بلاگ

سچائی جب من پسند صحافت کی نذر ہو جائے

muhammad nafees karachi

من پسند صحافت شاذ و نادر ہی کھلے جھوٹ کا اظہار کرتی ہے۔ اس کا زیادہ موثر ہتھیار وہ ابہام ہوتا ہے جو وہ خود پیدا کرتی ہے۔

ایک حالیہ اداریے میں ملک کے سب سے معتبر انگریزی اخبار نے بھارت میں عیسائیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی کی طرف درست طور پر توجہ دلائی۔ اس میں کرسمس کی تقریبات کے دوران مختلف مذہبی علامتوں پر حملوں، گرجا گھروں کے گرد خوف و ہراس پیدا کرنے، اور عیسائیوں کے خلاف انتہا پسند ہجوم کی حوصلہ افزائی کا ذکر کیا گیا۔ یہ نہایت حقیقت پسندانہ تجزیہ تھا اور ان حالات کے بارے میں اظہار خیال کرنا بے حد ضروری بھی تھا۔ تاہم حقیقت پسندی کی اس رو میں کہا گیا ایک جملہ نہایت خاموشی سے ایک ایسے رویے کا مظہر بن گیا جس نے اس اصولی تجزیے اور موقف کو کمزور کر دیا۔

عیسائیوں کے خلاف تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے اداریہ کہتا ہے: ”اس نوعیت کے سب سے حالیہ واقعات منی پور میں پیش آئے، جہاں دو مقامی فرقوں کے درمیان نسلی و مذہبی تصادم کے دوران مبینہ طور پر سینکڑوں گرجا گھر نذرِ آتش کیے گئے۔“ یہ جملہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اسی لیے اس کا تجزیہ بھی نہایت توجہ کے ساتھ کرنا بھی ضروری ہے۔

منی پور میں گرجا گھروں کی تباہی واقعی ہوئی تھی، اور نہایت ہولناک پیمانے پر ہوئی تھی۔ لیکن، یہ واقعات مئی 2023 میں شروع ہوئے تھے، یعنی تقریباً دو سال قبل۔ اسے ”حالیہ“ کہنا محض خطیبانہ معنوں میں درست ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے قارئین کے لیے جو اس جملے کو ”کرسمس سے قبل چند دنوں میں پیش آنے والے واقعات“ کے تناظر میں پڑھتے ہیں، ”حالیہ“ کا لفظ بجا طور پر موجودہ وقت کا تاثر دیتا ہے، نہ کہ ماضی کا۔

اداریے کا یہ بیان پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے شائع کردہ سفارتی بیان سے نمایاں طور پر مختلف نظر آتا ہے۔ دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں ”کرسمس کے دوران توڑ پھوڑ کے حالیہ قابلِ مذمت واقعات“ کی مذمت کی اور ”ریاستی سرپرستی میں مہمات“ کا ذکر کیا۔ اس نے دانستہ طور پر اپنی مذمت کو ایک واضح اور موجودہ وقت سے جوڑا، یعنی کرسمس 2025 سے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس بیان میں منی پور کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ فرق نہایت معنی خیز ہے۔ ریاست نے سفارتی سطح پر جو موقف اختیار کیا وہ ایک قابلِ تصدیق اور حالیہ واقعات تک محدود تھا تاکہ ایک مضبوط اور قابلِ تصدیق موقف اختیار کیا جا سکے۔ اس کے برعکس، اداریہ اپنی اخلاقی شدت میں حالیہ واقعات کے پرتشدد واقعات سے شروع ہو کر ماضی کے واقعات کی جانب چلا گیا اور ان کو اس طرح پیش کیا گیا جیسے ابھی چند روز قبل ہی وہ واقعات رونما ہوئے ہوں۔ ماضی کو کھینچ تان کر حال میں ضم کر دیا گیا۔ اصل مسئلہ حقائق کی غلطی نہیں بلکہ وقت کا اس طرح سکیڑنا ہے۔ منی پور کے واقعات کو موجودہ کرسمس کے واقعات کے ساتھ جوڑ کر، اداریہ وقت کو سمیٹ دیتا ہے اور اس لکیر کو دھندلا دیتا ہے جو حال اور ماضی کے درمیان ہونی چاہیے۔

یہ نکتہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اداریہ محض ایک رائے نہیں بلکہ اخلاقی فردِ جرم کے طور پر پیش کرتا ہے۔ زمان و مکاں سے یہ لاپرواہی، چاہے غیر ارادی ہی کیوں نہ ہو، اداریے کی ساکھ کو کمزور کر دیتی ہے اور انتہا پسندوں کو فرار کا آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔ جو لوگ ظلم کے انکار کے عادی ہیں، وہ مواد کے حقائق پر بحث نہیں کریں گے بلکہ اسی لغزش کو بنیاد بنائیں گے اور نفرتوں کا بازار گرم کریں گے۔ اس کے برعکس، دفترِ خارجہ کی محتاط طرز پر مبنی بیان ایسے منفی رجحانات کو ایسا کوئی موقع فراہم نہیں کرتا۔

مزید یہ کہ، یہ ابہام ایک گہرے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک طرف تو اداریہ منی پور کے پرانے واقعات کو حال ہی میں واقع ہونے والے سب سے بڑے سانحے کے طور پر پیش کرتا ہے، وہیں وہ خطے میں پیش آنے والے دوسرے واقعات کو جو ابھی حال ہی میں پیش آئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں، 19 سے 23 دسمبر کے درمیان چٹوگرام میں ہندوؤں کے گھروں کو منظم انداز میں نذرِ آتش کیا گیا۔ 24 دسمبر کو راج باڑی میں ایک ہندو شخص کو ہجوم نے تشدد کے بعد آگ لگا دی۔ یہ ماضی کی یاد دہانیاں نہیں بلکہ حالیہ حقائق ہیں۔

اور پاکستان خود بھی اس علاقائی بیماری سے بری الذمہ نہیں۔ اس سال پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد کے 25 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 41 افراد جاں بحق، اور 48 زخمی ہوئے۔ یہ تشدد کے واقعات مختلف مذہبی فرقوں تک پھیلے ہوئے تھے : سنی، شیعہ، احمدی، ہندو، عیسائی اور اہلِ حدیث سب اس کی زد میں آئے۔ مساجد اور مدارس بھی نشانہ بنے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سب سے زیادہ جانی نقصان سنی اور شیعہ برادریوں کا ہوا، جو ایک تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے : جب فرقہ ورانہ نفرت کو معمول بنا دیا جائے تو وہ صرف اقلیتوں تک محدود نہیں رہتی۔

اس کے باوجود، یہ اعداد و شمار شاذونادر ہی اداریوں یا سرکاری اخلاقی بیانات میں جگہ پاتے ہیں۔ اندرونی فرقہ ورانہ تشدد کو ٹکڑوں میں رپورٹ کیا جاتا ہے، مجموعی تناظر سے الگ کر کے، اور کبھی کبھار ہی اسے مذہبی نفرت کے وسیع علاقائی تناظر میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جب پاکستان دنیا کو کہیں اور اقلیتوں کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے، تب بھی اس کی اپنی فرقہ ورانہ تاریخ اسی تسلسل کا حصہ بن کر زیرِ بحث نہیں آتی۔

لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ اداریے نے بھارت پر تنقید کیوں کی۔ وہ تنقید بجا ہے، جیسے سفارتی دباؤ ایک جائز ریاستی ذریعہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اخلاقی نظر انتخابی رخ میں بدل جاتی ہے، اور یا تو تاریخ کو کھینچا جاتا ہے یا خاموشی اختیار کی جاتی ہے، تاکہ ایک ہم آہنگ اور موجودہ معیارِ احتساب کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جس کی مذمت کی جا رہی ہے۔ ایسا اضطراب اور تنقید جو یکساں نہیں بلکہ سیاسی سہولت اور پسندیدگی کی بنا پر متحرک ہوتی ہے، نہ کہ دکھ کی فوری شدت کی بنیاد پر۔

جنوبی ایشیا میں اقلیتیں کسی ایک طرز کی انتہا پسندی سے ہی خطرے میں نہیں ہیں۔ انہیں خطرہ ہے اکثریتی بیانیوں، ادارہ جاتی کمزوری، سیاسی عبوری ادوار، فرقہ ورانہ فسادات، اور ایسے اشرافی بیانیے سے جو کچھ متاثرین کو نمایاں اور دوسروں کو غیر نمایاں کرتا ہے۔ چاہے وہ اداریے میں زمان و مکاں کے ابہام کے ذریعے پیدا کیا جائے یا ریاستی حکمتِ عملی میں خاموشی کے ذریعے۔

اگر صحافت کو واقعی تعمیری کردار ادا کرنا ہے تو اسے صرف دوسروں کی طرف دیکھنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، خصوصاً جب یہ رویہ موضوعی انتخاب کے انداز میں ہو۔ ادارتی بورڈز کو مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی معلومات تک وسیع رسائی حاصل ہوتی ہے، جو انہیں کسی بھی موضوع پر جامع رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ حالات اور واقعات کی ترتیب کے حوالے سے کسی بھی قسم کی لاپرواہی نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ قارئین اور تجزیہ کاروں کو غلط نتائج تک بھی لے جا سکتی ہے۔ ایسے امتیازات سے گریز نہ کرنا، جن کے نتیجے میں کچھ دکھ محض تاریخی مثال بن جائیں اور کچھ موجودہ مباحث میں نمایاں نہ ہو سکیں، اس صحافتی معیار کی عکاسی نہیں کرتا جس کی ان اداروں سے توقع کی جاتی ہے۔

درستی کوئی باریک بینی نہیں۔ ظلم و ستم کے معاملات میں، درستی ہی ساکھ ہے۔ اور ساکھ سب سے پہلے اس وقت مجروح ہوتی ہے جب ”سب سے حالیہ“ ایک بدلتا ہوا ہدف بن جائے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW