بلاگفیچرز

کراچی صدیوں کی کتھا: 1782 سے 1843 تک (قسط : 4 )

Abubaker Shaikh

مُجھے نہیں پتہ کہ، ناتھن کرو جب کراچی پر قبضہ کرنے کے لئے انتہائی اہم معلومات تحریر کرتے ہوئے اپنے آقاؤں کو بتاتا ہے کہ، جب بارشوں کا موسم ہو تب گزری ایک شاندار بندر کی اہمیت رکھتا ہے، یہ کراچی کوٹ سے جنوب مشرق میں، سمندر سے نکلتی کھاڑی کہ مہانے پر دس میل کے فاصلے پر واقعہ ہے، گہرے پانی میں چلنے والے جہاز یہاں لنگر اَنداز ہو سکتے ہیں اور قریب بڑی لہروں کی وجہ سے یہاں سے لنگر اُٹھا کر سمندر میں آسانی سے جایا جا سکتا ہے۔ اور کچھ توپیں کناروں کو صاف رکھ سکتی ہیں، یہاں سے کراچی کی طرف جانے والا راستہ ہموار اور سخت ہے۔ اگر کچھ رقم لگائی جائے تو کراچی اَناج، گھی اور مویشیوں کی مصروف مارکیٹ بن سکتا ہے۔ مگر وہ ہمیں منوڑہ قلعہ کے متعلق کُچھ نہیں بتاتا۔ کیونکہ تالپوروں نے جب کراچی کے لئے 1792 ء میں اپنا گورنر مقرر کیا تھا تو اُس نے کچھ وقت کے بعد منوڑے جزیرے کی دفاعی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وہاں 1797 ء میں ایک دفاعی قلعے کی تعمیر کروائی تھی۔

1۔ منوڑے کا قلعہ اور کراچی ہاربر۔ 1839 کا بنا اسکیچ
1۔ منوڑے کا قلعہ اور کراچی ہاربر۔ 1839 کا بنا اسکیچ

کرو کو اس کے متعلق ضرور کچھ لکھنا چاہیے تھا، کیونکہ اس کے نو برس کے بعد جب ہینری پوٹنجر کمپنی سرکار کے تین جہازوں سمیت کراچی آیا تھا اور کئی دنوں تک کراچی کے سمندری کناروں پر، اُسے کراچی کے گورنر نے بہت زیادہ پریشان کیا تھا تب اُس نے منوڑہ قلعہ کا خوب ذکر کیا ہے۔ مگر پوٹنجر کے دلچسپ ذکر سے پہلے ہم مختصراً اُنیسویں صدی کے ابتدائی آٹھ برسوں کا ذکر کریں گے جن برسوں میں ایشیا میں جنگوں، قبضوں، نئی سیاسی قوتوں کا اُبھرنا، کمپنی سرکار کی ناراضگی اور تالپور صاحبان کی پریشانی کا ذکر ہو گا۔ جس کے بعد ہم 1808 ء کے برس تک پہنچیں گے۔ ان آٹھ برسوں میں ہم اچھی طرح دیکھ سکیں گے کہ کمپنی سرکار اپنے سوا کسی سے بھی وفادار نہیں رہی، دھوکا، فریب اور گرگٹ کی طرح وقت کے ساتھ تبدیل ہونا کوئی ان سے سیکھتا اور کمال یہ کہ اس مکروہ عمل پر ان کے چہروں پر کبھی پریشانی کی کوئی لکیر نہیں اُبھری بلکہ وہ ان تگڑم بازیوں اور حرفتوں کو اپنی ذہانت اور کامیابی سمجھتے۔

