روس یوکرین تنازعہ : ہر فریق خوف زدہ ہے

15 اگست کو ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کی کوشش تھی کہ روسی صدر کو جنگ بندی پر قائل کر کے یہ ثابت کیا جائے کہ وہ اپنی بات منوانے کی طاقت اور کامیاب سودے بازی کی خداداد صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن روس کے صدر چونکہ امریکا اور یورپ کی جانب سے شدید نوعیت کے طویل سیاسی، سفارتی اور معاشی دباؤ کا تجربہ رکھتے ہیں لہٰذا انہیں فوری جنگ بندی کے دام میں لانا ممکن نہ ہو سکا۔ پیوٹن سے ملاقات کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلینسکی کو واشنگٹن مدعو کیا۔ اس بار یوکرینی صدر تنہا امریکا نہیں آئے بلکہ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسے طاقت ور یورپی ممالک کے سربراہ، ناٹو کے سیکرٹری جنرل اور یورپی کمیشن کی صدر بھی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لئے واشنگٹن پہنچے۔ اس بار صدر زیلینسکی کے ساتھ امریکی صدر کا رویہ ترش کی بجائے دوستانہ تھا کیونکہ صدر پیوٹن سے ہونے والی ملاقات ان کی خواہش کے مطابق بار آور ثابت نہیں ہو سکی تھی لہٰذا وہ واشنگٹن کی حالیہ ملاقاتوں کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے تھے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کیے بغیر تنازعہ کے ایک مستقل معاہدے کے لیے روس سے مذاکرات کا آغاز کر دیا جائے۔ یوکرین کے یورپی اتحادیوں نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا جبکہ یوکرین کے صدر اس مسئلہ پر مصلحتاً خاموش رہے۔
یورپی ملک اس تجویز کے بھی خلاف تھے کہ ایک مستقل معاہدے کے لیے یوکرین کے بیس فیصد سے زیادہ حصے کو روس کے حوالے کر دیا جائے۔ ان کے ذہن میں 1938 کی تلخ یاد آج بھی تازہ ہے جب جرمنی کو جنگ سے روکنے کی خاطر برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے میونخ معاہدے کے تحت چیکوسلواکیہ کا ایک حصہ اس سے پوچھے بغیر ہٹلر کے حوالے کر دیا تھا۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم چیمبرلین نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ یورپ میں امن کی ضمانت ثابت ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مذکورہ معاہدے پر یکم ستمبر 1938 کو دستخط ہوئے جس کے صرف چھ مہینے بعد مارچ 1939 میں جرمنی نے پورے چیکوسلواکیہ پر قبضہ کر لیا اور دنیا دوسری جنگ عظیم کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔ تاریخ کی اس سب سے بھیانک اور ہلاکت خیز جنگ میں یورپ کو بہت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کی افسوس ناک یادیں آج بھی اسے غم زدہ کرتی ہیں۔
یورپی ملکوں کو خوف ہے کہ یوکرین جیسے ایک آزاد اور خودمختار ملک کا بڑا علاقہ روس کو دے کر 78 سال پہلے والی غلطی کہیں دوبارہ تو نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ روس مستقبل میں یوکرین یا اپنے ہمسائے یورپی ملکوں کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کرے گا؟ یورپ کے تمام بڑے ملک اس نکتے پر متفق ہیں کہ یہ صرف یوکرین کی نہیں بلکہ پورے یورپ کی سلامتی کا سوال ہے۔
یورپ کی طرح روس کو بھی کچھ خوف درپیش ہیں۔ اس تناظر میں اس کا موقف بہت مضبوط اور حقیقت پسندانہ ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد اس نے وارسا معاہدہ ختم کر دیا تھا جس کے بعد مغرب کے لیے بھی نیٹو کی ضرورت ختم ہو جانی چاہیے تھی۔ تاہم، ایسا نہیں ہوا جس کے باعث روس نیٹو کو بجا طور اپنی سلامتی کے لیے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ روس کا یہ بھی موقف ہے کہ اس سے 1992 میں زبانی وعدہ کیا گیا تھا کہ اس سے الگ ہونے والے نئے ممالک کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا، ان وعدوں کی پاس داری نہیں کی جا رہی ہے لہٰذا اب زبانی وعدوں پر اعتبار نہیں کیا سکتا اور مغرب کو یوکرین جنگ کے حوالے سے با ضابطہ تحریری معاہدہ کرنا ہو گا۔ روس یاد دلاتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے یوکرین اور بیلا روس کے علاقوں سے اس پر حملہ کیا تھا اس لیے وہ دوبارہ ایسا خطرہ مول نہیں لینا چاہے گا۔
روس، یوکرین اور یورپ کی طرح امریکا بھی مضطرب دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف اسے اپنی تاریخ کے بدترین تجارتی خسارے کا سامنا ہے جسے کم کرنے کے لیے اس نے اپنے بڑے ٹریڈنگ پارٹنرز پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دے کر ان سے اپنے تعلقات کشیدہ کر لیے ہیں جس کی سیاسی قیمت اسے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ چین، بھارت، روس، کینیڈا، برازیل اور برکس میں شامل درجنوں ملک اس کے دباؤ میں آنے کی بجائے آپس میں تجارت بڑھانے کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔ چین اور بھارت کی باہمی تجارت 130 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جسے مزید ساٹھ ارب ڈالر بڑھانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ روس سے تیل نہ خریدنے کا دباؤ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل تناظر میں چین میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپی ملکوں میں کساد بازاری کے سبب قوم پرست سیاسی نعرے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور یورپ کے اہم ملک، امریکی دباوٴ نظرانداز کر کے عالمی جنوب (گلوبل ساؤتھ ) میں منڈیاں تلاش کر رہے ہیں۔ الاسکا اور واشنگٹن میں اعلی ترین سطح پر ہونے والی بے ثمر ملاقاتیں بھی اس امر کی مظہر ہیں کہ نہ صرف ایشیاء بلکہ یورپ بھی امریکا کی ہر خواہش پر سر تسلیم خم کرنے پر تیار نہیں ہے۔
امریکا کو آج جن مشکل حالات کا سامنا ہے وہ یقیناً صدر ٹرمپ کے پیدا کردہ نہیں ہیں لیکن انہیں داخلی اور عالمی سطح پر اس کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ وہ روس یوکرین جنگ ختم کرانے میں انتہائی سنجیدہ ہیں کیونکہ اس جنگ میں اربوں ڈالر ضائع کرنا امریکی عوام اور معیشت دونوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ خوف درپیش ہے کہ امریکا تین سال سے جاری اس جنگ کو اگر ختم نہ کرا سکا تو دنیا کی عظیم ترین طاقت کے طور پر اس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
سوال یہ ہے کہ یوکرین تنازعے کا حل تلاش کرنے والے ملکوں میں اگر اتنا خوف اور اعتماد کا فقدان موجود رہے گا تو لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جان لینے والی یہ جنگ کب اور کیسے ختم ہو گی؟
