کیا پاکستان کی اتنی عزت افزائی کا کبھی سوچا تھا؟
شرم الشیخ میں ہونے والی بین الاقوامی امن کانفرنس میں ایک غیر متوقع لمحہ اُس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔
ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا ”میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میرے پسندیدہ پاکستانی فیلڈ مارشل تو یہاں موجود نہیں، مگر وزیراعظم شہباز شریف یہاں ہیں۔ آپ اُنہیں (جنرل عاصم منیر) میری جانب سے سلام ضرور پہنچائیں گے۔“
یہ جملے سن کر ہال میں موجود ہر شخص کی نگاہیں پاکستان کے وزیراعظم پر مرکوز ہو گئیں۔ ٹرمپ نے مائیک شہباز شریف کے حوالے کرتے ہوئے کہا ”کیا آپ وہ بات سب کو بتانا چاہیں گے جو آپ نے مجھ سے اُس دن کہی تھی؟ میرے خیال میں وہ بہت خوبصورت بات تھی۔“
شہباز شریف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نہ صرف غزہ امن معاہدے میں امریکہ کے کردار کو سراہا بلکہ ٹرمپ کو عالمی امن کے لیے ایک ”غیر معمولی رہنما“ قرار دیا۔
انہوں نے کہا ”جناب صدر، میں آپ کی قیادت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ دنیا کو اس وقت آپ جیسے انسان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ آپ نے وہ کام کیے جو شاید کسی اور کے بس میں نہ تھے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا آج ایک تاریخی دن کی گواہ ہے کیونکہ برسوں کی کشیدگی کے بعد امن قائم ہوا ہے، اور یہ سب صدر ٹرمپ کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے دوبارہ نامزد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ”صدر ٹرمپ نے نہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکا بلکہ مشرقِ و سطیٰ میں بھی لاکھوں جانیں بچائیں۔ ایسے شخص کو نوبل انعام نہ دینا دنیا کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔“
ٹرمپ، جن کے چہرے پر فخر اور حیرت کے ملے جلے تاثرات تھے، نے شہباز شریف کی تعریف سنتے ہوئے کہا ”واؤ! میں نے یہ توقع نہیں کی تھی۔ یہ واقعی بہت خوبصورت انداز میں کہا گیا۔ شکریہ شہباز شریف!“
تقریب میں موجود عالمی رہنما، جن میں برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا کے وزرائے اعظم بھی شامل تھے، نے پاکستان کے وزیراعظم کی تقریر پر تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے کلپس تیزی سے وائرل ہو گئے۔ ایک صارف نے لکھا ”شہباز شریف نے شرم الشیخ کی کانفرنس اپنے نام کر لی۔ ٹرمپ نے صرف ایک رہنما سے تقریر کروائی اور وہ پاکستان کے وزیراعظم تھے۔“
ایک بھارتی پروفیسر نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ”شہباز شریف نے ٹرمپ کی نظروں میں مودی کے لیے جگہ بنانا مشکل کر دیا ہے۔“
جبکہ ایک اور صارف نے مذاق میں لکھا ”اگر ٹرمپ اپنی الیکشن مہم میں شہباز شریف کو شامل کر لیں تو انہیں ایلون مسک کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی!“
دوسری جانب ٹرمپ حسبِ روایت اپنے مشہور مصافحے کے انداز میں بھی خبروں کا حصہ بنے۔ فرانس کے صدر میخواں کے ساتھ ان کا مصافحہ غیر معمولی طور پر طویل اور طاقتور تھا۔
ایک صارف نے تبصرہ کیا ”یہ ڈپلومیسی نہیں، بلکہ WWE اسٹائل کی سیاست ہے۔“
دوسرے نے لکھا ”ہینڈ شیک کے میدان میں ٹرمپ ناقابلِ شکست ہیں۔ کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔“
تقریب کے اختتام پر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا:
”مجھے لگتا ہے کہ اب پاکستان اور بھارت بہترین تعلقات کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔“ اور ہنستے ہوئے شہباز شریف کی طرف دیکھ کر پوچھا ”کیا میں درست کہہ رہا ہوں؟“
جس پر شہباز شریف بھی مسکرا کر بولے ”بالکل جناب صدر، اب وقت امن اور دوستی کا ہے۔“
یوں ایک لمحے کے لیے ساری دنیا نے دیکھا کہ ایک پاکستانی وزیراعظم عالمی اسٹیج پر نہ صرف اپنے ملک کی عزت بڑھا رہا ہے بلکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، امن پسند اور باوقار ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ واقعی، کیا پاکستان کی اتنی عزت افزائی کا کبھی سوچا تھا؟

