اداریہ۔کالم۔

پولیس حراست میں ملزموں کی ہلاکت، انصاف کا قتل ہے!

syed mujahid ali

21 اگست کو لین دین کے معمولی جھگڑے پر رائے ونڈ میں دو جواں سال بھائیوں کو چند افراد نے بے دردی سے زد و کوب کر کے ہلاک کر دیا۔ مقتولین کے والد کی درخواست پر ایف آئی آر درج کر کے پولیس نے قتل میں ملوث دو بنیادی ملزمان سمیت دیگر افراد کو بھی حراست میں لے لیا۔ ایک ہفتے بعد گرفتار شدہ دونوں ملزم ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ‘ سے پولیس حراست میں ہلاک ہو گئے۔ پولیس سرخرو اور ’انصاف‘ کا بول بالا ہو گیا۔

پاکستانی عوام ابھی ہفتہ پہلے بہیمانہ طور سے قتل کیے جانے والے نوجوانوں کے صدمے پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بحث ہو رہی تھی کہ کیا انسانیت بالکل دم توڑ چکی ہے کہ سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں چند لوگ دو نوجوانوں پر تشدد کرتے ہیں اور ڈنڈوں و کرکٹ بیٹ کے مسلسل وار کر کے انہیں لہولہان کر دیتے ہیں۔ ایک بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہوجاتا ہے اور دوسرے کو ہسپتال پہنچنے کے باوجود طبی امداد نہیں مل پاتی۔ ایسے واقعہ میں زخمی ہونے والے مضروبین کے لیے مقررہ ہسپتال تک پہنچتے پہنچتے دوسرا بھائی بھی اپنے باپ اور بھائیوں کے ہاتھوں میں دم توڑ دیتا ہے۔

واقعہ ایک تھا لیکن سوال کئی تھے۔ پوری قوم حیرت زدہ تھی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دو لوگوں کو ہلاکت خیز ضربیں لگائی جا رہی ہوں اور سب صرف ویڈیو بنانے میں مصروف ہوں۔ کسی کو اتنا حوصلہ نہ ہو کہ وہ آگے بڑھ کر مارنے والوں کا ہاتھ روکے اور زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کی کوشش کرے۔ کسی ایک میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ایسی بھیانک صورت حال میں جو شہر کی فروٹ منڈی کے عین بیچ رونما ہو رہا تھا، دو انسانوں کی جان بچانے کی کوشش کر سکتا۔

کسی کو آتشیں اسلحہ سے قتل کیا جائے اور ملزم مفرور ہو جائے تو بھی حجت تلاش کی جا سکتی ہے کہ مرنے والے کو بچانا ممکن ہی نہیں تھا لیکن مارنے والے ڈنڈوں سے حملہ آور ہوں اور نشانے پر دو صحت مند جوان ہوں تو ایسی ہلاکت دفعتاً نہیں ہوتی۔ اس میں کچھ وقت ضرور درکار ہوتا ہے۔ ایسے میں ’تماشائیوں‘ کو ویڈیو بنانے اور یہ دیکھنے کی فرصت تو تھی کہ ’دیکھیں اب کیا ہوتا ہے‘ ۔ لیکن موبائل عام ہونے کے اس زمانے میں کسی شہری کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ پولیس کو فون کر کے موقع پر پہنچنے اور انسانی زندگی بچانے کی اطلاع دیتا۔ ممکن ہے کہ کسی شخص نے اپنی سی کوشش کی بھی ہو تاہم کسی خبر میں یہ اطلاع موجود نہیں ہے کہ پولیس وقوعہ پر پہنچی اور انسانوں کی جان بچانے کی کوشش کی۔ قیاس یہی ہے کہ یا تو ’تماشے کی دھن‘ میں کسی کو پولیس کو بلانے کا ہوش ہی نہیں رہا۔ یا پھر متعلقہ تھانے میں اوّل تو کسی نے فون اٹھانے کی زحمت ہی نہ کی ہو اور اگر اٹھایا بھی ہو گا تو محرر کے پاس ایسی ’غیر سنجیدہ‘ اطلاع پر غور کرنے یا کارروائی کرنے کا موقع ہی نہ ہو۔ اہل پاکستان کی تشفی کے لیے ایک آسان فقرہ موجود ہے کہ ’جو اللہ کو منظور تھا ہو گیا‘ اور یہ اندازہ نہیں جا سکتا کہ اس ایک فقرے سے کتنے لوگ اپنی شہری یا پیشہ ورانہ ذمہ داری نظر انداز کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

دو معصوم بھائیوں کی جان گئی۔ ابھی یہ سوچنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ دیکھیں ملک کا پولیس نظام کیسے ملزموں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لاتا ہے اور کیسے کوئی عدالت دہشت گردی اور قتل کی اس انسانیت سوز کارروائی میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دیتی ہے۔ لیکن ایک بار پھر پولیس نے اطلاع دی ہے کہ زیر حراست ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس صدر انویسٹیگیشن لاہور میاں معظم علی کا کہنا ہے کہ ’آج صبح پولیس زیر حراست دونوں ملزمان کو نشاندہی کے لیے رائیونڈ لے جا رہی تھی، جہاں ملزمان کے ساتھیوں نے اچانک پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے دوران فائرنگ سے زیر حراست دونوں مرکزی ملزمان اویس اور تیمور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے ساتھی فرار ہو گئے‘ ۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سی سی ڈی چوہنگ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

پاکستان کا کون سا شہری ہے جس نے یہ کہانی پہلی بار سنی ہو؟ ایک سی صورت حال، ایک ہی طریقہ، ایک ہی کہانی اور ایک ہی عہدے کے افسر کا معلوماتی بیان اور کہانی ختم۔ انصاف کی فراہمی اگر اتنی ہی ارزاں ہے تو پھر قانون بنانے اور عدالتوں کا بھاری بھر کم نظام استوار کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی جاتی ہے؟ ملک کے نظام عدل پر ہزار طرح انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں لیکن ان اعتراضات میں عام طور سے سیاسی پہلو اجاگر ہوتا ہے۔ کبھی یہ بحث سننے میں نہیں آتی کہ شہریوں کی حفاظت کا کون ذمہ دار ہے۔ پوچھا جائے کہ وہ پولیس عام شہریوں کی جان بچانے کا اقدام کیسے کرے گی جو اپنی تحویل میں موجود ملزموں کو بچانے میں کامیاب نہیں ہوتی۔

حیرت انگیز طور پر ایسے وقوعہ کے فوری بعد ملزمان اچانک اتنے طاقت ور اور با اثر ثابت ہوتے ہیں کہ ان کے حامی مسلح جتھا بنا کر اپنے ساتھیوں کو رہا کرانے کی منصوبہ بندی کرنے لگتے ہیں اور معصوم پولیس جوں ہی ان کے سامنے آتی ہے تو بے بس و لاچار ہوجاتی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایسے حملوں میں حملہ آور کے نشانے پر ہمیشہ ان کے وہی ساتھی آتے ہیں جنہیں پولیس سے رہا کرانے کے لیے یہ کارروائی کی جاتی ہے۔ یعنی مسلح لوگوں کا گروہ اپنے ساتھیوں کی رہائی کرتے ہوئے درحقیقت ان کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ لیکن انہیں اپنی حراست میں لے کر کسی خاص جگہ پر لے جانے والے کسی پولیس اہلکار کو کوئی گزند نہیں پہنچتی۔

اس سے بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ دو بھائی ایک عام گزرگاہ پر تشدد سے قتل ہو گئے لیکن ملکی میڈیا میں سیاست اور نظام کی تبدیلی کے معاملات زیر بحث رہے۔ اخباروں کی سرخیوں اور ٹیلی ویژن کے ٹکرز میں سیاسی فیصلے اور ان کے نتائج پر غور خوض کی نشاندہی ہوتی رہی۔ با امر مجبوری سیلاب کی خبریں دی گئیں لیکن محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ملک کا میڈیا ایسی خبروں پر کوئی خاص اطمینان محسوس نہیں کرتا۔ اس کی دلچسپی تو ’اندر کی خبر لانے‘ کسی انقلاب کی رونمائی کرنے، کسی قید کی طوالت، کسی معافی نامے پر غور یا کسی سیاسی معاہدے کے خد و خال استوار کرنے میں معاونت ہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اب پولیس کی حراست میں پنجاب کے عین قلب میں صوبائی حکومت کے مرکز کے قریب دو نوجوان ہلاک کر دیے گئے اور میڈیا کی اکثریت نے اس خبر کو رپورٹ کرنا بھی ’غیر ضروری‘ سمجھا۔ یہ رویہ بھی درحقیقت اس وسیع تر سماجی بے حسی کی عکاسی کرتا ہے جو ہمارے متعدد قومی مسائل کی جڑ بن چکا ہے۔

پانچ دن پہلے اوسلو کے وسط میں ایک 18 سالہ نوجوان نے نسلی منافرت کی بنیاد پر بچوں کے ایک ادارے میں کام کرنے والی ایتھوپین نژاد 34 سالہ تمیمہ نبراس جوہار کو قتل کر دیا۔ یہ خاتون رات کے وقت تنہا ڈیوٹی پر موجود تھی کہ اسی انسٹی ٹیوٹ میں رہنے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے اسے قتل کر دیا۔ پولیس نے چند گھنٹوں میں قاتل کو گرفتار کر لیا۔ اس نے نہ صرف قتل کا اعتراف کیا بلکہ یہ بھی مانا کہ اس نے سیاسی وجوہات کی بنیاد پر قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔ اب پولیس بتا رہی ہے کہ ملزم شاید مزید لوگوں کو قتل کرنے اور ایک مسجد پر حملہ کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے۔ ہفتہ کی رات کو ہونے والے اس سانحہ کی خبریں اب تک ہر نارویجئن میڈیا میں نمایاں طور سے شائع یا نشر کی جا رہی ہیں۔ سیاست دان اور سماجی ماہرین ان عوامل کا سراغ لگانے کی جد و جہد کر رہے ہیں جن کی وجہ سے ایسی انتہا پسندی کے رجحانات پیدا ہوتے کہ ایک نوجوان دوسرے انسان کو ہلاک کرنے جیسا انتہائی اقدام کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں ان عوامل کی تلاش کیسے کی جائے گی جہاں میڈیا کو انسانوں کے مرنے کی خبر میں دلچسپی نہ ہو۔ پولیس کو اپنے زیر حراست ملزم کے مارے جانے پر پریشانی نہ ہو اور عوام کے ووٹوں سے حق حکومت حاصل کرنے والے لیڈروں کے پاس اتنا وقت بھی نہ ہو کہ وہ ایسی پولیس گردی اور ’فوری انصاف‘ نافذ کرنے کی کوششوں کا نوٹس لے کر قانون کی عملداری یقینی بنائیں۔

جان لینا چاہیے کہ کسی ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے انسانوں کا احترام عام کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW