میرے مطابق

ایران کی موجودہ صورتحال: امریکی مداخلت کی تاریخی زنجیر

sher ali anjum

امام خمینی نے فرمایا تھا کہ امریکہ کی دشمنی سے نہیں، دوستی سے ڈرنا چاہیے۔ آج دنیا بھر میں امریکہ کے ساتھ دوستی نبھانے والے حکمرانوں اور ممالک کے وسائل پر امریکہ قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ یہ بات، جو امام خمینی نے چالیس سال سے زائد عرصہ قبل کی تھی، آج سچ ثابت ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی سیاست کی پیچیدگیوں میں ایران ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، جہاں اندرونی احتجاجات، معاشی بحران اور بیرونی دباؤ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

جنوری 2026 کے آغاز سے ایران میں احتجاجات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں، جن کی وجہ سے ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہیں، جیسے آیت اللہ علی خامنائی متعلق من گھڑت میڈیا کمپین ایک بڑی سازش کا حصہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہ صورتحال صرف ایران کی داخلی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت کی طویل تاریخ کا تسلسل ہے۔

کیونکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی روشنی میں، خاص طور پر ٹرمپ کی پالیسیوں اور رجیم چینج کی حکمت عملیوں کے تناظر میں۔ یہ تجزیہ تاریخی واقعات، حالیہ احتجاجات اور علاقائی اثرات پر مبنی ہے، جو یہ واضح کرتا ہے کہ ایران پر دباؤ کی یہ لہر نئی نہیں، بلکہ 70 سال سے زائد پرانی ہے امریکہ کی عالمی سیاست میں مداخلت کی تاریخ تقریباً 70 سال پرانی ہے، جہاں اس نے مختلف بہانوں سے حکومتیں تبدیل کیں اور رجیم چینج کی کوششیں کیں۔

یہ مداخلتیں تین اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں: براہ راست فوجی حملے، خفیہ آپریشنز (جیسے سی آئی اے کی کارروائیاں ) اور معاشی و سیاسی دباؤ۔ ایران اس تاریخ کا زندہ مثال ہے۔ 1953 میں سی آئی اے کے آپریشن ایجیکس کے ذریعے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹایا گیا، جو تیل کی قومیانے کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ کے لئے خطرہ بن گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کی آمریت قائم ہوئی، جو 1979 کی اسلامی انقلاب تک جاری رہی۔

اسی طرح، ویتنام کی جنگ ( 1960۔ 1975 ) میں امریکہ نے کمیونزم کے خلاف بہانے سے لاکھوں جانوں کا نقصان کیا، مگر ناکام رہا۔ عراق میں 2003 کے حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کے جھوٹے الزامات نے ملک کو تباہ کر دیا، جہاں لاکھوں شہری مارے گئے اور دہشت گردی کا عفریت جنم لیا۔ اور امریکہ کے اہم اتحادی صدام حسین کو بھی پھانسی چڑھا دیا۔ اسی طرح افغانستان کی 20 سالہ جنگ ( 2001۔ 2021) بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، جہاں امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اربوں ڈالرز خرچ کیے، مگر نتیجہ طالبان کی واپسی اور ملک کی تباہی رہا۔

لیبیا میں 2011 میں نیٹو کی مدد سے معمر قذافی کو ہٹایا گیا، جس کے بعد ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ شام میں بھی امریکی خفیہ مداخلت نے بحران کو طول دیا۔ اور آج شام میں امریکہ کی آشیرباد سے ایک ایسا شخص جسے خود امریکہ نے عالمی دہشتگردوں اور مطلوبہ لوگوں کی فہرست میں شامل کی تھی، کو تخت شام پر بٹھایا جس بنیادی مقصد مشرق وسطی میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی توسیع اور فلسطین تحریک کو کمزور کرنے کی حکومت عملی ہے۔

یہ تمام مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ امریکہ کی مداخلتیں اکثر ناکام رہیں، مگر ان کے نتیجے میں انسانی، معاشی اور سماجی تباہی ضرور ہوئی۔ ایران پر لگائی گئیں معاشی پابندیاں بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو مہنگائی اور بیروزگاری کو بڑھا رہی ہیں۔ آج ایران میں جاری احتجاجات کی بنیاد معاشی دشواریاں ہیں، جیسے مہنگائی، بیروزگاری اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ۔ یہ احتجاجات دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہوئے اور جنوری 2026 تک ملک بھر میں پھیل گئے ہیں، جن میں طلبہ، تاجر اور عام شہری شامل ہیں۔

بڑے شہروں جیسے تہران میں مظاہرین آیت اللہ خامنائی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں، حتیٰ کہ شاہ رضا پہلوی کی واپسی کی کالز بھی سنائی دے رہی ہیں۔ اگرچہ باقیات شاہ ایران کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے کہ ایران میں نظام ولایت فقیہ کا تختہ الٹا جائے، اب تو شاہ ایران کا بیٹا باقاعدہ اسرائیل اور امریکہ کی پشت پناہی میں اس مہم کو چلا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف ایرانی عوام کی اکثریت آج بھی آیت اللہ خامنہ کی ایک آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار نظر آتا ہے اس وقت سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور خبریں جیسے ایرانی پرچم جلانے کی تصاویر یا آیت اللہ خامنائی کی اغوا کی افواہیں، جعلی اور AI کی مدد سے بنائی گئی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ پروپیگنڈا امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پھیلایا جا رہا ہے تاکہ ایران کو غیر مستحکم کیا جائے۔ ایرانی حکومت نے ان افواہوں کی تردید کی ہے اور انہیں بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ایرانی حکومت نے ان احتجاجات کا مقابلہ کڑی سیکورٹی اور گرفتاریوں سے کیا ہے، جبکہ عوام کی حمایت کا دعویٰ بھی کر رہی ہے۔ آیت اللہ خامنائی نے مظاہرین کو توڑ پھوڑ کرنے والے اور ”بیرونی ایجنٹ“ قرار دیا ہے۔ حکومت نے معاشی بحران کو تسلیم کرتے ہوئے ہر ایرانی کو ماہانہ مالی امداد کا اعلان کیا ہے، جو عوامی مسائل کو کم کرنے کی کوشش ہے۔

دفاعی سطح پر ایران مضبوط ہے ؛ 2016 میں امریکی نیوی کے اہلکاروں کی گرفتاری ایک مثال ہے، جہاں ایرانی انٹیلی جنس نے اپنی حدود کی خلاف ورزی پر انہیں حراست میں لیا۔ اسی طرح، امریکی آپریشنز کی ناکامی ایران کی دفاعی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ دوسری طرف عالمی میڈیا، خاص طور پر ہندوستانی اور پاکستانی میڈیا، ایران کے خلاف پروپیگنڈے میں ملوث ہے۔ ایرانی وزارت دفاع نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور اپنی سیٹلائٹ اور میزائل کامیابیوں کا ذکر کیا ہے، جو خطے میں اس کی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں۔

عوام کی اکثریت حکومت کے ساتھ کھڑی ہے، اور احتجاج کرنے والوں کو بیرونی ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، کچھ ذرائع کے مطابق، احتجاجات میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور یہ بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کی عالمی حکمت عملی کا ایک نیا باب ہیں، جس کا مقصد قدرتی وسائل جیسے تیل اور گیس پر کنٹرول قائم کرنا ہے۔ اس میں ایران، چین اور روس کو مرکزی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل کی سیکورٹی کو ترجیح دی گئی ہے۔

جنوری 2026 میں ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر پرامن مظاہرین پر تشدد ہوا تو امریکہ مداخلت کرے گا، جو رجیم چینج کی حکمت عملی کا حصہ لگتی ہے یہ مداخلت پاکستان اور یمن جیسے علاقائی ممالک پر بھی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر یہ کشیدگی تیسرے عالمی جنگ کے خطرات پیدا کر رہی ہے، جہاں یوکرین، تائیوان اور مشرق وسطیٰ کے بحران ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کو اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں۔

پس معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایران کی موجودہ صورتحال امریکی مداخلت کی تاریخی زنجیر کا تسلسل ہے، جو پروپیگنڈے، معاشی پابندیوں اور ممکنہ فوجی آپریشنز پر مبنی ہے۔ یہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ طاقتور ممالک مداخلت کی بجائے مفاہمت کی راہ اپنائیں۔ پاکستان جیسے ممالک کو اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے علاقائی بات چیت کو فروغ دینا چاہیے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW