بلاگ

مذاکرات کے پردے میں چھپی جنگ

tariq Afaq

جنگ کی پہلی گولی اکثر بارود سے نہیں، بیانیے سے چلتی ہے۔
پہلے خوف تراشا جاتا ہے، پھر خطرہ کا ابوالہول تخلیق کیا جاتا ہے اور آخر میں حملہ ناگزیر قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکی کارروائی بھی اسی ترتیب کی کہانی لگتی ہے۔

یہ کوئی فوری اقدام نہیں تھا۔ یہ فیصلہ وقت کے اندھیرے میں پنپتا رہا۔ نقشے بچھے، امکانات کی ترازو میں مختلف پہلوؤں کو تولا گیا، اتحادیوں سے سرگوشیاں ہوئیں۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ نے اپنے اصل کارڈ سینے سے لگائے رکھے۔ عوام کے سامنے ایک خوف کا ایک ایسا ہیولا پیش کیا گیا کہ ایران پہل کرنے والا ہے، خطرہ سر پر ہے، وقت کم ہے۔ مگر جب پینٹاگون نے کانگریس کے سامنے اعتراف کیا کہ ایران کے پہلے حملے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں تھا تو یوں لگا جیسے دھند چھٹی اور اصل منشا ایک بے قابو عفریت کی طرح سامنے آیا۔ پھر سوال اٹھا کہ

اگر خطرہ قریب الوقوع نہ تھا تو ہنگامی بندوبست کا سہارا کیوں لیا گیا؟
اگر ثبوت غیر قطعی تھے تو بیانیہ اتنا قطعی کیوں تھا؟
یہ سوال صرف حکمت عملی پر نہیں، صداقت پر بھی اٹھا۔

مذاکرات کا منظر بھی کم معنی خیز نہیں۔ سفارتی میز پر مسکراہٹیں تھیں، کیمرے تھے، الفاظ تھے۔ مگر اسی دوران ایک اور کہانی بھی لکھی جا رہی تھی۔ اندازہ یہ تھا کہ مذاکرات ایران کو مصروف رکھیں گے، قیادت کو منظر عام پر لائیں گے، اور پھر ایک فیصلہ کن ضرب سے سیاسی و عسکری ڈھانچے کو ہلا دیا جائے گا۔ واشنگٹن کو یقین تھا کہ سر قلم ہو جائے تو جسم زیادہ دیر کھڑا نہیں رہتا۔

لیکن ریاستیں محض افراد کی رہین منت نہیں ہوتیں۔ ان کے پیچھے تاریخ، مزاحمت اور اجتماعی نفسیات ہوتی ہے۔ ایران نے جوابی کارروائی کر کے یہ بتا دیا کہ قیادت کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر ارادے کو نہیں۔ امریکہ کی وہ خوش فہمی کہ ایران منتشر ہو جائے گا، میدان کی گرد میں تحلیل ہوتی دکھائی دی۔

ایٹمی پروگرام کو جواز بنایا گیا۔ مگر شاید اصل اضطراب کہیں اور تھا۔ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی، خاص طور پر چین کے تعاون سے حاصل ہونے والی پیش رفت، طاقت کے توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بڑی قوتیں نظریات سے کم اور توازن کی تبدیلی سے زیادہ خوف زدہ ہوتی ہیں۔ جب کوئی ریاست دور مار کرنے لگے تو فاصلہ کم اور بے چینی زیادہ ہو جاتی ہے۔

اس کشمکش کا سایہ ایران تک محدود نہیں۔ ایک سوال مسلسل پس منظر میں گونجتا ہے : اگر ایران کمزور ہو جاتا تو اگلا نشانہ کون ہوتا؟ اسرائیل کی نظریں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر جمی ہوئی ہیں۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کو فعال کردار سے دور رکھنے کے لیے اس کی مغربی محاذ کو گرم کیا گیا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان کی پیچیدہ بساط پر اپنے مہروں کے ذریعے پاکستان الجھانے کی سازش ہوئی

اس آگ کے لیے ایندھن اسرائیل نے ڈرون اور راکٹوں کی صورت میں دیا روباہی کا وظیفہ بھارت نے انجام دیا اور افرادی قوت طالبان نے فراہم کی یہ تمام سرگرمیاں ایک بڑے منظرنامے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ یوں ایک ملک کو اندرونی الجھنوں میں مصروف رکھ کر اسے بڑے کھیل سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔

اسی تناظر میں صدر ٹرمپ کی سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے بارے میں رطب اللسانی عام فہم نہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کبھی دائمی یقین دہانی نہیں ہوتی۔ یہ اکثر ایک توقف ہوتا ہے، ایک وقفہ، ایک وقتی ضرورت۔ طاقت جب رخ بدلتی ہے تو الفاظ بھی بدل جاتے ہیں اور لہجے بھی۔ آج کی توصیف کل کی تنقید میں ڈھل سکتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندی کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ایران کی غیر متوقع مزاحمت ہے۔ قیادت کو نقصان پہنچا، انفراسٹرکچر متاثر ہوا، مگر جواب آیا اور وہ بھی بڑا تباہ کن۔ امریکی دفاعی نظام کے زعم میں مبتلا خلیجی ممالک کی فضاؤں میں خوف کی سائے لرزاں ہیں وہاں موجود امریکی اڈے براہ راست نشانے پر ہیں۔ امریکہ نے دفاعی نظام اسرائیل کر دیا تو اسی سعودی عرب کی چیخیں نکلیں جس نے امریکہ کو اس جارحیت پر اکسایا خلیجی ریاستوں کا عدم تحفظ بڑھنا فطری ہے۔ اب امریکہ بیک وقت اسرائیل اور خلیجی ممالک کے دفاع کا متحمل نہیں۔

جنگ کا ایک محاذ امریکہ کے اندر بھی گرم ہے۔ تابوت جب وطن واپس آتے ہیں تو سوال بھی ساتھ لاتے ہیں۔ ہلاکتوں کا گراف جتنا اوپر جائے گا، دباؤ بھی اتنا بڑھے گا۔ امریکی عوام طویل جنگوں سے پہلے ہی اکتا چکے ہیں۔ ان کے کاندھوں میں مزید تابوتوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔ خلیجی ممالک بھی اپنی سرزمین پر تباہی کی لمبی رات برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اگر عرب دنیا کا دباؤ بڑھا تو واشنگٹن کو طاقت کے بجائے سفارت کا راستہ اپنانا پڑ سکتا ہے۔

اور پھر وہ سوال جو ہر بڑی مہم کے ساتھ جڑا ہوتا ہے :
کیا عسکری قوت سیاسی تبدیلی بھی لا سکے گی؟

ایران کے اندر فوری حکومتی تبدیلی کا خواب ابھی تک تشنہ تعبیر ہے۔ جنگ اگر طوالت اختیار کرتی ہے تو مالی اخراجات کے علاوہ سیاسی اور اخلاقی محاذ پر بھی پسپائی ناگزیر ہوجاتی ہے۔ طاقت کا غرور اکثر وقت کے ساتھ تھک جاتا ہے۔ اگر مقاصد حاصل نہ ہوئے تو یہ مہم تاریخ میں ایک ایسے تجربے کے طور پر درج ہو سکتی ہے جس میں قوت تو بے پناہ تھی، مگر نتیجہ کمزور۔

خطہ اس وقت بارود کے ڈھیر پر نہیں، مفروضوں کے ڈھیر پر بھی کھڑا ہے۔ ہر فریق خود کو درست سمجھتا ہے، ہر بیانیہ خود کو مکمل سچ قرار دیتا ہے۔ مگر تاریخ کا فیصلہ بیانات سے نہیں، نتائج سے ہوتا ہے۔

شاید اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
یہ جنگ صرف زمین پر نہیں لڑی جا رہی، یہ اعتماد، صداقت اور طاقت کی حدوں کے بارے میں بھی ہے۔
اور جب دھواں چھٹے گا تو صرف تباہ شدہ عمارتیں نہیں، کئی دعوے بھی ملبے میں دبے ملیں گے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Sheryar jalil
Sheryar jalil
3 months ago

آپ نے امریکہ ، اسرائیل، ایران جنگ کے ساتھ بھارت کی پاکستان کے خلاف سازش کو بھی بہترین صحافتی انداز میں پرکھا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور مشرق وسطی کی صورتحال کا احاطہ بھی قابل ستائش ہے۔

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW