بلاگ

جمہوریت کے لبادے میں

Syed Zeeshan Abid

ایف سی کالج میں پڑھا تھا کہ جمہوریت میں تمام فیصلہ سازی کا مرکز عوام ہوا کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ نے 27 ویں ترمیم پاس کر کے اس بات پر مہر ثبت کر دی ہے کہ پاکستانی سیاست دانوں کے نزدیک کرسی ہی صرف مرکزیت رکھتی ہے اور اس کرسی کو برقرار رکھنے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

27 ویں ترمیم کے حامیوں کے پاس سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور وہ جو مرضی چاہے پاس کر لے۔ بالکل درست۔ پارلیمنٹ ہی کو سپریم ہونا چاہیے اور بحیثیت قانون اور سیاسیات کے طالبعلم کے میں بھی اس تھیوری کو مانتا ہوں۔ لیکن پارلیمنٹ کی سپریمیسی اس بات سے منسلک ہے کہ وہ عوامی فلاح کے لیے قانون سازی کرے نہ کہ کسی شخصیت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے، پھر چاہے وہ شخصیت کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کیونکہ پارلیمنٹ کو سپریم بنانے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس میں عوامی منتخب نمائندے موجود ہوتے ہیں جو کہ اس بات کہ پابند ہوتے ہیں کہ وہ عوام کی فلاح کو ہی اپنا فرض اولین سمجھیں گے۔ لیکن اگر عوامی نمائندے ہی پارلیمنٹ سے شخصی بنیادوں پر قانون سازی کرنے لگیں گے تو ایسی پارلیمنٹ پر سے عوامی اعتماد اٹھ جائے گا۔

جن اقوام نے آج دنیا میں اپنا نام بنایا ہے انہوں نے سیاسیات اور قانون کے بنیادی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے۔ ان میں سے چند اصول ایسے ہیں جو کہ مرکزیت رکھتے ہیں جیسا کہ ریاست کی بنیادی اکائیوں کا ایک دوسرے پر چیک اور اختیارات کی تقسیم۔ اس ترمیم نے مندرجہ بالا دونوں اصولوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک نیا فلسفہ پیش کیا ہے کہ جس میں کچھ اداروں سے اختیارات چھین کر چند اداروں کو ان کے مینڈیٹ سے زیادہ اختیارات دے دیے ہیں جو کہ نظام ریاست چلانے کے بنیادی اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

ایسی قانون سازی سے نا صرف پارلیمنٹ عوام کا اعتماد کھو چکی ہے بلکہ مستقبل میں بھی جمہوریت کی راہ انتہائی مشکل اور ناہموار بنا چکی ہے۔ جمہوریت میں کسی بھی ادارے کی اجارہ داری نہیں ہوتی بلکہ ہر ادارے کا دوسرے ادارے پر کوئی نہ کوئی چیک ضرور ہوتا ہے تاکہ کسی ایک ادارے کی مکمل اجارہ داری نہ قائم ہو جائے کیونکہ کسی بھی ایک ادارے کی اجارہ داری کسی بھی ملک کو جمہوریت سے دور کر دیتی ہے اور تاریخ میں اس کی بے پناہ مثالیں موجود ہیں۔ ہٹلر اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ ہٹلر آیا جمہوری راستے سے تھا لیکن اس نے باقی تمام ادارے آہستہ آہستہ اپنے قبضے میں کر لیے اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

جمہوریت میں ہر ادارے کی اپنی اپنی حدود متعین ہوتی ہیں اور کسی دوسرے ادارے کو یہ اختیار بالکل بھی حاصل نہیں ہوتا کہ وہ کسی دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت کرے۔ جب بھی کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارے کی سپیس انویڈ کرتا ہے تو وہ صرف اس ادارے کی سپیس نہیں بلکہ جمہوریت کو انویڈ کر رہا ہوتا ہے۔

27ویں ترمیم دراصل جمہوریت کے ان بنیادی اصولوں کے خلاف ہے کہ جس کی بنیاد پر جمہوریت کی امارت قائم ہے۔ جمہوریت میں شخصیت نہیں بلکہ ادارے اہم ہوتے ہیں جو کہ نظام کو فعال رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن اصولوں پر قائم ادارے ہی ممالک کو ترقی کی منازل طے کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ 27ویں ترمیم نے ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے جو کہ مستقبل میں پاکستان کی جمہوریت کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہو گا۔ عوام کی فلاح کے بجائے کرسی بچاؤ مہم نے آئین پاکستان میں تبدیلی کر کے ریاست کا بنیادی نظام ہی داؤ پر لگا دیا ہے۔ مستقبل میں اس عمل کے نتائج اتھاریٹیرئنزم کی صورت میں تو آ سکتے ہیں لیکن عوامی فلاح اور جمہوریت کی کوئی حوصلہ افزا شکل بنتی دکھائی نہیں دیتی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW