گوشہ ادبمیرے مطابق

آٹھ آنکھیں اور روپ دھارنی

HZ Alvi

یہ کہانی ہے پرانے وقت کی، بھلے وقت کی ؛ دو جڑواں بھائیوں کی، ایک ماں اور باپ کی، غربت اور خوشی کی۔ وہ سب ایک چھوٹے سے قصبے کے چھوٹے سے گھر میں مل جل کر رہتے تھے۔ جڑواں بھائی ہم شکل تھے، بالکل ایک جیسے، نو سال کے معصوم اور مسرور بچے۔ غم، مسرت، حیرت یا الجھن، ہر کیفیت میں دونوں کے جذبات ایک جیسے تھے۔ یہاں تک کہ ان کی سوچ بھی ایک جیسی تھی۔ ان کی آپسی گفتگو ایسے تھی جیسے کسی خفیہ خزانے کا نقشہ، سب سے پوشیدہ اور ان دونوں پر عیاں۔

ماں اور باپ اتنے بوجھل اور تھکے ہوئے رہتے تھے کہ خوشی ان کو چھو نہ پاتی تھی۔ غربت نے ان کے قدم جکڑے تھے، چونکہ ازدواجی زندگی بھی خوشگوار نہ تھی، تو جھگڑے اور تلخیاں ان پر غالب رہتی تھیں۔ غربت، ایک منہ زور آندھی کی طرح گھر میں چنگھاڑتی پھرتی تھی۔ بچوں نے غربت کو کبھی دیکھا تو نہ تھا، لیکن انہیں لگتا تھا کہ وہی سب خرابیوں کی جڑ تھی۔ ماں باپ کو وہ ہمیشہ غربت سے لڑتے ہوئے دیکھتے تھے۔ خوشی ایک روپ دھارنی تھی۔ ہاتھ آ بھی جاتی تو پل بھر ٹھہرتی، پھر روپ بدلتی اور اوجھل ہو جاتی۔

خوشی گھر میں خال خال ہی پکڑائی دیتی تھی۔ ابو اور امی دونوں گھر سے باہر خوشی کو پا لیتے تھے۔ ابو اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے بیچ ڈھونڈ لیتے ؛ کبھی چائے کی پیالی میں تو کبھی یار کی تالی میں۔ ماں مگر گھر سے باہر محفلوں میں نہ جا سکتی تھی سو اس کی خوشی، اک پتنگ سی، ڈور سے بندھی باہر اڑتی رہتی تھی۔ ڈور کے اک سرے پر ماں اور دوسرے پر کام والی ماسی۔ ماں کا رویہ ان نوکرانیوں کے ساتھ ہٹ کر تھا، اس کی سخت آواز اچانک نرم پڑ جاتی اور خوشی سرگوشیوں میں لپٹی گھر کے آنگن میں بکھر جاتی۔ خوشی امی اور ابو کے چہروں پر مسکراہٹ بن کر بکھر جاتی تو دونوں بھائی، ان چند قیمتی لمحوں میں، آنگن میں بکھری اس خوشی کو سمیٹ لیتے۔

دونوں بھائیوں کے پاس خوشی کو پکڑنے کے تین طریقے تھے : کھیل، کھانا اور خیال۔ وہ تینوں چیزیں آپس میں بانٹ لیتے تھے یوں کہ مسرت دوگنی اور غم آدھا ہو جاتا۔

کھیل سب سے سہل راستہ تھا۔ کھلے میدان و گلیاں، آزادی سے بھری فضا، چھوٹے قصبے کا تحفہ۔ ہر کونے میں قدرت نے کھیل کی گنجائش رکھی تھی۔ کبھی کبھار کھیل پر پابندی لگ بھی جاتی تو ان کا تخیل ان کے چھوٹے سے کمرے کو بھی وسیع میدان بنا دیتا تھا۔ یوں ان کے دل کی رونق کبھی ماند نہ پڑتی، جتنی پابندی بڑھتی، اتنا ہی تخیل کی پرواز بلند ہو جاتی۔

جو ہوا وہ اکثر چھٹی والے دن ہوتا تھا۔ بہت زیادہ کھیل کود کے باعث بھوک وقت سے پہلے ہی جاگ اٹھی۔ خوشی نے روپ بدلا، دونوں نے کھانے کی تلاش شروع کر دی۔ لیکن کھانے کے روپ میں خوشی ہمیشہ دیر سے آتی تھی۔ ماں اور غربت نے مل کر کھانے کے اوقات کار کو سخت بنا دیا تھا۔ بھوک بھی منہ زور تھی، خوب شور مچایا۔ ماں سے ڈر لگ رہا تھا ؛ دونوں بھائیوں کو معلوم تھا کہ وقت سے پہلے کھانے کا سوال کیا تو سخت جواب ملے گا۔ ہر بار کی طرح، بحث چھڑ گئی کہ ماں سے کھانے کا مطالبہ کون کرے گا؟ کسی نے بھی اپنے حصے کی باری قبول نہ کی۔ آخرکار فیصلہ ہمیشہ کی طرح ”اکڑ بکڑ بمبے بو“ نے کیا، انگلی جس پر ٹھہری اس نے ہمت کی اور مشقت کرتی ہوئی ماں سے پوچھا :

” امی! کچھ کھانے کو ہے؟“
ماں کی سخت آواز سنائی دی :
” نہیں! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ابھی کھانے کا وقت نہیں ہوا؟“

دوسرا بھائی کھلکھلاہٹ نہ روک سکا۔ پہلا بھی دبی دبی ہنسی میں شریک ہو گیا۔ نجانے ماں کے غصے میں کیا تھا کہ ہنسی آ جاتی تھی۔ دونوں نے ہنسی کی آواز اونچی نہ ہونے دی کیونکہ اگر غربت نے ہنسی سن لی تو ماں کے کان میں جا کر شکایت کر دے گی۔ دوسرے بھائی نے پہلے کو پھر سے ہمت دلائی، اپنی کہنی سے ٹہوکا لگایا۔ شہ پا کر وہ دوبارہ بولا :

” ہمیں معلوم ہے کہ ابھی کھانے کا وقت نہیں ہوا، مگر کھیل نے تھکا دیا اور بھوک ذرا جلدی جاگ اٹھی۔“
مگر کھیل بھی ان کے حق میں دلیل نہ بن سکا۔ ماں کا جواب تیز تلوار کی طرح سوال کو کاٹ گیا :
” کس نے کہا تھا اتنا کھیلنے کو؟ تمہاری اپنی غلطی ہے۔ اب خاموش بیٹھو اور انتظار کرو۔“
ماں چند لمحے رکی، پھر بولی :

” دیکھتے نہیں ہو کہ میں کھانے کی تیاری کر رہی ہوں۔ صرف دو ہی ہاتھ ہیں میرے! ، اور کھانے کا سامان بھی اتنا نہیں ہے کہ بار بار کھانا ملے۔ “

اور پھر ہمیشہ کی طرح آخر ماں کے لبوں سے وہی جملہ ٹپکا :
” اگر تمہارے ابو کے پاس زیادہ پیسے ہوتے تو ہمارا یہ حال نہ ہوتا۔“

ابو سکول میں استاد تھے اور ان کی انا اور خود داری ان کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تھی۔ دونوں اداس ہو گئے، خوشی کو آنے میں ابھی دیر تھی۔ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے لگے :

” اگر ہمارے پاس زیادہ پیسہ ہوتا تو خوشی ہمیشہ ہمارے قابو میں رہتی۔“

وہ ابھی بہت چھوٹے تھے اور غربت کا بوجھ اپنے تخیل پر اٹھانے کے قابل نہ تھے۔ پس انہوں نے اچھے اچھے کھانوں کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ خیالوں میں خوشی آسانی سے پکڑائی دے جاتی تھی۔

خوشی روپ بدلتی رہی، دن ڈھل گیا اور رات آ پہنچی۔ ابو گھر آتے تو کھانے کی پلیٹیں جلدی بچھ جاتیں۔ اکثر کھانے میں سادہ سی روٹی اور سالن ہوتا۔ کھانے کا ذائقہ ہمیشہ اچھا ہوتا تھا، برا ذائقہ تو صرف ایک ہی شے کا تھا ؛ ماں باپ کی وہ بحث جو کھانے کی میز پر چھڑتی تھی ؛ ان کے غربت سے لڑنے کے منصوبے۔

جڑواں بھائی ان منصوبوں کے بیچ خوشی تلاش کرتے، ایک نے دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں، ابو کی پلیٹ کی طرف اشارہ کیا : ”دیکھو، ابو بڑے ہیں شاید اسی لئے ان کی پلیٹ ہمیشہ ہم سب سے زیادہ بھری ہوتی ہے۔ “

دونوں نے ہلکی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا : ”اب نہ تو کھانے میں دیر ہوئی اور نہ ہی ماں نے غصہ کیا۔“

رات کے کھانے کے بعد بستر ہی خوشی کا آخری ٹھکانہ تھا۔ چھوٹی موٹی شرارتوں پر ان کی ہنسی امی اور ابو کے جھگڑوں کی تلخی کو دبا دیتی تھی۔ مگر جب یہ قہقہے اونچے ہو جاتے تو غصہ ان پر ہی نکلتا۔ خوشی بھیگی پلکوں کے کناروں پر خاموشی سے بہ جاتی۔ یہ ان کی بچپن کی سب سے کٹھن گھڑی ہوتی۔ نہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت باقی رہتی، نہ بوجھ بانٹنے کا حوصلہ۔ تخیل کے پر آنسوؤں میں بھیگ جاتے، خاموشی کے ویرانے میں ایک ہی جملہ گونجتا :

” اگر ہمارے پاس زیادہ پیسہ ہوتا۔ اگر ہمارے پاس زیادہ پیسہ ہوتا۔“

خوشی کے روپ خالی اندھیروں میں کہیں گم ہو جاتے۔ اسی کشمکش میں آہستہ آہستہ خوشی نیند کا روپ دھارنے لگتی، شاید وہ خواب میں اسے پکڑ پائیں۔ کوئی دن تو ایسا بھی ہو گا جب خوشی ان کے قابو میں آ جائے گی۔

صبح ہمیشہ ماں کی اونچی آواز سے ہی آنکھ کھلتی تھی۔ ایک ہی فقرہ دہرایا جاتا تھا :
” اٹھو فوراً ً! دیر کرو گے تو تمہارے ابو ناراض ہوں گے۔ اسکول سے لیٹ ہو جاؤ گے۔ “

آنکھ کھلتے ہی جو آوازیں کان میں پڑتی تھیں ان کی کچھ سمجھ نہ آتی۔ آواز کی اونچی تان اور اس کی تیزی ہی ان کو نیند سے باہر کھینچ لاتی۔ محض صبح کے وقت ایسا ہوتا کہ نیند کی شکل میں خوشی، کھانے سے زیادہ اچھی لگتی تھی۔ اسکول یونیفارم پہن کر دونوں پہلے سے بھی زیادہ یکساں لگتے تھے۔ اسکول کی راہ پر پیدل سفر، ان کی سب سے پسندیدہ گھڑیاں تھیں۔ سارے دن کے منصوبے بنانا، گپ شپ، ہنسی مذاق، اور روز مرہ کے مناظر میں چھپی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، یہ سب ان کے تخیل کی خوراک تھا۔

اسکول میں کمروں کی کمی تھی، اس لیے پڑھائی اکثر کھلے آسمان تلے ہوتی تھی۔ سردیوں میں دھوپ کی نرمی بچوں کو گھیر لیتی اور گرمیوں میں پرانے برگد کے سائے کے ساتھ ساتھ کلاس تیرتی رہتی۔ یہ کھلی فضا جڑواں بچوں کے تخیل کے لیے غذا تھی ؛ نہ دیواریں، نہ کوئی قدغن۔ پڑھائی سے توجہ اکثر ہٹ جاتی۔ کبھی کسی دھوئیں کی لپٹ ناک سے گھستی اور دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر دیتی، کبھی کسی فقیر کی روٹی کی فریاد ان کے کانوں میں رس گھول دیتی، اور کبھی کسی پرندے کی پرواز ان کی آنکھوں کو سہانے خواب دکھا دیتی۔ ان سب سے خوشی ملتی تھی مگر خوشی کا اصل ٹھکانہ تو وقفے کا وقت ( بریک ٹائم ) تھا۔ وقفے کے دوران کھیل کئی صورتوں میں خوشی فراہم کرتا تھا، لیکن کھانے کی صرف دو صورتیں تھیں۔

کھانے کی پہلی صورت ٹفن باکس تھا جس میں وہ رات کا بچا ہوا سالن اور تازہ روٹی ساتھ لاتے تھے۔ یہ سب ہفتے کے پانچ دن ہوتا تھا۔ اسکول میں گھر کی طرح کھانے کے سخت اوقات کار نہ تھے، سو وہ اکثر وقفے سے پہلے ہی، کلاس پیریڈ کے دوران، چپکے سے ٹفن کھول لیتے۔ پہلے ایک بھائی ایک نوالہ لیتا، پھر دوسرا۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا اور جب استاد کلاس سے ذرا پرے ہوتے تو دونوں میں بحث چھڑ جاتی :

” تم نے زیادہ کھایا ہے۔ ، اب میں ایک اور نوالہ لوں گا!“

یوں جھگڑتے جھگڑتے ٹفن خالی ہو جاتا اور وقفے کے لیے کچھ باقی نہ بچتا۔ وقفے کا پہلا نصف تو کھیل کود میں خوشی کے ساتھ گزر جاتا، لیکن دوسرا نصف خوشی کا پیچھا کرتے گزرتا۔ کھانے کی دکانوں کے قریب، جہاں دوسرے بچوں کو رنگ برنگی چیزیں کھاتے دیکھ کر وہ بھی خوشی محسوس کرتے۔ اپنے تخیل کی طاقت سے وہ دوسروں کے چہروں کی مسکراہٹ کو اپنی مسرت میں ڈھال لیتے تھے۔ عجیب ہے یہ تخیل بھی، کسی کی خوشی بھی چرا لیتا ہے اور درد بھی سمیٹ سکتا ہے۔

کھانے کی دوسری صورت تھی، ’پچیس پیسے، جو ہفتے میں ایک دن ماں باپ سے ملتے تھے۔ اس دن کا انتظار اور اس کی منصوبہ بندی وہ پورا ہفتہ کرتے تھے۔ اسی دن خوشی کے روپ زیادہ رنگین ہو جاتے۔ پچیس پیسے کی اس خوشی کے تین روپ تھے ؛ اسکول کے بڑے دروازے کے داہنی طرف دیوار کے ساتھ ساتھ، ایک لکڑی کا کھوکھا اور اس سے ذرا فاصلے پر دو عدد چھوٹی سائیکل ریڑھیاں۔ تینوں جگہوں پر خوشی کا الگ اور انوکھا روپ تھا۔

لکڑی کے کھوکھے پر ٹافی، بسکٹ، کیک، نمکو، وغیرہ، سب کچھ موجود تھا۔ ہر چیز کی قیمت ’پچیس پیسے‘ ہوتی تھی۔ مگر سب سے زیادہ پرکشش چیز تھی مکئی کے دانوں کا چھوٹا سا پیکٹ ”انعامی پُھلہ“ ( لکی پاپ کارن ) ۔ پچیس پیسے میں ہی ایک پیکٹ ملتا تھا جہاں خوشی دو تہوں میں لپٹی ہوتی۔ ایک، اس کے اندر پرچی میں چھپے انعام کی اور دوسری مکئی کے مہکتے دانوں کی۔ چاہے بھوک جتنی بھی ہو، پیکٹ کھلتے ہی انگلیاں پرچی کو پکڑتی تھیں نہ کہ مکئی کے دانوں کو۔ اکثر وہ پرچی خالی نکلتی، مگر پھر بھی پرچی کھلنے تک کا مرحلہ سنسنی اور خوشی سے لبریز ہوتا۔ کسی خوش قسمت کی انعامی پرچی نکلتی تو اس پر لکھا ہوتا : ”مبارک ہو! مفت کا ایک اور پیکٹ۔“ پیکٹ کھلنے کا یہ لمحہ سب دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا۔ جڑواں بھائی دوسروں کو پیکٹ کھولتے اور پرچی پڑھتے دیکھتے تھے۔ کسی کو انعام ملتا تو وہ اس کے چہرے کی خوشی کو اپنی مسکراہٹ میں سمیٹ لیتے اور ایک مزید پیکٹ کھلنے کی سنسنی جاری رہتی۔ خوشی یوں دونوں روپ میں جھولتی رہتی کہ پتا نہ چلتا دانے زیادہ مزیدار ہیں یا انعام کی لذت زیادہ ہے۔

اس کھوکھے سے ذرا آگے سکول کی دیوار کے ساتھ، ایک چھوٹی سی سائیکل ریڑھی والا ابلی ہوئی شکرقندی بیچتا تھا۔ شکر قندی ذرا مہنگی تھی ؛ پچاس پیسے کی ایک ؛ پچیس پیسے کا آدھا ٹکڑا۔ اوپر لیموں کا رس نچوڑ کر اور کالا نمک لگا کر پلیٹ میں پیش کی جاتی۔ دیکھنے میں اچھی اور خاص لگتی تھی مگر یہ دونوں بھائیوں کا انتخاب کبھی نہیں رہا تھا۔ آدھے ٹکڑے کے آدھے پر، ہمیشہ لڑائی متوقع ہوتی : ”بڑا ٹکڑا کس کو ملے گا؟“ ۔

دیوار کی آخری نکڑ کے ساتھ ایک اور سائیکل ریڑھی والا خوش رنگ مالٹے سجائے کھڑا ہوتا تھا۔ یہ شہر مالٹوں کے باغات کے لئے مشہور تھا اسی لئے مالٹے سستے تھے۔ پچیس پیسے میں چار مالٹے ملتے تھے، نمک اور سرخ مرچ کے چسکے دار مصالحے کے ساتھ۔ یہاں خوشی تین تہوں میں لپٹی ہوتی تھی : اول۔ مالٹوں کی تعداد زیادہ ہوتی اور جی بھر کر کھائے جاتے تھے، دوم۔ پلیٹ میں ہر مالٹا چار قاشوں میں کٹا ہوتا اور اس کے اوپر چھڑکا ہوا مصالحہ مالٹوں کی رنگت میں اضافہ کرتا اور دیکھتے ہی منہ میں پانی بھر آتا، سوم۔ ان قاشوں کو کھانے میں بہت مزہ آتا، اپنے انگوٹھے اور انگشت شہادت سے پکڑ کر دونوں دانتوں کے عین درمیان میں رکھنا اور پھر ایک ہی وقت میں دانتوں سے کاٹتے ہوئے انگلیوں سے بھی دبانا۔ ایک دم سے سارا منہ مالٹے کے مزیدار رس سے بھر جاتا اور اپنا سر پیچھے کو اٹھانا پڑتا تھا تا کہ رس منہ سے باہر نیچے نہ گر جائے۔ اس بات کی بھی آزادی ہوتی کہ جی چاہے تو گودا کھاؤ ورنہ پھینک دو۔

ہفتے کے باقی دنوں میں دونوں بھائی اس ایک دن کی منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے۔ ان کے پاس ایک یہی دن ہوتا تھا روپ دھارنی کو پکڑنے کا۔ وہ بہت سوچ بچار کیا کرتے تھے، اتنا لمبا وقفہ ہوتا تھا اور خرچنے کو صرف پچیس پیسے۔ سوچ بچار اور مشورے میں وقت گزارنا ضروری ہو جاتا تھا۔ ہمیشہ دل چاہتا کہ پچیس پیسوں کا پاپ کارن پیکٹ لیا جائے لیکن اکثر وہ مالٹے ہی کھاتے۔ پاپ کارن ایک پر خطر انتخاب تھا کہ اگر انعامی پرچی نہ نکلتی تو محض مکئی کے دانوں میں خوشی کا ذائقہ ماند پڑ جاتا جبکہ مالٹوں کی قاشوں کا منظر منہ میں پانی بھر لاتا اور وہ بغیر لڑائی کے دونوں میں یکساں تقسیم بھی ہو جاتے تھے۔

ایک دن ان کی خواہش پوری ہوئی۔ ان کے چچا ملنے ان کے گھر آئے، وہی چچا جو حال ہی میں امریکہ سے لوٹے تھے۔ چمکتی سفید رنگت، آنکھوں پر سیاہ چشمہ، سینہ تنی چال ؛ امارت کی مکمل تصویر۔ اگلی صبح وہ خود جڑواں بچوں کو اسکول چھوڑنے گئے۔ دونوں کو یہ بالکل پسند نہ آیا۔ ان کی روز کی آزاد چہل قدمی اور تخیل کی پرواز ایک بڑے کی موجودگی سے بدل گئی تھی۔ سارے راستے میں آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں ہوئیں۔ سکول کے داخلی دروازے پر پہنچتے ہی انہوں نے پانچ روپے کا کڑکتا نوٹ بچوں کی طرف بڑھا دیا :

” یہ لو! آج کا وقفہ تمہاری مرضی کا۔ “

ایک نے لپک کر نوٹ پکڑ لیا۔ یہ لمحہ دونوں کے لیے جادوئی تھا۔ گرچہ ٹفن ساتھ تھا مگر آج اس کی طرف نظر بھی نہ گئی۔ پانچ روپے کی خوشی ان کی روح میں بسیرا کر چکی تھی۔ ابھی سے وقفے کی منصوبہ بندی نے تخیل کو رنگوں سے بھر دیا تھا۔ آج خوشی جتنے بھی روپ دھارتی تھی، سب ان کی مٹھی میں تھے۔ انہوں نے منصوبہ بنایا، آج ہر حال میں روپ دھارنی کو پکڑنا تھا۔ جتنے خوشی کے روپ تھے اس سے زیادہ آج پیسے تھے۔ منصوبہ بالکل واضح تھا۔

” سب سے پہلے لکی پاپ کارن۔ آج ہمارے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے۔ “

پھر وہ آواز سنائی دی جس کا شدت سے انتظار تھا، وقفے کی گھنٹی۔ وہ دوڑتے ہوئے کھوکھے پر جا پہنچے۔ لگ رہا تھا کہ آج وقفے کا وقت اڑا جا رہا ہے۔ دکاندار کو نوٹ تھمایا اور ایک پیکٹ مانگا۔ پیکٹ کھولا، پرچی نکالی :

”مبارک ہو، مفت کا ایک اور پیکٹ!“ ۔ ”اوئے ہوئے! “

ایک نعرہ بلند ہوا۔ دونوں کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے۔ انہیں پختہ یقین ہو گیا کہ آج خوشی کا دن ہے۔ جلدی جلدی پاپ کارن کھانے شروع کیے تا کہ دوسرا پیکٹ کھولا جا سکے۔ کچھ پتا نہ چلا کہ پاپ کارن کا اصل ذائقہ کیسا ہے۔ ساری توجہ دوسرے پیکٹ سے نکلنے والی پرچی پر مذکور تھی۔ شاید اصل لذت پرچی کی تھی، نہ کہ مکئی کے دانے کی۔ روپ دھارنی بھوک اور انعام کے بیچ آنکھ مچولی کھیل رہی تھی۔ خدا خدا کر کے پہلا پیکٹ ختم ہوا تو دوسرا پیکٹ کھولا :

” پھر سے اوئے ہوئے! مفت کا ایک اور پیکٹ!“ ۔

ان کی آنکھوں میں خوشی کے ساتھ ہلکی سی پریشانی بھی جھلکنے لگی دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکا :

” پھر سے ایک اور پیکٹ؟ اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو! “ ۔

دوسرے پیکٹ کے پاپ کارن نے ذرا بھی مزہ نہ دیا۔ پیٹ سے زیادہ بوجھ دل پر پڑ رہا تھا کیونکہ ابھی ایک اور پیکٹ باقی تھا۔ ڈرتے ڈرتے تیسرا پیکٹ کھولا :

” ہائے! “ ایک دم سے دل بیٹھ گیا ؛ ”مفت کا ایک اور پیکٹ!“ ۔ غصہ ماتھے پر ابھرا، دونوں چلّا اٹھے : ”ہمیں نہیں چاہیے اور پیکٹ، باقی پیسے واپس دو! “

دکاندار گھبرا گیا۔ ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ پانچ روپے واپس کرے یا پھر چار روپے پچھتر پیسے۔ اسی کشمکش میں اس نے دونوں بھائیوں کو سمجھایا :

” میں پچیس پیسے تبھی کاٹ سکتا ہوں جب تم لوگ ایسا پیکٹ خریدو کہ جس میں سے انعامی پرچی نہ نکلے۔ “

دونوں نے بے مزہ مکئی کے دانوں سے بھرے ہوئے منہ انکار میں ہلا دیے۔ مکئی کے دانے اب بوجھ بن چکے تھے، جلدی میں کچھ دانے زمین پر بھی گر رہے تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں بات کی :

” یہ دکاندار ہم سے ہماری خوشی چھیننا چاہتا ہے۔ کیا ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ سارا نوٹ واپس لے لیں؟“
دکاندار اشارہ سمجھ گیا اور انہیں چار روپے پچھتر پیسے واپس کر دیے۔

ابھی وقفے کا وقت باقی تھا اور پیسے بھی بہت تھے۔ اب کیا کیا جائے؟ دونوں نے کھوکھے میں موجود باقی اشیاء کا سرسری جائزہ لیا۔ کھانے کو اور بھی بہت کچھ تھا لیکن دونوں لکی پاپ کارن سے اتنا ڈر گئے تھے کہ انہوں نے شکر قندی کھانے کا فیصلہ کیا۔ اب کی بار دونوں کافی محتاط تھے۔ اب موقع تھا، خوشی کو ایک چھلانگ لگا کر دبوچنے کا۔ ایک روپے کی لمبی چھلانگ اور ڈھیر ساری خوشی۔ پس فیصلہ ہو گیا کہ دونوں کے لئے دو پلیٹیں شکر قندی کی۔ جیسے ہی دونوں نے شکر قندی کا پہلا نوالہ لیا، چہرے ایک دم پھیکے پڑ گئے۔ سب سے مہنگی چیز ہونے کے باوجود ذائقہ اتنا اچھا نہ تھا۔ خشک نوالوں نے گلے میں کانٹے ڈال دیے اور شکر قندی گلے سے نیچے لے جانا مشکل ہو رہا تھا۔ بڑی مشکل سے آدھی پلیٹ کھائی اور باقی سائیکل ریڑھی پر رکھ دی۔ ریڑھی والا شرمندہ ہو رہا تھا کہ شاید اس کی بنائی گئی شکر قندی میں کوئی گڑبڑ ہے۔

دونوں پریشان تھے۔ بھوک ختم ہوتی جاتی تھی اور وقفے کا وقت بھی۔ ابھی بھی خوشی نجانے کہاں تھی۔ دونوں ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ابھی بھی تین روپے پچھتر پیسے باقی تھے۔ تھک ہار کر دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہی چیز کھائی جائے جو ہمیشہ انہیں مزہ دیتی تھی۔ مالٹے!

اب زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آج نہ مالٹے کی پلیٹ ادھوری ملے گی اور نہ ہی خوشی۔ آج دونوں کے لئے الگ الگ پلیٹ۔ ایک بات لیکن بہت عجیب ہوئی۔ جب مالٹے والا قاشیں بنا کر ان پر مزیدار مصالحہ چھڑک رہا تھا تو ان کے منہ میں پانی نہیں آیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا : ”آج کچھ تو گڑ بڑ ہو رہی ہے۔ “ آج قاش میں وہ مزہ ہی نہ تھا۔ قاش پھیکی، رس بے روح۔ بڑی مشکل سے دونوں نے بتیس قاشیں ختم کیں۔ جس رس کا قطرہ کبھی نیچے گرنے نہ دیا تھا، آج وہ آدھا منہ سے باہر ٹپکتا رہا۔ گودا کھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دونوں کے چہروں پر ایک ہی سوال لکھا تھا : ”خوشی کہاں چھپ گئی؟ ذائقے کہاں کھو گئے؟“

ایک بار پھر دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ گرچہ اب نہ بھوک رہی تھی اور نہ ہی خوشی ؛ لیکن ابھی بھی تین روپے اور پچیس پیسے باقی تھے۔ شاید خوشی باقی کے پیسوں میں چھپی بیٹھی تھی۔ پس دونوں دل میں امید لئے واپس کھوکھے پر پہنچ گئے۔ پھر سے خوشی کی تلاش شروع ہو گئی ؛ کیک، بسکٹ، ٹافیاں، نمکو اور جو بھی نظر میں آتا گیا، جلدی جلدی، چکھتے گئے، پھینکتے گئے۔ ہر نئے نوالے کے ساتھ دل بوجھل ہوتا گیا اور خوشی دور ہوتی گئی۔ آخر کار پانچ روپے ختم ہوئے۔ تھکن ایسے تھی جیسے لمبی دوڑ ابھی ختم ہوئی ہو۔

پیٹ بوجھل، دل خالی، خوشی کہیں گم۔ بوجھل قدموں سے دونوں کھانے والی جگہ سے نکل کر دور ایک کیکر کے سائے تلے جا بیٹھے۔ ابھی وقفہ ختم نہ ہوا تھا مگر خوشی کی تلاش ختم ہو چکی تھی۔ وہاں ایک ہم جماعت پہلے ہی سے بیٹھا تھا۔ وہ سکون سے اپنے کھانے میں مشغول تھا۔ جڑواں بھائی حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھتے رہے، وہاں وہی خوشی جگمگا رہی تھی جسے وہ دن بھر ڈھونڈتے رہے تھے۔ انہوں نے جلدی سے اس کے کھانے پر نظر ڈالی ؛ ایک سادہ روٹی اور اچار کا ایک ٹکڑا۔ ایک نے حیرت سے پوچھا :

” صرف روٹی اور اچار؟ سالن نہیں ہے کیا؟“
وہ لڑکا مسکرا کر بولا :

” نہیں، میں ہمیشہ اسکول کے وقفے میں روٹی اچار کے ساتھ ہی کھاتا ہوں۔ سالن تو گھر پر ہی ختم ہو جاتا ہے، پورے گھر کے لیے کہاں کافی ہوتا ہے۔ “

دونوں بھائیوں نے بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ دونوں کے ایک جیسے چہروں پر، ایک ہی جیسے حیرانی کے تاثرات دیکھ کر وہ مسکرا دیا اور بولا :

”تم نے کبھی آزما کر نہیں دیکھا کیا؟ روٹی اور اچار بہت مزے دار ہوتے ہیں۔ اور مجھے تو یہ بہت پسند ہے۔ “

اس کی مسکراہٹ جیسے ان کے دلوں پر نقش ہو گئی۔ گھنٹی بجی، وقفہ ختم ہوا۔ دونوں واپس کلاس میں آئے تو ان کا بند ٹفن انہیں گھور رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی ان کے چہروں پر ناگواری آ گئی اور سانس بوجھل ہو گئی۔ سکول سے چھٹی ہو گئی اور واپسی کا سفر شروع۔ نہ کوئی منظر نگاہوں میں جچ رہا تھا نہ کوئی تخیل۔ دونوں نے طے کیا کہ ماں کو کچھ نہ بتائیں گے ورنہ اس کی ڈانٹ دن کی بوجھل یادوں کی روئی کو بھگو دے گی۔

تھکے ہارے گھر پہنچے تو سیدھے بستر پر جا لیٹے۔ ماں نے آواز دی :
” آؤ، دوپہر کا بچا ہوا کھانا ہے، آج تمہارے چچا کے لیے خاص پکا تھا۔“

انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، ابھی تک سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ آج کیا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد ماں حیرت سے بھری، ہاتھ میں کھلا ٹفن لئے، کمرے میں داخل ہوئی :

” آج دوپہر کا کھانا کیوں نہیں کھایا تم لوگوں نے؟“

ماں کا سوال ایک بجلی کے کوندے کی طرح ان پر گرا اور دونوں ایک جھٹکے سے بستر سے اٹھ بیٹھے۔ ایک دوسرے کو دیکھا : ”یہ کیا کر دیا ہم نے، لنچ باکس تو خالی ہونا چاہیے تھا۔“

”کیوں! کیوں! آخر کیوں نہیں کھایا لنچ تم لوگوں نے؟“ ماں کی آواز رفتہ رفتہ بلند ہوتی جا رہی تھی :
” کیا تم لوگوں نے کچھ اور کھایا ہے؟ پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟ بتاتے کیوں نہیں ہو؟“
اب سچ بتانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ ڈرتے ڈرتے ایک بولا :
” چچا نے صبح پانچ روپے دیے تھے۔ “
ماں نے جلدی سے سوال داغآ : ”کتنے پیسے خرچ کیے تم لوگوں نے؟“
دوسرے نے ڈوبتی ہوئی آواز میں جواب دیا : ”سارے کے سارے۔ “
ماں کا پارہ یہ سن کر ایک دم بلند ہو گیا :

” تم دونوں پچیس پچیس پیسے بھی خرچ کرتے تو چار روپے پچاس پیسے بچا کر لے آتے لیکن تم نے ایسا نہیں کیا۔“

تھوڑی دیر رکی اور پھر سے بات جاری رکھی : ”تم دونوں پچاس پچاس پیسے بھی خرچ کر لیتے تو بھی چار روپے واپس گھر لا سکتے تھے لیکن تم نے ایسا بھی نہ کیا۔“

ماں بار بار یہی دہراتی رہی جب تک کہ بات پچاس پیسے بچا کر گھر لانے تک نہ پہنچ گئی۔ یوں لگتا تھا کہ ماں کی بات دائروں میں گھوم رہی تھی اور یہ تکرار دن بھر کی پھیکی یادیں ذہن میں دہرا رہی تھیں ؛ خوشی ڈھونڈنے نکلے تھے اور آخر میں اداسی ہاتھ لگی۔ رات کھانے کے وقت دونوں ڈرتے رہے کہ شاید ابو بھی ڈانٹے گے، مگر ایسا نہ ہوا۔ دونوں آج جلدی سونا چاہتے تھے اور سارے دن کے تلخ تجربے کو بھولنا چاہتے تھے۔ ذہن میں صرف ایک سوال تھا :

” اگر پیسہ خوشی نہیں خرید سکتا، تو پھر خوشی کیسے ملتی ہے؟“

اچانک ان کی نیند سے بوجھل آنکھوں کے سامنے اس ہم جماعت کا مسکراتا چہرہ ابھر آیا۔ خوشی کا مفہوم ایک دم سے بدل گیا۔ وہ روپ دھارنی کو ہر حال میں پکڑنا چاہتے تھے۔ رات کی خاموشی میں ایک نے ماں سے آہستہ سے کہا :

” امی۔ کیا کل ہمیں روٹی کے ساتھ ایک ٹکڑا اچار مل سکتا ہے؟“
سارے دن کے کام کاج سے تھکی ہوئی ماں کی نرم آواز نے ان کے کانوں میں ایک مٹھاس گھول دی :
” ہاں، ضرور۔ اب سو جاؤ۔“

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW