خاموش فلمیں، بولتی کہانیاں : بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر حسن زی کی علمی فلمی باتیں
دادا صاحب پھالکے کی فلم ”راجا ہریش چندر“ کو بنے 113 سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ یہ ہندوستانی سنیما کی پہلی خاموش فلم تھی جو مئی 1913 میں ریلیز ہوئی۔ فلم کے ہدایتکار، مصنف اور فلمساز وہ خود تھے۔ اس فلم میں انہوں نے نئی تکنیک، ڈبل ایکسپوژر اور اسپیشل افیکٹس کا استعمال کیا تھا۔ فلم کے سنیما میں چلنے کے دوران ہال میں بیٹھے سازندے پس منظر موسیقی بجاتے تھے۔ ہندوستان میں کہانی بڑھانے کے لئے اس طرح کی موسیقی کا یہ خیال اسی فلم کے ذریعے متعارف کروایا گیا۔ دادا صاحب پھالکے کو ”بابائے ہندوستانی سنیما“ کہا جاتا ہے۔ ان ہی کے نام پر ہندوستانی حکومت کی جانب سے سنیما کے شعبے کا سب سے بڑے اعزاز ’دادا صاحب پھالکے‘ کا اجراء ہوا۔ اسے قومی فلم ایوارڈز کی تقریب میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز اُن شخصیات کو عطا کیا جاتا ہے جنہوں نے ہندوستانی سنیما کی ترقی اور فروغ میں غیر معمولی خدمات انجام دی ہوں۔ فلم ”راجا ہریش چندر“ کو سب سے پہلے 21 اپریل 1913 کو اشرافیہ کے لیے ریلیز کیا گیا اور 3 مئی 1913 کو عوام کے لیے پیش کیا گیا۔
خاموش فلموں کا میلہ
جہاں متحدہ ہندوستانی سینما کی شروعات 1913 میں ریلیز ہونے والی خاموش فلم ”راجا ہریش چندر“ سے ہوئی وہیں پہلی بولتی فلم ’عالم آرا‘ 1931 میں بنی۔ جب کہ تقسیم کے بعد پاکستان کی اولین فلم ”تیری یاد“ ( 1948 ) تھی۔ میری تحقیق دادا صاحب پھالکے کے بارے میں جاری تھی کہ سان فرانسسکو سے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلمساز اور ہدایتکار ڈاکٹر حسن زی کا فون آ گیا۔ مزے کی بات یہ کہ وہ سان فرانسسکو میں ہونے والے خاموش فلموں کے بین الاقوامی فلمی میلے پر ہی بات کر رہے تھے۔ مجھے بھی اس میلے میں پیش کی جانے فلموں کے بارے میں جاننے کا اشتیاق ہوا۔ ہماری اس سلسلے میں جو گفتگو ہوئی وہ قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔
”میں پچھلے 25 سال سے سان فرانسسکو، کیلی فورنیا، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتا ہوں۔ دو ہفتے پہلے مجھے ایک دوست نے بتایا کہ یہاں کے نامور کیسٹرو تھیٹر میں خاموش فلوں کا میلہ منعقد ہو رہا ہے۔ مجھے خاموش فلموں کے بارے میں علم تو تھا لیکن میں نے اس سے پہلے یہ تجربہ نہیں کیا تھا۔ اُس دوست نے مجھے ایک کتاب بھی دی۔ اس کے سرورق پر ایک بہت پرانی فلم“ کوئین کیلی ”( 1929 ) کی تصویر تھی جس کے ڈائریکٹر ایرک وان اسٹروہم تھے۔ اس پر لکھا ہوا تھا کہ خاموش فلمی میلہ 6 مئی سے 10 مئی تک کیسٹرو تھیٹر میں ہو رہا ہے۔ مجھے جستجو ہوئی کہ جتنی زیادہ ہو سکے میں یہ فلمیں دیکھوں۔ کیسٹرو تھیٹر 1400 نشستوں پر مشتمل سان فرانسسکو کا ایک بہت خوبصورت 100 سال پرانا تھیٹر ہے۔ جب میں اس تھیٹر میں داخل ہوا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کیوں کہ تھیٹر کی پوری 1400 نشستیں پُر تھیں اور عوام بہت شوق سے دیکھ رہے تھے۔ میلے میں صبح 10 سے رات 12 تک روزانہ سات آٹھ فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔ پانچ روزہ فلمی میلے میں اندازہً 35 فلمیں دکھائی گئیں۔ میں نے ان میں سے 12 دیکھیں۔ یعنی چار فلمیں روزانہ، وہ اتنی متاثر کن تھیں کہ میں تو بس دیکھتا ہی رہ گیا“ ۔
”خاموش فلموں کا دور 1894 سے 1929 تک ( 35 سال) رہا۔ اس دور میں بے اندازہ فلمیں بنیں۔ مجھے ان کی تاریخ جاننے کی ؒخواہش ہوئی تو معلوم ہوا کہ نامور سائنس دان ٹامس ایلوا ایڈیسن ( 1847 سے 1931 ) نے جب فلم کیمرہ ایجاد کیا تو اس وقت ہی فلمیں نیویارک اور نیوجرسی میں بننا شروع ہو گئیں۔ اندازہً 1000 سے زیادہ فلمیں نیویارک کے اسٹوڈیوز میں بنائی گئیں۔ ان کو آج کل خاموش فلمیں کہا جا رہا ہے لیکن وہ کبھی بھی خاموش نہیں رہیں۔ وہ ایسے کہ اُس دور میں بھی جب فلم اسکرین پر چل رہی ہوتی تھی تو اس کے ساتھ اسٹیج کے نیچے ایک طرف آرکیسٹرا بیٹھتا تھا اور جیسے جیسے اس فلم کے اداکار تاثرات دیتے ویسے ویسے میوزیشن اس کے مطابق میوزک بجاتے یوں فلم دیکھنے والے کہانی کو زیادہ بہتر سمجھتے۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ اس دور میں بڑی بڑی فلمیں بنائی گئیں جن کے بجٹ بھی کروڑہا کے تھے۔ چوں کہ فلمیں مقبول تھیں اور ان کے ٹکٹ سستے تھے پھر اس دور میں عوام کے پاس تفریح کے کوئی زیادہ مواقع بھی میسر نہیں تھے چنانچہ لوگ جوق در جوق دیکھتے اور یوں یہ فلمیں بہت جلد اپنا سرمایہ واپس لے آتی تھیں۔ کئی اداکاروں، فلم سازوں اور ہدایت کاروں کو ان فلموں نے دولت سے مالا مال کر دیا“ ۔
اپنے وقت کی کچھ مشہور فلموں کا ذکر
” پہلے دن میں نے جو فلمیں دیکھیں ان میں ڈائریکٹر اُربَن گَیڈ کی فلم ’دی ایبس‘ ( 1910 ) اور ہدایت کار اے ڈبلیو سینڈ برگ کی ’دی کلاؤن‘ ( 1926 ) شامل ہیں۔ ان دونوں کا دورانیہ فی فلم 45 منٹ تھا۔ یہ بہت خوبصورت فلمیں تھیں۔ اس کے بعد ایک جرمن فلم ’سینسیشن اِم ونٹر گارٹن‘ ( 1929 ) دیکھنے کو ملی جس کے ڈائریکٹر جینیرو رِگلی تھے۔ یہ فلم مشہورِ زمانہ جرمن ایکسپریشن سنیما پر مبنی تھی۔ واضح ہو کہ جرمن ایکسپریشن ازم 1905 سے 1935 میں ایک جدید اور انقلابی فنی تحریک تھی۔ یہ زیادہ تر جرمنی میں پروان چڑھی۔ اس تحریک میں حقیقت کو جوں کا توں پیش کرنے کے بجائے انسانی جذبات، باطنی کیفیات اور ذاتی احساسات کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ ہالی ووڈ، لاس اینجلس میں نیویارک کے بعد فلم اسٹوڈیوز بننا شروع ہوئے۔ اُس دور میں بڑی فلمیں جیسے ’کلوپیٹرا‘ ( 1917 ) بنیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں ایکسٹرا اداکاروں سے کام لیا گیا۔ جمعہ کے دن ایک بہت خوبصورت فلم ’ہُولا‘ ( 1927 ) دیکھی۔ اس کے ڈائریکٹر وکٹر فلیمنگ تھے۔ اس فلم کی کہانی یہ ہے کہ جزیرہ ہوائی کے ایک بہت بڑے زمیندار کی پندرہ سالہ بچی اپنے باپ کی زمینوں پر کام کرنے والے ایک تیس سالہ انجینئر کی الفت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ اس دور کے مصنف اور ہدایتکاروں کو دیکھئیے کہ اُن کی سوچ اس وقت کے حساب سے کتنی جدید تھی۔ فلم نے انسان کو نئی اور جدید سوچ کی جانب ہمیشہ راغب کیا اور ایسی چیزیں دکھائیں جو اس دور میں شاید دیکھنے کے قابل نہ ہوں لیکن فلم ہمیشہ انسان کو مستقبل کے بارے میں متوجہ کرتی ہے اور سکھاتی ہے کہ مستقبل میں کیا امکانات ہیں۔ میں نے یہ دیکھا کہ اس دور میں عورت کے حقوق خواہ وہ مشرق کی ہو یا مغرب کی، نہ ہونے کے برابر تھے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں عورت کو تو ووٹ دینے کا بھی حق نہیں تھا لیکن اُن فلموں کے لکھنے والوں، فلمساز اور ہدایت کاروں نے اپنی فلموں میں ایسے ایسے جدید خیالات پیش کر کے لوگوں کو یہ احساس دیا کہ عورت کے بھی حقوق ہیں۔ عورت کو مرد کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا چاہیے۔ میں نے یہ سبق ان فلموں میں دیکھا“ ۔
” اسی دن میں نے رات نو بجے کے شو میں فلم ’ٹیبو، اے اسٹوری آف دی ساؤتھ سیز‘ ( 1931 ) دیکھی۔ اس کے فلمساز و ہدایتکار ایف ڈبلیو مرنا جو ہالی ووڈ کے بہت بڑے ڈائریکٹر تھے اور جرمنی سے آئے تھے۔ انہوں نے جرمنی میں اپنے کام کا ڈنکا بجا دیا تھا اسی لئے انہیں ہالی ووڈ نے جرمنی سے بلوایا۔ مرنا نے اس جزیرے کے باسیوں سے کام لیا۔ گویا اس فلم میں کوئی بھی تربیت یافتہ اداکار سرے سے تھا ہی نہیں۔ تمام اداکار جزیرے میں رہنے والے عام لوگ تھے۔ انہی میں سے ڈائریکٹر مرنا نے خوبصورت چہرے دیکھے اور یوں مقامی لوگوں سے حقیقی اداکاری کروائی۔ یہ اپنے وقت کی ایک مشہور فلم مانی گئی“ ۔
” میں بچپن میں چارلی چپلن کی فلمیں بہت شوق سے دیکھتا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر جب بھی اس کی فلمیں لگتیں تو ہم سب گھر والے بہت ہنستے تھے۔ پھر اس کے ساتھ لورل اینڈ ہارڈی کی فلمیں بھی مشہور ہوئیں۔ سنیچر والے دن کیسٹرو تھیٹر میں صبح لورل اینڈ ہارڈی کی چھ فلمیں دکھائی گئیں۔ لیکن ایک ایسی فلم جس نے مجھے حیران کر دیا وہ پولینڈ کی فلم ’جینکو، دی میوزیشن‘ ( 1930 ) تھی جس کے ڈائریکٹر رِزارڈ آرڈِسکی تھے۔ یہ فلم دیکھ کر تھیٹر میں میرے آنسو نکلنا شروع ہو گئے۔ کیوں کہ فلم آپ کو ہنساتی بھی اور رُلاتی بھی ہے اور غصّہ بھی دِلاتی ہے۔ آپ فلم کے کرداروں کے جذبات محسوس کر سکتے ہیں۔ فلم ’جینکو، دی میوزیشن‘ ایک چھوٹے بچے کے گرد گھومنے والی ایک مختصر کہانی پر بنائی گئی تھی۔ ایک غریب بچہ ایک امیر زادے کا وائلن چُرا لیتا ہے۔ نوجوان امیر زادہ اس غریب بچے کو مار مار کر جان ہی نکال دیتا ہے۔ لیکن فلم کی کہانی اس سے مختلف یوں تھی کہ وہ بچہ جس نے وائلن چرایا ہے، 12 سال جیل میں رہتا ہے جہاں اسے ایک وائلن مل جاتا ہے اور وہ اس پر بہت زیادہ مشق کرتا ہے۔ جیل سے باہر آنے پر اسے ایک کیفے میں وائلن بجانے کا کام مل جاتا ہے۔ جب اس کو مواقع دیے جاتے ہیں تو وہ دنیا کا سب سے بڑا وائلن نواز بن جاتا ہے۔ کیسٹرو تھیٹر میں اس فلم کے ساتھ کیا خوب آرکیسٹرا بج رہا تھا۔ اِس فلمی میلے میں دنیا بھر سے بہترین میوزیشن بلوائے گئے تھے۔ اُس دور کی خاموش فلموں کے اداکاروں نے کہانی کی مناسبت سے کیا ہی غضب کے تاثرات دیے پھر موسیقی نے اس کو چار چاند لگا دیے۔ اس فلم کو دیکھ کر ایک عجیب سی طمانیت اور خوشی ملی جس کا الفاظ سے احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان فلموں نے تھیٹر میں بیٹھے 1400 افراد کے دل میں گھر کر لیا“ ۔
”خاموش فلموں کے دور ( 1894 سے 1929 ) میں جہاں ہالی ووڈ میں فلمیں بن رہی تھیں وہاں جرمنی، فرانس اور پولینڈ میں بھی فلمیں بن رہی تھیں۔ پھر روس بھی اس میدان میں پیچھے نہیں تھا۔ یہاں اداکاروں کو مختلف قسم کی فلمی تکنیک پڑھائی اور سمجھائی جا رہی تھیں۔ فلم کے حوالے سے صاحبِ استطاعت اپنے بچوں کو فلم کی تعلیم کی طرف بھیجتے تھے۔ اس دور میں امیر گھرانوں کے لوگ بہت شوق سے فلمیں دیکھتے تھے۔ روس میں فلم بینی کو ثقافت کا حصہ بنانے میں اس طبقے کا بڑا ہاتھ ہے۔ روس کی ایک بہت خوبصورت فلم ’بیڈ اینڈ صوفہ‘ ( 1927 ) دیکھی جس کے ہدایت کار ابرام رُوم تھے۔ پوری فلم ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں فلمائی گئی۔ اس کے تین نمایاں اداکار تھے۔ کہانی یوں ہے کہ انقلابِ روس ( 1917 ) کے دوران دو لڑکے دوست بنے۔ امن کے بعد ایک لڑکا دوسرے کے اپارٹمنٹ میں آتا ہے۔ وہ ایک کمرے کا مختصر اپارٹمنٹ ہے کہ ایک دوست صوفے پر اور دوسرا اپنی بیوی کے ساتھ بیڈ پر سوتا ہے۔ اِن فلموں کو دیکھنے والا خود اپنے آپ کو اِن کرداروں میں دیکھتا ہے۔ اس دور میں غریب لوگوں کی کہانیاں فلم میں دکھائی جاتیں کہ عام آدمی بھی اپنے آپ کو فلم میں دیکھ اور محسوس کر سکتا تھا“ ۔
”خاموش فلموں کی ایک بڑی خاصیت یہ تھی کہ اسکرین پر ’اِنٹر ٹائٹلز یا‘ ٹائٹل کارڈ ’ہوتے جن پر سین کا متن لکھا ہوتا۔ یہ مکالمے اور کہانی کے اہم موڑ اور مختلف مناظر کی وضاحت پیش کرنے کے لیے فلم کے درمیان شامل کیے جاتے تھے۔ ان کی وجہ سے فلم ساز و ہدایت کار موثر انداز میں کہانی بیان کر سکتا تھا۔ یہ کارڈ ناظرین کو مناظر کے درمیان ربط اور ضروری معلومات فراہم کرتے جو محض تصویروں سے واضح نہیں ہوتی تھیں۔ یہ کارڈ عموماً ہاتھ سے لکھے جاتے پھر انہیں فلم مکمل کرنے کے بعد اصل فلم کے حصوں کے درمیان جوڑ دیا جاتا تھا۔ جہاں کہانی بدلتی ہے یا کوئی بہت اہم بات اداکار صرف اپنے تاثرات سے سمجھا نہیں سکتا تو کہانی کے ایسے موڑ پر سنیما اسکرین پر لکھا ہوا آتا تھا کہ اب کہانی کا رُخ کہاں کو جا رہا ہے یا جو بات اداکار نے کہی تھی وہ کیا تھی؟ ڈائریکٹر رابرٹ وین کی خوفناک فلم‘ دی کیبنٹ آف ڈاکٹر کیلی گاری ’ ( 1920 ) کے انٹرٹائٹل بہت مشہور ہوئے“ ۔
”میلے کے آخری دن میں نے تین فلمیں دیکھیں۔ ڈائریکٹر ارنِسٹ لوبِش کی ’سو دِس اِز پیرس‘ ( 1926 ) بہت مزاحیہ فلم تھی۔ عام طور پر ڈاکٹر وضع دار سنجیدہ ہوتا ہے جو بالکل بھی مزاحیہ باتیں نہیں کر سکتا لیکن اس فلم میں ڈاکٹر صاحب ڈانس بھی کر رہے ہیں گا بھی رہے ہیں، عشق میں بھی مبتلا ہیں۔ فلم بنیادی طور پر دیکھنے والے کو محظوظ کرنا چاہتی ہے۔ میں اس فلم سے بہت محظوظ ہوا اور ہال میں موجود 1400 افراد بھی۔ لوگوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں اور نعرے بھی لگائے۔ تھیٹر میں بیٹھے یوں لگ رہا تھا جیسے ہم سب 1920 کے دور میں بیٹھے ہوئے فلم دیکھ رہے ہیں۔ دوسری فلم جو میں نے آخری دن دیکھی وہ ہدایت کار کارل تھیوڈر ڈرئیر کی ’لو ون این اَدر‘ ( 1922 ) ۔ پھر جو آخری فلم دیکھی وہ ’دی کراؤڈ‘ ( 1928 ) تھی۔ اس نے تو گویا دل ہی جیت لیا۔ اس کے ڈائریکٹر مشہورِ زمانہ کِنگ وائیڈر تھے۔ یہ ایک عام آدمی کی کہانی ہے جس کی بچی فوت ہو جاتی ہے اور وہ دیوانہ ہو جاتا ہے جس سے وہ اپنے کام سے بھی جاتا ہے۔ پھر وہ اس کرب سے گزر کر کیسے کامیاب ہوتا ہے۔ اس فلم کا سبق یہ تھا کہ زمانہ تو چلتا ہی رہتا ہے وہ کب دیکھتا ہے کہ آپ کن مسائل سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتے ہیں لیکن آپ نے زندگی کی جدوجہد کو جاری رکھنا ہے۔ فلم ہمیشہ ایک اچھا سبق دیتی ہے۔ یہ فلمیں دیکھنے والے کے لئے ایک حیرت انگیز تجربہ تھیں۔ خود میرے یہ تین دن بڑے زبردست گزرے“ ۔
خاموش فلمیں خاموش نہیں بلکہ وہ زندہ کہانیاں ہیں
” 1929 میں جب فلموں میں آواز کا اضافہ کر کے بولتی فلم کا آغاز ہوا تو اس دور کے فلمی مصنفین، اداکاروں اور ہدایت کاروں نے سوچ لیا کہ اب تو خاموش فلم کا اختتام آ گیا ہے۔ یوں بہت سے ایسے لوگ افسردہ اور غمزدہ ہو گئے کہ آواز آنے سے تو خاموش فلم کا دور اب مکمل ختم ہو جائے گا اور 35 ایم ایم کا تو اب خاتمہ ہی سمجھنا چاہیے۔ فلم اسٹوڈیو اور فلمی دنیا میں آگے اندھیرا ہی اندھیرا نظر آ رہا تھا۔ اس وقت کے کئی بڑے اداکار جیسے چارلی چپلن، گلوریا سوان سَن وغیرہ اور نامور ہدایت کار بھی پریشان تھے کہ اب خاموش فلم کیسے آگے بڑھے گی؟ پھر خاموش فلم کا بھی کوئی مستقبل ہو گا یا نہیں؟ پھر بتدریج 1930 سے نئے نئے لوگ فلمی دنیا میں قدم رکھنے لگے۔ ان کے ساتھ کچھ پرانے اداکاروں نے بولتی فلموں کو اپنانا شروع کر دیا اس طرح خاموش فلموں سے بولتی فلموں کا دور شروع ہوا اور خاموش فلمیں اپنے انجام کو پہنچیں“ ۔
”ہزاروں کی تعداد میں خاموش فلمیں دنیا بھر میں بنیں۔ میری تحقیق کے مطابق ان میں 75 فی صد یا تو ضائع ہو گئیں یا چلنے کے قابل نہیں رہیں۔ کیوں کہ اس دور میں فلم میں نائٹریٹ بیس استعمال ہوتا تھا جو بہت جلد آگ پکڑ لیتا تھا۔ پھر ان کو زیادہ دیر محفوظ رکھنے کا بھی کوئی طریقہ موجود نہیں تھا۔ اب جو 25 فی صد فلمیں بچی ہیں ان کے لئے وارنر برادرز اور پیراماؤنٹ اسٹوڈیوز میں خصوصی شعبے بنائے گئے ہیں اور بہت سا سرمایہ فلم اسٹوڈیوز نے مختص کیا ہے اور اب ان فلموں کو اپنی اصلی حالت میں لایا جا رہا ہے۔ یوں آج دنیا بھر میں مختلف ممالک میں خاموش فلموں کے میلے منعقد ہوتے رہتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں شائقین انہیں دیکھ کر اسی طرح مزہ لیتے ہیں جیسے کہ 1920 کی دہائی میں رہنے والوں نے مزہ لیا تھا“ ۔









