میرے مطابق

چترال کے لئے سیاسی جماعتوں کی خدمات کا تقابلی جائزہ

ihtisham ur rehman baybak

کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستگی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کوئی علاقائی ترقی کی بنیاد پر کسی جماعت کی حمایت کرتا ہے، تو کوئی تعلیم کے میدان میں اس کی کارکردگی کو مدنظر رکھتا ہے۔ بعض جماعتیں سڑکوں کی تعمیر کے ذریعے عوام میں مقبول ہوتی ہیں تو بعض صحت کے شعبے میں خدمات کی بدولت اپنا مقام بناتی ہیں۔ پاکستان میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کو پسند یا ناپسند کیے جانے کی بنیاد کارکردگی اور سیاسی شعور یا پھر اندھی تقلید رہی ہے۔ چترال کی عوام بھی اسی فطری رویے کی عکاسی کرتی ہے۔

چترال طویل عرصے تک ایک نیم خودمختار ریاست کے طور پر قائم رہا۔ 1969 میں اس کا پاکستان سے الحاق ہوا، تو اس وقت سر ناصرالملک کے قائم کردہ چترال ہائی اسکول کے علاوہ بمشکل چند سرکاری اسکول موجود تھے۔ پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد چترال میں ترقی کا عمل شروع ہوا، اور کئی اہم منصوبے متعارف کرائے گئے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے :

1۔ گورنمنٹ ڈگری کالج کا قیام
2۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال، کی تعمیر
3۔ ریڈیو پاکستان چترال
4۔ گندم کے گوداموں کا قیام اور بروغل جیسے دورافتادہ علاقوں میں مویشیوں کے لیے جہاز کے ذریعے چارہ پہنچانے کا بندوبست
5۔ لواری ٹنل پر کام کا آغاز
6۔ نوّے کی دہائی میں چترال بونی روڈ اور دنین کالونی کی تعمیر، جو گرلز ڈگری کالج کی عمارت کے طور پر استعمال ہو رہی ہے
7۔ چترال میں بجلی کے لئے جنریٹرز اور چترال کے لئے مالاکنڈ سے ٹرانسمیشن لائن
8۔ چترال میں پی ٹی ڈی سی ہوٹلز کی تعمیر
9۔ زرداری دور میں لواری ٹنل کو ٹرین ٹریک منصوبے سے بدل کر کشادہ روڈ ٹنل میں تبدیل کر کے مزید آسانی پیدا کرنا
10۔ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت میں دو یونیورسٹی کیمپس، کالج اور کئی ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کا قیام

نواز شریف کو عام طور پر چترال مخالف تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان کا چترالیوں کی اردو کے متعلق غیر محتاط بیان تھا جو کہ کافی حد تک درست بھی ہے۔ دوسری وجہ وہ مشہور جلسہ ہے جس میں انہوں نے پوچھا کہ ”ایک ارب میں کتنے لاکھ ہوتے ہیں؟“ تاہم، سابق ایم این اے افتخار الدین کی کوششوں نے یہ تاثر زائل کر دیا۔ نواز شریف کے دور میں افتخار الدین کی کاوشوں کے نتیجے میں کئی اہم منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچے، جنہوں نے چترال کو بنیادی محرومیوں سے نکالا۔ ان میں چند قابل ذکر منصوبے یہ ہیں :

1۔ مشرف دور میں عبد الاکبر چترالی کی کوششوں سے دوبارہ شروع ہونے والا لواری ٹنل منصوبہ جسے نواز شریف نے افتخار الدین کی کاوشوں سے فعال کر کے قلیل مدت میں مکمل کرایا
2۔ تباہ کن سیلاب کے بعد چترال تاریکی میں ڈوبا رہا؛ تاہم حکومت نے گولین گول ہائیڈرو پراجیکٹ مکمل کر کے اور الگ گرڈ اسٹیشن قائم کر کے علاقے کو روشنی فراہم کی
3۔ ایون اور سنگور میں گیس پلانٹس کا قیام، جنہیں بعد ازاں تحریک انصاف کی حکومت نے بند کر دیا
4۔ علاقائی معیشت اور معاشرتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے غریبوں کے قرضے معاف کرائے
5۔ چترال کی بے وفائیوں اور احسان فراموشیوں کے باوجود مخصوص نشستوں پر چترال سے غزالہ انجم کو ایم این اے بنا کر چترال کی نمائندگی کا موقع دینا
6۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے دانش اسکول کا سنگ بنیاد رکھ کر ایک بار پھر چترال سے اپنی محبت کا اظہار کیا

گزشتہ 13 برسوں سے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، اور ساڑھے تین سال مرکز میں بھی۔ اس دوران تحریک انصاف کی قیادت اکثر یہ شکوہ کرتی رہی کہ چونکہ چترال کو مناسب نمائندگی نہیں ملی، اس لیے کام نہیں ہوا۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں تحریک انصاف کے پاس دو ایم پی ایز، ایک ایم این اے، (جو اپنی حرکتوں کی وجہ سے نا اہل ہوا ہے ) ایک سینیٹر اور چار تحصیل چیئرمین موجود ہیں۔ ایک ایم پی اے صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے منصب پر بھی فائز ہیں۔

اگر تحریک انصاف کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو ان کے 13 سالہ اقتدار میں قابل ذکر خدمات صرف سابق ایم پی اے فوزیہ بی بی کے دور سے وابستہ ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے حسب روایت انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ تحریک انصاف کی کارکردگی کو اگر جانچنا ہو تو وہ ہر جماعت سے کمزور دکھائی دیتی ہے، تاہم، طلحہ محمود فاؤنڈیشن جیسے فلاحی ادارے سے تقابل کیا جا سکتا ہے کیونکہ پچھلے 7 سالوں میں پی ٹی آئی کی حکومت گورنمنٹ کالج چترال کے بی ایس بلاک کی بلڈنگ کو مکمل نہیں کر پائی ہے۔

تحریک انصاف کی ناکامی کا ثبوت چترال بونی روڈ پر واقع دو ضلعوں کو ملانے والے برنس پل کی زبوں حالی ہے، جو تحریک انصاف کی حکومت، نمائندوں، دو ضلعی صدور اور چار تحصیل چیئرمینوں کی اجتماعی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سے بھی زیادہ مایوس کن امر یہ ہے کہ چند ماہ پہلے تحریک انصاف کے نمائندے محض کریڈٹ لینے کی جنگ لڑ رہے تھے کہ ایک ارب روپے چترال کے لیے کس نے لائے۔ منتخب نمائندے ہی نہیں، بلکہ کارکنان بھی پولو ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ مل کر اس لاحاصل بحث میں پیش پیش تھے، حالانکہ لوٹکوہ، کالاش ویلیز، بروغل، یارخون، اور دیگر علاقوں میں بنیادی سہولیات اور سڑکوں کی ابتر صورتحال چیخ چیخ کر ان کی توجہ مانگ رہی ہے۔

مختصرا، اگلی بار ووٹ دیتے وقت محض جذبات، تعصب یا مذہبی و جماعتی وابستگیوں کو معیار نہ بنائیں۔ اپنی انا، ضد یا کسی مخصوص شخصیت کی محبت سے بالاتر ہو کر علاقے کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھیں۔ ایسے افراد کا انتخاب کریں جو باصلاحیت، با اختیار اور دیانت دار ہوں۔ کوشش کریں کہ نمائندہ وہ ہو جو یا تو برسر اقتدار جماعت سے تعلق رکھتا ہو، یا پھر آزاد اور غیر متنازع ہو تاکہ آپ کا ووٹ علاقے کی ترقی کے دروازے کھول سکے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW