خاموش چیخیں
اسٹاپ پر کھڑی ماہ نور کی نظریں ہر روز ایک شخص پر پڑتیں تھیں وہ شخص جس کی نگاہیں ماہ نور کے وجود پر اسی طرح ٹھہرتیں کہ ماہ نور اندر ہی اندر سہم سی جاتی ان نظروں میں چھپی کیفیت کو ماہ نور واضح طور پر محسوس کر سکتی تھی بس کے ہجوم میں وہ اتفاقی ہاتھ بھی تھے جو حادثے کا بہانہ کرتے مگر نیت بدنما ہوتی جب وہ اندر سے کراہتی تو نہ کوئی آواز، نہ کوئی سننے والا ہوتا بس ڈرائیور نے مرر سیدھے کیے اور خواتین کو ایسے دیکھا جیسے وہ سواریاں نہیں نظریں سنوارنے کی سہولت ہوں ماہ نور نے پہلی بار خاموشی میں چیخنا شروع کیا کیونکہ عورت ہونا روز کی سزا تھی ماہ نور کی روح اندر سے گرجنے لگتی
یونیورسٹی پہنچی تو ماحول بدلا نہیں، بس الفاظ نئے ہو گئے۔
وہ علم کے حصول کے لیے آئی تھی۔ مگر یہاں بھی حسن کے بلب پر مارکس جھپکنے لگے۔ فیشن ایبل نہیں تھی تو دوستی بھی ”بورنگ“ کہی گئی۔
کلاس میں اساتذہ کی نظریں نہ صرف بورڈ پڑھتی تھیں، بلکہ طالبات کے وجود کا جائزہ لینا اپنا حق سمجھتیں، نمبر لینے کے لیے کچھ لڑکیوں کو نظریں، جملے، اور نرمی سہنا پڑتی تھی۔ کچھ لڑکیاں اس خامشی کو ”سہولت“ سمجھ کر جھیلتی تھیں، اور جو بولتی۔ وہ ”بدتمیز“ کہلاتی۔
گھر میں بھائی influencer بنتا، موبائل میں گم، اور اگر دیر سے آتا۔ تو ”چپ“ سب کی زبان بن جاتی۔ ماہ نور صرف بیٹی تھی، بھائی ”وارث“ ۔ یونیورسٹی سے لوٹتی تو گھر میں بھی ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوتی۔ ماں اور باپ، دونوں اپنے اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں مشغول رہتے۔ امی سختی سے پوچھتیں، ”فون کیوں نہیں receive کیا تھا؟ اور دیر کہاں ہو گئی“ موبائل پرس میں تھا، ٹریفک کی وجہ سے دیر ہو گئی۔ والد اسے ایک نظر گھور کر دیکھتے اور پھر امی ابو اپنی ڈیجیٹل دنیا میں مگن ہو جاتے۔ کھانے کی میز پر بھی ان کے درمیان مشکل سے بات چیت ہوتی، اسے معلوم تھا کہ دیر ہونے کے باعث سب نے کھانا کھا لیا ہو گا۔ اس نے خود ہی آن لائن آرڈر کیا۔
اب گھر میں کھانا کم ہی پکتا تھا، کیونکہ ہر کوئی آن لائن آرڈر دینا آسان سمجھتا تھا۔ اسے یاد آیا بچپن میں کیسے وہ سب امی ابو کے ساتھ شاپنگ پر جاتے تھے، شاپنگ کے بعد کسی بھی ہوٹل پر بیٹھ کر کھانا کھاتے مگر اب سب کچھ آن لائن ہو چکا تھا۔ گویا ڈیجیٹل زندگی نے انہیں ایک دوسرے سے بیگانہ کر دیا تھا۔ ماہ نور کو لگتا تھا کہ وہ ایک ہی چھت تلے رہتے ہوئے بھی اپنے خاندان سے میلوں دور ہے۔ ماہ نور سمجھ گئی تھی۔ گھر، معاشرہ، یونیورسٹی سب جگہ دوہرے معیار تھے۔ اسے اپنے ارد گرد کوئی ایسا کندھا نہ ملا جس پر وہ سر رکھ کر رو سکے، کوئی ایسی آنکھ نہ ملی جو اس کی خاموش چیخوں کو سن سکے، کوئی ایسا ہاتھ نہ ملا جو اسے اس گھٹن سے نکال سکے۔ شاید اسی لیے اسے ڈیجیٹل دنیا میں پناہ لینی پڑی، جہاں لوگ لائک تو کرتے تھے، مگر حقیقی طور پر کسی کو جانتے نہیں تھے۔
پھر اس نے ڈیجیٹل دنیا کو پناہ سمجھا۔ یہاں نہ کوئی روک ٹوک، نہ کوئی گھورتی نظروں کا گلا۔ سوشل میڈیا پر اسے وہ آزادی ملی جو زندگی نے کبھی نہیں دی تھی۔ لائکس آتے، تعریفی کمنٹس ملتے، لوگ کہتے ”ماہ نور، تم بہت خاص ہو۔“
وہ یہاں ”خود“ تھی۔ اپنی مرضی کی پوسٹس، اپنی سوچ کے لفظ، اور پھر، آیان آیا۔ خوبصورت پروفائل، خوبصورت الفاظ، اور دل لبھاتا فلسفہ۔ ماہ نور کو لگا کہ آیان اسے واقعی سمجھتا ہے، سنتا ہے، سراہتا ہے، اور شاید۔ وہی ہے جس کا انتظار تھا۔ آیان نے کہا: ”تم جیسی ہو، ویسی مکمل ہو“ ۔ اور ماہ نور مکمل ہونے کے نشے میں گم ہو گئی۔
بلو ٹِک کے بعد خاموشی، لمبے وقفے، غیر متوقع تاخیر۔ ماہ نور کی روح اُن ”seen“ کے انتظار میں ٹوٹنے لگی۔ وہ جب آیان کو دل کی بات لکھ کر بھیجتی، تو جواب کبھی فوراً آ جاتا، کبھی بلو ٹِک آنے کے بعد بھی خاموشی رہتی۔ وہ ہر مرتبہ اس خاموشی میں ایک گھنٹہ، دو گھنٹے، کبھی ساری رات گزار دیتی۔ جیسے محبت سسپنس کا کھیل ہو، اور وہ قیدی۔ ایک دن آیان نے بلو ٹِک کے باوجود تین دن جواب نہ دیا۔ ماہ نور ہر رات پوسٹس چیک کرتی، اس کی سرگرمی دیکھتی۔ نئی تصویر، نیا لائک، نئی اسٹوری۔ اس خاموشی میں وہ خود کو آئینے کی طرح محسوس کرنے لگی۔ نظر آتی تھی، مگر کوئی ٹھہرتا نہیں تھا۔
اب اسے ہر وقت آیان کے فون کا انتظار رہتا اور وہ ایک عمر بھر ساتھ رہنے کی قسمیں کھانا معمول بن چکا تھا۔ طرح طرح کی ویڈیوز شیئر ہوتیں۔ شروع میں ماہ نور کو کچھ تصاویر اور ویڈیو شیئر کرتے اچھا نہیں لگ رہا تھا جب اس نے کئی دن تک تصاویر نہیں بھیجیں تو آیان بھی ناراض ہو گیا اور کہنے لگا ”ماہ نور تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتیں تو پھر۔“ وہ بھی ویڈیو اور تصاویر شیئر کرنے لگی۔ جب آیان نے جسم کے اعضا کی تعریفوں کے پل باندھے تو وہ شرما کر سرخ ہو گئی۔ اب آیان کا معمول بن گیا تھا کہ وہ کوئی نہ کوئی بات نکال کر اس کے جسم کی تعریفیں کرتا اور مزید ویڈیو بنانے کا مطالبہ کرتا۔ ماہ نور کو بھی ایک انجانی تسکین ملتی یوں اس کی چیخیں مدھم پڑ چکی تھیں مگر نہ جانے کیوں اسے ایک انجانا خوف محسوس ہوتا جسے وہ اپنے اندر سلا رہی تھی، اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا یہ خوف کس چیز کا ہے۔
ایک دن آیان نے اپنی ڈی پی بلینک کردی جس سے وہ فوراً سمجھ گی کہ ایان اداس ہے ساتھ اس نے وہ رونے والے ایموجی سینڈ کیے، ایموجی دیکھ کر اس کا دل دھڑکا، ”یا اللہ خیر!“ اس نے فون کیا تو آیان نے ریسیو نہیں کیا اور پھر آیان کا میسج آیا ”میں بہت پریشان ہوں، مجھے تنگ مت کرو۔“ ماہ نور کے مسلسل معلوم کرنے پر اس نے بتایا کہ والدہ کی طبیعت بہت خراب ہے۔ ماہ نور نے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ایک دن بعد آیان جو کہ اس کھیل کا شاطر کھلاڑی تھا، نے میسج کیا کہ اس کی جیب کٹ گئی ہے اور اسے فوری طور پر ماں کی دو اؤں کے لیے 20 ہزار روپے کی ضرورت ہے۔ ماہ نور نے اپنی فیس اور جیب خرچ سے بچائی گئی رقم آیان کو ایزی پیسہ کر دی۔ اب تو محبت کے سوداگر کا معمول بن گیا کسی نہ کسی بہانے رقم کا مطالبہ کرنے لگا۔
تصاویر، ویڈیوز، اور پھر بلیک میلنگ۔ عزت، احساس اور شناخت کی چوری۔ ماہ نور اس صورت حال سے تنگ آ چکی تھی مگر نکلنے کا کوئی راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ ماں سمجھتی امتحان کی ٹینشن لے رکھی ہے، صرف اتنا کہتیں کہ امتحان تو ہو ہی جائیں گے۔ پاپا بھی ان کی ہاں میں ملاتے ہوئے کہتے اب اتنی ٹینشن لینے سے کیا فائدہ، اور یہ کہہ کر دونوں ڈیجیٹل دنیا میں مصروف ہو جاتے۔ کوئی دل کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔
پھر ایک دن آیان نے ملنے کو کہا۔ ورنہ ”سب وائرل“ کرنے کی دھمکی دے دی۔ ماہ نور نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ تمام ویڈیوز اور تصاویر حاصل کرے گی چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے اور ایک دن یونیورسٹی کے لیے نکلی اور پھر گھر واپس نہ آئی۔ ماہ نور لاپتہ ہو گئی امی اور ابو کی دعائیں زخم بن گئیں، انتظار ختم ہونے کا نام نا لیتا۔
بالآخر فیصلہ ہوا پولیس میں رپورٹ درج کرائی جائے۔ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر کا اندراج جیسے کسی پرانی فائل سے گرد جھاڑی جا رہی ہو۔ افسر نے پوچھا: ”لباس کی نوعیت؟ حالیہ تصویریں؟“ جیسے تفتیش نہیں۔ آن لائن ریٹنگ چیک ہو رہی ہو۔ پولیس نے خیال ظاہر کیا کہ وہ بھاگ گئی ہے۔ ”اگر وہ بھاگ جاتی۔ تو ہم بھی ساتھ بھاگ جاتے۔ وہ ہمارا حال تھی، مستقبل نہیں۔“ ماں اتنا کہہ کر خاموش ہو گئی۔ میڈیا نے تین لائنیں چلائیں۔ اور پھر باقی خبریں ”زیادہ قومی“ نکل آئیں۔
وقت گزرتا رہا، اور سماج نے چپ سادھ لی۔ جیسی ہر عورت کی چیخ ایک پرائی آواز ہو۔ پڑوسی اور رشتہ دار آئے، افسوس کی چائے پی، دو فقرے بولے، اور چلتے بنے۔ بعد میں انہی محفلوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں ”لگتا ہے کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ ایک دن نکاح کر کے لوٹ آئے گی۔ ایسے معاملات میں عزت بچانا مشکل ہوتا ہے!“ گھنٹے دنوں میں بدلے، دن مہینوں میں اور ہر لمحے ماہ نور کی ماں آسمان کی طرف دیکھتی رہی، ابو ہر لوکیشن، ہر نمبر، ہر امید کی چادر بار بار جھاڑتے رہے۔ مگر ماہ نور کا کہیں کوئی سراغ نہ ملا۔ پھر ایک دن۔ تھانے سے فون آیا ”آپ کی بیٹی اسپتال میں ہے۔ زخمی ہے، مگر زندہ“ ۔
ماہ نور واپس آئی۔ مگر وہ آواز بھی ساتھ لائی جو کبھی سنی نہیں گئی۔ گھر میں ماتم سے خاموشی میں بدلنے والی فضا اب حیرت میں ڈوب گئی۔ امی بس اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہتی تھیں ”ہم نے تجھے کھویا نہیں تھا، پر شاید سمجھا بھی نہیں تھا۔“ والد کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے، وہ سوچ رہے تھے کہ بچوں کی تربیت صرف ڈانٹنے یا روک ٹوک کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک حساس تعلق استوار کرنے کا نام ہے۔ کاش وہ انٹرنیٹ کی اس بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھ جاتے، کاش وہ جان جاتے کہ ان کے بچے کن خطرات سے گزر رہے ہیں۔ دونوں میاں بیوی ماہ نور کو اپنی بانہوں میں بھر کر ہچکیوں کے ساتھ رونے لگے اور ماہ نور بھی چیخ اٹھی۔
ماہ نور اب وہ نہیں تھی جو گئی تھی۔ وہ جسم سے زندہ تھی، مگر جذبات جیسے کسی شیشے کے اندر بند آوازیں۔ آیان کا تو کوئی سراغ نہ ملا، یا یوں کہہ لیں کہ پولیس نے اسے ڈھونڈنے میں کوئی خاص دلچسپی نہ دکھائی۔ شاید وہ اب بھی کسی اور پروفائل میں چھپا ہوا تھا، محبت کے نام پر دھوکے کے نئے ہنر سیکھ رہا تھا۔ ماہ نور چپ کی تصویر بن گئی، اس کا نفسیاتی علاج شروع ہوا۔ لوگوں نے بہت کہا کہ پیر فقیر سے روحانی علاج کرواؤ، مگر والدین نے اب غلطی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ماہ نور کو وقت دینا شروع کیا۔ آہستہ آہستہ اس کی حالت بہتر ہونا شروع ہوئی، اور ایک دن اس نے چیخنا شروع کر دیا۔
”جب میں چیخ رہی تھی۔ تم سب آف لائن تھے۔ تمہاری دعاؤں میں سلامتی تھی، مگر سماعت میں چیخوں کا راستہ نہیں تھا۔“
یہ کہہ کر ماہ نور خاموش ہو گئی۔

