پی آئی اے اور پی ٹی وی: کیا خواب بھی نیلام ہوں گے؟

گزشتہ روز پی آئی اے (PIA) کی نیلامی کی خبر نے دل پر وہ دستک دی ہے جس کا خوف برسوں سے ہمیں لاحق تھا۔ ٹی وی سکرین پر چلنے والی وہ خبر صرف ایک ائرلائن کی فروخت کی کہانی نہیں تھی، وہ ایک پورے عہد کے دفن ہونے کا باقاعدہ اعلان تھا۔ پی آئی اے کی اس بے بسی کو دیکھ کر، ایک ریٹائرڈ سینئر افسر کے طور پر مجھے پی ٹی وی کے وہ کوریڈور یاد آ رہے ہیں جہاں کبھی ہم نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس یقین کے ساتھ گزارے تھے کہ یہ ادارے ہماری شناخت اور ملک کا وقار ہیں۔ آج پی آئی اے کی باری ہے، کل شاید پی ٹی وی کا نمبر ہو، اور سچ تو یہ ہے کہ جس دن ان اداروں کی روح نکالی گئی، نیلامی کا عمل درحقیقت اسی دن شروع ہو چکا تھا۔
ہم صرف ملازم نہیں تھے۔ ہم پی ٹی وی تھے۔ ہم اس پاکستان کا عکس تھے جس کی آواز میں وقار اور لہجے میں بلا کی متانت تھی۔ ہم وہ لوگ تھے جو تپتی دھوپ، شدید حبس اور ریکارڈنگز کے کٹھن شیڈولز میں اپنا پسینہ اس لیے بہاتے تھے کہ قوم کا سر فخر سے بلند رہے۔ جب ہم کہتے تھے کہ ”ہم پی ٹی وی میں ہیں“ ، تو یہ صرف ایک نوکری کا تعارف نہیں تھا، یہ ایک معاشرتی اعزاز تھا۔
پی ٹی وی محض ایک ٹی وی چینل نہیں تھا، یہ ایک تہذیب کا نام تھا۔ ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ آج ہماری وہ عظیم الشان روایات نجکاری کے سائے میں سسک رہی ہیں۔ وہ پروڈکشن ہاؤسز جہاں سے ’خدا کی بستی‘ اور ’وارث‘ جیسے شاہکار نکلے، جہاں کا ایک ایک لفظ زبان و بیان کی سند مانا جاتا تھا، آج وہاں کمرشلزم کا پہرا ہے۔ ہمارے وہ انجینئرز اور تکنیکی عملہ جنہوں نے سنگلاخ پہاڑوں اور تپتے ریگستانوں میں ٹرانسمیشن کے جھنڈے گاڑے، آج ان کی مہارت کو آؤٹ سورسنگ کے نام پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہماری سیلز اور مارکیٹنگ کی وہ ٹیمیں جو کبھی وقار کے ساتھ بزنس لاتی تھیں، آج ریٹنگ کی اس دوڑ میں ہانپ رہی ہیں جہاں معیار ثانوی اور شور بنیادی شرط بن چکا ہے۔
آج جب میں پی آئی اے کو ”گدھوں“ کے حوالے ہوتے دیکھتا ہوں، تو مجھے پی ٹی وی کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہوتے ہیں۔ وہی گدھ جو برسوں سے ان قومی اداروں کے گرد اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ کب یہ بوڑھے شجر گریں اور وہ ان کے اثاثوں، ان کی بیش قیمت زمینوں، نایاب آرکائیوز اور ان فریکوئنسیز پر جھپٹ پڑیں جنہیں ہم نے خونِ دل سے سینچا تھا۔ ان خریداروں کو اس مٹی کی خوشبو سے کیا غرض؟ انہیں پی ٹی وی کے ان ریکارڈز اور ڈراموں کی قدر کیا معلوم جو ہماری تاریخ کا اثاثہ ہیں؟ وہ تو صرف اس زمین کی قیمت لگائیں گے جس پر یہ اسٹوڈیوز کھڑے ہیں۔
ہماری بنیاد تین ستونوں پر تھی: تعلیم، معلومات اور تفریح۔ آج یہ تپائی گر چکی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کیسے ”معلومات“ کو سنسنی کے شور میں دفن کیا گیا، کیسے ”تعلیم“ کو تجارتی اشتہارات کے ملبے تلے دبایا گیا اور کیسے ”تفریح“ کو سطحی پن کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ پی آئی اے کی طرح، پی ٹی وی کو بھی پہلے سیاسی مداخلت سے کھوکھلا کیا گیا، پھر پیشہ ورانہ مہارت کے بجائے وفاداریوں کو ترجیح دی گئی اور اب اسے ”بوجھ“ قرار دے کر کسی سیٹھ کی تجوری کے حوالے کرنے کی فضا بنائی جا رہی ہے۔
مگر اس نوحہ گری میں ہمیں آئینہ بھی دیکھنا ہو گا۔ پی آئی اے ہو یا پی ٹی وی، ان کی بربادی میں ہم سب کا حصہ ہے۔ ہم تب خاموش رہے جب میرٹ کا گلا گھونٹا جا رہا تھا۔ ہم نے تب سمجھوتہ کیا جب حرفِ حق کہنے کے بجائے مصلحت کی چادر اوڑھنا آسان لگا۔ آج اگر ان اداروں کی بولی لگ رہی ہے، تو یہ ہماری برسوں کی خاموشی کا عبرتناک انجام ہے۔
نجی ادارے معاوضہ دے سکتے ہیں، مگر وہ ”اعتبار“ اور ”شناخت“ نہیں دے سکتے جو ایک قومی ادارے سے وابستہ ہوتی ہے۔ ایک سیٹھ پی آئی اے اور پی ٹی وی کے اثاثوں سے تجوری تو بھر سکتا ہے، مگر وہ اس ادارے کی روح کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔
پی آئی اے کی نیلامی دراصل ہم سب کے لیے ایک ”وارننگ“ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب خوابوں کی بولی لگ رہی ہے۔ ہم صرف اپنی نوکریوں کے لیے نہیں رو رہے، ہم اس پی ٹی وی کے لیے رو رہے ہیں جس نے ایک قوم کو بولنا، اوڑھنا اور خواب دیکھنا سکھایا تھا۔
تاریخ گواہ رہے گی کہ یہ چراغ صرف ہوا کے جھونکوں سے نہیں بجھے، بلکہ ان ہاتھوں نے بھی بجھائے جنہیں ان کی لو کو تھامنا تھا اور ان آنکھوں نے بھی بجھنے دیے جنہوں نے وقت پر خطرہ نہیں بھانپا۔ ہم پی ٹی وی تھے۔ اور افسوس کہ ہم خود کو بچانا بھول گئے۔
نوٹ: مصنف پی ٹی وی کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر مارکیٹنگ/جنرل مینیجر رہے ہیں۔

دنیا بھر میں پچھلے بیس تیس سال میں سائنسی تحقیق کی وجہ سے بہے بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
سب پہلے شاید ریڈیو پر چھری چلی۔ ٹیلیفون اینڈ ٹیلی گراف کے محکمے سے پہلے ٹیلی فون نکلا پھر ٹیلی فون بھی ہانپنے لگا۔
دیکھتے ہی دیکھتے چھپا اخبار، چھپی کتابیں، جرائد اور رسائل پاکستان جیسے ممالک میں اہمیت کھوتے چلے گئے۔
فوٹوگرافر جو کبھی بہت اہم پیشہ تھا اب ہر شخص کے ہاتھ میں کیمرا ہے۔
الگورتھم جاننے والے ختم
اسی بھاگ دوڑ میں پہلے گراموفون غائب ہوا پھر کیسٹ ریکارڈر پھر سی ڈی اور ڈی وی ڈی۔
گھومنے والا ٹیلی فون پلس سے ٹون پر گیا اور پھر موبائل اس کو بھی کھاگیا۔
اسٹیج کو سنیما نے کھایا۔ سنیما کو پاکستان میں وی سی آر اورکیبل ٹی وی نے۔ پھر ڈش اور سی ڈی نے وی سی آر کو ختم کیا۔ سیٹلائٹ اور انٹرنیٹ نے موبائل سے مل کر ایک نئی دنیا کی بنیاد ڈالی جس ریڈیو ٹی وی ٹیلی فون خود انٹرنیٹ، ای میل ہر ایک کی ہئیت بدل دی
اور تو اور کبھی لازم محکمہ کو ڈاک کہلاتا تھا اور ڈاک ٹکٹ بھی جاری کرتا تھا کہاں چلا گیا؟
یہ سارے مصائب دنیا بھر میں بھی پیش آئے لیکن فیوجی کلر ہو یا اگفا اور یا کوڈک جیسے بڑے نام سب ختم ہوگئے سوائے انکے جنہوں نے خود کو نئی ضروریات کے تحت تبدیل کیا۔
دنیا میں ٹی وی ریڈیو اب بھی ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے ہم چلارہے ہیں
ڈاک خانہ جو کبھی انشورنس اور بنک کا کام بھی کرتا تھا دنیا بھر میں اب بھی کسی اور
طرح کام کررہا ہے۔ فلم اب بھی دنیا بھر میں اربوں ڈالر کا بزنس ہے اور ٹی وی بھی۔
کتابیں اب بھی چھپ رہی ہیں اور خوب بک رہی ہیں کاغذ پر بھی اور ڈیجیٹل بھی۔
پاکستان اور پاکستانی خود کو تیزی سے بدلتے حالات سے ہم آہنگ نہ کرسکے جس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے حکم رانوں کی کوتاہ اندیشی زیادہ ہے۔