیں۔ شادی کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی نصف قوتِ باہ تحلیل ہو چکی ہوتی ہے، اور ازدواجی زندگی کی بنیاد لرز جاتی ہے۔ کیا یہی ہماری نسلوں کا مقدر ہے؟ کیا ہم اپنی آنے والی پشتوں کو اس گٹر میں دھکیل کر مطمئن ہو جائیں گے؟

ہمارے تعلیمی ادارے۔ سرکاری ہوں یا نجی۔ اس معاملے میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہیں۔ نصاب میں جنسی تربیت کا نام و نشان نہیں، جبکہ اسلام والدین کو یہ بنیادی فریضہ سونپتا ہے۔ باپ کا فرض ہے کہ بیٹے کو، اور ماں کا کہ بیٹی کو اس نازک مرحلے کی حقیقت سے روشناس کرائے۔ بچوں کو سمجھایا جائے کہ یہ جنسی طاقت اللہ کی امانت ہے، اسے ضائع کرنا جسم کی بربادی کے ساتھ روح کی ہلاکت بھی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عفت و پاکدامنی کی ایسی تابناک مثالیں موجود ہیں کہ اگر ان پر عمل ہو تو کوئی بچہ گمراہی کی دلدل میں نہ پھنسے۔ مگر افسوس صد افسوس! ہم نے یہ ذمہ داری سکولوں، سوشل میڈیا یا معاشرے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیا ہے۔

اب وقت ہے کہ والدین پر عائد یہ کڑی آزمائش کو تسلیم کیا جائے۔ بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر عقابی نظر رکھیں۔ موبائل اور انٹرنیٹ کی لامحدود آزادی کو زنجیروں میں جکڑیں۔ کسی رشتہ دار، چاہے کتنا ہی قریبی ہو، پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ خطرہ اکثر گھر کے اندر پنپتا ہے۔ اگر دو بچے کمرے میں تنہائی کی کنڈی لگا کر وقت گزار رہے ہوں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ لڑکیاں بھی ہم جنس پرستی کی اسی گہری دلدل میں دھنس سکتی ہیں۔ بلیک میلنگ کا عفریت کسی بھی لمحے ان کی زندگی تباہ کر سکتا ہے۔ کیا ہم اپنے لاڈلوں کو اس آگ میں جھونک کر خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟

والدین! جاگ اٹھو! سنِ بلوغت کی تربیت میں غفلت قیامت سے بدتر ہے۔ اپنے بچوں سے کھل کر بات کرو، اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرو۔ اس طاقت کو ضائع نہ ہونے دو، بلکہ حلال اور پاکیزہ راستوں کی طرف موڑ دو۔ اگر آج ہم نے یہ فریضہ سر انجام دیا تو کل ہماری نسلیں مضبوط، پاکیزہ اور باوقار ہوں گی۔ ورنہ سوشل میڈیا کا یہ عفریت ہماری آنے والی نسلوں کو نگل جائے گا۔ سوچو، کیا ہم اس قیامت کے ذمہ دار بننا چاہتے ہیں؟ وقت ابھی باقی ہے۔ عمل کرو، قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Azhar Abbas
Azhar Abbas
5 months ago

It is true.

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW