معدوم ہوتے ہوئے پیشے۔ قسط نمبر 4

سل بٹہ کوٹنے والا
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ پاکستان کا وہ کون سا کاروبار ہے جس پر زوال نہیں آتا۔ معاشی حالات کا جتنا رونا روئیں لیکن وہ کاروبار روز دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے جی وہ کاروبار ہے فوڈ چین یعنی لذت دہن کا کاروبار۔
میں صرف کراچی کی حد تک بات کروں تو پچھلے سال اکتوبر تک کراچی میں پیزا کی 395 بڑی شاپس ہیں۔ اس میں گلی کوچوں میں موجود چھوٹی موٹی شاپس شامل نہیں۔ برگرز کی تقریباً 2000 شاپس ہیں۔ شوارما کی بھی 1500 سے زائد دکانیں ہیں۔
میں اس وقت صرف کراچی تک محدود ہوں تو سن لیجیے کراچی والے ایک دن میں 5۔ 8 کروڑ صرف ان تین کھانوں کی مد میں اڑا دیتے ہیں۔ اگر میں گلی کوچوں میں کھلی دکانوں جگہ جگہ موجود فرنچ فرائز، بن کباب وغیرہ کو بھی گننے لگوں تو یہ رقم 30۔ 40 کروڑ روزانہ کی بنتی ہے یعنی 9 ارب سے 12 ارب کراچی والوں کی جیبوں سے ان فوڈز شاپس والوں کی جیب میں منتقل ہوجاتا ہے۔
اور اس کے عوض کراچی والے کیا حاصل کرتے ہیں بھدے جسم، توند نکلی نوجوان نسل اور اللہ محفوظ رکھے آئے دن نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک سے اموات۔
آپ سوچ رہے ہوں گے میرے موضوع ”معدوم ہوتے ہوئے پیشے“ کا ان سب باتوں سے کیا تعلق۔
تعلق کچھ ہی دیر میں آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔ چلیں ہم 45۔ 40 سال پیچھے چلتے ہیں۔ یہ دور تھا جب ہم اپنی ماؤں کے ہاتھ کے کھانے کھاتے تو انگلیاں چاٹتے رہ جاتے اس زمانے کی دال کے سامنے آج کی چکن ہانڈی ہیچ ہے وہ شامی کباب آج کے کے ایف سی میکڈونلڈ سے لاکھ درجے ذائقہ رکھتے تھے اور وہ چٹنیاں آج کے طرح طرح کے کیچپ سے کہیں زیادہ لذیذ۔
اس میں جہاں ماں کے پیار کی لذت کا بہت بڑا حصہ ہوتا تھا وہیں سل بٹہ بھی اس کی ایک بڑی وجہ تھا۔ اس سل بٹے پر پسے شامی کباب چٹنیاں اور دوسرے مسالے جہاں ہمیں لذت کی دنیا میں لے جاتے وہیں یہ ہماری ماؤں کا ہوم جم بھی تھے آج کی خواتین ہزاروں روپے مہنگے جم کی نذر کر کے بھی جو فٹنیس حاصل نہیں کر پاتیں وہ ہماری مائیں اس ایک پنتھ دو کاج سل بٹے سے حاصل کر لیتیں۔
خاص پتھر کے بنے یہ سل اور بٹے ہر گھر کی ضرورت تھے جس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے گڑھے ہوتے۔ کثرت استعمال سے یہ گڑھے کم ہونے لگتے تو پھر ضرورت پڑتی سل بٹے کوٹنے والے کی۔ جو روز ہی گلی میں چکر لگاتا جسے محسوس ہوتا کہ اس کے سل بٹے کو اب کوٹنے کی ضرورت ہے وہ آواز دے کر اسے روک لیتا۔ سل بٹے والے کمال مہارت سے ہاتھ میں پکڑے تیشے سے ضرب لگاتا اور سل بٹے پر اس کی ضرب کے نشان ابھرنے لگتے۔
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
ترقی اپنے ساتھ مختلف گرائنڈر چاپرز لے آئی۔ وقت اور محنت سے بچنے کے لیے ایک محنت کش کے رزق کا گلا گھونٹ دیا گیا لیکن ساتھ ہی ماؤں اور نوجوانوں کی فٹنیس کو بھی تج دیا گیا
سل بٹہ والا اب شاذ ہی نظر آتا ہے اس کا پیشہ تو مر رہا ہے لیکن اس کی جو قیمت ہم بھگت رہے ہیں ہمیں اس کا اندازہ نہیں۔
