زبان بطور طاقت۔ انگریزی، علم اور خاموش درجہ بندیاں
زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ دھاگہ ہے جو معاشرت، علم اور انسانی تخیل کو جوڑتا ہے۔ ہر لفظ، ہر جملہ، ایک چھوٹا سا جہان ہے۔ جہاں جذبات، کہانیاں اور تاریخیں ایک ساتھ بستے ہیں۔ پاکستان میں انگریزی نے علمی اور سرکاری زندگی میں ایک خاص مقام حاصل کیا، مگر اسی وقت مقامی زبانیں۔ سندھی، اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، شینا اور بلتی۔ اپنی گہرائی، ثقافت اور روزمرہ زندگی میں مضبوط اثر رکھتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی زبان برتر ہے، بلکہ یہ کہ تمام زبانیں برابر احترام اور مواقع کی مستحق ہوں۔
نوآبادیاتی دور کے اثرات آج بھی محسوس ہوتے ہیں، اور یہ خاموش درجہ بندیاں اکثر ہمارے ذہنوں میں بس جاتی ہیں۔ تعلیمی اور ادبی ادارے بعض اوقات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سنجیدہ سوچ صرف انگریزی میں ممکن ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر زبان اپنی روشنی کے ساتھ علم اور تخلیق کے لیے کھلی ہے۔ مقامی زبانوں میں پوشیدہ کہانیاں، لوک شاعری اور روایتیں وہ خزانے ہیں جو انسانی تجربے کو براہِ راست دل سے دل تک پہنچاتی ہیں۔
ادب میں یہ تضاد نمایاں ہوتا ہے۔ انگریزی میں لکھی گئی تحریریں عالمی سطح پر زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں، مگر مقامی زبانوں میں لکھا ہوا ادب ایک زمانے، ایک ثقافت اور ایک سماج کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک پنجابی گیت، ایک سندھی لوک کہانی، بلوچی روایت، شینا کی محاورہ یا بلتی کا قصہ کبھی کسی عالمی فورم پر نہیں پہنچ پاتا، مگر یہ سب انسانی روح کی گہرائی میں زندہ رہتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ادب کی قدر زبان کے بجائے اثر، سچائی اور کیفیت پر ہونی چاہیے۔
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیمی اور اشاعتی نظام بعض اوقات زبان کی بنیاد پر اثرانداز ہو جاتے ہیں۔ انگریزی میں لکھی گئی تحریریں بین الاقوامی سطح پر زیادہ دکھائی دیتی ہیں، جبکہ دیگر زبانیں۔ سندھی، اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، شینا اور بلتی۔ اکثر مقامی حلقوں تک محدود رہتی ہیں۔ یہ محدودیت ظاہر کرتی ہے کہ زبان کی بنیاد پر برتری کا تصور فکری اور ادبی حقیقت کے برعکس ہے۔ ہر زبان کی اپنی طاقت ہے، اور ہر زبان کی آواز سماج، تاریخ اور انسانی تجربے کی عکاس ہے۔
لکھنے والے اکثر اس زبان کا انتخاب کرتے ہیں جس میں وسیع تر رسائی حاصل ہو، لیکن ہر زبان اپنی جگہ مکمل، باوقار اور خودمختار ہے۔ ادب صرف لفظوں کا کھیل نہیں، بلکہ انسانی دل اور دماغ تک پہنچنے والا پل ہے، جو جذبات، خیالات اور معاشرتی حقیقتوں کو مربوط کرتا ہے۔ مقامی زبانیں یہی کام صدیوں سے کر رہی ہیں۔ کسی شاعر کی نظم میں، کسی لوک داستان میں، کسی روایت کے الفاظ میں۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عوامی زبانوں میں بھی مضبوط فکری اور ادبی آوازیں موجود رہی ہیں۔ شاعری، لوک کہانیاں، قصے اور روایتیں نہ صرف ماضی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ موجودہ معاشرت کی حقیقتوں اور انسانی تجربات کو بھی سامنے لاتی ہیں۔ شینا اور بلتی کی زبانیں پہاڑی علاقوں کی ثقافت، تاریخ اور روایتوں کو محفوظ رکھتی ہیں، اور یہ بھی اسی تنوع کا حصہ ہیں جو پاکستان کو ادبی اور ثقافتی لحاظ سے منفرد بناتا ہے۔ ان کی اہمیت کو تسلیم کرنا معاشرتی اور ادبی شعور کے لیے لازمی ہے۔
یہ بھی واضح ہے کہ زبانیں خود برتری یا کمزوری پیدا نہیں کرتیں۔ انگریزی اور مقامی زبانیں دونوں ہی علم، اظہار اور تخلیق کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اصل اہمیت معاشرتی شعور، ادب کی آزادی اور ہر زبان کو برابر مقام دینے میں ہے۔ ترجمہ اور کثیر لسانی مکالمہ اس عمل میں مددگار ہیں، بشرطیکہ سب زبانوں کو برابر کا مقام دیا جائے اور ہر زبان کی شناخت اور اثر کو تسلیم کیا جائے۔
ادب کی آزادی زبان کی آزادی کے بغیر مکمل نہیں۔ جب معاشرہ اپنی زبانوں کو سنجیدہ اور باوقار مانتا ہے، تو ادب اپنی اصل طاقت اور جانداری حاصل کرتا ہے۔ ادب صرف کسی ایک طبقے یا زبان کے لیے نہیں، بلکہ سب کے لیے بات کرتا ہے، سب کی کہانی سناتا ہے، اور سب کی سچائی کو الفاظ میں منتقل کرتا ہے۔
ہر زبان۔ سندھی، اردو، پنجابی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، شینا اور بلتی۔ کو برابر کا مقام ملنا چاہیے، تاکہ ادبی اور فکری خیالات سب تک پہنچ سکیں۔ ادب اسی وقت جاندار اور موثر ہوتا ہے جب وہ سب کی کہانیاں، ثقافت اور تجربات کو شامل کرے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب الفاظ صرف زبان نہیں رہتے، بلکہ ایک پوری تہذیب کی آواز بن جاتے ہیں۔
ادب کی طاقت زبان کی آزادی کے بغیر نامکمل ہے۔ ہر زبان کو برابر کا موقع ملے، اور ادب ہر نقطۂ نظر کو شامل کرے، تب ہی یہ حقیقی معنوں میں مضبوط، جاندار اور یادگار ہو گا۔ یہی وہ فکری اور ادبی معیار ہے جو زبانوں کی تنوع اور انسانی تخلیق کی اصل اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

