ترقی کی دوڑتی دنیا اور ہماری پھولتی سانسیں
ہم نے اٹھہتر برس گزار دیے۔ مگر اب بھی کسی نازک موڑ سے گزر نہیں پائے اب دو ہی چیزیں ممکن ہیں یا ہم چل نہیں پا رہے یا یہ موڑ ترقی کا اتنا لمبا ہے کہ اس کو گزرنے کے لیے ایک صدی مزید بھی کم پڑے گی، اور قومی بحران سے بھی نکلنے کی ویسے نیت نہیں لگ رہی ہے، ہمارے ہاں جمہوریت واقعی خطرے میں رہی ہے، مگر مذہب کے ”خطرے“ کا راگ اس شدت سے الاپا گیا کہ آج مذہب کے نام پر پلے وہی عناصر خود معاشرے اور ریاست دونوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
جہاں دنیا نے علم، سائنس اور ٹیکنالوجی سے انسانیت کو آسمان تک لے گئی ہے، وہاں ہم نے نعروں، فتووں اور خوف کے سہارے اپنی فکری جڑیں کاٹ ڈالیں۔ دنیا کس تیزی سے بدل رہی ہے، ہمیں اندازہ ہی نہیں۔ میں نے کچھ چیزوں کو ڈھونڈ کر نکالا ہے لیکن ہم غیر ترقی یافتہ ملک اور انٹرنیٹ کے لیے ابھی تک کھنبے ڈھونڈ رہے ہیں تو مجھے یقین ہے دنیا اس کے کافی کافی آگے نکل چکی ہے لیکن میرے لیے یہ حیران کردہ چیزیں ہیں جو میں اپنے پڑھنے والوں کے آگے رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس، بائیو ٹیکنالوجی، سولر فوڈ، کوانٹم کمپیوٹنگ۔ سب کچھ ہمارے زمانے کی زمین پر ہو رہا ہے، لیکن ہم جیسے ملک ابھی بھی یہ سوچ
رہے ہیں کہ کس کو کس سے اور خطرہ ہو سکتا ہے، مذہب کو خطرہ، جمہوریت کو خطرہ، بس آبادی کے سوائے ہمیں باقی چیزوں سے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ ہم اب اڑان بھرنے کی تیاری نہیں کر پا رہے اور زمانہ خلا سے واپس آ کر مریخ پر بسنے کی تیاری میں ہے۔
چھاپہ خانے کی ایجاد کے وقت جو ہم تعدی ہم نے خود سے کی اور پھر اپنی اس غلطی کی وجہ سے جو فاصلہ ہم سے دنیا نے اختیار کیا تھا، ہم آج بھی اسی فاصلہ کے نتائج بھگت رہے ہیں، اور بھگتنے ہیں ابھی۔ دکانیں اب شیشے کی نہیں، اسکرین کی ہیں۔ اگر صرف خریداری کی دنیا دیکھ لی
جائے تو اندازہ ہو جائے کہ ہم کہاں ہیں۔
دنیا میں اب ”آن لائن شاپنگ“ نہیں، ”ای آر شاپنگ“ کا زمانہ آ چکا ہے۔ یعنی Augmented Reality ایک ایسی ٹیکنالوجی جو خریدی جانے والی چیز کو اس طرح دکھاتی ہے جیسے وہ آپ کے گھر میں رکھی ہو۔ فرج لینا ہو یا ٹی وی، کپڑے کا انتخاب کرنا ہو یا جوتے کا سب کچھ آپ کے سامنے 3 D میں موجود ہوتا ہے۔ اب ”ٹرائی روم“ میں جانے کی زحمت نہیں، موبائل ایپ کھولو، اور دیکھ لو کپڑا تم پر کیسا لگتا ہے۔ سورج اب روشنی نہیں، خوراک دیتا ہے، دنیا نے سورج کی روشنی سے بجلی بنانا پرانا کر دیا ہے۔ اب وہ روشنی سے خوراک بنائی جا رہی ہے۔ ”سولر فوڈ“ کے نام سے ایک نیا عہد شروع ہو چکا ہے جس میں ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال کر منرلز، امونیا، امینو ایسڈ اور دیگر اجزا شامل کر کے خوراک تیار کی جا رہی ہے۔
گوشت کی دنیا میں انقلاب آ گیا ہے۔ اب جانور کو ذبح نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے چند خلیے (cells) لے کر لیبارٹری میں گوشت اگایا جاتا ہے۔ امریکہ کی ”Upside Foods“ کمپنی نے یہ کام کمال مہارت سے کیا ہے، اور امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس گوشت کی فروخت کی اجازت بھی دے دی ہے۔
چارجنگ کے سیکنڈ، بیٹری کے مہینے۔ ہم ابھی کمزور بیٹریوں اور دیر سے چارج ہونے والے فونوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ جبکہ دنیا ایسی بیٹریاں بنا چکی ہے جو مہینوں تک چارج رہتی ہیں۔ اب تو ایک مشین آ گئی ہے جو فون کو 20 سیکنڈ میں چارج کر دیتی ہے۔ فون رکھو، چائے کا گھونٹ لو، فون تیار۔
ہائبرڈ گاڑیاں اب پرانی بات ہوئیں۔ اب ایسی الیکٹرک گاڑیاں آ رہی ہیں جو مہینوں چارج رہیں گی، اور دبئی، چین اور امریکہ میں اڑنے والی ٹیکسیاں
حقیقت بن چکی ہیں۔ امریکہ میں ٹرانسپورٹیشن سسٹم پر کام جاری ہے جو 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گا، اور چین کا صدر خود 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ریل کا افتتاح کر چکا ہے۔ یہی وہ دنیا ہے جہاں ”سمارٹ سٹیز“ بن رہی ہیں۔ اور وہاں راج کسی بادشاہ کا نہیں، ٹیکنالوجی کا ہے۔
اب عام لوگ خلا کا سفر ایسے کر رہے ہیں جیسے ہم سیاحتی کمپنیوں کے ساتھ مری، سوات یا زیارت جاتے ہیں۔ ڈرائیور کے بغیر گاڑیاں، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماتحت سینسر، چھوٹے برقی جہاز، انٹرنیٹ سے جڑے چشمے سب کچھ عام زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ چشمے صرف دیکھنے کے لیے نہیں، بولنے، لکھنے اور دکھانے کے لیے بھی ہیں۔ بس ایک لفظ کہو، اور تمہارے سامنے وہ تصویر، وہ سلائیڈ، وہ تحریر۔
فائیو جی نہیں، کوانٹم کمپیوٹنگ کا زمانہ ہے ہم ابھی ”فور جی“ اور ”فائیو جی ”میں الجھے ہیں، دنیا“ کوانٹم کمپیوٹر ”پر پہنچ گئی ہے۔ ایسی مشینیں جو سیکنڈوں میں وہ حساب لگاتی ہیں جو ہمارے ادارے مہینوں میں بھی مکمل نہیں کر پاتے۔
تعلیم بھی اب دیواروں میں قید نہیں، گوگل کلاس روم، زوم، مائیکروسافٹ لرننگ، سب نے علم کے دروازے گھر گھر کھول دیے ہیں۔ اب انجینئرنگ اور میڈیکل کے طالب علم 3 D ٹیکنالوجی کے ذریعے گھر بیٹھے لیبارٹری کے تجربات کر رہے ہیں۔ تعلیم میں روبوٹس داخل ہو چکے ہیں، اور بچوں کو کوڈنگ اسکول کی بنیادی زبان بنا دی گئی ہے۔
چین میں ایک اسپتال ایسا بھی ہے جہاں کوئی انسانی ڈاکٹر نہیں۔ سب کچھ روبوٹ کرتے ہیں، تشخیص، پرچی، دوا، علاج، حتیٰ کہ آپریشن تک، امریکہ میں ”برین۔ کمپیوٹر انٹرفیس“ کامیاب ہو چکا ہے، ایک ایسی ٹیکنالوجی جو مفلوج افراد کے دماغ سے سگنل پڑھ کر کمپیوٹر کو بھیجتی ہے۔ آسٹریلیا
میں ”بایونک آنکھ“ بن چکی ہے جو پیدائشی نابینا افراد کو دیکھنے کی صلاحیت دے گی۔ اور ایک امریکی کمپنی نے مصنوعی گردہ بنا لیا ہے جو جسم پر لگا رہتا ہے، چوبیس گھنٹے خون صاف کرتا ہے، خودکار سینسرز سے خرابی کا پتا چلاتا ہے، اور مریض کو اسپتال جانے سے بچا لیتا ہے۔
چین، امریکہ اور کئی دوسرے ممالک میں اب زراعت روبوٹس اور سیٹلائٹس سے چل رہی ہے۔ ڈرونز زمین کا تجزیہ کر کے بتاتے ہیں کہ کہاں کتنا پانی، کھاد اور بیج درکار ہے۔ ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال کر زمین میں دبائی جا رہی ہے، اور ہم ابھی تک لاڑکانہ اور لاہور کے دھوئیں پر تحقیق کے منصوبے بناتے پھر رہے ہیں۔
دنیا نئی زمینیں نہیں ڈھونڈ رہی۔ وہ نئی زندگیاں بنا رہی ہے۔ اور ہم ابھی تک خطرہ، خطرہ، زندہ باد مردہ باد، آوے آوے جاوے جاوے ڈٹ کر کھڑا ہے زندہ ہے کے بیانیے میں زندہ ہیں۔ جہاں دنیا نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کو انسان کے برابر لا کھڑا کیا، وہاں ہم اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کون سی فلم ”غیر اسلامی ”ہے۔ بینگن پر مرشد کا نام ڈھونڈ رہے ہیں، آلو پر کوئی مقدس چیز، ہم تو اب گیدڑ سنگی کی سوچ سے نہیں نکلے ہمارے چینل اب بھی چترال کے گیسٹ ہاؤس میں جن ڈھونڈ رہے ہیں۔
ترقی کا یہ ریلا کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ وقت کی رفتار سے پیچھے رہنے والے قومیں آخرکار تاریخ کے حاشیے پر لکھے گئے ایک نوٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی، تو آنے والے زمانے ہمیں صرف ایک مثال کے طور پر یاد رکھیں گے کہ ایک قوم تھی، جو دنیا کے بدلنے کے دوران سوئی رہی۔

