پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کے خطے پر اثرات

حال ہی میں ہونے والے پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خطے کے ممالک اس معاہدے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں کیا یہ معاہدہ عالمی طاقتوں کی مرضی کے خلاف طے پایا اور کیا اس معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا یا یہ معاہدہ خطے میں توازن اور استحکام پیدا کرے گا؟ ان تمام باتوں کا جائزہ لینے سے پہلے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا یہ دفاعی تعاون ایک معاہدہ ہے، کوئی ٹریٹی نہیں ہے، قانونی طور پر معاہدے کی حیثیت کسی ٹریٹی جیسی نہیں ہوتی، ٹریٹی قانونی طور پر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں جیسے انڈس واٹر ٹریٹی، جسے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت ختم نہیں کر پا رہا اسی طرح ناٹو اتحاد ایک ٹریٹی ہے، یہ وہ معاہدات ہیں جن سے نکلنے یا شامل ہو نے کے لیے سخت شرائط کو پورا کرنا پڑتا ہے، جب کے معاہدے کو جاری یا ختم کرنے کے لیے کڑی شرائط پر پورا اترنا ضروری نہیں ہوتا۔ لیکن جب دو ممالک معاہدات بھی کرتے ہیں تو اس سے ان ممالک کے درمیان کسی بھی معاملے پر ان کی سنجیدگی کا اظہار ہوتا ہے اور ممالک جب کسی معاملے پر ہم آہنگ ہوتے ہیں تب ہی اس شعبے میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے معاہدے کی شکل دی جاتی ہے۔
اب بات کرتے ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کی، جس کی تمام تر تفصیلات تو واضح نہیں ہیں لیکن جو تفصیلات مہیا کی گئیں ہیں اس کے مطابق ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور ہو گا، غالباً یہ اس معاہدے کی سب سے اہم شق ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اگر اس درج بالا نکتے پر متفق ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ کسی ملک پر حملے کی صورت میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے کیا تعاون کر سکتے ہیں؟
پاکستان
ایک ایٹمی طاقت ہونے کے سبب پاکستان عسکری لحاظ سے ایک مضبوط ملک تصور کیا جاتا ہے، گزشتہ کچھ عرصے میں چینی تعاون کی وجہ سے پاکستان نے جدید جنگی معاملات میں حیران کن ترقی کی ہے جس کا اظہار پاکستان نے بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن سندور کے دوران بھی کیا جب پاکستان نے جدید الیکٹرانک وار فیئر کے ذریعے بھارت کے مبینہ طور پر چھ سے زائد جنگی جہاز جن میں جدید ترین فرانسیسی ساختہ چار رافیل جہاز بھی شامل ہیں مار گرائے، اس کے ساتھ ساتھ ملٹی ڈومین فضائی قابلیت، جدید میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر صلاحیت، پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ پاکستان نا صرف اپنی خودمختاری کا مکمل تحفظ کر سکے بلکہ کسی دوسرے ملک کے دفاع کو بھی ممکن بنا سکے، پاکستان کی افواج پہلے بھی دفاع کے لیے سعودی عرب کی سرزمین پر خدمات انجام دیتی آ رہی ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت بھی سعودی عرب کی سرزمین پر پندرہ سو سے دو ہزار تک فوجی اہلکار موجود ہیں جو سعودی عرب کے عسکری اہلکاروں کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ دفاعی خدمات بھی انجام دے رہے ہیں، تاہم اس معاہدے کے بعد پاکستانی افواج، سعودی عرب میں اپنی تعداد میں اضافہ بھی کر سکتی ہیں اور دونوں ممالک کے اعلی عہدے داروں نے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے کہ اس دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کو نیوکلیئر چھتری بھی فراہم کر سکتا ہے۔
سعودی عرب
معدنی ذخائر سے مالامال سعودی عرب کے پاس جدید اسلحہ تو موجود ہے مگر سعودی عرب کا اس اسلحے کی ترسیل پر مکمل انحصار امریکہ اور مغرب پر ہے، اس کے ساتھ ساتھ سعودی افواج کو کسی جنگ کا تجربہ بھی نہیں ہے اور نا ہی سعودی مسلح افواج کی تربیت ان خطوط پر کی گئی ہے کہ وہ کسی ملک کی تربیت یافتہ فوج کے ساتھ کوئی پیچیدہ یا لمبی جنگ کر سکیں، سعودی عرب کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں ہے مگر انہوں نے اپنے دفاع کی ذمہ داری ہمیشہ دوسرے ممالک کے سپرد رکھی اوائل دور میں یہ دفاعی تعاون مصر، اردن پھر پاکستان اور اب سعودی عرب کے دفاع کی ذمہ داری کلی طور امریکہ کے حوالے ہے۔ ایسے میں پاکستان سے دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب پاکستان کو کس قسم کا تعاون فراہم کر سکتا ہے؟
میری رائے میں اس دفاعی معاہدے سے پاکستان کو کئی جہتی فائدہ ہو گا۔ یہ امید رکھنا کہ اس دفاعی معاہدے کے بعد اگر پاکستان پر کوئی حملہ ہوا تو سعودی افواج، پاکستان کی سرزمین کا دفاع کرنے آ جائیں گی تو شاید یہ تو ممکن نا ہو اور نا ہی پاکستان کو سعودی افرادی قوت کی ضرورت ہو، البتہ سعودی عرب پاکستان کو امن اور دوران جنگ اہم لاجسٹک اور مالی مدد ضرور فراہم کر سکتا ہے جس سے پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ہو سکتا ہے، مثال کے طور پر پاکستان کے بہت سے دفاعی منصوبے جیسے دفاعی خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے، دیسی ساختہ پی ایف ایکس جدید لڑاکا جنگی جہاز کی تیاری، جدید ملٹری ہارڈ وئیر کی خریداری جیسے منصوبے جو فنڈز کی تنگی کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں، سعودی مالی معاونت کے ساتھ یہ منصوبے تیزی کے ساتھ مکمل کیے جا سکتے ہیں، پاکستان میزائل ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دے سکتا ہے اور یہ جدید ٹیکنالوجی سعودی عرب کو بھی منتقل کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ مالی مسائل کے سبب پاکستان طویل جنگ نہیں لڑ سکتا، لیکن اس معاہدے کے بعد سعودی عرب سے مسلسل تیل کی ترسیل اور مالی معاونت، پاکستان کو طویل جنگ لڑنے کے قابل بھی بنا سکتی ہے۔
اسی طرح کچھ غیر عسکری منصوبے جیسے بھاشا ڈیم اور پانی کے ذخائر کی تعمیر کے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل، یہ وہ قومی سلامتی کے منصوبے ہیں جن سے پاکستان کی بنیاد کو مزید مضبوطی حاصل ہوتی ہے اور خاص طور پر بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی اور سندھ طاس منصوبے کی معطلی جیسے اقدامات کی وجہ سے آبی ذخائر کی جلد از جلد تکمیل کی ضرورت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سعودی عرب کے جانب سے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری ان منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
خطے کے ممالک پر معاہدے کے اثرات
بھارت:
بھارت کے پاکستان سے تعلقات تقسیم ہند کے بعد سے ہی تناؤ کا شکار رہے ہیں لیکن سعودی عرب کے ساتھ بھارت کے تعلقات کبھی بھی کشیدہ نہیں رہے، بلکہ سعودی عرب، بھارت کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہے، سعودی عرب تقریباً بتیس ارب ڈالر کا تیل اور دیگر مصنوعات بھارت کو برآمد کرتا ہے جب کہ بھارت، سعودی عرب کو سالانہ کم و بیش بارہ ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے، اس کے علاوہ تقریباً تیس لاکھ بھارتی، روزگار کے حصول کے لیے سعودی عرب میں مقیم ہیں جس سے بھارت کو بارہ ارب ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ حاصل ہوتا ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں سعودی عرب کس کے ساتھ کھڑا ہو گا؟ معاہدے کے مطابق اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو کیا سعودی عرب بھی بھارت پر حملے کا اعلان کر دے گا؟ تو جیسے شروع میں بیان کیا گیا کہ پاکستان، سعودی عرب دفاعی تعاون ایک معاہدہ ہے، کوئی ٹریٹی نہیں، جس پر ان ہی معنوں میں عمل درآمد کیا جائے جیسا کے معاہدے میں سمجھا گیا ہے، مثال کے طور پر ایسا سمجھنا دانشمندی نہیں ہوگی کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں سعودی عرب بھارت سے تعلقات ختم کر کے پاکستان کی حمایت میں کھڑا ہو گا، تاہم سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو بلاتعطل تیل کی ترسیل اور دیگر مالی اور لاجسٹک مدد جنگ کے دوران پاکستان کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کر سکتی ہے، اس دفاعی معاہدے کی وجہ سے بھارت بھی سعودی عرب پر کوئی قابل ذکر دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا، کیونکہ اگر سعودی عرب کی بھارت کو بتیس ارب ڈالر کی برآمدات ہیں تو بھارت بھی سعودی عرب کو اربوں ڈالر کی برآمدات کرتا ہے اور بھارت کو سعودی عرب سے اربوں ڈالر کے ترسیلات زر بھی حاصل ہوتا ہے جس کی اہمیت امریکی اقدامات جیسے ایچ۔ ون بی ویزہ کی فیس ایک لاکھ ڈالر تک ہونے سے اور بھی بڑھ جاتی ہے، اس امریکی اقدام سے سب سے زیادہ بھارتی متاثر ہوں گے، کیونکہ یہ ویزہ اکہتر فیصد بھارتیوں کو ملتا تھا اس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے گرین کارڈ ہولڈرز اور غیر مستقل یا اسٹوڈنٹ ویزہ پر رہنے والے بھارتیوں پر امریکہ سے ترسیلات زر بھارت بھیجنے پر ٹیکس جیسے اقدامات سے امریکہ سے حاصل ہونے والے زر مبادلہ میں کمی آ سکتی ہے اس صورتحال میں سعودی عرب سے بھارت کو بھیجے جانے والے ترسیلات زر کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، لیکن اس سے اہم بات یہ ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے سے ایک ڈیٹرنس یا رکاوٹ پیدا ہو جائے گی اور مستقبل میں بھارت کو آپریشن سندور شروع کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنا پڑے گا کہ سعودی عرب جیسے ملک کا پاکستان کی ساتھ ایک انتہائی مضبوط دفاعی معاہدہ ہے۔
اسرائیل:
غزہ کی صورتحال، مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت، اور خاص طور پر اسرائیل کے قطر پر ہونے والے فضائی حملے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے، سعودی عرب اور پاکستان کے اعلی سطح کے حکومتی اہلکاروں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر اس دفاعی معاہدے کے مطابق پاکستان، سعودی عرب کو نیوکلیئر چھتری بھی فراہم کر سکتا ہے، تجزیہ کاروں کے نزدیک اس معاہدے سے اسرائیل کو بالواسطہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مستقبل میں قطر حملے جیسے کسی جارحیت کی صورت میں اسرائیل کے لیے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔
ایران
ایران خطے کا ایک اہم ملک ہے جس کی ماضی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کافی کشیدہ رہے ہیں، اور ایران اپنے پراکسیز کے ذریعے سعودی عرب کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، مگر چین کے تعاون سے ہونے والے سعودی عرب، ایران مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی حد تک معمول پر آ چکے ہیں اور حال ہی میں ہونے والی اسرائیل ایران جنگ میں سعودی عرب نے کھل کر اسرائیلی جارحیت کی مذمت بھی کی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے بعد سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو فون کر کے ان کو اعتماد میں بھی لیا، یہی وجہ تھی کہ جرنل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے پاک سعودی دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے جامع سکیورٹی نظام کا نقطہ آغاز قرار دیا۔
پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ اور امریکہ
تجزیہ کاروں کے نزدیک امریکہ کی مشرق وسطی میں کوئی واضح پالیسی نہیں ہے، بلکہ انگریزی مقولے، Tail wagging the dog کے مصداق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل خطے میں امریکی پالیسی بنوا رہا ہے، امریکی پالیسی سازی کے اداروں میں بے پناہ اسرائیلی اثر و رسوخ کے باعث شاید امریکی صدر ٹرمپ بھی بعض اسرائیلی اقدامات کو روک نہیں پا رہے ہیں، ممکن ہے کہ پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کو ٹرمپ انتظامیہ کی پس پردہ حمایت بھی حاصل ہو، کیونکہ دفاعی معاہدے کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب ضرورت پڑنے پر نیوکلیئر چھتری فراہم کرنے کی بات امریکہ کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کر سکتے، ٹرمپ کا مقصد بھی اس معاہدے کے ذریعے ممکن ہے کہ اسرائیل کو یہ پیغام پہنچانا ہو کہ مستقبل میں اسرائیل کی جانب سے قطر جیسے فضائی حملے کی صورت میں صورتحال کس قدر تشویشناک ہو سکتی ہے۔
خلاصہ:
پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد دراصل خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا نہیں بلکہ جنگ یا جارحیت کے خلاف ایک ڈیٹرنس پیدا کرنا ہے، اس معاہدے سے ایک طرف
اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو لگام دینے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف بھارت کو پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان دنیا میں تنہا نہیں ہے، پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت کا حامل ملک ہونے کے ناتے نا صرف اپنا دفاع کر سکتا ہے بلکہ دنیا کے اہم ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، لہٰذا بھارتی حکمران محض اپنی داخلی سیاست کو چمکانے کے لیے خطے کو جنگ میں جھونکنے سے باز رہیں، اس معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان خطے میں ایک ابھرتی طاقت بن کر بھی ابھرا ہے اور بھارت کے Quad جیسے معاہدے میں شمولیت کے بعد پاکستان چین دفاعی تعاون کا مقصد پاکستان کو نا صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطی کے خطے کی بھی لیڈنگ فوجی قوت بنانا ہے، اور پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ اس مقصد کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

