بلاشبہ عورت کی اپنی بھی ایک زندگی ہے
کافی طویل عرصے کے بعد ہم سب کے قارئین سے مخاطب ہو رہی ہوں۔ اور خوش ہوں کہ کچھ لکھنے کی فرصت ملی۔ یہ موضوع کافی عرصے سے ذہن میں تھا: بلاشبہ عورت کی اپنی بھی ایک زندگی ہے۔
بدقسمتی سے ہماری عورتوں کو اس بات کا فہم و شعور بہت کم ہے۔ زیادہ تر گھریلو خواتین کا وقت گھرداری اور خاندان کو سنبھالنے میں صرف ہو جاتا ہے۔ جبکہ ملازمت پیشہ خواتین کو ایک دوطرفہ محاذ درپیش ہوتا ہے۔ یعنی دفتر کے ساتھ ساتھ گھرداری بھی ممکنہ حد تک سنبھالنا۔ ہاں، چند خواتین ہو سکتی ہیں کہ انہیں خوش قسمتی سے جاب کے ساتھ گھر نہ سنبھالنا پڑے۔
تو بات ہو رہی ہے خود کو وقت دینے کی اور صرف وقت دینے کی نہیں بلکہ ان لمحات کو جینے کی۔ وہ لمحات جو آپ اپنی مرضی اور خوشی سے گزاریں۔
میرے اپنے مشاہدات کچھ یوں ہیں : میری رہائش گاہ کے سامنے والے گھر میں ایک جوڑا اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتا ہے۔ میرے گھر کی چھت سے ان کا کمرہ نظر آتا ہے جس کا بالکونی کا دروازہ سڑک کی طرف کھلتا ہے۔ ان کے سب سے بڑے بچے کی عمر تقریباً سات سال اور تیسرا بچہ تقریباً ڈیڑھ سال کا ہو گا۔ ماں صرف گھر اور بچوں کو سنبھالتی ہے۔ اس کی عمر تیس سال سے کم ہی لگتی ہے۔ سوچیں کہ جب ہر دو سال بعد ایک نیا بچہ آ جائے تو عورت کے شب و روز حتیٰ کہ کئی ماہ و سال تو انہی کو سنبھالنے میں گزر جائیں گے۔ اسی طرح میری ایک قریبی بھابی کی زندگی بھی صرف گھر اور بچوں تک محدود ہے۔ ان کے شوہر فوت ہو گئے ہیں۔ بچے اپنی ملازمت اور تعلیم میں مصروف ہیں۔ ان کا تمام وقت گھر، خاندان، بچوں یا گھر پر آنے والے رشتے داروں کو سنبھالنے میں صرف ہوتا ہے۔ ان کی اپنی تعلیم نارمل سی ہے۔ کوئی خاص ذاتی مصروفیات نہیں ہیں سوائے یوٹیوب پر ڈرامہ یا کچھ اور دیکھنے کے۔
تو سوال یہ ہے کہ ہماری آبادی کی ایک بڑی تعداد کے شب و روز جس طرح صرف ہوتے ہیں، کیا ان کے پاس اپنی ذات کے لیے کوئی وقت ہوتا ہے؟ وہ خواتین جو صرف گھرداری کرتی ہیں یا بس گھر اور دفتر کے درمیان ہی ان کا وقت کہیں کھو جاتا ہے، کیا انہیں یوں وقت کے پھسلتے چلے جانے کا احساس ہے؟ بلکہ اس سے بھی پہلے سوال یہ آتا ہے کہ کیا ان کے ذہن میں خود اپنی ذات اور لوگوں یا خاندان سے الگ اپنی ایک زندگی کا تصور بھی ہے؟ ہماری خواتین کی اکثریت کو تو یہ معلوم ہی نہیں کہ اپنی ذات کے بھی کوئی حقوق ہیں اور انہیں پورا کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں کم عمری سے ہی شادی، سسرال اور گھرداری کی تربیت دی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جاب کرنے والی خواتین بھی بس ذمہ داریوں میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ اپنی ذات کے لیے وقت نکالنے کا تصور ہمارے ہاں بہت کم ہے، بالخصوص خواتین میں۔ عورت کی ذمہ داری ہے پورے گھر اور خاندان کا خیال رکھنا جبکہ اس کا خیال رکھنے والا اکثر کوئی نہیں ہوتا اور اپنا خیال خود رکھنے کی اسے فرصت نہیں ملتی۔ اور اگر وہ دماغ کا استعمال کرتے ہوئے اپنا خیال رکھنے کی جسارت کر لے تو اسے خود خیالی کی بجائے خود غرضی سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسے بس اپنے آرام یا خوبصورتی کا خیال ہے، گھر اور گھر والوں کا نہیں۔ خواتین اسی لعن طعن سے بچنے کے لیے اپنی ذات کو نظرانداز کرتی رہتی ہیں۔
دوسرا یہ کہ جب عورت کو کم عمری سے ہی یہ ذہن نشین کروا دیا جائے کہ وہ وفا، ایثار، صبر و شکر اور قربانی کی دیوی ہے تو وہ کیونکر اپنا خیال رکھنے اور اپنی زندگی جینے کو ترجیح دے گی؟ اور یہ بات صرف عورت کی نہیں، ہر انسان کی ہے۔ ہر شخص کو وقتاً فوقتاً کچھ لمحات علیحدگی یا تنہائی میں گزارنے کی ضرورت ہوتی ہے جب اسے کوئی پریشان نہ کرے اور ذہن فکر سے آزاد ہو۔ اس دوران وہ اپنی پسندیدہ چائے، کافی، کتاب، موسیقی یا فلم وغیرہ یا کسی اور مشغلے سے لطف اندوز ہوں۔ اور گھر میں یا گھر سے باہر اپنے ہم خیال لوگوں یا سہیلیوں کے ساتھ وقت صرف کریں۔ خواتین کے لیے اس چیز کی ضرورت اس لیے زیادہ ہے کہ اکثر ان کی زندگی ایک ہی دائرے میں قید رہتی ہے اور وہ دوسروں کی خاطر خود کو نظرانداز کر دیتی ہیں۔
عورت کو اپنی ذات اور اپنی زندگی کی اہمیت سمجھنے اور سمجھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ذمہ داریوں کا بوجھ کس طرح انسان کی انفرادیت کو ختم کر دیتا ہے، ہم اس پر غور نہیں کرتے یا اکثر اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ فرصت اور فراغت کو یہاں برائی اور غلط خیالات کی وجہ کہہ کر ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ ایک کالج فیلو نے بتایا کہ اس کے گھر میں نوجوان لڑکیوں کو ایک ساتھ بیٹھنے اور گپ شپ کرنے سے منع کیا جاتا تھا تاکہ وہ ”بے حیائی والی باتیں کر کے ایک دوسرے کا ذہن نہ خراب کریں“ ۔ حیرت ہے کہ ایسی کوئی پابندی کبھی لڑکوں پر نہیں لگائی گئی۔
دیہی پس منظر سے تعلق رکھنے والی ایک اور سینیئر خاتون نے اپنی نوجوانی کے بارے میں بتایا کہ ان کے گھر میں باقی گھریلو مصروفیات کے علاوہ روزانہ دو دفعہ صفائی ہوتی تھی اور اگر کوئی لڑکی ذرا فرصت ملنے پر لیٹ جاتی تو پوچھا جاتا، ”خیریت ہے، تم کیوں لیٹی ہو؟“ یعنی عورت کے لیے فراغت کا کوئی تصور نہیں۔ اور لڑکیوں کے لیے اخبار، رسالہ یا ڈائجسٹ پڑھنا بہت برا سمجھا جاتا تھا۔ یعنی کام، کام اور بس کام!
دورِ حاضر کی بات کریں تو وقت کی کمی اور مصروفیات کی زیادتی نے انسان کو اپنی ذات سے بے پرواہ کر دیا ہے۔ یعنی عورتوں کو ہر دور میں ہی مختلف طرح کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی صحت، آرام، لباس، خوبصورتی اور ہر بات کا خیال رکھنے کی نہ صرف حقدار ہیں بلکہ یہ ان کے لیے ضروری بھی ہے۔ کیونکہ جب ایک عورت خود صحت مند، چاق و چوبند اور تازہ دم ہو، تبھی وہ دوسروں کا خیال رکھ سکے گی۔ تو ہمیں یہ سمجھنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ خود خیالی اور زندگی سے فرصت کے چند لمحات نکال کر اپنے لیے جینا خود غرضی نہیں ہے۔
اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا اور اسے اپنی مرضی سے گزارنا نہ صرف خوشی اور طمانیت کا باعث ہوتا ہے بلکہ اس سے ہمیں ایک نئی توانائی ملتی ہے اور ہم اپنی ذمہ داریاں زیادہ بہتر طور پر ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ورنہ ایک جیسے معمولات اور ایک ہی دائرے میں گھومتے رہنے سے انسان جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے شدید تھکن کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہماری عورت بھی تھکن کا شکار ہے اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اسے اطمینان کا سانس ملے۔ عورت کو خود بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ انسان ہے، مشین نہیں۔ جب مشین کو مرمت اور دیکھ بھال کی لازمی ضرورت ہوتی ہے تو عورت تو اس سے کہیں زیادہ کی حقدار ہے۔