کرو تو سندھ حکومت کے ملے ہوئے سخت اَحکامات کو مانتے ہوئے سندھ چھوڑ کر جا چُکا تھا۔ غلط یا صحیح سندھ کے حکمران اپنی بازی چل چُکے۔ لگتا ایسا ہے کہ تالپُوروں کو کمپنی سرکار کو کوٹھی قائم کرنے کی نہ اتنی جلدی اجازت دینی چاہیے تھی اگر اجازت دی اور سہانے سپنے دکھانے کے بعد کوٹھی کو فوراً بند کرنے کے احکامات جاری کرنے کے متعلق پہلے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے تھا۔ خارجہ پالیسی جس چڑیا کا نام ہے وہ شاید کبھی میروں کی حُکومت کے گھنے درخت پر بیٹھ کر دو بول نہیں بولی، جس کی وجہ سے آنے والا وقت میر صاحبان کے لئے انتہائی مُشکل ثابت ہونے والا تھا۔ اَبھی اُنیسویں صدی کے رمضان کے دو چاند بھی نہیں دیکھے تھے کہ، میر فتح علی خان تالپور بدھ کے دن، سخت گرم موسم 12 مئی 1802 ء کو کینسر کی بیماری میں انتقال کر گئے۔ اور اس کی جگہ تَخت پر میر غلام علی خان تالپور براجمان ہوا۔ ابھی کچھ ہی ماہ گزرے تھے کہ 1803 ء میں شاہ شجاع دُرانی شکارپور آن پہنچا کہ خراج کی ادائیگی کی جائے۔ میر غلام علی نے اپنی جگہ پر میر مراد علی خان کو قائم مقام حاکم بنایا اور خود شجاع سے ملنے شکارپور تک گیا وہاں سے لاڑکانہ آیا جہاں میر سہراب خان بھی پہنچا۔ دونوں نے صلاح مَشورہ کیا کہ، کوئی بہانہ بنا کر شجاع درانی سے پیچھا چھڑانا چاہیے، مگر ان کی کوئی ترکیب کام نہ آئی۔ البتہ یہ اتفاق ضرور ہوا کہ، ان دنوں ایران کی طرف سے ہرات پر لشکر کشی کی خبر شاہ شجاع تک پہنچی، موسم بھی گرم تھا۔ آخر دس لاکھ خراج اور تحفے تحائف لے کر شاہ شجاع روانہ ہوا۔ حالات ٹھیک ہوئے تو میر سہراب خیرپور میرس گیا اور میر غلام علی تالپور واپس حیدرآباد لوٹا اور شکار کے لئے جنوبی سندھ کی جھیلوں کی طرف تیتر و بٹیر کا شکار کرنے چلا گیا۔

2۔ ہرات کے قدیم قلعے کے اندر آبادی۔ وکیپیڈیا
2۔ ہرات کے قدیم قلعے کے اندر آبادی۔ وکیپیڈیا

شکار سے لوٹنے کے بعد جب تینوں میر اور وزیر حالات پر بات کرنے بیٹھے تو یہ فیصلہ کیا کہ کمپنی سرکار کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے، کیونکہ افغان کی طرف سے ان پر لاگو خراج کا یہ بوجھ اَب اِن سے اُٹھایا نہیں جا رہا تھا۔ جس کے مقابلے میں کمپنی سرکار سے دوستی ان کو بہتر لگی۔ 1800 سے 1803 تک مسٹر کرو اور سندھ حکومت کا آپس میں خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ میر غلام علی خان تالپور نے اپنے وکیل کے ساتھ وفد کو بمبئی بھیجا کہ، گوری سرکار سے ٹُوٹی ہوئی دوستی کی ڈور کو پھر سے باندھ سکے۔ مگر کمپنی سرکار کو جو سندھ حکومت سے ذلت کے زخم ملے تھے وہ اَبھی تازہ تھے۔ اور کمپنی سرکار کا یہ بھی وتیرہ تھا کہ ملی ذلت کو کبھی نہیں بُھولتی تھی اور ذلت کو اس طرح پالتے کہ وہ نفرت میں تبدیل ہو جاتی اور پھر وہ وقت کا انتظار کرتے کہ کب اِس کا سُود سمیت بدلہ لے سکیں۔ سندھ کا وفد بمبئی تو ضرور پہنچا، مگر اُن کو کوئی خاص پروٹوکول نہیں دیا گیا۔ باتیں ٹھنڈے اور غیر دلچسپ ماحول میں شروع ہوئیں۔ کمپنی سرکار نے بیوپاری کوٹھی میں جو 109769 روپوں کا نقصان ہوا تھا وہ واپس کرنے کو کہا، مگر سندھ کے وکیل کے پاس اتنے اختیارات نہیں تھے کہ وہ ان کے متعلق کوئی وعدہ کرتا۔ پھر کمپنی نے جو تالپوروں کو تحفے تحائف دیے تھے اُن پر بات ہوئی مگر طرفین کی باتیں، نشستن، گفتن، برخاستن ثابت ہوئیں۔ سندھ کا وفد کچھ وقت بمبئی میں رہنے کے بعد ناکام واپس لوٹ آیا۔

3۔ بمبئی فورٹ جو کمپنی سرکار نے 1716 ء میں تعمیر کروایا، ساری خط و کتابت اسی قلعہ سے ہوتی اور دوسرے ملکوں کے وفود سے ملاقاتیں اسی قلعہ میں ہوتیں۔ وکیپیڈیا
3۔ بمبئی فورٹ جو کمپنی سرکار نے 1716 ء میں تعمیر کروایا، ساری خط و کتابت اسی قلعہ سے ہوتی اور دوسرے ملکوں کے وفود سے ملاقاتیں اسی قلعہ میں ہوتیں۔ وکیپیڈیا

1799 ء میں کمپنی سرکار کا سفیر ایران میں معاہدہ کرنے کے لئے موجود تھا، جبکہ فرانس بھی ایران سے معاہدہ کرنا چاہتا تھا، مگر ایران نے فرانس سے کوئی بھی معاہدہ کرنے سے سختی سے انکار کیا، یہ وہ زمانہ تھا جب فرانس انگریز ہندوستان پر حملہ کرنے کی سوچ رہا تھا۔ مگر ایران نے کمپنی سرکار سے جو معاہدہ کیا اُس پر وقت آنے پر گوری سرکار نے کوئی عمل نہیں کیا۔ روس کی وجہ سے ایران بہت پریشان تھا کہ وہ اُس کے ملک کے حصوں پر قبضہ کرتا آگے بڑھ رہا تھا۔ ہسٹری وار آف افغانستان کا مصنف Kaye لکھتا ہے : ’اس زمانے میں ہندوستان کی انگریز سرکار یا تو بے حد مصروف تھی یا ایران سے لاپروا ہو گئی تھی۔‘

4۔ روس ایران جنگ 1804
4۔ روس ایران جنگ 1804

ایران روس کے حملہ کی وجہ سے تناؤ میں تھا اور اس تناؤ سے چھٹکارا پانے کے لئے ایران نے فرانس سے معاہدہ کر لیا۔ فرانس ایران سے معاہدہ ہونے پر خوش تھا۔ ایران سے دوستی کے بعد نپولین روس پر حملہ کرنے کے متعلق بہتر طریقے سے سوچ سکتا تھا۔ کیونکہ روس، ایران اور فرانس دونوں کی مخالفت میں تھا۔ فرانس کے جنگی ماہروں نے ایران کی فوج کو جدید جنگی ٹریننگ دینے میں دیر نہیں کی۔ ایران اور فرانس کی یہ اکٹھی طاقت انگلینڈ اور ہندوستان کی کمپنی سرکار کے لئے اِنتہائی مُشکل اور پریشان حالات پیدا کر رہی تھی۔ اور وہ اس حملے کی تیاریوں اور اقدامات میں مصروف ہوئے جو حملہ کبھی ہونا ہی نہیں تھا، مگر اُن دنوں حالات جو منظر پیش کر رہے تھے اُس سے کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہو گا۔ ماڑیولا لکھتے ہیں : ’فرانس کا ہندوستان پر حملہ ناممکن تھا، یہ امکان ہی نہیں تھا کہ وہ ساٹھ ہزار کا لشکر اونٹوں پر سوار کر کے، عربستان اور بلوچستان جیسے انتہائی مشکل ریگزاروں سے ہوتا ہوا آ کر دریائے سندھ کے کنارے پر منزل کرے۔ نپولین کے حملوں کی وجہ سے سارا یورپ اُس سے خوفزدہ تھا۔ اس فرنچ جنرل نے مصر کو فتح کیا، اس نے ایران کے لئے جو وفد بھیجا اُس کو بھی ایران نے عزت و تکریم دی۔ اس وجہ سے محسوس ہو رہا تھا کہ، ایران اور فرانس کا لشکر اکٹھا ہو کر، بلوچستان کا ریگستان اور سندھو دریا کو پار کر کے، انگریز ہندوستان کے کسی نہ کسی علاقے کو فتح کر لے گا۔ اور باہر سے بھی ایسا لگ رہا تھا کہ ایسے حالات میں، ہندوستان کو فرانس کے لئے فتح کرنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔ اور اس خوف کی وجہ سے گوری سرکار کے گلے خشک ہو رہے تھے۔ شمال میں رُوس، مَغرب میں فرانس اور اِیران اور نزدیک شمال میں سندھ کے حاکموں کی سندھ اور اس سے کُچھ دور افغانستان۔‘

5۔ صفوی ایرانی ایلچی مرزا محمد رضا قزوینی نپولین کے ساتھ پروشیائی جرمنی کا فنکنسٹین محل میں ملاقات 27 اپریل 1807
5۔ صفوی ایرانی ایلچی مرزا محمد رضا قزوینی نپولین کے ساتھ پروشیائی جرمنی کا فنکنسٹین محل میں ملاقات 27 اپریل 1807

جولائی 1807 ء میں نپولین اور روس کے حکمران الیگزینڈر کے بیچ میں ایک معاہدہ ہوا جس میں ہندوستان پر ساتھ مل کر حملہ کرنے کی شرط بھی شامل تھی۔ اور گوری سرکار کو اب یہ بھی ڈر تھا کہ روس کے دشمن ہونے کے ساتھ کل کلاں اگر افغانستان کے ساتھ بھی ان کا کوئی معاہدہ ہوا تو وہ مذہب کو بنیاد بنا کر حملہ کر سکتا ہے۔ اَب ایسی صورتحال میں گوری سرکار کے لئے لازمی ہو گیا تھا کہ، روس اور ہندوستان کے بیچ والے مُلکوں کی طرف مُختلف وفدوں کو بھیج کر اُن کو اپنے طرف کیا جائے کہ جنگ کی حالت میں وہ اُن کے کام آ سکیں۔ اُن دنوں ہندوستان کا گورنر جنرل لارڈ منٹو تھا۔ اُس نے یہ سوچا کہ روس اور ہندوستان کے بیچ میں دو ایسے ملک پیدا کیے جائیں جو دشمنوں کے حملے کے وقت ہندوستان کا ساتھ دیں اور ان کے سہارے اس حملے کو پسپا کیا جا سکے۔ اس لیے اندرونی جوڑ توڑ کے لئے دریائے سندھ کے کناروں والے ممالک سندھ اور پنجاب کو چُنا گیا اور بیرونی منظرنامے کے لئے افغانستان اور ایران کے لئے سوچا گیا۔

6۔ لارڈ منٹو
6۔ لارڈ منٹو

اِن سنجیدہ حالات کو اَپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے ہندوستان کے گورنر جنرل نے، سندھ، پنجاب، ایران اور افغانستان اپنے وفود روانہ کیے۔ سندھ کے لئے جو وفد بھیجا گیا تھا اُس کی سربراہی کیپٹن ڈیوڈ سیٹن (Captain David Seton) کر رہا تھا اور ساتھ میں جوناتھن ڈنکن بھی تھا۔ یہ وفد جولائی 1808 ء حیدرآباد پہنچا۔ سیٹن کے پہنچنے سے پہلے اِیران کا ایلچی سندھ کے دربار میں موجود تھا جو اِیران حکومت کی طرف سے سندھ کے اَمیروں کے ساتھ دوستی کا پیغام لایا تھا۔ دوسری طرف انگریز وفد نے بھی سندھ کے حاکموں کو محسوس کرایا کہ، اگر تالپور ہماری مدد کریں گے تو، قندھار کے قلعہ کو فتح کرنا اور کابل کے امیر کے پڑے طوق سے جان آزاد ہو گی۔ آخر 18 جولائی 1808 ء کو طرفین میں عہد نامہ ہوا۔ جس کا لُب لباب کُچھ اس طرح سے تھا کہ:

*دونوں حکومتیں ایک دوسری کی دوست رہیں گی، ایک حکومت کا دوست دوسری حکومت کا بھی دوست ہو گا اور ایک کا دشمن دوسرے کا بھی دشمن ہو گا۔

*ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی فوجی مدد کی جائے گی۔ دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے دشمن کو پناہ نہیں دیں گی۔

*اگر سندھ حکومت کا کوئی نمائندہ، ایسٹ انڈیا کمپنی کی کسی بھی بندرگاہ سے جنگی سامان خرید کرنا چاہے گا تو کمپنی سرکار اُس کی مدد کرے گی۔

* کمپنی سرکار کے ایک نمائندے کا سندھ کے دربار میں تقرر کیا جائے گا کہ وہ خیر اندیشی اور دوستی کے رابطوں کو بڑھاوا دے سکے۔

* گزرے وقت میں جو نقصان ہوا تھا یا جو بقایا جات ایک دوسرے پر ہیں ان کو اب منسوخ سمجھا جائے گا۔
* فقط ٹھٹہ شہر میں کلہوڑا دور میں قائم بیوپاری کوٹھی بیوپار کرے گی۔

7۔ سندھ کے امیر تالپور حکمران
7۔ سندھ کے امیر تالپور حکمران

یہ عہد نامہ 24 جولائی 1808 ء میں ہوا۔ مگر گورنر جنرل کی تصدیق کی مہر لگنی ابھی باقی تھی، اُس کے بغیر اس عہد نامے کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ لارڈ منٹو نے اس عہد نامے پر اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی۔ کیوں؟ ماڑیوالا لکھتے ہیں : ’انگریز سرکار کو یہ اندیشہ تھا کہ جس وقت سیٹن سندھ کے دربار میں یہ معاہدہ کرنے پہنچا تو وہاں پہلی ہی ایران اور فرانس کے سفیر موجود تھے۔ اور ان تینوں میں معاہدوں کی باتیں ہو رہی تھیں۔ انگریز سفیر پر فرانس کے حملے کا بھوت سوار تھا اس لیے اس نے جب تالپوروں سے معاہدہ کیا تو مرکز سے ملی ہوئی ہدایات اور صلاح و مشوروں کو وہ بالکل بھول گیا، تالپوروں سے جنگ اور بچاؤ کے وہ وعدے کر بیٹھا جو اِس کے اختیار میں ہی نہیں تھے اور نہ ہی مرکزی حکومت ایسا کوئی معاہدہ چاہتی تھی۔ اس لیے سیٹن اور وفد کو ستمبر میں واپس کلکتہ بلایا گیا۔ کیونکہ اس کو جس مقصد کے لئے سندھ بھیجا گیا تھا کہ:‘ وہ سندھ سے افغانستان کے خلاف معاہدے پر بات چیت کرے۔ کیونکہ انگریزوں کے دو متوقع دشمن ہیں ایک ایران اور دوسرا افغانستان، جن کو فرانس اور روس کی مدد حاصل ہے۔ مگر چونکہ اب ایران اور کمپنی سرکار کے بیچ میں دوستی کا معاہدہ ہو گیا ہے اس لیے اب فقط افغانستان بچتا ہے جس پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر انگریز دشمن کی درست معلومات حاصل کرنے کے لئے سندھ کو ایک ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو سندھ کے حکمرانوں سے انگریز دشمن خلاف امداد کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ ’

بہرحال جو بھی ہوا، وہ تبدیل ہوتے ہوئے حالات کی وجہ سے ہوا، کیونکہ مغرب اور شمال طرف سے سیاسی طور پر دھول اُڑ رہی تھی کہ منظرنامہ صاف کسی کو بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایلچیوں کے قافلے تھے کہ ایشیا کے درباروں میں ادھر سے اُدھر کے سفر میں مصروف تھے۔ میں Sir John William Kaye کے اس جملے پر سیٹن کے سندھ پہنچنے اور عہد نامے کے موضوع کو ختم کرتا ہوں۔ وہ اپنی مشہور تصنیف میں لکھتے ہیں : ”جس وقت سیٹن (Seton) سندھ کے دربار میں پہنچا تھا تو ایران کا سفیر اُس سے پہلے وہاں موجود تھا، جو افغانستان کے خلاف سندھ سے اتحاد کرنے کے لئے تیار تھا، مگر سیٹن نے سندھ کے امیروں کو اس بات کے لئے تیار کیا کہ وہ، افغانوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے انگریزوں سے مدد مانگیں۔ تالپروں نے سیٹن سے ایسا معاہدہ کیا (جس کا آپ ابھی مطالعہ کر چکے ہیں ) ، مگر بعد میں کمپنی سرکار یہ کہہ کر معاہدے سے مُکر گئی کہ افغانستان اس کا دوست ہے اس لیے وہ اس معاہدے پر عمل نہیں کر سکیں گے۔“

8۔ ہنری پوٹنجر
8۔ ہنری پوٹنجر

میرے سامنے ہنری پوٹنجر کا وہ تفصیلی سفرنامہ سامنے پڑا ہے جو اُنہوں نے دوسرے سندھ بھیجے ہوئے وفد کے ساتھ ہونے کی وجہ سے لکھا تھا، اور پوٹنجر کی تحریر کا کمال یہ ہے کہ وہ جو بھی آنکھ سے دیکھتا ہے یا محسوس کرتا ہے یا اُس پر جو بیت رہی ہوتی ہے، وہ بڑے سلیقے سے تحریر کے دائرے میں لاتا ہے۔ یہ دلچسپ سفرنامہ آپ کو سُنانے سے پہلے جس میں کراچی کے متعلق بہت ساری معلومات بھری پڑی ہے۔ میں آپ کو کمپنی سرکار کی وہ ہدایات ضرور سُنانا چاہوں گا جو اِس وفد کو سندھ جانے سے پہلے دی گئی تھیں۔ اس حوالہ سے میں ماڑیوالا سے ضرور مدد لینا چاہوں گا۔ ”سندھ جانے والے نئے وفد کو ہدایات دی گئیں کہ، سندھ حکومت سے کوئی بڑا معاہدہ نہ کیا جائے بلکہ ایسا معاہدہ ضرور کیا جائے جس سے کمپنی سرکار کو وہاں اڈہ مل جائے، جہاں بیٹھ کر ایران، روس، فرانس اور افغانستان میں پَنپتی سازشوں کا پتہ لگایا جا سکے۔ جب یہ وفد بمبئی سے نکلا تو حالات سے ظاہر ہونے لگا کہ فرانس کا ہندوستان پر حملہ ممکن نہیں ہے کیونکہ وہاں کے سیاسی حالات ایسے نہیں ہیں کہ دوسرے ملک پر حملہ کیا جائے اور وہ بھی اِتنی دور۔ جب فرانس کے حملہ کا خوف گوری سرکار کے سر سے اُترا تو بھیگی بِلی بَنی انگریز سرکار نے عادت کے مطابق شیر کا روپ دھار لیا۔ نئے بھیجے ہوئے وفد کو یہ سمجھا کر بھیجا کہ، سندھ کے حکمرانوں سے کوئی رعایت نہ کی جائے بلکہ کچھ سَختی سے پیش آنا چاہیے اور اِن کو یہ ضرور سیکھ ملنی چاہیے کہ کمپنی سرکار کے افسروں کی دل سے عزت اور احترام کرنا چاہیے۔ اور سندھ کے امیروں سے کسی نَرمی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ برابری کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔“ جب تک انگریزوں کو فرانس کے حملے کا ڈر تھا تو اُنہوں نے جو 1803 میں اپنے کراچی والے نقصان کے پیسے واپس کرنے پر بضد تھا، 1808 میں اُن پیسوں کی بات تک نہیں کی بلکہ اس نقصان سے ہاتھ اُٹھا لیا، جب فرانس کا خوف ختم ہوا تو پھر وہ ہی اکڑ اُن میں پھر عود آئی۔ چلئے 1808 میں سیٹن کے کیے ہوئے معاہدے کو کینسل کرنے اور نئی بات چیت کرنے کے لئے، کمپنی سرکار کا ایک وفد کراچی کے کنارے پر پہنچنے والا ہے۔ جس کو جو ہدایات دی گئی تھیں اُن کا ذکر ہم ابھی کر چکے ہیں۔

کمپنی سرکار نے سندھ بھیجنے کے لئے، بمبئی سول سروس کے نکولس ہینکی سمتھ (Nicholas Hankey Smith) کو سفیر مقرر کیا، بنگال سول سروس کے ہنری ایلس ایسکوائر (Henry Ellis Esquire) کو اس کا فرسٹ اسسٹنٹ نامزد کیا گیا، بمبئی کے مقامی پیدل فوج کے لیفٹیننٹ رابرٹ ٹیلر (Lieutenant Robert Taylor) اور ہنری پوٹنجر (Henry Pottinger) کو سیکنڈ اور تھرڈ اسسٹنٹ مقرر کیا گیا۔ کیپٹن چارلس کرسٹی (Charles Christie) کو استقبالیہ دستے کی کمان سونپی گئی۔ ولیم ہال اسکوائر (William Hall Esquire) کو سرجن کے طور پر اور بمبئی میرین کے کیپٹن ولیم میکسفیلڈ (Captain William Maxfield) کو میرین سرویئر کے طور پر شامل کیا گیا، اور ان کو سندھ بھیجنے کے لئے بڑا بجٹ رکھا گیا کہ یہ ٹیم بڑے طمطراق اور رعب کے ساتھ سندھ کی زمین پر قدم رکھے۔ اس سفر میں چونکہ ہنری پوٹنجر ساتھ ہیں تو اس سارے سفر کا آنکھوں دیکھا حال ہم نے مسٹر پوٹنجر کی زبانی ہی سُننا ہے۔ اُس کی مشہور تصنیف Travels in Balochistan and Sinde اس حوالہ سے ہماری مدد کرے گی۔

1809 ء میں، ان شاندار تیاریوں کے ساتھ، ماریہ نام کا ایک دیسی ساخت کا بیڑہ ایلچی اور اس کی ٹیم کو کراچی بندرگاہ تک پہنچانے کے لئے کرایہ پر حاصل کیا گیا، اور کمپنی سرکار کے جنگی جہاز پرنس آف ویلز، کیپٹن ایلین اور تین ہتھیاروں سے لیس جہازوں سمیت ان کے ہاں حاضر رہنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ 27 اپریل 1809 ء دوپہر کے بعد ، وفد ماریہ جہاز پر سوار ہوا اور دوسرے جہازوں سمیت یہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ سفر بڑے آرام سے ہو رہا تھا۔ یہ وفد 9 مئی 2009 ء کو کراچی پہنچے گا۔ ہم بھی کوشش کریں گے کہ اُس وقت اس وفد کے آس پاس رہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW