یادِ رفتگاں : وہ جو اس برس بچھڑ گئے

زاہد افتخار:
کل شام ایسے ہی واٹس ایپ پر لوگوں کے حالات دیکھ رہا تھا تو بلال خالد، ہیلی کالج میں میرا یار ہوا کرتا تھا، کے حال پر نظر پڑی، دل کیا کہ اسے پوچھوں آخر کہاں ہے تو۔ اس نے پہلے کبھی مجھے جواب نہیں دیا مگر اب کے وہ فوراً پلٹا اور جواب میں ایک عجیب بات لکھ دی کہ زاہد نہیں رہا۔ میں سوچتا رہا کہ یہ کیا کہہ گیا ہے۔ میں نے اس کو کال ملا دی اور اس نے اٹھا بھی لی۔ میں اس کا حال پوچھتے ہی کہا یہ تو کس زاہد کی بات کرتا ہے، کہنے لگا یار اپنا زاہد، تیرا یار۔ میں نے کہا کیا ہوا اس کو وہ تو چنگا بھلا تھا۔ کہنے لگا اس کو جگر کا ناسور ایک سال میں کھا گیا اور وہ پچھلے مہینے اپنے اصل کو لوٹ گیا۔ حق مغفرت کرے وہ میرا یار تھا۔
وہ لمبا تڑنگا دھان پان سا لڑکا جو میرے سکول ہی میں پڑھتا تھا، اس کے والد وہیں پنجاب یونیورسٹی میں کام کرتے تھے وہ چار برس کے وقفے کے بعد پھر ہیلی کالج میں میرا بی کام کا کلاس فیلو بنا۔ وہ ظالم کامرس کی تعلیم سے اتنی محبت رکھتا تھا کہ اس نے نویں دسویں سے کامرس پڑھنا شروع کی اور ایم کام تک کامرس ہی پڑھتا رہا۔ زاہد اگر اچھا نہیں تو برا طالب علم بھی نہیں تھا، وہ اتنا ضرور پڑھتا جتنا امتحان میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہوتا۔
جو میں جانتا ہوں وہ زندگی کے ہر لمحے کو جینے کا عادی تھا۔ ہم نے زندگی کے کچھ سال تو ایسے گزارے کہ صبح ملتے اور رات گئے تک اکٹھے ہوتے۔ زاہد، میں، بلال، اویس، ثاقب، عارف، نجف اور گریٹر تھنکر اکٹھے ہوتے تھے۔ علی، عزیر، مطاہر، نعمان شاہ اور زین بھی ہمارے ساتھ تھے۔ کالج کے دنوں میں شاپنگ سینٹر کے چکر لگانا وہ سگریٹ پینا اور حسن کو نگاہ میں رکھنا ہمارا مشغلہ تھا بقول حسن رضوی:
گئی رتوں میں حَسن ہمارا بس ایک ہی تو مشغلہ ہے
کسی کے چہرے کو صبح لکھنا کسی کی زلفوں کی شام لکھنا
اس کے ساتھ اتنی باتیں ہیں کہ لکھنے بیٹھوں تو وقت کم پڑ جائے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ اچھا تھا، سب کا یار تھا۔ کالج اور یونیورسٹی کے دنوں میں اس نے زندگی کی لذت آخری درجے میں کشید کی۔ سردیوں کے دنوں میں سویرے سویرے وہ ہیلی کالج کی ساحرانہ عمارت کے سامنے ہم نے اکٹھے ہو جانا اور زین کی ہنڈا 125 کے انجن کے اوپر ہاتھ سینکنے اور ڈھیروں گپیں ہانکنا۔ تھا بڑا سجیلا، خوش لباس بھی بہت تھا، کلف لگا سفید سوٹ پہن کر وہ گولڈ لیف کا سگریٹ پیتا ہوا زاہد کیا بھلا لگتا تھا۔
ایک رمضان میں ہم نے پروگرام بنایا کہ یار ان ہاسٹل والوں کے پاس چل کے افطاریاں کرنی چاہئیں، کہنے لگا نیکی اور پوچھ پوچھ۔ پہلی افطاری مولوی خلیل جھنگ والے کے پاس اسلامک سینٹر کے ہاسٹل میں، دوسری مدثر بدر کے پاس انیس نمبر میں اور تیسری ملک ساندے کے پاس پندرہ نمبر میں۔ زاہد اپنے گھر سے عصر کے وقت ہمارے گھر آ جاتا اور پھر ہم دونوں افطاری پر نکل پڑتے۔ دن بڑے شاندار گزرے، یادیں بڑی جاندار ہیں مگر زاہد اب ہم میں نہیں رہا۔ آخری مرتبہ کوئی چند برس پہلے مودے کے مکان پر ملا تو ویسے کا ویسے ہی تھا، میں نے کہا تو کبھی بوڑھا نہیں ہو گا، ہاں جو بھری جوانی میں مر جائیں وہ بوڑھے نہیں ہوتے۔
اشرف صاحب سرجیکل ایسوسی ایشن وا لے :
یہ کوئی 2016 یا 17 کی بات ہو گی میں اس زمانے میں اپنے پی ایچ ڈی مقالہ کے ڈیٹا کولیکشن کے لیے نکلا تھا۔ میں جس موضوع پر کام کر رہا تھا اس کے لیے مجھے ڈیٹا سرجیکل ایسوسی ایشن سیالکوٹ سے چاہیے تھا۔ میں نے ڈیٹا کولیکشن کے لیے کئی بار وہاں پر برقی خط لکھے لیکن وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا، پھر ایک روز میں نے یہ سوچا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ہاں ابھی پڑھے لکھے طریقوں سے جواب نہیں آتے اس لیے میں خود کیوں نہ سرجیکل ایسوسی ایشن چلا جاؤں اور وہاں جا کر دیکھوں کہ معاملات کیا ہیں۔ خیر ایک روز میں سرجیکل ایسوسی ایشن پہنچ گیا وہاں پر پہنچا تو وہی پاکستان کا بیوروکریٹک نظام موجود تھا پہلے ایک صاحب نے مجھے پوچھا کہ آپ کون ہیں میں نے بتایا کہ میں یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں اور اس سلسلے میں حاضر ہوا ہوں، میری ملاقات کسی ذمہ دار شخصیت سے کروا دیں تاکہ میں سرجیکل ایسوسی ایشن سے ڈیٹا کلیکٹ کر سکوں۔ انہوں نے مجھے بٹھائے رکھا اور کہا کہ چیئرمین یہاں نہیں ہیں اور سیکرٹری بہت مصروف ہیں۔
مجھے وہاں بیٹھے ہوئے کئی گھنٹے ہو گئے میں نے بار بار ان سے کہا کہ ایسی بھی سیکرٹری کی کیا مصروفیت ہے کہ وہ مجھ سے دو منٹ مل نہیں سکتے یا مل نہیں سکتیں، اس وقت تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ سیکرٹری خاتون ہیں۔ خیر انہوں نے میری ملاقات نہیں کروائی تنگ آ کر میں وہاں سے نکلنے لگا تو ایک بزرگ شخصیت جو کہ اپنی وضع قطع سے بہت ہی سادہ لگتے تھے وہ دفتر کے اندر داخل ہوئے، وہاں جہاں میں بیٹھا ہوا تھا اور آتے ہی مجھے پوچھنے لگے کہ آپ کون صاحب ہیں میں نے کہا کہ میرا یہ نام ہے میں اس سلسلے میں یہاں کئی گھنٹوں سے بیٹھا ہوں۔ وہ کہنے لگے کہ میرا نام اشرف ہے اور میں سرجیکل ایسوسی ایشن کا چیئرمین ہوں، وہ اپنی وضع قطع سے بالکل بھی چیئرمین نہیں لگتے تھے۔ آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی آئیے میرے کمرے میں چلتے ہیں، مجھے یہ لگا کہ جیسے یہ کوئی فرشتہ ہے جو یہاں آ نکلا ہے اور اس کا خاص مقصد صرف مجھے اس مصیبت سے نجات دینا ہے۔ خیر وہ مجھے ہاتھ پکڑ کے بڑی محبت کے ساتھ چیئرمین کے کمرے میں جو بڑا ہی شاندار تھا وہاں لے گئے اور مجھے کہنے لگے کہ بتائیں میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں انہوں نے پہلے مجھ سے معذرت کی اتنی دیر میں سیکرٹری صاحبہ بھی، جو ایک خوبرو خاتون تھیں، تشریف لے آئیں، وہ چاہتی تو تھیں کہ کچھ مجھ پہ غصہ کریں مگر اب چیئرمین کے سامنے وہ غصہ نہیں کر سکتی تھیں۔
اشرف صاحب کو میں نے اپنا مدعا بیان کیا اور ان سے کہا کہ اگر ممکن ہو تو آج ہی آپ مجھے انٹرویو دے دیں تو انہوں نے کہا کہ بالکل آپ پوچھیں جو بھی آپ پوچھنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ گفتگو کا آغاز کیا۔ میں یہ بات واضح کر دوں کہ جب ان سے ملاقات ہوئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے کمال مہربانی فرمائی، مگر مجھے ان کی وضع قطع سے امید نہیں تھی کہ یہ شخص اس قدر علم رکھتا ہے اپنی انڈسٹری کے بارے میں یا اس کے ساتھ جو گفتگو ہے وہ میری زندگی کے بہترین انٹرویوز میں سے ایک ہو گی۔ میں نے ان کے ساتھ سوال و جواب شروع کیے سرجیکل ایسوسی ایشن کے بارے میں اور انہوں نے جب میرے سوالوں کے جواب دینے شروع کیے تو کمال کر دیا۔ تقریباً ایک گھنٹے سے زیادہ کا ہمارا انٹرویو تھا، اس دوران مجھے چائے بھی پیش کی گئی، ان سے گفتگو کروں اور وہ اپنے بے ساختہ اور سادہ انداز میں سوالوں کے جواب دیں اور ان کی فہم و فراست ان کی دانش ان کا علم جو اپنی انڈسٹری کے بارے میں تھا وہ بالکل کمال تھا۔ ان کے انٹرویو سے بات بن گئی۔
چیئرمین کے طور پر ان کے آخری دن تھے، انہوں نے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں ہے ہم آپ کے ساتھ تعاون کریں گے ہم چاہتے ہیں کہ ہماری انڈسٹری کے لیے تمام یونیورسٹیز کام کریں، ہمارے مسائل کو سمجھیں اور ہمیں تجاویز دیں۔ تو خیر یہاں سے وہ سلسلہ شروع ہوا اس کے بعد کچھ عرصے کے بعد میرے ممدوح جہانگیر بابر باجوہ صاحب چیئرمین بن گئے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ باجوہ صاحب بالکل ایک شاندار شخصیت ہیں۔ میں ظاہر ہے ایک بڑے شہر میں رہتا ہوں، لاہور میں، دنیا تو نہیں دیکھی لیکن پنجاب یونیورسٹی میں زندگی گزارنے کی وجہ سے بہت کچھ جانتا ہوں اور دیکھا ہے۔ باجوہ صاحب کی شخصیت کے اندر ایک سحر اور ایک کمال موجود تھا خیر وہاں سے معاملہ آگے بڑھا اور ان دونوں نے میری کافی مدد کی۔ ڈیٹا کلیکٹ کیا انٹرویوز ہوئے پینل ڈسکشنز ہوئیں۔ جو ڈیٹا مجھے چاہیے تھا وہ مل گیا اس کے بعد قصہ مختصر یہ کہ اس دوران مجھے وہ پانچ سے سات دفعہ ایسوسی ایشن جانا پڑا، ہر دفعہ باجوہ صاحب تو خیر کمال شفقت سے ملتے ہی، اشرف صاحب جس محبت سے ملتے وہ بھلائی نہیں جا سکتی۔ میں نے جب اپنا ڈاکٹریٹ کا کام مکمل کر لیا تو میں پھر اس کام کی پریزنٹیشن کے لیے وہاں پہنچا تو اس وقت ظاہر ہے چار پانچ سال کا عرصہ گزر گیا ہوا تھا اس سارے عمل میں تو وہاں پر اشرف صاحب کے برخوردار چیئرمین تھے۔ اس وقت وہاں اشرف صاحب سے بھی ملاقات ہوئی ان کو میری جو تحقیق کے نتائج ہیں ظاہر ہے اس سے وہ خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کو آگے لے کر چلیں گے۔
اب پچھلے دنوں میں کچھ ہفتے پہلے جہانگیر باجوہ صاحب نے اپنے واٹس ایپ کے حال پر اشرف صاحب کی بہت سی تصاویر لگائیں، اسی طرح فیس بک کے پیج پر بھی، تو میں نے پوچھ لیا کہ اس قدر، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا اشرف صاحب کے ساتھ جو پیار ہے وہ بہت زیادہ تھا، تو میں نے کہا کہ اتنی تصویریں لگانے کی کیا ضرورت ہے اچانک، تو کہنے لگے آپ کو نہیں معلوم کہ اشرف صاحب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ مجھے ایک دفعہ جھٹکا لگا، کافی دیر سے ویسے تو میں ہر سال ہی تقریباً ایسوسی ایشن جاتا ہوں لیکن اب کچھ سالوں سے ایسوسی ایشن کا راستہ خراب ہونے کی وجہ سے میں وہاں نہیں جا سکا، لیکن باجوہ صاحب سے کوئی دو چار مہینے کے بعد بات ہو جاتی تھی اور سب کے حال احوال پوچھ لیا کرتا تھا۔
اشرف صاحب کی جو رحلت ہے وہ میرے لیے ظاہر ہے ایک صدمے کا باعث بنی ہے، وہ بہت ہی اچھے شریف النفس اور بڑے علم والے آدمی تھے۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔ میں ذاتی طور پر ہمیشہ ان کا ممنون اور مشکور رہوں گا۔ جس طرح انہوں نے میری پذیرائی کی میری مدد کی اگر وہ شفقت نہ فرماتے تو مجھے لگتا ہے کہ اس طرح سے میرے لیے کام مکمل کرنا ممکن نہ ہو سکتا۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔
سب کہاں کچھ لال و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہو گئیں
