بلاگ

ماہ اگست- کہیں خوشی کہیں غم

shahnaz ahad

ماہ اگست تو جب سے پیدا ہوئی ہوں ہر سال ہی آتا ہے۔ اگر نہ آتا تو میرے جنم دن کے تو لالے پڑ جاتے۔ جب ہم اسکول جاتے تھے تو ماہ اگست میں اسکول کی چھت پے لہرانے والے پرچم کو بہت عقیدت اور احترام سے دیکھتے تھے۔ کاغذ سے بنی کوئی جھنڈی ادھر اُدھر اُڑتی نظر آجاتی تو عقیدت سے اُٹھا کے کسی محفوظ جگہ رکھ دیتے۔ شاید اس لئے کہ اسکولی تعلیم کے آغاز سے ہی ہمیں اس سبز چاند ستارے کے احترام اور محبت کا سبق ملا تھا۔ 14 اگست کے دن ہماری ہیڈ مسٹریس صبح کی دعا کے بعد جسے اب اسمبلی کا نام دے دیا گیا ہے۔ پاکستان بننے سے متعلق کم از کم پندرہ بیس منٹ کی گفتگو کرتی تھیں۔ جیسے پاکستان کیسے بنا؟ کس نے بنایا؟ اس جدوجہد میں کون کون لوگ شامل تھے۔ یہ کس کا خواب تھا، کس کا خیال تھا۔ کس نے کیا قربان کیا، ان کی گفتگو کا لب لباب یہ ہوتا تھا کہ دنیا میں وہ ہی اقوام سر اُٹھا کے کھڑی رہ سکتی ہیں جن کے قدموں تلے اپنے وطن کی زمین ہوتی ہے۔ لہرانے کے لئے اپنا پرچم ہوتا ہے اور وطنیت کے خانے میں لکھنے کے لئے اپنے وطن کا نام ہوتا ہے اور یہ سب اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب ہمارے پاس وطن نامی دولت ہوتی ہے۔ ان کی یہ گفتگو ہمیں اکثر آبدیدہ کر دیتی تھی۔ اس دن اسکول میں چھوٹا موٹا تقریری مقابلہ ہوتا۔ بعد ازاں خوشی کے نام پے کچھ نہ کچھ تقسیم ہوتا پھر سب مل کے زور زور سے ”یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔ اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان“ گاتے، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے اور احسان ہے تیرا احسان گنگناتے ہوئے گھروں کو چل پڑتے۔

اسکول سے گھر پہنچتے تو امی، پاپا، تایا لازما پاکستان کیسے بنا نام کی داستان کے کسی نہ کسی سرے کو تھامے وہ کہانی دُہرا رہے ہوتے ”جسے کسی نے ہجرت کا نام دیا، کسی نے خانہ بربادی تو کچھ نے نقل مکانی کہا، کہنے والے اس کو زندہ انسانوں کی قربانی کے نام سے بھی پکارتے ہیں“ یہ سب ان لوگوں کے القابات اور تاثرات ہیں جنھوں نے آگ کا دریا پار کیا، اسپیشل ٹرینوں میں بیٹھ کے ستلج کے اس پار اترے، خیموں کی خاک چاٹی، میدانوں میں کھلے آسمان تلے راتیں گزاریں، موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھا، ایک دنیا کھوئی اس جگہ کے لئے جسے آج ”پاکستان“ کہتے ہیں۔ میرے خیال میں بہتر ہے کہ میں ”سوچوں کی ایکسپریس“ کا بریک کھینچ لوں ورنہ یہ بے لگام گاڑی بنا رکے بھاگے جائے گی۔ وقت کا پہیہ بڑا ظالم ہے اتنے ظالمانہ انداز میں چلتا ہے کہ گزری دہائیاں کل کی صبح اور پرسوں کی شام لگتی ہیں۔

ہماری زندگی کے صبح شام میں ہر سال کا ماہ اگست ایک الگ ہی کہانی لئے ہے۔ وقت کی مارا ماری میں کہانی کہنے سننے کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ لوگوں کے پاس پورا لفظ لکھنے کا بھی وقت نہیں۔ جملے اور لفظ سکڑ گئے ہیں اس کا بھی وقت نہ ہو تو ایمو جی نامی اشکال سے مطلب و مقصد بیان کیا جاتا ہے۔ گزری ایک ڈیڑھ دہائی میں ماہ اگست نے اتنی قلابازیاں کھائی ہیں کہ اب تو مجھے اگست کا ماہ وہ big wheel لگنے لگا ہے جو انسانوں سے بھرنے کے بعد گول گول گھومتے ہوئے نیچے والے کو اوپر اور اوپر والے کو نیچے کی دنیا دکھا رہا ہوتا ہے۔ اس اوپر نیچے کے کھیل میں ہر ماہ اگست کچھ نیا ساتھ لاتا ہے۔ جیسے اس بار ٹی وی چینلز نے اگست کا سورج چڑھتے ہی اپنے logos تو سبزکیے ہی چند ایک نے مارے محبت کے اسکرین کے بیک گراؤنڈ کو بھی سبز ہے سبز ہے بنا ڈالا۔ سڑکوں، گلیوں، چوباروں، چوراہوں، عمارتوں پے تو ہریالی چڑھی ہی سڑکوں کے کنارے ایستادہ بل بورڈز نے بھی ہری چنریا اوُڑھ لی۔ صورت حال کچھ یوں ہو گئی کہ ”برسات کے اندھے کی طرح سب کچھ ہرا ہی ہرا نظر آنے لگا“ ۔ تعلیمی اداروں، بازاروں، دکانداروں کو خاموش احکامات تھے کہ اس بار کا چودہ اگست بہت دھوم دھام سے منانا ہے۔ اس بار کا کیوں؟ ہر بار کا کیوں نہیں؟ اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیا۔

تاجر ایسوسی ایشن کے شرجیل گوپالانی کے بیان کے مطابق ”صرف کراچی شہر میں ایک محتاط اندازے کے مطابق شہر کے چھوٹے، بڑے بازاروں میں جھنڈے، جھنڈیوں، ٹی شرٹس، زنانہ مردانہ سوٹ، سیٹیاں، باجے، ٹوپیاں، سبز رنگ کی لائٹوں کی فروخت سے ایک بلین کا بزنس ہوا ہے۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبے اور غربت کی لکیر سے بہت، بہت نیچے زندگی گزارنے والے ملک کے عوام کی اس سے بڑی قربانی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔ ماہ اگست کے ابتدائی دنوں میں اخباری تصاویر سے پتہ چلا کہ مزار قائد کی صفائی ستھرائی کا کام بھی زور شور سے جاری ہے۔ آج تک اس بات کا جواب نہیں ملا کہ قائد کی آخری آرام گاہ کی صفائی سال میں کبھی کبھار کیوں ہوتی ہے۔ پھر اگست کی چودہ تاریخ کو گناہ گار آنکھوں نے لونڈوں، لپاڑوں کا وہ ہجوم بھی دیکھا جو قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے اور سیٹیوں، باجوں، بے ہنگم آوازوں، بے تکے نعروں اور بندروں کی طرح اچھل اچھل کے اظہار عقیدت کر رہے تھے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس سینکڑوں کے ہجوم میں کوئی ایک ایسا نہ تھا جو انھیں خاموش رہنے اور اظہار عقیدت کا طریقہ بتا سکتا، یہ کہہ سکتا کہ آزادی کے دن کی خوشی کانوں کو پھاڑنے والی سیٹیاں اور باجے نہیں تمہارے اعمال ہیں۔

اگلی صبح مزار قائد کے احاطے میں منوں کے حساب سے جمع کوڑا گزرے دن کی داستان کہہ رہا تھا۔ گورنر ہاؤس میں بھی رنگوں کی برسات اتری اور کچھ یوں اتری کے گورنر صاحب کے ہاتھ سے دامن چھوٹ گیا اور وہ بھی وقفے وقفے سے ٹھمکے لگاتے رہے۔ اس سب سے قبل تیرہ چودہ کی درمیانی رات میں دل بھر کے آتش بازی، گولہ باری اور فائرنگ کا مظاہرہ بھی ہوا۔ اس سب کے نتیجے میں تین انسانی جانیں جان سے گئیں اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ کہیں اوپر سے چلنے والی ان ہدایات کے مطابق یوم آزادی کو بہت دھوم دھام سے منانا ہے۔ شہر میں دن رات دندناتے پھرنے والے ڈمپرز نے خوشی کا اظہار یوں کیا کہ ایک دن دو بہن بھائیوں کو کچلا، دوسرے دن میاں بیوی کو پھر باپ بیٹے کو موت کا تمغہ دیا۔

خیبر پختونخوا میں آزادی والے دن بارش سینکڑوں گھروں کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے گئی تو اسلام آباد میں تمغوں کی بارش برسی اور خوب جم کے برسی، ایوان صدر کے اطراف رہنے والوں سمیت ایوان کی راہ داریوں سے گزرنے والوں تک شاید ہی کوئی بے نصیب ہو گا جو سعادت تمغہ سے محروم رہا ہو۔ ماہ اگست کے دوران میرا کئی بار سوشل میڈیا والوں کو سلوٹ کرنے اور گلے لگانے کا من چاہا کہ اگر یہ ذریعہ اطلاع نہ ہوتا تو ہم مختلف شہروں میں کاٹے جانے والے آزادی کیک کی پامالی عزت کے نظارے سے محروم رہتے۔ اسی ذریعے سے پتہ چلا کہ جب ایک اسکول کے بچے نے دل دل پاکستان گاتے ہوئے اپنے پسندیدہ ہیرو کے لئے زندہ باد کا نعرہ لگایا تو سارے اساتذہ کی دوڑیں لگ گئیں اور سب مائیک چھینے کے لئے جھپٹ پڑے۔

اسی میڈیا نے دکھایا کہ آزادی کا جشن منانے والے فرئیر گارڈن میں کیا کچھ چھوڑ کے گئے ہیں۔ وطن کی محبت سے سرشار ایک ہجوم نے اپنے قائد کی نصیحت کا مذاق اُڑاتے ہوئے فیصل آباد کے نزدیک احمدیوں کی عبادت گاہ کو مسمار کر دیا۔ خوشی آزادی سے ایک دن قبل ایک باپ نے دو بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا کے پیدا ہونے کی قیمت چکا دی تو ایک ماں نے ازدواجی ناچاقیوں سے تنگ آ کے اپنے معصوم بچوں کو ابدی نیند سلا دیا۔

میرے لئے بلکہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس ماہ اگست کے دوران گانے، بجانے، ناچنے، کودنے کے علاوہ کسی ٹی وی چینل، ریڈیو، اخبار، یو ٹیوبر، وی بلاگر، پوڈ کاسٹر اور ایسے دوسرے بہت سارے ذریعہ اظہار کو استعمال کرنے والوں نے نہ تو تحریک پاکستان، اس سے منسلک شخصیات کے بارے میں کوئی بات کی نہ ہی قائد اعظم کے بارے میں کچھ ایسا کہا سنا کہ نئی نسلوں کو پتہ چل سکے یہ ملک کس نے بنایا، کیسے بنایا، کیوں بنایا وغیرہ وغیرہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس ملک کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسا سیلبس پڑھ رہی ہے جس کا اس ملک کے کسی مسئلے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ باقی بچے، بچوں کے سیلبس سے ہماری تاریخ اس سے جڑے درجنوں کرداروں کا جس صفائی سے صفایا ہو رہا ہے وہ ”ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں“ کا گیت گانے سے مداوا نہیں کر سکتا۔ اس عظیم ماہ میں کسی نے رواداری، محبت، اخوت، سخاوت، بھائی چارے کی بات نہیں کی۔ سچ بولنے اور سچ پے ڈرے رہنے کا پیغام نہیں دیا، رشوت، بدکاری، بد گوئی اور بدکرداری سے دور رہنے کا درس نہیں دیا، اس ملک، زمین، کھیت کھلیانوں سے محبت کا خواب نہیں دکھایا، کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم سب ایک ہیں۔ بلا امتیاز رنگ، نسل، مذہب، زبان کی تفریق کے۔ ہم اپنے، اپنے قد مختلف حوالوں سے بڑے کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن گانوں دھنوں پر کودنے والے ہجوم کو ایک قوم بنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہماری مشترکہ کوششیں یہ ہی ہوتی ہیں کہ یہ ناچنے کودنے والا ہجوم ایسے ہی ٹکڑیوں میں منقسم رہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Nisar Memon
Nisar Memon
9 months ago

شہناز تم بھی دکھتی رگوں پہ ہاتھ رکھنے سے باز نہیں آتیں۔بہت ا بھی تصویر کشی کی ہے۔ اپنے حصے کی لو جلائے رکھو۔

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW