بلاگ

والدین کی غیر مشروط محبت: فطرت کی سب سے بڑی رمز

dr santosh kamrani

انسانی تعلقات کے پھیلے ہوئے منظرنامے میں اگر کسی ایک رشتے کو مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ والدین اور اولاد کے درمیان قائم ہونے والا وہ رشتہ ہے جس کی بنیاد غیر مشروط محبت پر رکھی جاتی ہے۔ یہ محبت کسی ایک تہذیب، کسی ایک دور، یا کسی مخصوص سماج تک محدود نہیں رہی؛ بلکہ انسانی تاریخ کے ہر مرحلے پر یہ ایک خاموش مگر طاقتور حقیقت کے طور پر موجود رہی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک ناتجربہ کار وجود کو زندگی کے پیچیدہ دھارے میں اعتماد اور استحکام عطا کرتا ہے۔ والدین کی محبت محض جذباتی وابستگی نہیں، بلکہ جینیاتی، ہارمونل، نفسیاتی اور سماجی عوامل کا ایک ایسا باہم مربوط نظام ہے جو انسانی بقا اور ارتقاء میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اگر اس محبت کو محض دل کے احساس تک محدود سمجھا جائے تو یہ اس کی سائنسی اور نفسیاتی گہرائی کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو گا۔ انسانی دماغ اور جسم میں ایسے حیاتیاتی میکانزم موجود ہیں جو والدین اور بچے کے درمیان ایک مضبوط، دیرپا ربط قائم کرتے ہیں۔ حمل کے دوران ہی ماں اور بچے کے درمیان ہارمونل سطح پر ایک تعلق بننا شروع ہو جاتا ہے، جو پیدائش کے بعد مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ آکسی ٹوسن جسے عمومی طور پر محبت یا بندھن کا ہارمون کہا جاتا ہے، بچے کی پیدائش اور دودھ پلانے کے عمل میں نمایاں طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کا اثر صرف ماں تک محدود نہیں رہتا؛ تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ باپ کے دماغ میں بھی بچے کے ساتھ قربت اور تعامل کے دوران یہی ہارمون شفقت اور وابستگی کو بڑھاتا ہے۔

اسی طرح ویسوپریسن (Vasopressin) والدین، خاص طور پر باپ، میں تحفظ اور ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ کیمیائی عوامل مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیتے ہیں جس کے تحت والدین کا ردِعمل بچے کے رویّے سے مشروط نہیں رہتا۔ بچہ فرمانبردار ہو یا ضدی، کامیاب ہو یا ناکام۔ والدین کے دماغ میں موجود یہ جینیاتی پروگرام اسے ترک کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی غیر مشروطیت دراصل انسانی نسل کے تسلسل کی ضامن رہی ہے۔

ارتقائی نفسیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو انسانی بچے کی طویل انحصاری مدت والدین کی غیر مشروط محبت کو ناگزیر بنا دیتی ہے۔ دیگر جانداروں کے برعکس، انسان کا بچہ برسوں تک مکمل نگہداشت کا محتاج رہتا ہے۔ اگر محبت کارکردگی یا صلاحیت سے مشروط ہوتی تو بقا ممکن نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں وہ معاشرے اور خاندان زیادہ مستحکم ثابت ہوئے جہاں والدین کی وابستگی مضبوط اور غیر متزلزل رہی۔

اس محبت کا ایک کم بولنے والا مگر گہرا پہلو وہ وجدانی فہم ہے جسے ہم احساسی یا ہم دردی کے اعلیٰ درجے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ والدین اکثر بغیر کسی لفظ کے بچے کی کیفیت کو بھانپ لیتے ہیں۔ یہ محض جذباتی حساسیت نہیں، بلکہ طویل مشاہدے اور تجربے سے پیدا ہونے والی ایک ذہنی مہارت ہے۔ بچے کی خاموشی، آنکھوں کا جھک جانا، یا حرکات میں معمولی تبدیلی۔ یہ سب والدین کے لیے معنی رکھتے ہیں۔ ماں کا اچانک بچے کے پسندیدہ کھانے کا اہتمام کرنا یا باپ کا خاموشی سے پاس بیٹھ جانا، دراصل اسی غیر لفظی ابلاغ کی مثالیں ہیں۔

یہی عمل اعصابی سطح پر مرر نیورونز کے ذریعے ممکن ہوتا ہے، جہاں والدین بچے کے احساسات کو محض سمجھتے نہیں بلکہ کسی حد تک اپنے اندر محسوس بھی کرتے ہیں۔ یہ کیفیت ”کسی کے لیے محسوس کرنے“ سے آگے بڑھ کر ”کسی کی جگہ کھڑے ہو کر محسوس کرنے“ کے مترادف ہوتی ہے۔ بچے کے لیے یہ تجربہ اس بات کی بنیاد بنتا ہے کہ وہ خود کو دنیا میں قبول شدہ اور محفوظ سمجھے، اور یہی احساس اس کی نفسیاتی نشوونما میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

سماجی سطح پر دیکھا جائے تو غیر مشروط محبت خاندان کو مستحکم اور سماج کو متوازن بناتی ہے۔ ایسے بچے جو اس محبت کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں، عموماً بڑے ہو کر تعلقات میں ہمدردی، برداشت اور جذباتی توازن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تاہم یہاں ایک تنقیدی پہلو بھی ہے۔ سماجی دباؤ۔ جیسے تعلیمی کامیابی، مالی حیثیت یا سماجی مرتبہ۔ اکثر والدین کو غیر محسوس طور پر محبت کو مشروط بنانے پر آمادہ کر دیتا ہے۔ جب محبت کا اظہار صرف کارکردگی سے جڑ جائے تو بچے کی داخلی خودی مجروح ہوتی ہے، جس کے اثرات بعد کی زندگی میں واضح ہو جاتے ہیں۔

فلسفیانہ سطح پر، بالخصوص فلسفہِ وجودیت میں، انسان کی بنیادی کشمکش تنہائی اور معنویت کی تلاش سے جڑی ہے۔ والدین کی غیر مشروط محبت بچے کو یہ وجودی یقین دیتی ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کے باوجود قابلِ قبول ہے۔ یہی قبولیت اسے زندگی میں غلطیاں کرنے، سوال اٹھانے اور اپنی راہیں تلاش کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک محفوظ پناہ گاہ ہمیشہ موجود ہے۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ غیر مشروط محبت کا ہونا اور اس کا درست اظہار دو مختلف باتیں ہیں۔ بعض اوقات والدین کی نیت میں محبت ہوتی ہے، مگر اظہار کا انداز۔ مثلاً سخت کنٹرول، جذباتی دباؤ یا غیر ضروری توقعات۔ بچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین کو اپنی نفسیاتی الجھنوں اور ماضی کے زخموں کا ادراک ہونا چاہیے، تاکہ وہ انہیں لاشعوری طور پر اگلی نسل میں منتقل نہ کریں۔

والدین کی غیر مشروط محبت کا ایک اور گہرا پہلو وہ ہے جو روزمرہ زندگی کے چھوٹے مگر فیصلہ کن لمحات میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دیا جاتا، نہ کوئی نمایاں کامیابی سامنے ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود والدین کی توجہ، برداشت اور موجودگی بچے کے اندر ایک دیرپا احساسِ تحفظ پیدا کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بچہ جب بار بار کسی سادہ سی بات میں ناکام ہوتا ہے۔ چاہے وہ پڑھائی ہو، کھیل ہو یا سماجی تعامل۔ تو والدین کا ردِعمل اس کے ذہن میں اپنی قدر کا پیمانہ طے کرتا ہے۔ غیر مشروط محبت یہاں اس صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے کہ ناکامی کو شخصیت کا عیب نہیں، بلکہ سیکھنے کے عمل کا حصہ سمجھا جائے۔

نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ ایسے بچے جنہیں بچپن میں ناکامی کے لمحات میں قبولیت ملتی ہے، ان میں Resilience یعنی نفسیاتی لچک زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے دباؤ، تنقید اور غیر یقینی حالات کا بہتر مقابلہ کر پاتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ بچے جنہیں صرف کامیابی پر سراہا جائے، لاشعوری طور پر اس خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ناکامی انہیں محبت سے محروم کر دے گی۔ یہ خوف آگے چل کر اضطراب، احساسِ کمتری اور خود اعتمادی کے مسائل کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

ثقافتی اور بشریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو غیر مشروط محبت کا اظہار ہر معاشرے میں یکساں نہیں ہوتا۔ جنوبی ایشیا کے روایتی معاشروں میں، جہاں والدین کی قربانی اور بچوں کے لیے خود کو نظرانداز کرنا ایک قدر سمجھی جاتی ہے، محبت اکثر خاموش اعمال میں چھپی ہوتی ہے۔ ماں کا اپنے حصے کا کھانا بچے کو دے دینا، یا باپ کا اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر اولاد کے مستقبل کے لیے جدوجہد کرنا۔ یہ سب وہ عمل ہیں جو الفاظ کے بغیر محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم جدید دور میں، جب اظہارِ جذبات کو بھی نفسیاتی صحت کا لازمی جزو سمجھا جانے لگا ہے، محض قربانی کافی نہیں رہتی؛ بچے کو یہ شعوری احساس بھی درکار ہوتا ہے کہ وہ قابلِ قبول ہے۔

یہاں سماجیات کا ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے۔ صنعتی اور بعد از صنعتی معاشروں میں، جہاں مسابقت اور کارکردگی کو مرکزی قدر بنا دیا گیا ہے، والدین خود بھی مسلسل دباؤ میں رہتے ہیں۔ اس دباؤ کا اثر اکثر بچوں تک منتقل ہو جاتا ہے۔ غیر مشروط محبت ایسے ماحول میں ایک طرح کی مزاحمت بن جاتی ہے۔ ایک خاموش انکار اس سوچ کے خلاف کہ انسان کی قدر صرف اس کی پیداوار یا کامیابی سے ناپی جائے۔

اعصابی سائنس اس بات کی تائید کرتی ہے کہ ابتدائی بچپن میں ملنے والی محفوظ وابستگی دماغی ساخت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ ایسے بچوں میں Amygdala کا ردِعمل نسبتاً متوازن رہتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ خوف اور دباؤ کی کیفیت میں جلدی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔ Prefrontal Cortex، جو فیصلہ سازی اور جذباتی نظم و ضبط سے متعلق ہے، بہتر طور پر نشوونما پاتا ہے۔ یوں غیر مشروط محبت محض جذباتی سہارا نہیں، بلکہ دماغی صحت کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔

وجودی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو انسان کی زندگی میں پہلا تجربہ جہاں وہ ”بلا جواز قبولیت“ کا ذائقہ چکھتا ہے، وہ والدین کا رشتہ ہی ہوتا ہے۔ یہی تجربہ بعد کی زندگی میں اس کے اخلاقی فیصلوں، رشتوں اور حتیٰ کہ خود سے تعلق کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جو فرد یہ سیکھ لیتا ہے کہ محبت کمزوری کے باوجود ممکن ہے، وہ دوسروں کے ساتھ بھی اسی وسعتِ نظر کا مظاہرہ کرتا ہے۔

تاہم یہ کہنا بھی سادہ لوحی ہوگی کہ غیر مشروط محبت ہمیشہ مثالی شکل میں موجود ہوتی ہے۔ حقیقت میں، یہ ایک مسلسل سیکھنے اور خود احتسابی کا عمل ہے۔ والدین بھی انسان ہوتے ہیں، اپنی کمزوریوں، خوف اور سماجی اثرات کے ساتھ۔ اصل غیر مشروطیت اس وقت جنم لیتی ہے جب والدین اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے اور بچے کے سامنے انسان ہونے کی جرات دکھاتے ہیں۔ یہی عمل بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ محبت کامل ہونے کی محتاج نہیں۔

والدین کی غیر مشروط محبت کوئی جامد تصور نہیں، بلکہ ایک زندہ، متحرک اور ارتقائی عمل ہے۔ یہ حیاتیات سے جنم لیتی ہے، ثقافت میں ڈھلتی ہے، نفسیات میں جڑ پکڑتی ہے اور فلسفے میں معنویت اختیار کرتی ہے۔ اس محبت کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ یہ بغیر کسی شور کے، انسان کے اندر وہ بنیاد رکھ دیتی ہے جس پر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔

یوں والدین کی غیر مشروط محبت کو محض ایک جذباتی تصور نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہے، ارتقائی حکمتِ عملی ہے، اور فلسفیانہ سطح پر انسانی قبولیت کی عملی صورت۔ یہ محبت بچے کو صرف زندہ رکھنے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اسے ایک ایسا انسان بنانے کی کوشش کرتی ہے جو خود بھی دوسروں کو اسی وسعتِ قلب کے ساتھ قبول کر سکے۔ یہی وہ خاموش سرمایہ ہے جس پر انسانی سماج کی بقا اور اخلاقی تسلسل قائم ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW