مضبوط لوکیشن، اچھا پراجیکٹ۔ پھر بھی سیلز کیوں نہیں ہوتیں؟
پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں ایک عجیب تضاد بار بار نظر آتا ہے۔ بعض اوقات رئیل اسٹیٹ پراجیکٹ کی لوکیشن بہت بہترین ہوتی ہے، جگہ اور زمین تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہوتی ہے، ڈویلپمنٹ بھی مناسب رفتار سے چل رہی ہوتی ہے، حتیٰ کہ لانچنگ بھی شاندار انداز میں کی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود سیلز رک جاتی ہے یا آپ یہ کہیں کہ معیاری سیلز نہیں ہوتی۔ دوسری طرف کچھ ایسے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس بھی ہوتے ہیں جن میں نہ لوکیشن غیر معمولی ہوتی ہے اور نہ ہی پراڈکٹ بہت منفرد، مگر وہ مارکیٹ میں تیزی سے فروخت ہو جاتے ہیں۔ اس فرق کو صرف ”قسمت“ یا ”مارکیٹ خراب ہے“ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل مسئلہ اکثر ”پراڈکٹ“ میں نہیں بلکہ ”کمرشلائزیشن“ اور ”سیلز سسٹم“ میں ہوتا ہے۔
اکثر ڈویلپرز یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اچھی زمین خرید لی، خوبصورت گیٹ بنا دیا، چند سڑکیں تیار کر دیں اور ایک بڑا ایونٹ لانچ کر لیا اور اس میں مشہور کاروباری، سماجی، سیاسی شخصیات کو مدعو کیا تو پراجیکٹ خود بخود فروخت ہونا شروع ہو جائے گا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ رئیل اسٹیٹ صرف زمین بیچنے کا نام نہیں بلکہ اعتماد، نفسیات، مارکیٹ پوزیشننگ اور مسلسل فالو اپ کا کھیل ہے۔ پاکستان کا خریدار صرف فائل نہیں خریدتا، وہ اپنے مستقبل، تحفظ اور سرمایہ کے محفوظ ہونے کا یقین خریدتا ہے۔ اگر مارکیٹ کو یہ یقین نہ ملے تو بہترین پراجیکٹ بھی سست روی کا شکار ہو جاتا ہے۔
بہت سے پراجیکٹس لانچ کے ابتدائی مہینوں میں اچھی رفتار دکھاتے ہیں لیکن پھر اچانک مارکیٹ کی دلچسپی ختم ہونے لگتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ابتدائی سیلز اصل ڈیمانڈ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ”لانچ ہائپ“ پر ہوتی ہیں۔ دوست، رشتہ دار، قریبی ڈیلرز اور چند ابتدائی سرمایہ کار وقتی ماحول بنا دیتے ہیں، مگر جب اصل مارکیٹ میں پراجیکٹ کو اپنی جگہ بنانی ہوتی ہے تو کمزوریاں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر ڈویلپر کے پاس واضح سیلز سسٹم، مسلسل مارکیٹنگ اسٹریٹجی اور مضبوط ڈیلر انگیجمنٹ نہ ہو تو پراجیکٹ کی رفتار بیٹھ جاتی ہے۔
مارکیٹ پوزیشننگ کی غلطیاں بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ بعض ڈویلپرز ہر قسم کے خریدار کو ایک ساتھ ٹارگٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پراجیکٹ کی واضح شناخت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایک پراجیکٹ یا تو سرمایہ کار کے لیے ہونا چاہیے، یا اینڈ یوزر کے لیے، یا کسی مخصوص طبقے کے لیے۔ جب آپ کا پیغام ہر ایک کے لیے ہو تو حقیقت میں وہ کسی کے لیے بھی موثر نہیں رہتا۔ پاکستان کی مارکیٹ میں خریدار بہت جذباتی اور غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہونے والا ہوتا ہے۔ وہ صرف قیمت نہیں دیکھتا بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ”مارکیٹ اس پراجیکٹ کے بارے میں کیا سوچ رہی ہے؟“
پرائسنگ اور انسٹالمنٹ اسٹرکچر بھی اکثر سیلز کی ناکامی کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔ کچھ ڈویلپرز قیمت اتنی زیادہ رکھ دیتے ہیں کہ مارکیٹ کی قوتِ خرید سے باہر چلی جاتی ہے، جبکہ کچھ اتنی کم قیمت لگا دیتے ہیں کہ خود پراجیکٹ کی کریڈیبلٹی مشکوک لگنے لگتی ہے۔ اسی طرح غیر متوازن اقساط، بھاری ششماہی یا سہ ماہی اقساط، یا غیر واضح مالی شرائط خریدار کو ذہنی دباؤ میں ڈال دیتی ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر خریدار کیش فلو کے حساب سے فیصلہ کرتا ہے، اس لیے انسٹالمنٹ پلان صرف ”فنانشل شیٹ“ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی حکمتِ عملی بھی ہوتا ہے۔
پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سب سے بڑا مسئلہ ”ٹرسٹ ڈیفیسٹ“ یعنی اعتماد کی کمی ہے۔ لوگ اب صرف بروشر، ماڈل یا سوشل میڈیا اشتہار دیکھ کر سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ ماضی میں ہزاروں افراد مختلف ہاؤسنگ اسکیموں، جعلی وعدوں اور تاخیر کا شکار پراجیکٹس سے متاثر ہو چکے ہیں، اسی لیے آج کا خریدار ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ بدقسمتی سے کئی ڈویلپرز خود بھی اس عدم اعتماد کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ابتدائی لانچنگ کے دوران وہ اپنی سیلز ٹیم، ڈیلرز اور مارکیٹنگ پارٹنرز کے ذریعے مارکیٹ میں اعتماد اور رفتار پیدا کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی فوری سرمایہ کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ رات کے اندھیروں، بند کمروں یا محدود حلقوں میں کمزور شرائط پر براہِ راست ڈیلز شروع کر دیتے ہیں۔ بظاہر انہیں لگتا ہے کہ وہ فوری سرمایہ حاصل کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنی ہی مارکیٹ، اپنے ہی ڈیلرز اور اپنے ہی پراجیکٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس رویے کے باوجود انویسٹرز اور ڈیلرز ہر نئے پراجیکٹ میں دوبارہ انہی ڈویلپرز پر اعتماد کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، کیونکہ پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ابھی تک زیادہ تر تعلقات، امید اور ”شاید اس بار بہتر ہو“ والی نفسیات پر چل رہی ہے، نہ کہ مکمل پروفیشنل سسٹمز پر۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ وقتی طور پر چل تو جاتی ہے، لیکن پائیدار اعتماد پیدا نہیں ہو پاتا۔
پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سب سے بڑا مسئلہ ”ٹرسٹ ڈیفیسٹ“ یعنی اعتماد کی کمی ہے۔ لوگ اب صرف بروشر، ماڈل یا سوشل میڈیا اشتہار دیکھ کر سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ ماضی میں ہزاروں افراد مختلف ہاؤسنگ اسکیموں، جعلی وعدوں اور تاخیر کا شکار پراجیکٹس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اسی لیے آج کا خریدار ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر ڈویلپر کی ساکھ، ٹیم کا پروفیشنل ازم، کمیونیکیشن کا انداز اور مارکیٹ میں موجودگی مضبوط نہ ہو تو اعتماد پیدا نہیں ہوتا، اور اعتماد کے بغیر رئیل اسٹیٹ کی سیلز لمبے عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں صرف ”اچھا پراجیکٹ“ کامیابی کی ضمانت نہیں۔ کامیابی اس ڈویلپر کو ملتی ہے جو مارکیٹ کو سمجھتا ہو، خریدار کی نفسیات کو جانتا ہو، اپنی سیلز ٹیم کو منظم رکھتا ہو، اور پراڈکٹ کو صحیح انداز میں کمرشلائز کرنا جانتا ہو۔ رئیل اسٹیٹ میں ناکامی اکثر زمین کی نہیں، سوچ، سسٹم اور حکمتِ عملی کی ناکامی ہوتی ہے۔

