فیضان ”ہم سب“ معجزہ فیس بک اور سوشل میڈیا
ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے حقیقی ”عہد معجزائی“ میں جی رہے ہیں، ایک وقت تھا کہ جب سائنس ابھی پالنے میں تھی، لیبارٹری کا تصور نہیں تھا، زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے لوگ تخیل کی صورت میں خیالوں ہی خیالوں میں ٹامک ٹوئیاں مارا کرتے تھے۔
عہد نامعلوم میں، ایک تاریک غار میں گم روشنی کی تلاش میں سرگرداں مسافر کی طرح دیوہیکل ہاتھی کے اعضاء کو ٹٹولنے کی کوشش میں جس کو جو بھی محسوس ہوتا گیا اس کے لیے وہی حاصل کل ٹھہرا، انہی کاوشوں کے نتیجے میں انسانوں نے خیالات کی صورت میں ایک ایسا اساطیری محل تعمیر کر ڈالا کہ جس کی بدولت انسان سرکتے سرکتے ایک ایسے عہد جدید میں آن پہنچا کہ اس کی خیالی سی باتوں کو وہ منزل آخر مل ہی گئی جس میں بہت کچھ ممکن دکھائی دینے لگا، انسان کے ابتدائی دبستان خیالاں میں سے چھانٹی کرتے ہوئے اس نے حقائق کی دنیا میں قدم رکھنا شروع کیا، امکانات کا دامن اس قدر کشادہ ہوا کہ فاصلے ہی سمٹ گئے اور سب کچھ عملی صورت میں ممکن ہوتا دکھائی دینے لگا۔
آج کا انسان ذہنی معراج کی اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ اس نے اساطیری کہانیوں میں سے تجربات و مشاہدات کی رہنمائی میں وہ سب کم و بیش الگ کر ڈالا جن تصورات کا حقائق کی مجرد دنیا میں درست اور حقیقی ہونے کا امکان موجود ہے، سائنس کے حقیقی معجزات اپنی جگہ مسلم ہیں لیکن انسان کے محرک اول یعنی سوچ اور تخیل کو بھی بہرحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی بنیادی تخیلاتی اڑان نے ہی تو سائنس کو آگے بڑھتے رہنے کا حوصلہ دیا ہے اور اسی کی بدولت ہی تو ہم حقیقی معجزاتی دنیا میں داخل ہوئے ہیں۔
ماضی کا انسان سوچنے کی تپسیا تو ضرور کرتا تھا لیکن اس کی دوڑ یکسوئی کی خاطر خود کو الگ تھلگ کر لینے کی حد تک رہی، سوچ کی گہرائی میں اترنے اور اس میں پختگی لانے کے لیے یا تو وہ کسی تاریک غار کا رخ کرتا یا جنگلوں کا رخ کر لیتا تاکہ اسے کسی طرح سے تنہائی میسر ہو سکے لیکن آج کے انسان کو لیبارٹری میسر آ چکی ہے، جس میں بیٹھ کر وہ تجربات و آلات کی مدد سے اپنی سوچ کے حقیقی معجزات مشاہدہ کر سکتا ہے، اب بہت کم ایسا ہے جو معلق رہ گیا ہے، زیادہ تر تو اس کی پکڑ میں آ چکا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ فزکس اور میٹا فزکس کے بیچ کے فرق کو سمجھ سکے، کہانی اور حقیقت کے درمیان باریک سے فرق کو جان سکے، اساطیر، من گھڑت اور حقائق کے درمیان ایک حد فاصل قائم کر سکے اور اس بات کا تعین کر سکے کہ کیا ممکن ہے اور کیا محض خیالات کا ملغوبہ ہے۔
سائنس کی باتیں تو سائنسدانوں کی حد تک رکھتے ہیں، ہم ٹھہرے صارف میاں، ٹیکنالوجی سے فیض حاصل کرنے کی حد تک محدود رہنے والے طفیلی، ٹیکنالوجی کی بدولت انسان کے جہاں راہ و رسم بدلے وہیں رابطہ و آشنائی کے طور طریقے بھی بدل گئے، پہلے وقتوں میں آشنائی کے لیے جسمانی طور پر ملنا ضروری ہوتا تھا لیکن آج کی دنیا میں اسکرین نے یہ سب جھنجٹ ختم کر ڈالے، سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنائیں اور پوری دنیا سے جڑ جائیں کوئی رکاوٹ نہیں۔
تحریر کی صورت میں لوگوں کے خیالات میں جگہ بنانا اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا، لائک، ڈس لائک، تھمب اپ اور ڈاؤن اور مختلف ایموجیز کی بدولت چند سیکنڈ میں آپ اپنا ایک حلقہ اثر قائم کر سکتے ہیں، باقیوں کا تو پتا نہیں بندہ ناچیز کو سوشل میڈیا کے ذریعے سے ایسے ایسے شاہکار ملے کہ جن کی بدولت زندگی کا حسن دوبالا ہو گیا، لکھنے کا سوچا تو اردو کی مقبول ترین ویب سائٹ ”ہم سب“ کا ایک زرخیز پلیٹ فارم میسر آ گیا جس کی بدولت نا صرف دوست احباب ملے بلکہ ان لوگوں کی قربت بھی میسر ہو گئی جن کو پڑھ کر ہم نے شعور کی منازل طے کی تھیں، ان کی فہرست تو خاصی طویل ہے لیکن چند نام ایسے ہیں جنہیں کسی طور بھی بھلایا نہیں جا سکتا، ان میں سر فہرست ڈاکٹر خالد سہیل، جمشید اقبال، حاشر ابن ارشاد، سلیم ملک اور وجاہت مسعود شامل ہیں اور بھی بہت سارے نام ہیں لیکن ان شخصیات کا میری مائنڈ میپنگ میں ایک کلیدی کردار ہے اور یہ سب مجھے ”ہم سب“ پلیٹ فارم کی بدولت ملے۔
جہاں مجھے ہم خیال دوست ملے وہیں پیار کرنے والے قاری بھی ملے جنہوں نے خیالات اور تنقید کی صورت میں، میری نوک پلک سنوارنے میں ایک اہم کردار ادا کیا، محمود الحسن دوبئی میں ہوتے ہیں وہاں کسی فیلڈ میں انجینئر ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ ہوا اور ایک طویل عرصہ کے غائبانہ سے تعلق کے بعد ہم بغلگیر ہوئے، محمود الحسن دوبئی سے لوٹتے ہی ہمارے تعلیمی ادارہ ”دی ویژن“ میں تشریف لائے، خوب باتیں ہوئیں، کتابوں اور خیالات کی دنیا میں خاصی دیر تک گم رہے، میری خوش نصیبی کہ ان کی صحبت میں بیٹھ کر میرے خیالات کو تازگی ملی، اس سے بڑھ کر اور کیا معجزہ ہو سکتا ہے کہ جو آپ کو چاہتے ہوں آپ ان کو نا صرف ملیں بلکہ دل کھول کر باتیں بھی کریں، یہ سب سوشل میڈیا، ”ہم سب“ ، وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ کی بدولت ممکن ہوا۔

