بلاگگوشہ ادب

تنہا: ( 60 )

سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول

salma awan

پتلی سی لکڑی پر بکول کے کوئی پندرہ بیس ہار لٹکائے وہ چھوٹا سا لڑکا، اندر جانے اور باہر آنے والی ہر لڑکی کے تعاقب میں بھاگتا، منمناتے ہوئے، عاجزی سے انہیں ایک دو ہار خرید لینے کی درخواست کرتا پر لڑکیاں بے اعتنائی سے ایک نظر اسے دیکھتیں اور اپنے اپنے راستے پر آگے بڑھ جاتیں۔

وہ جب سائیکل رکشے سے اتر کر اندر جانے لگی تو اس نے اس کی نرسندی ساڑھی کا آنچل پکڑ کر بہت مسکینی سے کہا۔

”آپا! دوپہر ہو رہی ہے۔ ایک ہار بھی نہیں بکا، یہ نہیں بکے گا تو بھات کہاں سے کھاؤں گا۔“

اس کا دل کُڑھا۔ اکٹھے چار ہار اس نے خرید لئے اور اندر آ کر تازہ ڈاک دیکھنے لگی۔ پانچ خط اس کے نام تھے۔ ٹیبل ٹینس کی میز پر بیٹھ کر اس نے سب خطوں کو پڑھا اور اوپر جانے سے پہلے سوچا کہ آج کا اخبار ابھی تک نظر سے نہیں گزرا، دیکھنا چاہیے۔

کامن روم میں دوپہر تک کسی اخبار کے سالم رہنے کا سوال ہی نہ تھا۔ یہ اسے اچھی طرح معلوم تھا پھر بھی وہ موہوم سی امید پر وہاں چلی آئی۔

اور یہاں اخباروں کے بس آدھے پونے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھرے پڑے تھے۔ اس نے چند لڑکیوں سے پاکستان آبزرور اور مارننگ نیوز کا پوچھا۔ ایک لڑکی نے بہت شان سے آبزرور کا ایک صفحہ اسے تھما دیا۔

دوسری لڑکی بولی۔ ”سنا تھا آج ڈینک پاکستان اور سنگ باد میں بہت اچھے مضامین آئے ہیں، یہاں آ کر دیکھا تو چند پرزے ملے ہیں۔“

اس نے مڑے تڑے اخباری صفحوں کی طرف اشارہ کیا۔

دبیز صوفے پر وہ بیٹھ گئی۔ کامن روم کی تین طرف کی دیواریں شیشے کی تھیں۔ کمرے کے درمیان میں اُگے شفتار کے درخت کو شیشے کی دیواروں سے مقید کر کے چھت میں سے اوپر نکال دیا گیا تھا۔

کونے میں رکھے ہوئے ریڈیو کے گرد تین چار لڑکیاں بیٹھی گانے سن رہی تھیں۔ ایک دیوار کے ساتھ لگی گیت کے سروں پر جھومتے ہوئے گنگنا بھی رہی تھی:

زمانوں سے میں تمھارا متلاشی ہوں
آنسو میری آنکھوں میں گردش کرتے
اور کبھی کناروں سے بہ جاتے ہیں
میں سب کے درمیان تنہا ہوں
اس لیے تمھیں دیکھنے کا تمنائی ہوں
موت بھی مجھے نہیں روک سکتی

دس بارہ کا ایک گروپ کیرم کھیلتی دو لڑکیوں کو گھیرے میں لئے کھڑا تھا۔ اس کے قریب بیٹھی لڑکیاں ”چترالی“ پکڑے وحید مراد کے بنگالی فلموں میں کام کرنے کے امکانات پر بحث کر رہی تھیں۔ بائیں طرف فلاسفی میں آنرز کرتی دو بہنیں The Summer Holiday کو فور کلاس فلم کہہ رہی تھیں۔

اس نے وہیں، سلیقہ کو بھی دیکھا جو کسی لڑکی سے ٹوٹی پھوٹی بنگلہ میں باتیں کر رہی تھی۔ اس کے تن پر جدید وضع کی قمیص دیکھ کر اسے نے خود سے کہا اسے پہلے تو نہیں اسے پہنا دیکھا پر شاید اس کے گھر والوں نے حال ہی میں بھیجی ہے، جہاں آرا اسے ڈھونڈتی وہاں آ گئی۔

”سنو۔ وہ گھبرائی ہوئی تھی، خورشید بھائی کی گھر سے کال آئی ہے۔ میرے لوکل گارجین کا نوکر مجھے بلانے آیا ہے، چلتی ہو؟“

بغیر کچھ کہے، وہ اس کے ساتھ چل پڑی، صاحب خانہ اور ان کی اہلیہ، دونوں مقامی کالج میں پروفیسر تھے۔ گھر والی کو دیکھ کر اسے خدا کی شان یاد آئی، بے اختیار اس نے سوچا۔ اس گھر کے پلنگ اور کرسیاں، یا تو لوہے کے ہوں گے یا پھر بہت مضبوط لکڑی کے سپیشل بنوائے گئے ہوں گے۔

جہاں آرا فون پر مصروف رہی اور وہ ان کے لمبے چوڑے حدود اربعہ کے جائزے میں، اللہ نے موٹاپا دل کھول کر دیا ہے، دَیا ہے اُس کی۔ ”اُس نے خود سے کہا تھا۔

صاحب خانہ پچاس پچپن کے پھیر میں ہوں گے۔ مشرقی یو پی سے تعلق تھا ان کا، گھر کی فضا پر وہی رنگ غالب تھا۔

”تم نے آنا ہی چھوڑ دیا ہے، کن کاموں میں مصروف ہو؟“

انہوں نے جہاں آرا سے پوچھا تھا۔ پڑھائی سے بڑا بھی کوئی کام ہو سکتا ہے؟ سمیسٹر سسٹم نے نتھ ڈال رکھی ہے۔ مسکراتے ہوئی جہاں آرا نے معذرت کی اور ساتھ ہی اس کا بھی تعارف کروا دیا۔

”کیا مصیبت پڑی تھی تمہیں یہاں آنے کی؟“
وہ براہ راست اس سے مخاطب ہوئے۔ عجیب سا بے تکا سوال تھا۔ وہ سٹپٹا سی گئی۔
”معاف کیجئے گا میں آپ کا مطلب نہیں سمجھی۔“
”میں نے کوئی مشکل بات تو نہیں کی جو تمہاری سمجھ سے بالا ہے۔ کتنا عرصہ ہوا ہے تمہیں یہاں آئے ہوئے؟“
”سات ماہ۔“ اس نے متانت سے کہا۔
”خاصا عرصہ ہے، تو آٹے دال کا بھاؤ ابھی تک معلوم نہیں ہوا؟“
”اب وہ سمجھ گئی تھی۔“ رسان سے بولی۔

”میں نے یہاں غیریت محسوس نہیں کی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دل کبھی کبھی گھبرایا پر یہ سوچتے ہوئے کہ قوموں کی زندگی میں ایسے مسائل تو اٹھا ہی کرتے ہیں، خود کو مطمئن کر لیا۔“

”جواب نہیں آپ کا!“ وہ طنز سے بولے۔
”گھر بار لٹا کر یہاں آتیں اور جب تحفظ نہ ملتا تب اس اطمینان کا پتہ چلتا۔“
بہت جلے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد دوبارہ بولے۔

”ہم تو پچھتاتے ہیں اس وقت کو جب یہاں چلے آئے۔ ایسے پاکستان کی تو ہم نے تمنا نہیں کی تھی، جہاں ہمیں ہر لمحہ صرف اس بات پر جان کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ بدقسمتی سے ہم اُردو سپیکنگ اور وضعدار لوگ ہیں۔“

”معاف کیجئے گا! میں یہ کہوں گی کہ آپ لوگوں نے بھی انہیں نکمے، نااہل، سست اور سازشی کہہ کر ان سے نہایت توہین آمیز برتاؤ کیا ہے۔ ان کے روّیے میں خود اس سلوک کے ردعمل کو دخل ہے۔“

”تو آپ کیا سمجھتی ہیں، یہ ایسے نہیں، حسد ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، کام کرنا انہیں نہیں آتا، فتنہ پسند یہ ہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لو، یہ خطہ ہمیشہ سے سازشوں اور بغاوتوں کا مرکز رہا ہے۔“

”مغربی پاکستان سے لوگ آتے ہیں۔“ انہوں نے دائیں ٹانگ کو بائیں پر رکھتے ہوئے مزید کہا۔

”پوربانی اور شاہ باغ میں قیام کرتے ہیں۔ واپس جا کر ان کی زبوں حالی کی داستانیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ یہ ڈھاکہ یونیورسٹی جہاں 55ء تک میری ان آنکھوں نے دھوتیوں میں لڑکے دیکھے ہیں، آج ان کے مزاج آسمان پر ہیں۔ آج یہ کسی غیر بنگالی کو انسان ہی نہیں سمجھتے!“

اور سمعیہ علی نے بہت دکھ سے انہیں دیکھا تھا، اس کا سینہ غم سے پھٹا جا رہا تھا، بے اختیار اس نے سوچا تھا۔

”وہ ڈاکٹر ٹھیک ہی کہتا تھا۔ اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں، جہاں بنگالی، بہاری، سندھی، پٹھان، بلوچی اور پنجابی دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہیں۔“

ان کے سروں کے اوپر سے ایک جیٹ فائٹر گزرا جس کی کرخت آواز سے سارا ماحول گونج اٹھا۔ کمرے کی کھڑکی سے اس نے باہر جھانکا، آسمان نیلا اور شفاف تھا۔ انگنائی میں اُگے درخت اور گھاس، سر سبز اور تازہ تھی۔ وہ اٹھ گئی۔ جب اس معمر مرد نے کہا۔

”بیٹھیے اور چائے پی کر جائیے۔ گھبرا کیوں گئی ہیں؟“
”گھبرانے والی کوئی بات نہیں، مجھے باہر جانا ہے۔“

تبھی نوکر نے چائے کی ٹرالی کمرے میں لا کر ایک طرف کھڑی کی، پلیٹیں اور نیپکن، ان کے ہاتھوں میں تھماتے ہوئی سروس شروع کر دی۔

وہ چائے پینے کے موڈ میں نہیں تھی پر اب بھاگنا بھی بد تمیزی تھی، چپکی بیٹھ گئی۔

اس نے چائے کا ایک گھونٹ ہی لیا تھا جب ایک خوش پوش سے صاحب اندر آئے، علیک سلیک ہوئی۔ صاحب خانہ نے اس کی طرف اشارہ کیا۔

”یہ سمعیہ علی ہیں۔ لاہور سے آئی ہیں۔ بنگالیوں کی بہت مداح ہیں، کچھ ان سے بات کرو۔“ وہ جل گئی، بیزاری سے بولی۔

”میں کسی کی مداح نہیں۔ میں تو صرف اتنا چاہتی ہوں کہ اس ملک کی بقا کے لئے ایثار کی ضرورت ہے، جو سب کی مشترکہ جدوجہد سے وجود میں آیا۔“

”سب کی مشترکہ جدوجہد سے؟“

انہوں نے حیرت سے کہا تھا۔ بھئی! سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ رات ہندوستان میں سوئے اور صبح پاکستان میں جاگے۔ پکی پکائی کھیر انہیں ملی جواب ان سے ہضم ہی نہیں ہو رہی ہے۔ بقیہ رہا بقا کے لئے ایثار کا سوال، تو اس حصے نے ساتھ رہنا ہی نہیں، ایثار کیسا؟ ”

”اللہ، تعصب کی انتہا ہے۔“ اس نے اپنے آپ سے کہا۔
پھر وہ دھیمی آواز میں بولی۔

”آپ جیسے پڑھے لکھوں کو اگر میں تاریخ کا چہرہ دکھانے کی کوشش کروں تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے میں سورج کے سامنے چراغ رکھوں۔ تاریخ آپ اور آپ کی مسز کے گھر کی باندی ہے۔ آپ یقیناً اس سے اختلاف نہیں کریں گے کہ کسی تحریک، کسی موومنٹ کو چلانے والے لوگوں کا شمار اکثر خواص میں ہوتا ہے۔ عوام کی اکثریت اسے پذیرائی یا عدم پذیرائی کا شرف بخشنے والی شمار ہوتی ہے۔ تحریک پاکستان میں بنگال کے کردار کی اگر آپ نفی کرتے ہیں تو یہ محض آپ کی ضد اور آپ کا تعصب ہے۔“

وہ کھڑی ہو گئی۔ بات کو طول دینے کا اس کا قطعی موڈ نہیں تھا اور جب وہ دونوں باہر آئیں۔ اس نے جہاں آرا سے کہا تھا۔

”ہم انسانی فطرت کی اچھائیوں سے کیوں مایوس ہو گئے ہیں۔ کوئی قوم بھلا ایک جیسی ہو سکتی ہے؟“

جاری ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW