انسانی رشتوں میں بڑھتی دراڑیں
میرے دادا جان (بڑے ابا جی ) اور میری محبت اور تعلق پورے خاندان میں مشہور تھا۔ میں بچپن سے ان کے ساتھ اس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ ان کے ساتھ ہر وقت چپکے رہنے کی وجہ سے لوگ مجھے ان کی پونچھ یعنی ”دم“ کہا کرتے تھے۔ جب تک وہ زندہ رہے میں ان کے ساتھ رہا۔ میں نے اپنی زندگی اپنی ذات سے ان سے زیادہ محبت کرنے والا انسان پھر کبھی نہیں دیکھا۔ محبتوں کے اس مختصر سے سفر میں نے ان سے بہت کچھ دیکھا، سیکھا، سنا اور سمجھا۔ وہ بتاتے تھے کہ وہ تین بھائی تھے جن کی باہمی محبت کی لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی جو باپ کی جگہ بھی تھے ہجرت کے دوران شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو گئے۔ پاکستان میں ان کے صرف ایک بھائی ساتھ پہنچ سکے۔ ان سے چھوٹے اور سب سے لاڈلے بھائی امین خان مرحوم کی محبت کا تذکرہ اور بے پناہ احترام و محبت کی بڑی داستانیں سناتے تھے۔ اور لوگ بھی بتاتے تھے کہ ہمارے بڑے ابا جی کو اپنے بھائی سے بے پناہ محبت تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب میں چھٹی گزار کر واپس ڈیوٹی پر جاتا تھا تو یہ چھوٹے بھائی امین خان مجھے الوداع کہنے کئی میلوں تک ساتھ آتے اور جب ہم جدا ہوتے تو وہ جب تک میں نظر آتا رہتا وہیں کھڑے ہو کر مجھے دیکھتے اور ہاتھ ہلاتے رہتے اور میں بھی مڑ مڑ کر انہیں دیکھتا رہتا۔ ہماری دونوں کی آنکھوں میں آنسوں کی برسات ہوتی اور کئی ہفتوں تک ہم نم آنکھوں سے ایک دوسرے کو یاد کرتے رہتے۔
جب میں بڑا ہوا تو مجھے پتہ چلا کہ جب بڑے ابا جی کے یہ بھائی کراچی میں فوت ہوئے تو وہ ان کے جنازے پر نہ جا سکے بلکہ آخری دیدار بھی نہ کرسکے لیکن ان کی اولاد سے تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ اس کی وجہ غربت، دوری، صحت، وسائل کچھ بھی تھی لیکن خاندان والے اکثر اس بات کا تذکرہ اور شاید شکایت ضرور کرتے تھے۔ ایک دن میں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور کہنے لگے اس کی وجوہات آج میں لاکھ تمہیں بتاؤں لیکن تمہاری سمجھ نہ سکیں گی کہ محبت اور مجبوری کیا ہوتی ہے؟ اور کب اور کیوں محبتیں مجبوریاں کا شکار ہو جاتی ہیں؟ اور کب ہماری مجبوریاں محبت سے جیت جاتی ہیں؟ زندگی میں بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بتائی اور سمجھائی نہیں جا سکتیں بلکہ محسوس کی جاتی ہیں۔ ہاں جب تم میری طرح ستر سال کی عمر تک پہنچو گے اور محبتوں سے مجبوریوں تک کا مشکل ترین سفر مکمل کر لو گے تو میرے بتائے بنا ہی تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل جائے گا۔ تم خود ہی میرے جواب کو محسوس کر لو گے ہاں اتنا ضرور یاد رکھنا کہ نئے رشتے ہمیشہ پرانے رشتوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ بغیر نئے رشتوں کے پرانے رشتے قائم رہتے تو ساری آدم کی اولاد رشتہ دار ہوتی یہ اتنی بڑی بڑی قومیں، ذاتیں اور برادریاں نہ بنتیں۔ میں شرمندہ سا ہو گیا اور پھر آئندہ میں نے کبھی یہ سوال دوبارہ نہیں پوچھا اور پھر ایک دن وہ بھی اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے۔
جوں جوں میں بڑا ہوتا گیا مجھے رشتوں کی نزاکتیں سمجھ آنا شروع ہو گئیں۔ ماں باپ کی محبت بہن بھائیوں کی ساتھ محبت و شفقت کے بے شمار واقعات زندگی کا حصے بنے رہے۔ سسرال جا کر بہنوں کی محبتیں تقسیم ہوتی چلی گئیں ان ترجیح بھائی سے زیادہ سسرال اور اپنی اولاد بن گئی۔ شادیاں کر کے بھائیوں کی محبتیں اپنی بیویوں اور بچوں میں حصہ دار بنتی چلی گئیں۔ ماں کی زندگی تک سوچ کا انداز مختلف تھا اور پھر باپ کی زندگی کے ساتھ ہی سوچ کا انداز بھی مزید بدلتا گیا۔ مجھ سمیت سب بہن بھائیوں کی ترجیحات پر بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ اولاد کی سوچ کا غلبہ بھی چھانے لگا۔ گھر الگ الگ ہوئے تو ہر گھر کی الگ سوچ بھی جنم لینے لگی۔ باپ کی کوئی جائیداد یا وراثت تو تھی نہیں کہ جس پر باہم اختلافات ہوتے ہیں۔ اس لیے باہمی محبتوں کا سلسلہ کم تو ضرور ہوا مگر رشتوں کی عزت احترام ہمیشہ قائم رہا اور قائم بھی ہمیشہ رہے گا کیونکہ ناخنوں سے گوشت کب جدا ہوتے ہیں؟ دعاؤں کی ڈور سے بندھے ایسے خونی رشتے اور تعلقات رابطوں کے محتاج نہیں ہوا کرتے۔ کچھ لوگوں سے بات چیت ہو یا نہ ہو دل میں لاکھ دوریاں کیوں نہ ہوں وہ ہماری زندگی میں ایسا مقام رکھتے ہیں کہ ہماری دعائیں ان کے ذکر کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہیں۔ مگر ترجیحات کا بدلنا ایک فطری عمل ہے۔ کہتے ہیں کہ جب رشتے سوچنے کے ساتھ ساتھ خاموش بھی ہو جائیں تو محبتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتے۔ بھائی بہن بھلا اپنی اولاد سے زیادہ کب پیارے ہوسکتے ہیں۔ یہاں آ کر رشتے گھروں اور خاندانوں کے رہ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی بہن بھائی ہی نہیں خود ماں باپ بھی اپنی اولاد کے لیے ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔
رشتے خدا کی سب سے بڑی نعمت ہوتے ہیں۔ یہ وہ بندھن ہیں جو ہمیں خون، احساس اور اعتماد کے دھاگوں میں باندھتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج انہی رشتوں کے بکھرنے کی کہانیاں ہر گھر کی دیواروں پر لکھی نظر آتی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ رشتے کیوں ٹوٹتے ہیں سوال یہ ہے کہ کیوں وہی نعمتیں جو سکون کا سبب بنتی تھیں یکایک آزمائش کا روپ دھار لیتی ہیں؟ اولاد خدا کی رحمت ہے مگر بعض گھروں میں یہ رحمت زحمت اور بوجھ بن جاتی ہے جب والدین اپنی محبت کو اپنے بچوں کی محبت سے مشروط کر دیتے ہیں یا اولاد کے لاڈ و خواہشات کے باعث ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ تو رشتے کمزور پڑ کر ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے صرف ایک رشتہ ہی نہیں بلکہ پورا خاندان ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ بیوی یا اولاد دونوں قدرت کے عطیے ضرور ہوتے ہیں مسئلہ ان میں نہیں ہماری ترجیحات میں ہوتا ہے۔ جب انسان خود کو مرکز سمجھنے لگے اور دوسروں کو صرف ’کردار ”قرار دیے کر پس منظر میں رکھ دے تو محبت کا نظام بکھر جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ“ خوشگوار گھر وہ نہیں ہوتا جہاں سب کامل ہوں بلکہ وہ ہوتا ہے جہاں غلطیوں کے باوجود معافی، فاصلے کے باوجود بات چیت اور اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے۔ رشتے تب ہی قائم اور سلامت رہتے ہیں جب انسان انا سے بلند ہو کر محبت کو عبادت سمجھے اور نعمتوں کو آزمائش نہیں ذمہ داری سمجھے۔ بچوں کی ذہن سازی ہمیشہ ہماری سوچ سے جڑی ہوتی ہے۔ ان بچوں کی سوچ ہمارے رویے ترتیب دیتے ہیں۔ ہمارا حسد، رویہ اور نفرت بڑی آسانی سے ان میں منتقل ہو جاتی ہے۔
ستر سال کی عمر تک پہنچا تو بڑے ابا جی کی باتیں سمجھ آنے لگیں کہ سب رشتوں کو سب سے زیادہ نفرت اس شخص سے ہوتی ہے جو ان سے مختلف سوچتا ہے۔ مسئلہ اس کی رائے یا سوچنے کا نہیں ہوتا بلکہ اس کی جرات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن سے وہ سوچتا ہے جو دوسرے لوگ نہیں جانتے کہ ایسے کیسے سوچا جاسکتا ہے؟ ارسطو نے کہا تھا ”سب سے اہم رشتہ وہ ہے جو انسان کا خود اپنے ساتھ ہوتا ہے۔ سب سے بڑا سفر خود کو پہچاننے کا سفر ہے۔ خود کو جاننے کے لیے ضروری ہے تم اپنے ساتھ وقت گزارو اور اکیلے ہونے سے نہ ڈرو کیونکہ خود کو جان لینا ہی تمام دانائی کا ابتدا ہے“ آج جب میں بہت قریبی رشتہ داروں کے جنازوں تک پر نہیں جاسکتا تو مجھے بڑے ابا جی کا جواب اور بات یاد آتی ہے کہ انہوں نے کہا تھا ”جب تم میری عمر میں پہنچو گے تو بات سمجھ آ جائے گی؟ مجھے پتہ چلا کہ لوگ کبھی پوری کہانی نہیں سناتے بلکہ کہانی کا وہ حصہ سناتے ہیں جس میں وہ خود صحیح اور باقی سب غلط نظر آرہے ہوتے ہیں۔ آج میں جانتا ہوں کہ دلوں کے فاصلے لفظوں سے رویوں کو اچھا رکھنے سے کم ہوتے ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ رشتے ایک دم نہیں ٹوٹتے بلکہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جب ہم بات کرنے کی بجائے سوچنے لگتے ہیں۔ جہاں کسی کے لہجے میں تھوڑی سختی آئی اور ہم نے فاصلہ بنا لیا۔ کسی کا جواب ذرا بدل گیا ہم نے دل میں کہانی لکھ لی۔ پھر ایک دن وہی کہانیاں غلط فہمیاں بن جاتی ہیں۔ اور ہم اپنے سوالوں کے جواب بھی خود ہی گھڑ لیتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رشتہ تو زندہ رہتا ہے مگر احساس مر جاتا ہے۔ انسانی رشتوں کی بربادی کا سفر اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی سوچ پر مبنی خیالات کو زبردستی حقیقت کا رنگ دینے لگتا ہے۔ یاد رکھیں کہ کبھی کبھی ایک“ سچ بول دینے ”والی بات ہزار غلط فہمیوں سے بہتر ہوتی ہے اس لیے بول دو۔ خاموش نہ رہو۔ دل میں مت رکھو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رشتوں میں نرمی، سمجھ بوجھ اور معاف کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ رشتوں کی دیوار میں پڑی چھوٹی چھوٹی سی دراڑیں بڑی بڑی مضبوط عمارتوں کو زمیں بوس کر دیتی ہیں۔
وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا
کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے

