ایچ پی وی ویکسین: سازش یا سائنس؟

ہمارے ہاں ایک دلچسپ المیہ ہے کہ زندگی کے اصل مسائل کو نظرانداز کر کے ہم ان چیزوں پر بحث شروع کر دیتے ہیں جنہیں دنیا کئی دہائیوں پہلے حل کر چکی ہے۔ دودھ میں پانی کی ملاوٹ، تیل میں کیمیکل، دوائی میں جعل سازی۔ یہ سب ہماری روزمرہ حقیقت کا حصہ ہیں لیکن ان پر ہم ایک آدھ جملہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر جب بات ویکسین کی آتی ہے تو ہماری آنکھوں میں سازشی تھیوریوں کا ایسا طوفان اٹھتا ہے کہ جیسے باقی دنیا فارغ ہی اس بات کے لیے بیٹھی ہے کہ پاکستان کے عام شہری کی صحت برباد کر دی جائے۔
ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی رویہ ہے۔ اس وائرس کا نام سن کر شاید زیادہ لوگوں کے چہرے پر سنجیدگی نہ آئے، لیکن یہ وائرس ہے کیا؟ ہیومن پیپیلوما وائرس دراصل ایک ایسا انفیکشن ہے جو کئی طریقوں سے جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومی خیال یہ ہے کہ یہ صرف جنسی تعلق کے ذریعے پھیلتا ہے، لیکن یہ بات سچ نہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں آبادی کا تقریباً 23 فیصد اس وائرس سے متاثر ہے، جن میں بیس ملین خواتین شامل ہیں۔ اس وائرس کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ یہ سروائیکل کینسر کا بنیادی سبب ہے، جو ہمارے ملک میں خواتین میں تیسرے بڑے کینسر کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں اس کے خلاف جو ویکسین متعارف ہوئی ہے، اس کے بارے میں ہمارے ہاں یہ بے اعتمادی کیوں پائی جاتی ہے؟ اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے سائنسی تحقیق اور سچائی سے زیادہ بھروسا واٹس ایپ یونیورسٹی اور یوٹیوب اسکالرز پر کر لیا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ مغربی سازش ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ بانجھ پن پیدا کر دے گی، اور کبھی یہ خیال پھیلایا جاتا ہے کہ یہ ویکسین ہمیں تجربہ گاہ کے چوہے بنانے کے لیے دی جا رہی ہے۔ حقیقت مگر کچھ اور ہے۔
یہ ویکسین سب سے پہلے انیس سو نوے کی دہائی میں تیار ہوئی، اور پھر برسوں کی ریسرچ اور تجربات کے بعد دو ہزار چھ میں امریکہ میں عام استعمال کے لیے منظور ہوئی۔ آج یہ دنیا کے سو سے زائد ممالک میں دی جا رہی ہے۔ کیا واقعی یہ ممکن ہے کہ مغرب اپنی ہی نسلوں پر ایسی ”سازش“ آزما رہا ہو جس سے صرف پاکستان کو نقصان پہنچے؟ اگر یہ سازش ہے تو پہلے نشانہ تو مغرب کے اپنے شہری بنے ہیں۔
رہی بات بانجھ پن کی۔ تو اس ویکسین کے اجزا میں کوئی ایسی چیز ہی نہیں جو براہ راست یا بالواسطہ تولیدی نظام پر اثر ڈال سکے۔ دنیا بھر کی سائنسی تحقیقات نے اس خیال کو یکسر مسترد کیا ہے۔ ایک اور عام خدشہ یہ ہے کہ اگر ویکسین ایکسپائر ہو جائے تو نقصان کرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایکسپائرڈ ویکسین صرف بے اثر ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے مقصد کو پورا نہیں کر پاتی، مگر جسم کے لیے کسی نقصان کا باعث بھی نہیں بنتی۔
یہ سوال بھی اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آخر ہمیں ہی کیوں یہ ویکسین مفت میں فراہم کی جا رہی ہے؟ کیا واقعی مغرب اتنا ”مہربان“ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر فلاحی ادارے اس وائرس کو دنیا بھر سے ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد صرف ترقی پذیر ممالک کی ہمدردی نہیں، بلکہ اپنی حفاظت بھی ہے۔ اگر ترقی پذیر ممالک کے متاثرہ افراد ان کے ملکوں میں جائیں گے تو وہاں بھی بیماری پھیل سکتی ہے۔ اس لیے یہ ویکسین دینا دراصل ایک اجتماعی حکمتِ عملی ہے۔ جس میں ان کا فائدہ بھی ہے اور ہمارا بھی۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب پولیو ویکسین بنائی گئی تھی تو اس کے خالق نے اس پر پیٹنٹ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا کے ہر ملک اور ہر انسان تک یہ پہنچے تاکہ انسانیت کو بچایا جا سکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج دنیا کے بیشتر حصوں میں پولیو ختم ہو چکا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اسی مثال کو یاد کرتے ہوئے بھی اپنے رویے نہیں بدلتے۔ ہم پولیو کے باب میں بھی شکوک و شبہات پیدا کرتے رہے اور اب یہی رویہ ایچ پی وی ویکسین کے بارے میں اپنائے ہوئے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں علم اور شعور کی بجائے جذبات اور افواہیں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم یہ سوچنے پر تیار نہیں کہ اگر یہ ویکسین واقعی کارآمد ہے تو اس سے سب سے پہلے فائدہ ہماری ہی نسلوں کو پہنچے گا۔ یہ ہمیں ایک ایسی بیماری سے بچائے گی جو خاموشی سے خواتین کی زندگیاں نگل رہی ہے۔ پھر بھی اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ یہ سازش ہے اور اسے نہیں لگوانی چاہیے، تو کوئی اسے زبردستی قائل نہیں کر سکتا۔ فیصلہ ہر شخص کا ذاتی حق ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ فیصلہ خوف اور وہم کی بنیاد پر نہیں بلکہ سچائی اور تحقیق کی بنیاد پر ہو۔
دنیا سازشی تھیوریوں سے آگے بڑھ کر مسائل حل کرتی ہے، ہم کب تک آنکھوں پر پٹی باندھے بیٹھے رہیں گے؟ ویکسین ہمارے لیے ایک موقع ہے، اس بیماری کے آگے بند باندھنے کا۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے اپناتے ہیں یا پھر آنے والی نسلوں کو انہی سوالوں اور انہی تکالیف کے حوالے کر دیتے ہیں۔

مبشرہ آپ نے اہم موضوع پر قلم اٹھا کر بہت اہم کام کیا ہے دوسرا آہ نے اس قدر سادہ الفاظ میں اس کی وضاحت کی ہے کہ
کاش کے تیرے دل میں اتر جاے میری بات اس بیماری کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ صفائی کا طریقہ کار ہے جو کہ تراکیب پذیر ممالک میں گھروں میں بھی میسر نہیں۔جس کا ہمیں خاص اہتمام کرنا چاہیے ۔صفائی نصف سی ایمان ہے۔ہمارے ہاں باتھ روم باہر یعنی سکول کالج یا کام کی جگہوں پر مسئلہ